TaleemGah

TaleemGah

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from TaleemGah, Educational consultant, Model Colony, Karachi.

13/04/2024

مولوی اور جدید دنیا کے معاملات
یمین الدین احمد

جب کبھی جدید دنیا کے اندر ظہور پذیر ہونے والے معاملات اور ان کے متعلق دین اسلام کی شرح پر بات ہوتی ہے، ہمیں ایک جملہ عموما" سننے کو ملتا ہے:

“یہ مولوی ہر قسم کی جدید ترقی کے خلاف ہیں، اب دیکھیں نا جب لاؤڈ سپیکر ایجاد ہوا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا استعمال حرام ہے اور بعد میں جب خود کا فائدہ نظر آیا تو اپنے فائدے کے لیے ہی اس کو حلال قرار دے دیا۔”

ان "مولویوں" سے تیس سال کے تعلق اور جید علماء کی تحریروں کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ معتبر اور جید علماء کے بارے میں یہ رائے رکھنا کہ وہ ٹیکنالوجی کے خلاف تھے یا ہیں درست نہیں ہے۔

درحقیقت علماء ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ جدیدیت کے نام پر مغرب اور اس کی ثقافت کی اندھا دھند تقلید کے خلاف ہیں۔

اس حوالے سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب “اسلام اور جدت پسندی” کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

جید علمائے کرام سے تعلق اور ان کے ساتھ بیشمار اسفار کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی جدید مسئلے میں علماء ہمیشہ بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہیں اور جب تک مکمل اطمینان نہیں ہوجاتا، وہ عموما" اس چیز کے استعمال سے بچنے کا فتوی دیتے ہیں۔

ہم لاؤڈسپیکر والے معاملے کو ہی لے لیتے ہیں۔ وہ علماء جنہوں نے اوائل میں یہ فتویٰ دیا تھا کہ لاؤڈسپیکر کا استعمال حرام ہے، بعد میں انہوں نے اسے حلال کیوں قرار دے دیا؟

لاؤڈسپیکر کے حرام قرار دیئے جانے کا فتویٰ سب سے پہلے ہندوستان کے ایک معروف عالم دین اور فقیہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے دیا تھا۔

اس معاملے پر ان کے تین فتاویٰ جات ان کے مذہبی مسائل (کے حل) کے مجموعہ “امدادالفتاویٰ” کی جلد اول کا حصہ ہیں۔

ان کے تلامذہ میں شامل مفتی محمد شفیع عثمانیؒ (مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد) نے اس کی تدوین کا اہتمام کیا اور جلد کے اختتام پر ایک ضمیمہ کی شکل میں فتویٰ کا پس منظر، اس کی بنیاد اور اس کی بالآخر تبدیلی کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

اس معاملے سے متعلق پہلا فتویٰ رمضان المبارک 1346ھ (فروری 1928ء) کو سامنے آیا، جس میں مولانا تھانویؒ کی یہ رائے تھی کہ اس کا استعمال بالکل حرام ہے۔

اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ذوالحج 1346ھ (مئی 1928ء) میں انہوں نے اپنی رائے کا اعادہ کیا۔

مفتی محمد شفیع ؒ کے مطابق یہ رائے لاؤڈسپیکر کے برصغیر میں متعارف کرائے جانے کے ابتدائی دنوں کی ہے، جب کہ اس کی حقیقت کا علماء اور عوام دونوں ہی میں زیادہ ادراک نہیں تھا۔

اس رائے کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ یہ م“گراموفون” کی طرح کی کوئی چیز ہے، جو ان دنوں گانے بجانے اور موسیقی کے لیے مخصوص تھا۔

مزید یہ کہ اس کا استعمال وسیع پیمانے پر نہیں تھا اور چونکہ اکثر لوگوں کو اس کا پتا ہی نہیں تھا اس لیے اس کی تفصیل اور گہرائی میں جانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

عبادات میں اس کے استعمال کی ممانعت کی بنیاد اس کی کارکردگی سے متعلق الجھن کی وجہ سے تھی۔

مولانا تھانویؒ اور دیگر علماء پر یہ واضح نہیں تھا کہ یہ محض آواز کو بلند کر کے پیش کرتا ہے یا پھر اسے ریکارڈ کرکے نشر کرتا ہے، اور آج تک تمام مکاتب فکر کے علماء اس بات پر قائم ہیں کہ ریکارڈ شدہ آواز سے نماز نہیں ہوتی۔

اس موقع پر یہ بات بھی واضح رہے کہ جس وقت مولانا تھانویؒ اپنی رائے پر قائم تھے، برِصغیر کے ایک اور بڑے عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لاؤڈسپیکر کے استعمال سے نماز فاسد قرار دئیے جانے پر ان سے متفق نہیں تھے۔

چنانچہ ان حضرات نے ایسے معاملات میں مہارت رکھنے والے حضرات سے مدد طلب کی۔ ان لوگوں کے نام اور ان کی طرف سے موصول شدہ جوابات حاشیہ کی صورت میں امداد الفتاویٰ جلد اول کے صفحات 685 تا 687 میں درج ہیں۔

جن لوگوں سے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبر احمد عثمانی رحمھم اللہ نے لاؤڈسپیکر کے استعمال سے متعلق رائے طلب کی، ان میں اس زمانے میں ہندوستان میں سائنس کے دو بڑے اساتذہ بھی شامل ہیں۔۔۔

1۔ سید شبیر علی ،ایم۔اے ۔پروفیسر محکمہ سائنس، علی گڑھ یونیورسٹی

2۔ برج نندر، بی۔ایس۔سی۔ سائنس ، ایلگزینڈر ہائی سکول بھوپال

دیگر تمام افراد نام کے ساتھ مذکور نہیں ہیں البتہ دیگر کچھ ماہرین طبیعیات بھی شامل تھے۔

یہ نہیں کہا جارہا کہ وہ لوگ ہی حقیقی سند تھے بلکہ مولانا تھانوی ؒکا یہ عمل اس معاملے سے متعلق ان کی فکر اور رویے کا عکاس ہے۔

انہوں نے درپیش مسئلے پر ایسے لوگوں سے دریافت کرنے کااہتمام کیا جو ان کی نسبت معاملہ کی تیکنیکی اور سائنسی توجیہہ سے زیادہ واقف تھے۔

غور کیجیے کہ ایک ہندو استاد سے ملاقات اور ان کی رائے کو اہم مانا گیا اور توجہ دی گئی۔

تاہم ان جوابات پر غور کرنے کے بعد بھی الجھن برقرار رہی اور مولانا تھانویؒ نے یہ رائے دی کہ اگرچہ اس سے پڑھی جانے والی نمازیں فاسد نہیں ٹھہرتیں ، مگر نماز میں اس کے استعمال سے پرہیز کرنا مناسب ہے۔ (امداد الفتاویٰ جلد 1، صفحہ 685)

پھر محرم الحرام 1357ھ (مارچ 1938ء) میں لاؤڈسپیکر کی درست کیفیت اور دائرہ کار مولانا تھانویؒ کے علم میں لایا گیا، اور اس سے متعلق ایک تفصیلی سوال کے جواب میں مولانا نے یہ رائے دی کہ عام خطبات اور تقاریر میں اسکے استعمال کی اجازت ہے ۔ مگر انہوں نے نماز اور عیدین کے خطبات میں اس کے استعمال کی اجازت نہ دی۔

اپنے ذوالحج 1346ھ کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ:

”یہ سب تحقیقات اپنی معلومات کے موافق لکھی گئی ہیں لیکن اگر کسی کو اس سے زیادہ یا اس کے خلاف تحقیق ہو وہ اپنی تحقیق کے مطابق عمل کرے اور اگر ہم کو بھی مطلع کردے تو عنداللہ ماجور ہوگا ۔واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم “(امدادالفتاویٰ جلد اول،صفحہ 691)

مولانا تھانویؒ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد مفتی محمد شفیعؒ نے بھی ان ہی کی رائے کے مطابق فتویٰ جاری رکھا۔

لیکن قیام پاکستان کے بعد انہوں نے وہی سوالات ریڈیو پاکستان کے ماہرین کو ارسال کیے ، جن کا متفقہ جواب آیا کہ نشر کی جانے والی آواز محض بلند کی جاتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سامعین تک پہنچ سکیں اور براہ راست آوازوں کو پہلے سے ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔

مفتی شفیع ؒ لکھتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آواز بلند ہوکر براہ راست نشر ہوتی ہے تو نمازوں میں لاوڈسپیکر کے استعمال سے متعلق ممانعت کی بنیاد ختم ہوگئی۔

چنانچہ اس حوالے سے انہوں نے لاؤڈسپیکر کے استعمال سے متعلق شعبان 1372ھ (اپریل 1953ء) میں ایک مقالہ لکھا اور 1382ھ (1962-1963ء) میں اس کا اعادہ کیا۔

ہمارے وہ لوگ جو اس معاملے میں مولویوں کو تختہ مشق بناتے ہیں، انہیں یہاں پر مفتی کے عہدہ کی حساس نوعیت کا ادراک ہونا لازمی ہے۔

کسی بھی مفتی کو معاملات میں بہت احتیاط سے رائے دینا ہوتی ہے کیونکہ اس کے الفاظ کا اطلاق محض عوام الناس ہی نہیں ،خود اس پر بھی ہوتا ہے اور فتویٰ کے نتیجے میں آنے والے کسی بھی قسم کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

گویا مفتی اپنے علم کی وجہ سے ایک عام مسلمان اور اللہ تعالٰی کے احکامات کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے اور اس کا منصب انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔

لاؤڈسپیکر کا معاملہ اسلامی عبادات اور مسلم طرز زندگی کے سب سے اہم رکن نماز کی قبولیت سے متعلق ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ اہم تھا، اور علماء کا طرزعمل بہت عملی، معقول اور محتاط تھا کیونکہ انہوں نے لوگوں کو ایسی چیز کے استعمال سے منع کیا تھا جس کے متعلق ان کے اذہان میں شبہات تھے جو ممکنہ طور پر نماز کے درست ہونے پر اثرانداز ہوسکتے تھے، جبکہ اس پورے عرصے میں وہ خود حقیقت کی تلاش میں مصروف رہے۔اور جونہی ان پر حقیقت آشکار ہوئی تو انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔

اگر کسی انسان میں علماء کا بغض نہ ہو تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔

1۔ مولانا تھانوی کا پہلا فتویٰ نا مکمل یا غلط معلومات کی بنیاد پر تھا اور چونکہ لاؤڈسپیکر سے متعلق واقفیت بہت کم تھی اس لیے اس کی گہرائی میں جانے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔

2۔ لاؤڈسپیکر کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات کے حصول کے لیے ماہرین سے رائے طلب کرنے کا نہایت معقول طریقہ اپنایا گیا، اور اس ضمن میں ایک ہندو سے رائے لینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہ کی گئی۔

لیکن ہندوستان میں سائنس کے ماہرین کے پاس بھی مکمل معلومات نہیں تھیں جس کی وجہ سے پہلا فتوی برقرار رکھا گیا۔ یہ بھی بالکل معقول بات ہے۔

3۔ لاؤڈسپیکر کی حقیقی کیفیت کا ادراک بڑھنے پر علماء نے عبادات کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں اس کے استعمال کی ممانعت سے ہاتھ روک لیا۔

4۔ جب تک لاؤڈسپیکر کے کام کرنے کے حوالے سے تفصیلی معلومات پر پردہ رہا،انہوں نے عبادات میں اس کے استعمال پر ممانعت کی رائے برقرار رکھی کیونکہ عبادات میں حقیقی اصولوں کی پابندی لازم ہوتی ہے۔

5۔ تاہم جب ماہرین کی یہ متفقہ رائے سامنے آگئی کہ لاؤڈسپیکر نشریات کو ریکارڈ کر کے آگے نہیں بھیجتا بلکہ محض آواز کو بلند کرتا ہے تو علماء نے اپنے فتویٰ کی ترمیم میں کوئی عار محسوس نہ کی۔

اگرچہ آج لوگوں کو یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگتا ہے ، مگر خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان علماء کا عمل بہت مدبرانہ تھا۔

وہ محتاط تو تھے لیکن ہٹ دھرم نہیں تھے ۔لہٰذا انہوں نے نئی معلومات کا خیرمقدم کیا، اور لاؤڈسپیکر کی تیکنیکی کارکردگی سے متعلق وضاحت کے لیے ماہرین سے تجاویز طلب کرنے کا درست طریقہ کار اختیار کیا اور اسی کے مطابق اپنے فیصلے میں ترمیم بھی کی۔

