دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے 😭
لنک کمینٹ میں
👇🏻
An R Ghouri
زندگانی۔۔۔
ایک کہانی
کچھ نہیں ملتا زمانے میں محنت کے بغیر ۔۔
اپنا سایہ بھی مجھے دھوپ میں آنے سے ملا ۔۔۔ 🙂
30/11/2024
نومبر بھی جانے والا ہے ۔۔۔
دسمبر کی شامت آنے والی ہے
بقول شعراء 😊
17/11/2024
کوئی بھی ۔۔۔ انسان آپکے باغ سے ۔۔۔ پھول تو توڑ سکتا ہے، لیکن اس میں آنے والی بہار کو نہیں روک سکتا ۔۔۔
09/11/2024
اقبال تیری عظمت کی داستاں کیا سناؤں
تیری زندگی پے لکھوں تو الفاظ نہ پاؤں
9 نومبر | اقبال ڈے | شاعر مشرق🌒
اللّٰہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اقبال سا حقیقی شعور عطا فرمائے اور جدو جہد مسلسل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین🤲
قاصد! پیام خط کو دینا بہت نہ طول... بس مختصر یہ کہنا... آقا ﷺ! آنکھیں ترس گئی ہیں...صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم💚
02/11/2024
کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ؛
تمہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت پڑے؛ جو تم سے کم حیثیت رکھتا ہو،
تاکہ وہ تمہیں اس دلدل سے نکال سکے جس میں تم ہو ۔۔۔
اس لیے کبھی کسی کو حقیر نہ جانو ۔۔۔ 🙏🏻
31/10/2024
میں بتا سکتا ہوں کس طرح کی جنت ہوگی ۔۔۔ میں نے کچھ روز مدینے میں گزارے ہوئے ہیں❣️
28/10/2024
سب سے قیمتی چیز ۔۔۔ جو واپس نہیں آسکتی، وہ ہے وقت۔ وہ سال اور مہینے جو ہم نے دوسروں کو خوش کرنے، ان کی توقعات پر پورا اترنے یا اپنی ذات کو پس پشت ڈالنے میں ضائع کیے ہیں، ان کا ازالہ ممکن نہیں۔
یہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھیں،
اپنی خوشیوں اور اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھیں،
تاکہ زندگی کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
ہمیں اپنی زندگی میں دوسروں کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنی خوشی اور مقصدیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ضائع شدہ وقت کی تلافی ممکن نہیں۔
میری امید میرا پیار میری آس رہو
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو
روزی روٹی کے لئے اپنا وطن مت چھوڑو
جس کو سینچا ہے لہو سے وہ چمن مت چھوڑو
جا کے پردیس میں چاہت کو ترس جاؤ گے
ایسی بے لوث محبت کو ترس جاؤ گے
پھول پردیس میں چاہت کا نہیں کھلتا ہے
عید کے دن بھی گلے کوئی نہیں ملتا ہے
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو
میں کبھی تم سے کروں گی نہ کوئی فرمائش
عیش و آرام کی جاگے گی نہ دل میں خواہش
فاطمہ بی بی کی باندی ہوں بھروسہ رکّھو
میں تمہارے لئے جیتی ہوں بھروسہ رکّھو
لاکھ دکھ درد ہوں ہنس ہنس کے گزر کر لوں گی
پیٹ پر باندھ کے پتھر بھی بسر کر لوں گی
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو
تم اگر جاؤ گے پردیس سجا کر سپنا
اور جب آؤ گے چمکا کے مقدّر اپنا
مرے چہرے کی چمک خاک میں مل جائے گی
مری زلفوں سے یہ خوشبو بھی نہیں آئے گی
ہیرے اور موتی پہن کر بھی نہ سج پاؤں گی
سرخ جوڑے میں بھی بیوہ سی نظر آؤں گی
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو
دردِ فرقت غمِ تنہائی نہ سہہ پاؤں گی
میں اکیلی کسی صورت بھی نہ رہ پاؤں گی
مرے دامن کے لئے باغ میں کانٹے نہ چنو
تم نے جانے کی اگر ٹھان لی دل میں تو سنو
اپنے ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کر جانا
میری مٹی کو بھی مٹی میں ملا کر جانا
میری امید میرا پیار میری آس رہو
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نظم| شبینہ ادیب
پردیس جانے والے شوہر کی جدائی پر ۔۔۔ مولانا شاہد عمران عارفی صاحب کی زبانی ۔۔۔ نسوانی جذبات کی ترجمانی ۔۔۔
دوائے دل کے ہیں واسطے ❤️
نبی جی آپ کے ہی راستے ❤️
دنیا "عقلمندوں" سے بھری پڑی ہے
مگر "دردمندوں" کا بڑا قحط نظر آتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi
Opening Hours
| 14:00 - 17:00 |