Dar_rululoom

Dar_rululoom An institution where you can learn
activity-based Islamic learning

20/09/2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔
اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔
خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے ایک جملہ کہا۔
یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟"
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا، "میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میں اب تک اندھی تھی!"
اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تما تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا، "استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی - "ہمارے بچے کا خیال رکھنا!"
استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، "نہیں، لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے بتائی تھی"۔
استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "جواب صحیح ہے"۔
تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔
اس شخص کی موت کے کئی سال بعد، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے اس کی ایک ڈائری ملی۔
اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص کی گئی تھی.
اس نازک لمحے میں، باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فایدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، "میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں، لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں"۔
کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
استانی جانتی ہے کہ طلباء کہانی کے اخلاقی سبق کو سمجھ چکے ہیں کہ دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے، لیکن ان کے پیچھے بہت سی پیچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہئے۔
جو لوگ بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں۔
جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔
جو لوگ آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ وہ آپ کی کسی بھی چیز کے مقروض ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ آپ کو ایک سچے دوست کے طور پر اہمیت دیتے ہیں۔
جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ ہم ہر موضوع اور کوئی بھی موضوع نہ ہونے کے بارے میں ہماری گفتگو کو یاد کریں گے۔اور ان خوابوں کو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ رابطہ نایاب ہو جائے گا... ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور آپ کہیں گے: 'یہ وہی تھے جن کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے'۔
💝
🌹🌹❤❤

02/09/2026

حضرت صالح علیہ السلام کا واقعہ
حضرت صالح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قومِ ثمود کی طرف بھیجا۔ قومِ ثمود ایک طاقتور اور خوشحال قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں آباد کیا تھا۔ وہ میدانوں میں محل بناتے اور پہاڑوں کو تراش کر مضبوط گھر بناتے تھے۔ لیکن اپنی طاقت اور نعمتوں کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور زمین میں فساد پھیلانے سے منع کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی سچائی کی ایک واضح نشانی اپنی قوم کو عطا فرمائی۔ وہ اللہ کی اونٹنی تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اسے اللہ کی زمین میں آزادانہ چرنے دو اور اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں دردناک عذاب پہنچے گا۔
قوم کے کچھ لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی بات مان لی، لیکن متکبر سرداروں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ وہ حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلاتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کی بھی قدر نہ کی۔ آخرکار انہوں نے اللہ کی اونٹنی کو ہلاک کردیا اور حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچا دیا تھا اور انہیں سمجھایا تھا، لیکن وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے۔
آخرکار اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آگیا۔ ایک زبردست زلزلے نے انہیں اپنی بستیوں میں بے جان کر دیا۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے منہ پھیر کر چلے گئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا اور تمہاری خیرخواہی کی، لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔
ہمارے لیے اصل سبق
یہ واقعہ صرف ایک قدیم قوم کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔
کبھی انسان کو طاقت ملتی ہے، کبھی دولت، علم، اختیار، خوبصورتی، مقام یا کامیابی۔ پھر آہستہ آہستہ وہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ یہ سب اللہ کی عطا ہے۔ انسان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہی نعمتوں کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔
قومِ ثمود کی تباہی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسئلہ نعمتوں کا ہونا نہیں، بلکہ نعمتوں کے بعد اللہ کو بھول جانا ہے۔
اور ایک اور بہت اہم بات:
ہر وہ شخص جو ہمیں ہماری غلطی پر متنبہ کرتا ہے، ہمارا دشمن نہیں ہوتا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کی خیرخواہی کی، مگر انہوں نے خیرخواہ کی بات قبول کرنے کے بجائے اسے رد کر دیا۔
ہمیں اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا ہم بھی کبھی اپنی غلطی واضح ہوجانے کے باوجود صرف اس لیے حق بات قبول نہیں کرتے کہ وہ ہمیں کسی دوسرے شخص نے بتائی ہے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے، تکبر سے بچنے، حق کو پہچاننے اور خیرخواہی کرنے والوں کی نصیحت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

25/08/2026

*مکمل واقعہ ضرور پڑھیں* ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔

وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:
’’کیا بات ہے؟‘‘

پڑوسی نے کہا:
’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘

اس نے کہا:

’’ان شاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘

وہ شخص بیان کرتا ہے:

’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔ یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔

نماز ختم ہوئی اور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:

’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘

میں نے پوچھا:
’کیوں؟‘

اس نے کہا:

’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا۔ اس میں بیس فلیٹ ہیں۔

کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘

میں بے اختیار پکار اٹھا:

’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘

اس نے کہا:

’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے مختص سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہے—ہمیشہ کے لیے۔‘

وہ شخص کہتا ہے:

’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی، ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا!

میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘

جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔

خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔

اس شخص نے اس سے پوچھا:

’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘

غریب پڑوسی نے جواب دیا:

’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔

البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ

نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے۔

منقول
➖----»»🌹 🪷🌹««----➖
ایک بارخاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود شریف پڑھ لیجئے

*جَــزَی الـلّٰـهُ عَــنَّـا مُـحَــمَّــداًﷺ مَّــاھُــوَ اَھٌــلُــہٗ*
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے۔

24/08/2026

ڈاکٹر مصطفی محمود لکھتے ہیں:

تم قبر میں ہزاروں سال تک کیا کرو گے؟

میں تمہیں ایک طریقہ بتاتا ہوں جو میرے ساتھ بہت کارآمد ثابت ہوا اور جس سے میں اپنے اللہ سے تعلق پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے لگا ہوں۔

قبر خوفناک ہے، ظاہر ہے کہ نیک لوگوں کے علاوہ۔

میں نے اس کے بارے میں سوچا، اور اب میری عمر 54 سال ہے، اور میں دنیا سے اور اس کی چیزوں سے تنگ آ چکا ہوں۔ اچھا، تو جب میں قبر میں جا کر اکیلا رہوں گا، سینکڑوں ہزاروں سال تک، تو میں کیا کروں گا؟

کیا تم نے کبھی اس کا تصور کیا ہے؟

اس لیے میں نے مندرجہ ذیل طریقے پر عمل کرنا شروع کیا:

دیکھو میں مر جاؤں گا، اور میرے پاس ایک خالی، بالکل تاریک قبر ہوگی۔

اس قبر کو سامان کی ضرورت ہوگی، لہٰذا میں ہر استغفار کو تصور کرنے لگا جیسے میں اسے اپنے قبر کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ وہاں میرا انتظار کرے اور میرے تنہائی کا ساتھی بنے۔

اللہ کی قسم، میں مذاق نہیں کر رہا۔

میں نے اپنی قبر کو مکمل ڈیکوریٹ کر دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

قبر کے ایک کونے کو میں ہزاروں تسبیحات سے بھر رہا ہوں۔

یہاں میرے سر کے قریب کم از کم 300 ختم قرآن ہوں گے جو میرے لیے آرام دہ بستر کا سبب بنیں گے۔

ہر رکوع کو میں یہ تصور کر کے ادا کرتا ہوں کہ میں اسے قبر میں اپنا ذخیرہ بنا رہا ہوں۔

ہر کوئی مجھے چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلا جائے گا، اور میں اکیلا رہ جاؤں گا شاید ہزاروں سالوں تک۔ میرے بچے چند سالوں میں مجھے بھول چکے ہوں گے۔

لہذا، مجھے قبر میں ساتھیوں، روشنیوں، اور جنت کے جیسے مناظر کی ضرورت ہوگی۔

میں تسبیحات، ذکر، قرآن، نماز اور صدقہ سب کو اپنے ساتھ تصور کرتا ہوں کہ وہ میرے دوست ہوں گے، میرے ساتھ وہاں ہنس رہے ہوں گے اور باتیں کر رہے ہوں گے۔

نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا میں نے اپنے معمولات کا ایک اہم عمل بنا لیا ہے، یہ وہاں ہماری محفلوں میں بھی شامل ہوگا ٹھنڈے پانی کی طرح، خوبصورت لباس کی طرح۔

میں یہ چاہتا ہوں کہ میری قبر کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بھی زیادہ خوبصورت زندگی ہو۔ ان شاء اللہ۔

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں وہاں جا کر غیبت، چغلی، حسد اور دیگر دنیاوی گناہوں کے نتیجے میں بدبو دار کپڑوں، دیمک لگے فرنیچر اور سخت پتھریلے بستر کے بجائے اپنی قبر کو بہترین چیزوں سے آراستہ کروں۔

میں نے دنیا میں اپنا گھر بنانے کے لیے ساری زندگی جان توڑ محنت کی لیکن یہ گھر تو میرے ورثاء کا ہوجائے گا، اصل میں تو میری ساری محنت اپنے لیے ہے ہی نہیں، سارے فائدے تو اور لوگ اٹھائیں گے۔ تو میں نے سوچا کہ بس بہت ہوگیا ہے، مجھے اپنا گھر بنانا ہے جہاں صرف میں ہی ہوں گا اور ایک طویل عرصہ گزارنا ہے۔

اگر میرے تمام اعمال دنیا کی ضروریات کے لیے تھے اور اپنی قبر کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، تو پھر تو میرے قبر والے گھر کے لیے سوائے عذاب کے فرنیچر، مستقل اندھیرے، اور سخت حساب کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ اور میں ایسے گھر میں اکیلا کیسے رہوں گا!

میری آپ کو بھی نصیحت یہ ہے کہ آج سے:

اپنی قبر کو اپنا بینک اکاؤنٹ بناؤ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ڈپازٹ کرو اور لانگ ٹرم والی پالیسی لو۔

اپنی عبادات کا خوب خیال رکھو۔ اللہ کی قسم، جب تم قبر میں ہوگے، تو تم مجھے وہاں سے بھی شکریہ ادا کرو گے۔

اپنی قبر کے گھر کا اس دنیا کے گھر سے زیادہ خیال رکھو۔

ابھی تم اپنے گھر والوں کے درمیان ہو، پہن رہے ہو، کھا پی رہے ہو، آرام سے گھر والوں کے درمیان سو رہے ہو، اور تمہیں تمہاری تمام ضروریات میسر ہیں، پھر بھی تم اپنے حالت سے نالاں رہتے ہو، ہر وقت کوئی نہ کوئی شکایت کرتے رہتے ہو۔

تو سوچو جب تم زمین کے نیچے ہوگے اور سینکڑوں ہزاروں سالوں کے لیے ہوگے تو وہاں تمہارے ساتھ کون ہوگا؟

تمہارے پسندیدہ سیاستدان، کھلاڑی، اداکار، تاجر۔۔۔۔۔ یہ تو تمہیں یہاں بھی نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں تمہاری اتنی فکر ہے، تم ہی ان سب کے پیچھے بیوقوفوں کی طرح اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔

تمہارے وہ بچے جن کی شادیوں پر تم لاکھوں روپے فضولیات پر خرچ کردیتے ہو، یقین کرو یہ خرچ تمہارے لیے وبال بن چکا ہوگا، اور بچے مکر جائیں گے کہ ہمارے باپ نے اور ہماری ماں نے خود ہمارے لیے بھی اور اپنے لیے بھی مصیبت کھڑی کی ۔ اس لیے آج سے اپنی جان کی فکر کرواپنا خیال خود

اےاللہ ، ہمیں حسن خاتمہ عطا فرما۔

اے اللہ، ہماری آخرت کو بہتر بنا دے اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچا۔

اے اللہ، ہمیں اپنا ذکر، شکر، اور حسن عبادت کی توفیق عطا فرما تاکہ تو ہم پر اپنی رضا اور جنت الفردوس میں نعمتیں نازل کرے، جہاں ہم تیرے نبی محمد ﷺ کی صحبت میں ہوں، جن پر بے شمار درود و سلام ہو۔

تو پھر اپنا گھر بنانا شروع کرو۔

*کھیل ہی کھیل میں بچوں کی اسلامی تربیت* ✨السلام علیکم! 🌸4 سے 5 سال کے بچوں کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے میں نے ایک بہت...
06/04/2026

*کھیل ہی کھیل میں بچوں کی اسلامی تربیت* ✨
السلام علیکم! 🌸
4 سے 5 سال کے بچوں کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے میں نے ایک بہت سادہ مگر کامیاب طریقہ اپنایا ہے: "کہانیاں اور سرگرمیاں"۔
بچوں کو دعائیں رٹانے کے بجائے انہیں کہانیوں کے ذریعے سکھائیں کہ ہم دعا کیوں مانگتے ہیں۔ مثلاً:
دعا کارڈز: بچوں کے ساتھ مل کر چھوٹے کارڈز بنائیں جن پر کھانا کھانے یا سونے کی دعا لکھی ہو اور ان پر رنگ بھریں۔
روزمرہ کے معمولات: دسترخوان پر "دعا لیڈر" مقرر کریں، اس سے بچوں میں شوق پیدا ہوتا ہے۔
صرف نصیحت نہیں، محبت اور کہانیوں سے بچوں کے دل جیتیں! 🤲❤️
آپ اپنے بچوں کو دعائیں کیسے سکھاتے ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں! 👇

24/05/2023
Indeed
06/11/2022

Indeed

Is Your child is unfamiliar with the basic of Qur'anic knowledge???No worries Dar ul uloom is a online qur'anic academy ...
31/10/2022

Is Your child is unfamiliar with the basic of Qur'anic knowledge???
No worries
Dar ul uloom is a online qur'anic academy
we offer
*One to one Quranic session
*Free demo class
*Highly trained and professional teachers
*English speaking Quran teachers
*Flexible class timing
*Learning Masnoon Duas, Namaz & Comprehend Quran
*Students Engagements via set of numerous kinds of Islamic activities.

Our Enrollment Process is very easy Just Leave a message in our inbox then we will take it up from there ,Our first Session will be a free demo class.
To Enroll Contact To us
+92 343 2840414


Address

Clifton
Karachi
75220

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar_rululoom posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dar_rululoom:

Shortcuts

Share