13/04/2024
مولوی اور جدید دنیا کے معاملات
یمین الدین احمد
جب کبھی جدید دنیا کے اندر ظہور پذیر ہونے والے معاملات اور ان کے متعلق دین اسلام کی شرح پر بات ہوتی ہے، ہمیں ایک جملہ عموما" سننے کو ملتا ہے:
“یہ مولوی ہر قسم کی جدید ترقی کے خلاف ہیں، اب دیکھیں نا جب لاؤڈ سپیکر ایجاد ہوا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا استعمال حرام ہے اور بعد میں جب خود کا فائدہ نظر آیا تو اپنے فائدے کے لیے ہی اس کو حلال قرار دے دیا۔”
ان "مولویوں" سے تیس سال کے تعلق اور جید علماء کی تحریروں کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ معتبر اور جید علماء کے بارے میں یہ رائے رکھنا کہ وہ ٹیکنالوجی کے خلاف تھے یا ہیں درست نہیں ہے۔
درحقیقت علماء ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ جدیدیت کے نام پر مغرب اور اس کی ثقافت کی اندھا دھند تقلید کے خلاف ہیں۔
اس حوالے سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب “اسلام اور جدت پسندی” کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
جید علمائے کرام سے تعلق اور ان کے ساتھ بیشمار اسفار کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی جدید مسئلے میں علماء ہمیشہ بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتے ہیں اور جب تک مکمل اطمینان نہیں ہوجاتا، وہ عموما" اس چیز کے استعمال سے بچنے کا فتوی دیتے ہیں۔
ہم لاؤڈسپیکر والے معاملے کو ہی لے لیتے ہیں۔ وہ علماء جنہوں نے اوائل میں یہ فتویٰ دیا تھا کہ لاؤڈسپیکر کا استعمال حرام ہے، بعد میں انہوں نے اسے حلال کیوں قرار دے دیا؟
لاؤڈسپیکر کے حرام قرار دیئے جانے کا فتویٰ سب سے پہلے ہندوستان کے ایک معروف عالم دین اور فقیہ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے دیا تھا۔
اس معاملے پر ان کے تین فتاویٰ جات ان کے مذہبی مسائل (کے حل) کے مجموعہ “امدادالفتاویٰ” کی جلد اول کا حصہ ہیں۔
ان کے تلامذہ میں شامل مفتی محمد شفیع عثمانیؒ (مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد) نے اس کی تدوین کا اہتمام کیا اور جلد کے اختتام پر ایک ضمیمہ کی شکل میں فتویٰ کا پس منظر، اس کی بنیاد اور اس کی بالآخر تبدیلی کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔
اس معاملے سے متعلق پہلا فتویٰ رمضان المبارک 1346ھ (فروری 1928ء) کو سامنے آیا، جس میں مولانا تھانویؒ کی یہ رائے تھی کہ اس کا استعمال بالکل حرام ہے۔
اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ذوالحج 1346ھ (مئی 1928ء) میں انہوں نے اپنی رائے کا اعادہ کیا۔
مفتی محمد شفیع ؒ کے مطابق یہ رائے لاؤڈسپیکر کے برصغیر میں متعارف کرائے جانے کے ابتدائی دنوں کی ہے، جب کہ اس کی حقیقت کا علماء اور عوام دونوں ہی میں زیادہ ادراک نہیں تھا۔
اس رائے کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ یہ م“گراموفون” کی طرح کی کوئی چیز ہے، جو ان دنوں گانے بجانے اور موسیقی کے لیے مخصوص تھا۔
مزید یہ کہ اس کا استعمال وسیع پیمانے پر نہیں تھا اور چونکہ اکثر لوگوں کو اس کا پتا ہی نہیں تھا اس لیے اس کی تفصیل اور گہرائی میں جانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
عبادات میں اس کے استعمال کی ممانعت کی بنیاد اس کی کارکردگی سے متعلق الجھن کی وجہ سے تھی۔
مولانا تھانویؒ اور دیگر علماء پر یہ واضح نہیں تھا کہ یہ محض آواز کو بلند کر کے پیش کرتا ہے یا پھر اسے ریکارڈ کرکے نشر کرتا ہے، اور آج تک تمام مکاتب فکر کے علماء اس بات پر قائم ہیں کہ ریکارڈ شدہ آواز سے نماز نہیں ہوتی۔
اس موقع پر یہ بات بھی واضح رہے کہ جس وقت مولانا تھانویؒ اپنی رائے پر قائم تھے، برِصغیر کے ایک اور بڑے عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لاؤڈسپیکر کے استعمال سے نماز فاسد قرار دئیے جانے پر ان سے متفق نہیں تھے۔
چنانچہ ان حضرات نے ایسے معاملات میں مہارت رکھنے والے حضرات سے مدد طلب کی۔ ان لوگوں کے نام اور ان کی طرف سے موصول شدہ جوابات حاشیہ کی صورت میں امداد الفتاویٰ جلد اول کے صفحات 685 تا 687 میں درج ہیں۔
جن لوگوں سے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبر احمد عثمانی رحمھم اللہ نے لاؤڈسپیکر کے استعمال سے متعلق رائے طلب کی، ان میں اس زمانے میں ہندوستان میں سائنس کے دو بڑے اساتذہ بھی شامل ہیں۔۔۔
1۔ سید شبیر علی ،ایم۔اے ۔پروفیسر محکمہ سائنس، علی گڑھ یونیورسٹی
2۔ برج نندر، بی۔ایس۔سی۔ سائنس ، ایلگزینڈر ہائی سکول بھوپال
دیگر تمام افراد نام کے ساتھ مذکور نہیں ہیں البتہ دیگر کچھ ماہرین طبیعیات بھی شامل تھے۔
یہ نہیں کہا جارہا کہ وہ لوگ ہی حقیقی سند تھے بلکہ مولانا تھانوی ؒکا یہ عمل اس معاملے سے متعلق ان کی فکر اور رویے کا عکاس ہے۔
انہوں نے درپیش مسئلے پر ایسے لوگوں سے دریافت کرنے کااہتمام کیا جو ان کی نسبت معاملہ کی تیکنیکی اور سائنسی توجیہہ سے زیادہ واقف تھے۔
غور کیجیے کہ ایک ہندو استاد سے ملاقات اور ان کی رائے کو اہم مانا گیا اور توجہ دی گئی۔
تاہم ان جوابات پر غور کرنے کے بعد بھی الجھن برقرار رہی اور مولانا تھانویؒ نے یہ رائے دی کہ اگرچہ اس سے پڑھی جانے والی نمازیں فاسد نہیں ٹھہرتیں ، مگر نماز میں اس کے استعمال سے پرہیز کرنا مناسب ہے۔ (امداد الفتاویٰ جلد 1، صفحہ 685)
پھر محرم الحرام 1357ھ (مارچ 1938ء) میں لاؤڈسپیکر کی درست کیفیت اور دائرہ کار مولانا تھانویؒ کے علم میں لایا گیا، اور اس سے متعلق ایک تفصیلی سوال کے جواب میں مولانا نے یہ رائے دی کہ عام خطبات اور تقاریر میں اسکے استعمال کی اجازت ہے ۔ مگر انہوں نے نماز اور عیدین کے خطبات میں اس کے استعمال کی اجازت نہ دی۔
اپنے ذوالحج 1346ھ کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ:
”یہ سب تحقیقات اپنی معلومات کے موافق لکھی گئی ہیں لیکن اگر کسی کو اس سے زیادہ یا اس کے خلاف تحقیق ہو وہ اپنی تحقیق کے مطابق عمل کرے اور اگر ہم کو بھی مطلع کردے تو عنداللہ ماجور ہوگا ۔واللہ تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم “(امدادالفتاویٰ جلد اول،صفحہ 691)
مولانا تھانویؒ کی وفات کے بعد ان کے شاگرد مفتی محمد شفیعؒ نے بھی ان ہی کی رائے کے مطابق فتویٰ جاری رکھا۔
لیکن قیام پاکستان کے بعد انہوں نے وہی سوالات ریڈیو پاکستان کے ماہرین کو ارسال کیے ، جن کا متفقہ جواب آیا کہ نشر کی جانے والی آواز محض بلند کی جاتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سامعین تک پہنچ سکیں اور براہ راست آوازوں کو پہلے سے ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔
مفتی شفیع ؒ لکھتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آواز بلند ہوکر براہ راست نشر ہوتی ہے تو نمازوں میں لاوڈسپیکر کے استعمال سے متعلق ممانعت کی بنیاد ختم ہوگئی۔
چنانچہ اس حوالے سے انہوں نے لاؤڈسپیکر کے استعمال سے متعلق شعبان 1372ھ (اپریل 1953ء) میں ایک مقالہ لکھا اور 1382ھ (1962-1963ء) میں اس کا اعادہ کیا۔
ہمارے وہ لوگ جو اس معاملے میں مولویوں کو تختہ مشق بناتے ہیں، انہیں یہاں پر مفتی کے عہدہ کی حساس نوعیت کا ادراک ہونا لازمی ہے۔
کسی بھی مفتی کو معاملات میں بہت احتیاط سے رائے دینا ہوتی ہے کیونکہ اس کے الفاظ کا اطلاق محض عوام الناس ہی نہیں ،خود اس پر بھی ہوتا ہے اور فتویٰ کے نتیجے میں آنے والے کسی بھی قسم کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہوتا ہے۔
گویا مفتی اپنے علم کی وجہ سے ایک عام مسلمان اور اللہ تعالٰی کے احکامات کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے اور اس کا منصب انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔
لاؤڈسپیکر کا معاملہ اسلامی عبادات اور مسلم طرز زندگی کے سب سے اہم رکن نماز کی قبولیت سے متعلق ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ اہم تھا، اور علماء کا طرزعمل بہت عملی، معقول اور محتاط تھا کیونکہ انہوں نے لوگوں کو ایسی چیز کے استعمال سے منع کیا تھا جس کے متعلق ان کے اذہان میں شبہات تھے جو ممکنہ طور پر نماز کے درست ہونے پر اثرانداز ہوسکتے تھے، جبکہ اس پورے عرصے میں وہ خود حقیقت کی تلاش میں مصروف رہے۔اور جونہی ان پر حقیقت آشکار ہوئی تو انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔
اگر کسی انسان میں علماء کا بغض نہ ہو تو مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔
1۔ مولانا تھانوی کا پہلا فتویٰ نا مکمل یا غلط معلومات کی بنیاد پر تھا اور چونکہ لاؤڈسپیکر سے متعلق واقفیت بہت کم تھی اس لیے اس کی گہرائی میں جانے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔
2۔ لاؤڈسپیکر کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات کے حصول کے لیے ماہرین سے رائے طلب کرنے کا نہایت معقول طریقہ اپنایا گیا، اور اس ضمن میں ایک ہندو سے رائے لینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہ کی گئی۔
لیکن ہندوستان میں سائنس کے ماہرین کے پاس بھی مکمل معلومات نہیں تھیں جس کی وجہ سے پہلا فتوی برقرار رکھا گیا۔ یہ بھی بالکل معقول بات ہے۔
3۔ لاؤڈسپیکر کی حقیقی کیفیت کا ادراک بڑھنے پر علماء نے عبادات کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں اس کے استعمال کی ممانعت سے ہاتھ روک لیا۔
4۔ جب تک لاؤڈسپیکر کے کام کرنے کے حوالے سے تفصیلی معلومات پر پردہ رہا،انہوں نے عبادات میں اس کے استعمال پر ممانعت کی رائے برقرار رکھی کیونکہ عبادات میں حقیقی اصولوں کی پابندی لازم ہوتی ہے۔
5۔ تاہم جب ماہرین کی یہ متفقہ رائے سامنے آگئی کہ لاؤڈسپیکر نشریات کو ریکارڈ کر کے آگے نہیں بھیجتا بلکہ محض آواز کو بلند کرتا ہے تو علماء نے اپنے فتویٰ کی ترمیم میں کوئی عار محسوس نہ کی۔
اگرچہ آج لوگوں کو یہ سب کچھ بہت عجیب سا لگتا ہے ، مگر خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر دیکھیں تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان علماء کا عمل بہت مدبرانہ تھا۔
وہ محتاط تو تھے لیکن ہٹ دھرم نہیں تھے ۔لہٰذا انہوں نے نئی معلومات کا خیرمقدم کیا، اور لاؤڈسپیکر کی تیکنیکی کارکردگی سے متعلق وضاحت کے لیے ماہرین سے تجاویز طلب کرنے کا درست طریقہ کار اختیار کیا اور اسی کے مطابق اپنے فیصلے میں ترمیم بھی کی۔
اگر کوئی غیر علمی ذہن سے سوچنے اور مسلمانوں کے ہمہ قسمی جدات و اختراعات میں پڑنے، چاہے ان کا تعلق امور عبادات سے ہی کیوں نہ ہو، کا خواہش مند نہ ہو تو وہ اس زمانے کے علماء کی حکمت عملی کو ضرور سراہے گا۔
بالکل ایسے ہی آج بھی ہم مختلف معاملات پر یہ بحث دیکھتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر شخص ہر قسم کے خیالات کا اظہار کرنے میں آزاد ہے اور جدید دنیا میں "آزادی اظہار رائے" ایک اہم قدر کے طور پر جانا جاتا ہے تو دین اور شریعت کے اہم معاملات میں بھی ہر شخص اپنی رائے دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب دین کے حوالے سے کوئی رائے دی جارہی ہو لیکن مولوی پر طنز نہ ہو، یہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔
پھر دوسرا مسئلہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ اخلاقی تربیت پچھلے بیس پچیس برسوں میں مفقود ہوگئی ہے لہٰذا زبان و قلم بھی شتر بے مہار کی طرح چل رہے ہیں اور خالصتا" علمی مباحث بھی اب اس غیر تربیت یافتہ معاشرے کے ہاتھ میں آگئے ہیں جس کی بڑی اکثریت کو پاکی، ناپاکی اور طہارت کے مسائل سے ہی واقفیت نہیں ہے۔
اس کے نتیجے میں انتہائی غیر مفید اور مقصدیت سے خالی بحثیں آپ کو سوشل میڈیا پر جابجا نظر آتی ہیں۔ سمجھداری کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں (قلم) کو روک کر استعمال کریں خصوصا" اگر آپ دین اسلام سے متعلق کوئی بات خود کر رہے ہیں یا کسی پوسٹ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
یمین الدین احمد
13 اپریل 2024ء
کراچی، پاکستان۔