اگر کوئی غیر علمی ذہن سے سوچنے اور مسلمانوں کے ہمہ قسمی جدات و اختراعات میں پڑنے، چاہے ان کا تعلق امور عبادات سے ہی کیوں نہ ہو، کا خواہش مند نہ ہو تو وہ اس زمانے کے علماء کی حکمت عملی کو ضرور سراہے گا۔

بالکل ایسے ہی آج بھی ہم مختلف معاملات پر یہ بحث دیکھتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر شخص ہر قسم کے خیالات کا اظہار کرنے میں آزاد ہے اور جدید دنیا میں "آزادی اظہار رائے" ایک اہم قدر کے طور پر جانا جاتا ہے تو دین اور شریعت کے اہم معاملات میں بھی ہر شخص اپنی رائے دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب دین کے حوالے سے کوئی رائے دی جارہی ہو لیکن مولوی پر طنز نہ ہو، یہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔

پھر دوسرا مسئلہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ اخلاقی تربیت پچھلے بیس پچیس برسوں میں مفقود ہوگئی ہے لہٰذا زبان و قلم بھی شتر بے مہار کی طرح چل رہے ہیں اور خالصتا" علمی مباحث بھی اب اس غیر تربیت یافتہ معاشرے کے ہاتھ میں آگئے ہیں جس کی بڑی اکثریت کو پاکی، ناپاکی اور طہارت کے مسائل سے ہی واقفیت نہیں ہے۔

اس کے نتیجے میں انتہائی غیر مفید اور مقصدیت سے خالی بحثیں آپ کو سوشل میڈیا پر جابجا نظر آتی ہیں۔ سمجھداری کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں (قلم) کو روک کر استعمال کریں خصوصا" اگر آپ دین اسلام سے متعلق کوئی بات خود کر رہے ہیں یا کسی پوسٹ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

یمین الدین احمد
13 اپریل 2024ء
کراچی، پاکستان۔

03/03/2023
21/02/2023

حرام کو چھوڑنے کا نتیجہ*
دمشق میں ایک بہت بڑی مسجد ہے کہ جو *"مسجد جامع توبہ"* کے نام سے مشہور ہے-
اس میں ایک طالب علم کہ جو بہت زیادہ غریب, اور عزت نفس میں مشہور تها وہ اسی مسجد کے ایک کمرے میں ساکن تها-
دو روز گزر چکے تھے کہ اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور اس کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تهی اور نہ کوئی پیسہ اس کے پاس تھا ...
تیسرے روز بهوک کی شدت سے اس نے احساس کیا کہ وہ مرنے کے قریب ہے!
سوچنے لگا کہ اب میں اس حالت میں ہوں کہ شرعا" حتیٰ کہ مردار کھانا یا ضرورت کے مطابق چوری جائز ہے.
اسی بنا پر چوری کا راستہ بہترین راه تهی.
⚪ [شیخ طنطاوی کہتے ہیں:
یہ سچا واقعہ ہے اور میں ان لوگوں کو اچهی طرح جانتا ہوں اور اس واقعہ کی تفصیل سے اگاہ ہوں۔
یہ مسجد ایک قدیمی محلہ میں واقع ہے اور وہاں تمام مکانات قدیمی طرز پر اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کی چھتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور چهتوں سے ہی سارے محلہ میں جایا جاسکتا ہے-
🌼یہ جوان مسجد کی چھت پرگیا اور وہاں سے محلہ کے گھروں کی طرف چل دیا پہلے گھر میں پہنچا تو دیکھا وہاں کچھ خواتین ہیں تو سر جهکا کے وہاں سے چلا گیا-
بعد والے گهر پہنچا تو دیکها گهر خالی ہے لیکن اس گهر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے-
بهوک کی شدت میں جب کھانے کی خوشبو اس کے دماغ میں پہنچی تو بھوکے کی مانند اس کو اپنی طرف کھینچ لیا. یہ مکان ایک منزل تها-
فورا" باورچی خانے میں پہنچا - دیگچی کا ڈهکن اٹھایا تو اس میں بهرے ہوئے بینگن کا سالن تها-
ایک بینگن اٹهایا بهوک کی شدت سے سالن کے گرم ہونے کی بهی پرواہ نہیں کی-
بینگن کو دانتوں سے کاٹا اور جیسے ہی نِگلنا چاہا تو اسی وقت عقل اپنی جگہ واپس آگئی اور اس کا ایمان جاگ گیا-
اپنے آپ سے کہنے لگا:
خدا کی پناہ!
میں طالب علم ہوں
لوگوں کے گهر میں گهسوں اور چوری کروں؟؟
اپنے اس فعل پر شرم آ گئ ,پشیمان ہوا اور استغفار کیا اور پهر بینگن کو واپس دیگچی میں رکھ دیا .اور جیسے آیا تها ویسے ہی واپس لوٹ گیا- اور مسجد میں داخل ہوکر شیخ کے حلقہ درس میں حاضر ہوا-
بهوک کی شدت سے سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ شیخ کیا درس دے رہے ہیں؟
جب شیخ درس سے فارغ ہوئے اور لوگ بهی متفرق ہوگئے، تو
ایک خاتون مکمل حجاب میں وہاں آئی -
شیخ سے کچھ گفتگو کی اور وہ طالب علم ان دونوں کی گفتگو نہیں سمجھ سکا ..
شیخ نے اپنے اطراف میں نگاہ کی تو اس طالب علم کے علاوہ کسی کو وہاں نہ پایا… پهر
اس کو آواز دی اور کہا: تم شادی شدہ ہو ؟
جوان نے کہا: نہیں!
شیخ نے کہا: تم شادی نہیں کرنا چاہتے؟
جوان خاموش رہ گیا…
شیخ نے پھر کہا: مجھے بتاؤ تم شادی کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟
اس جوان نے جواب دیا: خدا کی قسم میرے پاس ایک لقمہ روٹی کے لئے پیسے نہیں ہیں...
میں کس طرح شادی کروں؟
شیح نے کہا: یہ خاتون آئی ہے اس نے مجھے بتایا ہے کہ اس کا شوہر وفات پاگیا ہے اور اس شہر میں بے اور اس کا دنیا میں سوائے ایک ضعیف چچا کے کوئی عزیز و رشتہ دار نہیں ہے...
اپنے چچا کو یہ اپنے ساتھ لے کر آئی ہے .. ..اور وہ اس وقت اس مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہے ...اور اس خاتون کو اس کے شوہر سے گهر اور مال ورثہ میں ملا ہے...
اب یہ آئی ہے اور ایسے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے جو شرعا" اس کا شوہر اور اس کا سرپرست ہو- تاکہ تنہائی اور بدطینت انسانوں سے محفوظ رہے.
کیا تم اس سے شادی کرو گے ؟
جوان نے کہا: ہاں🌹
اور پھر اس خاتون سے پوچھا: کہ تم اس کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کرتی ہو؟
اس نے بھی مثبت جواب دیا...
شیخ نے اس خاتون کے چچا اور دو گواہوں کو بلا کر ان دونوں کا نکاح پڑھ دیا اور اس طالب علم کے بجائے خود اس خاتون کا مہر ادا کیا- اور پهر اس خاتون سے کہا: اپنے شوہر کا ہاتھ تھام لو.
اس نے ہاتھ تهام لیا اور اپنے گهر کی طرف اپنے شوہر کی رہنمائی کی ..
جب گهر میں داخل ہوئی تو اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا...
وہ جوان اپنی زوجہ کے حسن و جمال سے حیران ہو گیا!
اور جب اس گهر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہی گھر ہے جس میں وہ داخل ہوا تها .... زوجہ نے شوہر سے پوچها کہ تمہیں کچھ کهانے کے لئے لے آوں ؟
کہا: ہاں..
اس نے دیگچی کا ڈهکن اٹهایا اور بینگن کو دیکها اور بولی: عجیب ہے گھر میں کون آیا تھا اور اس نے بینگن کو دانتوں سے کاٹا ہے ..؟! وہ جوان رونے لگا اور اپنا قصہ اس کو سنا دیا...
زوجہ نے کہا: یہ تمہاری امانت داری اور تقویٰ کا نتیجہ ہے تم نے حرام بینگن کهانے سے اجتناب کیا تو الله نے سارا گھر اور گھر کی مالکہ کو حلال طریقے سے تمہیں دے دیا..!.
*بہت خوبصورت اور قابل غور۔
سبحان_الله!
جو کوئی الله کی خاطر کسی گناہ کو ترک کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو
الله اس کے مقابل میں بہتر چیز اس کو عطا کرتا ہے۔
نقل شدہ

18/02/2023

اینکر حضرات ٹاک شو انگریزی میں کیوں نہیں کرتے؟
آصف محمود| ترکش |روزنامہ 92 نیوز
ہمارے سو ٹڈ بوٹڈ اینکر پرسن اپنے ٹاک شوز انگریزی میں کیوں نہیں کرتے؟۔۔۔۔۔ یہ نہ طنز ہے نہ افتاد طبع کی شوخی ، یہ انتہائی اہم سوال ہے ۔
اکثر محترم اینکرز ٹوئٹر پر موجود ہیں۔ وہاں یہ انگریزی زبان میں ابلاغ فرماتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر یہ اپنے ٹاک شوز بھی اسی زبان میں کیوں نہیں کرتے؟وجہ کیا ہے؟
اس ملک میں ایک انگریزی ٹی وی چینل آیا تھا ، کچھ عرصے کے بعد اسے اردو چینل میں بدل دیا گیا ۔ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ ایسا کیوں کرنا پڑا؟
ایک اور میڈیا ہائوس نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ ایک انگریزی زبان کا چینل لا رہا ہے ، ابتدائی کام بھی ہو گیا ، افراد کا انتخاب بھی ہو گیا لیکن پھر وہ پراجیکٹ بند کر دیا گیا۔ سوال وہی ہے کہ کیوں؟
اس کا ایک ہی جواب ہے کہ انگریزی اس ملک کا Lingua Franka نہیں ہے۔یہ یہاں نہ ذریعہ اظہار ہے نہ ذریعہ ابلاغ۔ یہ صرف احساس کمتری کا استعارہ ہے اور ’ مقامی جنٹل مین‘ اس زبان میں ابلاغ کو تفاخرکی علامت سمجھتے ہیں۔لیکن وہ اتنے سیانے ضرور ہیں کہ اپنے پیشہ ورانہ مفادات پر ضرب نہیں آنے دینا چاہتے۔
چنانچہ جب بات ٹاک شو کی آئے گی تو وہ انگریزی میں نہیں بلکہ اردو میں ہو گا تا کہ لوگ دیکھیں اور ریٹنگ آ سکے۔
جب یو ٹیوب چینل پر خطبہ ہو گا تو وہ اردو زبان میں دیا جائے گا تا کہ دیکھنے والوں کی تعداد بڑھے اور اس کے ساتھ مالی امکانات بھی پیدا ہوں۔لیکن عام بول چال میں ان کی تین کلو میٹر کی گفتگو میں پونے تین کلو میٹر ( ناقص) انگریزی شامل ہوتی ہے۔
زبان کیا ہے؟ ذریعہ ابلاغ۔ پاکستان میں اگر کوئی زبان ہر جگہ سمجھی جا سکتی ہے اور اس میں بات کی جا سکتی ہے تو وہ اردو ہے۔مقصد اگر بات سمجھانا ہی ہے اور اپنے موقف کا ابلاغ کرنا ہی ہے تو پھر انگریزی پر اصرار کیوں؟یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر اہتمام غلام برصغیر میں پھیلائے گئے احساس کمتری کے سوا کچھ ہے تو کیا ہے؟
چند ماہ پہلے کی بات ہے ،میں سٹوڈیو سے نکلا تو گاڑی میںمحترمہ طاہرہ عبد اللہ میرے ساتھ تھیں۔ وہ ایک سیمینار میں بات کر رہی تھیں تو شرکاء نے ان سے درخواست کی کہ انگریزی میں بات کریں۔ انہوں نے انکار کر دیا اور بات اردو میں جاری رکھی۔ میں نے ان کے اس رویے کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درست کام کیا۔ ہاں اگر وہاں کوئی انگریز بیٹھے ہوتے جنہیں اردو نہ آتی تو پھر معاملہ اور تھا اور اس صورت میں انگریزی میں بات کی جا سکتی تھی۔
طاہرہ عبد اللہ صاحبہ نے کہا نہیں آصف مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ اس صورت میں بھی انگریزی میں بات نہیں کی جا سکتی تھی بلکہ اس صورت میں انگریز شرکاء کو مترجم ساتھ لے کر آنا چاہیے تھا ۔ سفارت خانوں کے پاس بہت سے مالی وسائل ہوتے ہیں ، انہیں مترجم کا بندوبست کر کے آنا چاہیے۔ہم جب بیرون ملک جاتے ہیں تو کیا وہ ہمارے احترام میں اردو میں بات کرتے ہیں کہ ہم ان کے احترام میں ان کی زبان میں بات کریں؟
میں نے حیرت اور تحسین سے طاہر ہ عبد اللہ کی طرف دیکھا۔ بات تو ان کی درست تھی۔ میں گاڑی ڈرائیو کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا یہ بھی لاشعوری احساس کمتری کی علامت تھی کہ میں چند انگریزوں کی موجودگی میں اردو ترک کر کے انگریزی زبان میں بات کرنا مناسب سمجھ رہا تھا اور یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ سینکڑوں شرکاء پر چند شرکاء کو کس بنیاد پر ترجیح دی جائے؟
اگلے روز اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے میری کتاب ’ پس قانون : پاکستانی قانون پر برطانوی نو آبادیاتی اثرات‘ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا تو اس میں برادر مکرم حامد میر صاحب نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ اردو میں فیصلے جاری کرنے کا حکم دے چکی ہے تو اب جو عدالت انگریزی میں فیصلے لکھتی ہے کیا وہ خود توہین عدالت کا ارتکاب نہیں کرتی؟
اس سوال میں بڑی معنویت ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل سب پر لازم ہوتی ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے لیکن ضلعی عدالتیں تک اس حکم پر عمل نہیں کر رہیں۔
اسی تقریب میں محترم سینیٹر مشتاق صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ایوان میں ایک بل اردو میں پیش کیا۔ جب دفتری کارروائی کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا گیا تو پہلے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا پھر اس انگریزی سے اردو ترجمہ کیا گیا اور وہ بھی اتنا غلط تھا کہ لفظوں کے معنی ہی بدل چکے تھے۔
سینیٹر صاحب کی اس بات سے یاد آیا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی پہلی رولنگ ہی یہی تھی کہ ہائوس کی زبان انگریزی ہو گی اور اردو صرف وہ بول سکے گا جسے انگریزی نہ آتی ہو اور اس صورت میں اردو بولنے سے پہلے اجازت لینا ہو گی ا ور اگر اجازت مل گئی تب اردو میں بات کی جا سکے گی۔
ابھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سینیٹر محترمہ نسیمہ احسان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اردو میں تقریر کی تو مجھے شاہ محمود قریشی صاحب یادآگئے جب وزیر اعظم کے لیے اعتماد کے ووٹ سے پہلے انہوں نے ایوان میں انگریزی میں خطاب کیا ۔ سمجھ سے باہر ہے یہ اراکین پارلیمان کسے’ انگریزیاں‘ سنا رہے ہوتے ہیں۔اتنا ہی شوق ہے تو ذرا انتخابی جلسے بھی انگریزی میں کر کے دکھائیں۔
نہ اینکر پرسن انگریزی میں ٹاک شو کرتا ہے نہ سیاست دان انگریزی میں جلسہ عام کرتا ہے ، تو یہ بیچ میں جب احساس کمتری ’ انگریزیائی‘ جاتی ہے تو اس کا مقصد کیا ہے؟ احساس کمتری کی اس سے کریہہ شکل اور کیا ہو گی کہ اقوام متحدہ اردو میں اپنا بلیٹن جاری کر چکا ہے لیکن قومی اسمبلی کی کارروائی اور سینیٹ کی کارروائی کی تفاصیل آج بھی انگریزی میں ملتی ہیں۔
پاکستان کا ایوان ہے ، قومی زبان اردو ہے لیکن تمام نوٹی فکیشن انگریزی زبان میں جاری ہوتے ہیں۔
معاملہ کسی زبان سے نفرت کا نہیں۔
انگریزی ایک زبان ہے اور اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ معاملہ اس احساس کمتری سے نکل کر اپنی شناخت کی تلاش کا ہے جس سے ہمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تربیت یافتہ اور ملکہ وکٹوریہ کے وفادار مقامی جنٹل مینوں نے محروم کر رکھا ہے۔
ہمارے احساس کمتری نے یہ تصور کر لیا ہے کہ زبان اب ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ اس ملک میں طبقاتی تقسیم کی آلہ کار ہے۔یہ واردات صرف غلامی مشترکہ ، معاف کیجیے ، ’ دولت مشترکہ‘ کا اجتماعی ورثہ ہے کہ عزت اور فضلیت صرف انگریزی زبان میں ہے اور اگر آپ کو اس زبان میں بات کرنا نہیں آتی تو آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔
اس ملک کو اپنی زبان ، اپنی تہذیب ، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کی ضرورت ہے۔تبدیلی کا یہ واحد راستہ ہے۔ہر وہ طبقہ جو اس کی نفی کرتا ہے یا غاصب ہے یا احساس کمتری کا مارا ’ مقامی جنٹل مین‘۔

