MUFTI Muhammad Siddique

MUFTI Muhammad Siddique

Share

M***I MUHAMMAD SIDDIQUE AL SUFFAH ACADEMY ONLINE QURAN & TAJWEED

26/11/2025

الصفہ اسلامک اکادمی کے تحت بہت جلد ان شاءاللہ تعالیٰ ۔۔۔۔
تجوید و قراءت کورس خواتین کےلیے۔۔۔۔
تفسیر قرآن کریم کورس خواتین کےلیے۔۔۔۔۔
داخلے جاری ہیں۔۔۔۔۔
خواتین کےلیے خواتین معلمات۔۔۔۔۔

26/11/2024

معاف کرنے کی فضیلت۔۔۔۔۔
عفو و درگزر ( قسط نمبر 2 )

حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لیے (جنت میں) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کر ے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناتا جوڑے۔'' (مستدرک)

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''بے شک! اﷲ تعالیٰ درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے۔'' (مستدرک)

حضرت ابُوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پُرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزت والا ہے ؟ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔'' (شعب الایمان)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپؐ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا، بہ شرطِ کہ اﷲ کی حدود نہ پامال کی جائیں اور جب اﷲ کی حد پامال کی جاتی تو آپؐ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے اور آپؐ کو جب بھی دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپؐ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطِ کہ وہ گناہ نہ ہو۔'' (جامع الترمذی)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور ﷺ کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپؐ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بہ شرطِ کہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپؐ سب سے زیادہ اس سے دُور رہتے۔ رسول اکرم ﷺ نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں! اگر اﷲ کی حد پامال کی جاتیں تو آپؐ ان کا انتقام لیتے تھے۔'' (سنن ابوداؤد)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ سے ملا، میں نے ابتداً آپؐ کا ہاتھ پکڑ لیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا: اے عقبہ! جوتم سے تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑو، جو تم کو محروم کرے، اس کو عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو۔''

(مسند احمد بن حنبل)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاج دار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ''جب لوگ روز حشر حساب کے لیے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمے کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمے کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا: کہ وہ کون ہے جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمے کرم پر ہے۔

منادی کہے گا: ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا: جس کا اجر اﷲ تعالیٰ کے ذمے کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد)

عفو و درگزر کے چند واقعات:

حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہم راہ چل رہا تھا اور آپؐ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے ۔

اچانک ایک دیہاتی نے آپؐ کی چادر مبارک کو پکڑ کر اتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ آپؐ کی مبارک گردن پر خراش آگئی۔ وہ کہنے لگا: اﷲ تعالیٰ کا جو مال آپؐ کے پاس ہے آپؐ حکم فرمائیے کہ اس میں سے کچھ مجھے مل جائے۔ حضور پُرنور ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا دیے، پھر اسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔ (بخاری، کتاب فرض الخمس)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا، میں اُن کے پاس گئی تو مجھ سے کہا: ہمارے درمیان کوئی بات ہوجایا کرتی تھی تو جو کچھ ہُوا ہے اﷲ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی۔ میں نے کہا: اﷲ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے اور اُن سے درگزر فرمائے اور اُن باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے۔

حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا نے کہا: آپ نے مجھے خوش کیا، اﷲ آپ کو خوش فرمائے۔ پھر حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا نے پیغام بھیج کر حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کو بلایا اور اُن سے بھی یہی کہا۔

حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کے پاس بیٹھا ہُوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ آئے، اُنہوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا، جس سے اُن کے گھٹنے ننگے ہو رہے تھے اور اس کا اُنہیں احساس نہیں تھا، اُنہیں دیکھ کر حضورؐ نے فرمایا: تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں۔

حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے آکر سلام کیا اور عرض کیا: میرے اور ابن الخطاب کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، جلدی میں میں اُن کو نامناسب بات کہہ بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی، جس پر میں نے اُن سے معافی مانگی، لیکن اُنہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا، تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ہوں۔

حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! اﷲ تمہیں معاف فرمائے! اِدھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو ندامت ہوئی تو اُنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کے گھر آکر پوچھا: یہاں ابوبکر رضی اﷲ عنہ آئے ہیں؟ گھر والوں نے کہا: نہیں! تو وہ بھی حضور ﷺ کی خدمت میں آگئے۔

اُنہیں دیکھ کر حضور ﷺ کا چہرہ بدلنے لگا، جس سے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ ڈر گئے اور اُنہوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو مرتبہ عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! اﷲ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے۔

پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اﷲ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا، تو تم سب نے کہا تھا: تم غلط کہتے ہو، لیکن اُس وقت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے کہا تھا: آپ ﷺ ٹھیک کہتے ہیں، اُنہوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی، پھر آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: کیا تم میرے اِس ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑ دو گے۔۔۔ ؟ چناں چہ حضور ﷺ کے اس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔

یہ ہیں اسلام کی وہ مبارک اور نورانی تعلیمات کہ جن کی برکت اور نورانیت کی وجہ سے ہمارا یہ انسانی معاشرہ باہمی رنجش و ناراضی اور خفگی و ناخوش گواری سے چھٹکارا حاصل کرکے اخوت و بھائی چارگی اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرسکتا ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اس نکتے پر آکر کھڑا ہونا ہوگا کہ اسلام کی ان روشن اور مبارک تعلیمات کو سینے سے لگانا ہوگا اور اُنہیں مذہب اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا، تب کہیں جاکر ہمارے اس معاشرے اور ہماری اس اجتماعی زندگی سے نفرت، حقارت اور دُشمنی کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اخوت و بھائی چارگی اور اُلفت و محبت کا بول بالا ہوگا۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

الصفہ اسلامک اکیڈمی آن لائن
+923345505724

26/11/2024

معافی مانگنے اور معاف کرنے کی فضیلت (قسط نمبر 1)

الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا۔ من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ۔ واشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔

اما بعد:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں معافی مانگنے اور معاف کرنے کو اعلیٰ انسانی صفات میں شمار کیا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے بلکہ انسانوں کے درمیان محبت اور الفت کا سبب بھی بنتا ہے۔

معافی مانگنے کی اہمیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ"
(سورة آل عمران: 133)
ترجمہ: "اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔"

یہاں مغفرت طلب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ معافی مانگنا عاجزی اور اللہ کی بندگی کی علامت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "کل ابن آدم خطاء، وخیر الخطائين التوابون"
(ترمذی)
ترجمہ: "ہر انسان گناہ کرتا ہے، اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔"

معاف کرنے کی فضیلت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ"
(سورة النور: 22)
ترجمہ: "اور انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔"

یہ آیت ہمیں دوسروں کی خطائیں معاف کرنے کی تعلیم دیتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف کرے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "من لا يرحم الناس لا يرحمه الله"
(بخاری و مسلم)
ترجمہ: "جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا۔"

عملی مثال:

نبی کریم ﷺ کی زندگی میں معافی کا ایک بے مثال واقعہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ جب آپ نے اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا اور فرمایا:

> "اذهبوا فأنتم الطلقاء"
ترجمہ: "جاؤ، تم سب آزاد ہو۔"

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معافی نہ صرف بڑائی کی علامت ہے بلکہ یہ دلوں کو جیتنے کا ذریعہ بھی ہے۔

---

الحمد للہ الذی امر بالعفو والصفح، وجعل ذلك من خصال المؤمنين. وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله. أما بعد:

معافی کے فوائد:

1. دل کی پاکیزگی: معاف کرنے سے دل حسد، بغض اور کینہ سے پاک ہو جاتا ہے۔

2. اللہ کی محبت: اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے جیسا کہ فرمایا:

> "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ"
(سورة البقرة: 195)
ترجمہ: "بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"

3. آخرت کی کامیابی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "رحم الله رجلاً سمحاً إذا باع، وإذا اشترى، وإذا اقتضى"
(بخاری)
ترجمہ: "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو معاملات میں نرمی اختیار کرے، چاہے وہ بیچ رہا ہو، خرید رہا ہو، یا قرض وصول کر رہا ہو۔"

عملی نصیحت: ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں معافی کو شعار بنائیں۔ جب ہم دوسروں کو معاف کریں گے تو اللہ ہماری زندگیوں کو سکون اور برکت سے بھر دے گا۔

---

دعا:

اللهم اغفر لنا ذنوبنا وإسرافنا في أمرنا، وثبت أقدامنا، وانصرنا على القوم الكافرين.
اللهم اجعلنا من التوابين واجعلنا من المتطهرين.
اللهم ارزقنا قلوباً صافية وألسنة صادقة وأعمالاً صالحة.

