An R Ghouri

An R Ghouri

Share

زندگانی۔۔۔
ایک کہانی

26/12/2024

دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے 😭
لنک کمینٹ میں
👇🏻

10/12/2024

کچھ نہیں ملتا زمانے میں محنت کے بغیر ۔۔
اپنا سایہ بھی مجھے دھوپ میں آنے سے ملا ۔۔۔ 🙂

30/11/2024

نومبر بھی جانے والا ہے ۔۔۔
دسمبر کی شامت آنے والی ہے

بقول شعراء 😊

17/11/2024

کوئی بھی ۔۔۔ انسان آپکے باغ سے ۔۔۔ پھول تو توڑ سکتا ہے، لیکن اس میں آنے والی بہار کو نہیں روک سکتا ۔۔۔

09/11/2024

اقبال تیری عظمت کی داستاں کیا سناؤں
تیری زندگی پے لکھوں تو الفاظ نہ پاؤں

9 نومبر | اقبال ڈے | شاعر مشرق🌒

اللّٰہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اقبال سا حقیقی شعور عطا فرمائے اور جدو جہد مسلسل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین🤲

07/11/2024

قاصد! پیام خط کو دینا بہت نہ طول... بس مختصر یہ کہنا... آقا ﷺ! آنکھیں ترس گئی ہیں...صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم💚

02/11/2024

کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ؛
تمہیں کسی ایسے شخص کی ضرورت پڑے؛ جو تم سے کم حیثیت رکھتا ہو،
تاکہ وہ تمہیں اس دلدل سے نکال سکے جس میں تم ہو ۔۔۔
اس لیے کبھی کسی کو حقیر نہ جانو ۔۔۔ 🙏🏻

31/10/2024

میں بتا سکتا ہوں کس طرح کی جنت ہوگی ۔۔۔ میں نے کچھ روز مدینے میں گزارے ہوئے ہیں❣️

28/10/2024

سب سے قیمتی چیز ۔۔۔ جو واپس نہیں آسکتی، وہ ہے وقت۔ وہ سال اور مہینے جو ہم نے دوسروں کو خوش کرنے، ان کی توقعات پر پورا اترنے یا اپنی ذات کو پس پشت ڈالنے میں ضائع کیے ہیں، ان کا ازالہ ممکن نہیں۔
یہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھیں،
اپنی خوشیوں اور اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھیں،
تاکہ زندگی کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
ہمیں اپنی زندگی میں دوسروں کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنی خوشی اور مقصدیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ضائع شدہ وقت کی تلافی ممکن نہیں۔

27/10/2024

میری امید میرا پیار میری آس رہو
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو

روزی روٹی کے لئے اپنا وطن مت چھوڑو
جس کو سینچا ہے لہو سے وہ چمن مت چھوڑو

جا کے پردیس میں چاہت کو ترس جاؤ گے
ایسی بے لوث محبت کو ترس جاؤ گے

پھول پردیس میں چاہت کا نہیں کھلتا ہے
عید کے دن بھی گلے کوئی نہیں ملتا ہے

تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو

میں کبھی تم سے کروں گی نہ کوئی فرمائش
عیش و آرام کی جاگے گی نہ دل میں خواہش

فاطمہ بی بی کی باندی ہوں بھروسہ رکّھو
میں تمہارے لئے جیتی ہوں بھروسہ رکّھو

لاکھ دکھ درد ہوں ہنس ہنس کے گزر کر لوں گی
پیٹ پر باندھ کے پتھر بھی بسر کر لوں گی

تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو

تم اگر جاؤ گے پردیس سجا کر سپنا
اور جب آؤ گے چمکا کے مقدّر اپنا

مرے چہرے کی چمک خاک میں مل جائے گی
مری زلفوں سے یہ خوشبو بھی نہیں آئے گی

ہیرے اور موتی پہن کر بھی نہ سج پاؤں گی
سرخ جوڑے میں بھی بیوہ سی نظر آؤں گی

تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس رہو

دردِ فرقت غمِ تنہائی نہ سہہ پاؤں گی
میں اکیلی کسی صورت بھی نہ رہ پاؤں گی

مرے دامن کے لئے باغ میں کانٹے نہ چنو
تم نے جانے کی اگر ٹھان لی دل میں تو سنو

اپنے ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کر جانا
میری مٹی کو بھی مٹی میں ملا کر جانا

میری امید میرا پیار میری آس رہو
تم مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میرے پاس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نظم| شبینہ ادیب

پردیس جانے والے شوہر کی جدائی پر ۔۔۔ مولانا شاہد عمران عارفی صاحب کی زبانی ۔۔۔ نسوانی جذبات کی ترجمانی ۔۔۔

27/09/2024

دوائے دل کے ہیں واسطے ❤️
نبی جی آپ کے ہی راستے ❤️

26/09/2024

دنیا "عقلمندوں" سے بھری پڑی ہے
مگر "دردمندوں" کا بڑا قحط نظر آتا ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi

Opening Hours

14:00 - 17:00