18/01/2023

ایک خاتون نے سڑک کے ایک بوڑھے دکاندار سے پوچھا: "آپ انڈے کتنے میں بیچ رہے ہیں؟" بوڑھے نے جواب دیا "25 روپے کا ایک انڈا۔" خاتون نے جواب دیا، "میں 100 روپے میں 6 انڈے لوں گی ورنہ میں جا رہی ہوں۔" بوڑھے دکاندار نے جواب دیا کہ محترمہ جس قیمت پر آپ چاہیں خرید لیں یہ میرے لیے اچھی شروعات ہے کیونکہ میں نے آج ایک بھی انڈا نہیں بیچا اور مجھے زندہ رہنے کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

اس نے انڈے سستے داموں خریدے اور اس احساس کے ساتھ چلی گئی کہ وہ جیت گئی ہے۔ وہ اپنی شاندار کار میں بیٹھی اور اپنی دوست کے ساتھ ایک ریستوراں چلی گئی۔ اس نے اور اس کی دوست نے آرڈر دیا جو وہ چاہتے تھے۔ انہوں نے تھوڑا سا کھایا اور بہت کچھ جو انہوں نے مانگا تھا چھوڑ دیا۔ انہوں نے بل ادا کیا، جو کہ 2400 روپے تھا۔ خواتین نے 2500 دیے اور ریسٹورنٹ کے بیرے سے کہا کہ اس میں بچ جانے والی رقم کو ٹپ کے طور پر رکھیں۔

یہ کہانی ریسٹورنٹ کے بیرے کے لیے تو بالکل نارمل لگتی ہے، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے بہت غیر منصفانہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ؛
جب ہم ضرورت مندوں سے خریدتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی ضرورت کیوں ہے کہ ہمارے پاس طاقت ہے؟
اور ہم ان لوگوں کے لیے فیاض کیوں ہیں جنہیں ہماری سخاوت کی ضرورت بھی نہیں ہے؟

ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ ایک باپ غریب لوگوں سے مہنگے داموں سامان خریدتا تھا، حالانکہ اسے چیزوں کی ضرورت نہیں تھی۔ بعض اوقات وہ ان کے لیے زیادہ ادائیگی کرتا تھا۔ ایک دن اس کے بچوں نے اس سے پوچھا "ابا آپ ایسا کیوں کر رہے ہو؟" باپ نے جواب دیا: "یہ عزت میں لپٹا صدقہ ہے۔"

ایک انگریزی تحریر کا ترجمہ

10/01/2023

ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﺭﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ میں نے اسکول کے باھر لکھوا دیا کہ " اسکول کی عمارت پر لکھائی کرنا منع ھے" ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﯼ ﺳﮯ ﺳﭙﺮﮮ ﭘﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻧﻘﺶ ﻭ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ھے۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎکر ﮐﭽﮫ ﺳﭩﺎﻑ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻭ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮔﭽﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮں گا ، ﮐﻞ ﺁﭖ ﺳﮑﻮﻝ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺼﮧ ﮐﮩﮧ ﮈﺍﻻ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩھیمے ﺳﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔ لڑﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮕﺴﺎﺯ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ، ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ، ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺩﮬﯿﻤﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔
" ﺑﯿﭩﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﺎ ﮨﻮ" ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻭﺍﺿﺢ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ھﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮯ، ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ھے ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁﺭﮨﺎ ھے؟
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺳﺮ ، ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁ ﺭﮨﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﭖ ﮐﯿﺎ۔
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎھیئے ﻧﺎ ﮐﮧ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﻟﻢ ﮔﻠﻮﭺ ﺳﮯ ۔
نقل شدہ

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Model Colony
Karachi
75100

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 16:00 - 20:00
Saturday 16:00 - 20:00