عباد الله!
إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى، وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي، يعظكم لعلكم تذكرون.
فاذكروا الله يذكركم، واشكروه على نعمه يزدكم، ولذكر الله أكبر، والله يعلم ما تصنعون۔

الصفہ اسلامک اکیڈمی آن لائن
+923345505724

26/11/2024

*قرآن و حدیث کی روشنی میں مہمان نوازی کی اہمیت و فضیلت*

مہمان نوازی اسلام کا ایک عظیم وصف ہے، جو نہ صرف انبیاء کی سنت ہے بلکہ اسلامی معاشرت کا لازمی جز بھی ہے۔ مہمان کا اکرام، اس کے ساتھ حسن سلوک اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا قرآن و سنت میں خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔

---

قرآن مجید سے مہمان نوازی کی مثالیں

1. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَهَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْمُكْرَمِينَ ۝ إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ ۝ فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجْلٍۢ سَمِينٍۢ ۝
ترجمہ:
"کیا آپ کے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی ہے؟ جب وہ ان کے پاس آئے اور سلام کہا۔ انہوں نے کہا: سلام، یہ تو اجنبی لوگ ہیں۔ پس وہ اپنے گھر والوں کے پاس چپکے سے گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لائے۔"
(سورۃ الذاریات: 24-26)

یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ مہمان نوازی انبیاء کرام کی سنت ہے اور انہیں بہترین طریقے سے مہمان کی خدمت کا درس دیا گیا ہے۔

2. اصحابِ کہف کی دعا

مہمان نوازی کے لیے اللہ تعالیٰ سے رزق کی دعا مانگنے کی تعلیم بھی دی گئی ہے:
فَٱنبَعَثُوا۟ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَـٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَآ أَزْكَىٰ طَعَامًۭا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍۢ مِّنْهُ...
ترجمہ:
"تو ان میں سے کسی کو اپنی چاندی کے سکے دے کر شہر کی طرف بھیجیں تاکہ وہ دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ رزق لے آئے۔"
(سورۃ الکہف: 19)

---

احادیث مبارکہ میں مہمان نوازی کی فضیلت

1. مہمان نوازی ایمان کی علامت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ.
ترجمہ:
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔"
(صحیح بخاری: 6138، صحیح مسلم: 47)

2. مہمان نوازی کی مدت

آپ ﷺ نے فرمایا:
ضِيَافَةُ الضَّيْفِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍۢ، وَجَائِزَتُهُۥ يَوْمٌۭ وَلَيْلَةٌۭ، وَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌۭ عَلَيْهِ.
ترجمہ:
"مہمان کی ضیافت تین دن تک ہے، اور ایک دن اور ایک رات خصوصی خدمت ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہو، وہ صدقہ ہے۔"
(صحیح بخاری: 6135، صحیح مسلم: 1726)

3. مہمان کے ساتھ رزق آتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا نَزَلَ الضَّيْفُ بِقَوْمٍ جَاءَ بِرِزْقِهِ، وَإِذَا رَحَلَ رَحَلَ بِذُنُوبِهِمْ.
ترجمہ:
"جب کوئی مہمان کسی گھر میں آتا ہے، تو وہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے اور جب رخصت ہوتا ہے، تو گھر والوں کے گناہوں کو معاف کروا کر لے جاتا ہے۔"
(المعجم الأوسط للطبرانی: 6187)

4. اہلِ ایمان کے اوصاف

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي.
ترجمہ:
"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں (اور مہمانوں) کے ساتھ اچھا ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں۔"
(سنن ترمذی: 3895)

---

مہمان نوازی کے اسلامی اصول

1. مہمان کے ساتھ خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آنا۔

2. اپنی استطاعت کے مطابق خدمت کرنا، فضول خرچی نہ کرنا۔

3. مہمان کو عزت دینا اور اس کے آرام کا خیال رکھنا۔

4. مہمان کو اس کے قیام کے دوران دینی و اخلاقی فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا۔

مہمان نوازی اسلامی معاشرت کا ایک اہم جز ہے، جو محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ ایک ایسا عمل ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں باعثِ اجر ہے۔ ہمیں اس سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے اور مہمانوں کی خدمت کو باعثِ برکت سمجھنا چاہیے۔
الصفہ اسلامک اکیڈمی آن لائن
+923345505724

11/06/2024

Al SUFFAH ISLAMIC ACADEMY ONLINE Enroll Now on WhatsApp+923345505724

11/06/2024

Al SUFFAH ISLAMIC ACADEMY ONLINE STUDENT, SORA FATIHA

21/05/2024

Admission Open Al SUFFAH ISLAMIC ACADEMY online.

19/05/2024

SORA HASHR PARA 28, STUDENT OF AL SUFFAH ISLAMIC ACADEMY online

19/05/2024

SORA AALA PARA 30, STUDENT OF AL SUFFAH ISLAMIC ACADEMY online.
suffah

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Karachi