01/10/2025
Jabbar Ali
Acedamic consultant,Life skill and teachers trainer,
Youth , Climate change , Blood and Animal Activist
01/10/2025
18/04/2025
Excited to Share!
I’m honored to be selected for the Green Narrative Fellowship – Cohort 1!
As a passionate climate change activist from Gilgit-Baltistan, this fellowship is a powerful opportunity to enhance my skills, amplify my voice, and contribute meaningfully to sustainable development.
Grateful to the organizers for this platform to learn, grow, and drive change. Looking forward to collaborating with fellow changemakers and creating a stronger green narrative for our future.
اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ” سپر پاور ” امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔2023ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جاتی، فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔
دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔
سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔
آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔
ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔
جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور
12/01/2023
Information Session - USEFP Office - Lahore :)
Are you planning to apply for the Fullbright Scholarships in the USA?
Join us in the Lahore office for a Fulbright Information Session with USEFP Executive Director Rita Akhtar.
When: January 12 at 3:00 pm.
Ms. Akhtar will share information about the Fulbright Program, eligibility criteria, and how to apply for the prestigious scholarship.
To attend, register here: https://educationusa.pk/signup/EventDetails.cfm?EventID=6366
مادام کیوری(1934-1867)!!
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی اس کا نام ماریا سکلوڈو وسکا تھا وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیااس نے آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے جس کے جوتوں کے تلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی مانیا کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی میں اتنی عزت اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔
یہ 1891ء تھا وہ پولینڈ سے پیرس آئی اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی اس کے کمرے میں بجلی گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی پھر بھی گزارہ نہ ہوتا تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی
ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جت گئی تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے اور اس کی شعاعیں لکڑی پتھر تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا یہ سائنس میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے لیکن وہ کام میں جتی رہی اس نے ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔
یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی ہم آج جسے شعائوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سر سے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔ جب دنیا نے مادام کیوری کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟ اس نے کہا میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی.!!
!
سوال یہ ھے !
کہ جو لوگ ھمارے ھاں عورتوں کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رھتے اور مرد کے مقابلے میں اس کی کم عقلی کم ھمتی اور جذباتیت پر دلیلیں دیتے اور یہاں تک کہ مذہب اسلام سے بھی منسلک کرتے کیا انہیں مادام کیوری کی زندگی کا علم ھے ؟ کیا انہیں علم ھے کہ ان کے کینسر کے مرض کی مسیحا ایک عورت ھے ؟
04/01/2023
☚5 سال کی عمر میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا .
☚16 سال کی عمر میں اس نے اسکول چھوڑ دیا.
☚17 سال کی عمر تک اس نے چار ملازمتیں کھو دیں .
☚18 سال کی عمر میں اس نے شادی کرلی.
☚18سے 22 سال کی عمر کے درمیان، وہ ایک ریلوے کنڈیکٹر رہا لیکن ناکام رہا...
☚19 سال کی عمر میں وہ باپ بن گیا.
☚20 سال کی عمر میں اس کی بیوی نے اسے چھوڑ دیا اور بیٹی کو لے گئی
☚وہ فوج میں شامل ہوا لیکن نکال دیا گیا.
☚اس نےقانون کی پڑھائی کے لئے درخواست دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا.
☚وہ ایک انشورنس سیلز مین بن گیا لیکن ایک بار پھر ناکام ہوا..
☚وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں ایک باورچی اور بیرہ بن گیا.
☚اس نے اپنی بیٹی کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کی، لیکن آخر کار وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو گھر واپس لانے میں کامیاب ہو گیا.
☚65 سال کی عمر میں اس کی سبکدوشی کے موقع پر حکومت کی طرف سے اسے صرف 105 ڈالر کا ایک چیک ملا. اسے لگا حکومت اس چیک کے ذریعے اسے ایک نا اہل انسان ثابت کرنا چاہتی ہے...
☚اس نےخود کشی کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اتنی بارناکام ہوا تھا کہ اب وہ مزید زندگی گزارنے کے قابل نہیں تھا؛
☚وہ اپنی وصیت لکھنے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا، لیکن وصیت لکھنے کی بجائے، اس نے یہ لکھا کہ زندگی میں اس نے کس کام میں مہارت حاصل کی.
☚اس نے لکھا کہ وہ صرف ایک کام دوسروں کے مقابلے میں بہتر کر سکتا ہے اور وہ ہے کھانا پکانا...
☚تو اس نے اپنے چیک کے عوض87 ڈالر ادھار لئے اور کچھ چکن خریدا. ایک خاص مصالحہ استعمال کر کے اس نے چکن کو تل لیا اور کینٹکی میں اپنے پڑوسیوں کو فروخت کرنے کیلئے گھر سے نکل پڑا...
☚یاد رکھیں 65 سال کی عمر میں وہ خود کشی کے لئے تیار تھا.
لیکن 88 سال کی عمر میں وہ یعنی کرنل سینڈرز، کینٹکی فرائیڈ چکن (KFC) سلطنت کا بانی
اور ایک ارب پتی بزنس مین تھا.
👈 اس لئے دوستو
" کبھی ہمت مت ہاریں " کوشش کرتے رہیں
۔ آپ کا اچھا وقت بھی ضرور آئے گا
إن شاء الله
02/01/2023
Benefits of Book Reading.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi