24/12/2023
Shani Abbasi Thanks.
█║▌│█│█║▌█║▌██║▌│█│║▌ copyright © 2009-2018 Al-Abbas Secondary School aims to provide quality education of an international standard.
Al-Abbas Secondary School has always laid tremendous emphasis on the development of human capital. , Al-Abbas Secondary School has institutionalized in-service teacher training like no other school. So, with rigorous standards that demand up-to-date teaching skills and a range of challenging programmes, Al-Abbas Secondary School brings success within the reach of every student. We aim for excellen
24/12/2023
Shani Abbasi Thanks.
01/07/2020
مجھے 3rd پوزیشن ملی تھی تیسری کلاس (1999)میں مرحوم سر رفاقت کے ہاتھوں، اس وقت کی شیلڈ اب تک سنبھال کر رکھی ہوئ ہے ۔
آپ میں سے کتنے لوگوں نے پوزیشن لی تھی؟ اور ان کی شیلڈ اب کس حالت میں ہے تصویر شئیر کریں۔🙂
02/05/2020
20/03/2020
جن اسٹوڈنٹس نے 2007 انگلش میڈیم میں پڑھا تھا وہ یہ واٹس ایپ گروپ جوائن کرسکتے ہیں۔
WhatsApp Group Invite WhatsApp Group Invite
We are operating Home area Net service in Qayyumabad.
We are searching someone who have previous experience in Home area network Like Fariya, Leo, Connect, Logon, Multinet.
If you have experience then apply for this post.
Can Splice
- Can dplice
- Can handle OTDR
- Can manage OFC power test
- Can work at GPON
- Can understand with GIS and read OFC diagram
We are looking for Telesales Executive
Requirements:
Telesales Calls on Leads / Cold Calling Follow up with clients (Calls / Emails) Collaboration with different teams Client account handling and management Call Handling (Inbound/Outbound)
Required Skills: cold calling, Customer Service, telesales, telemarketing
Office hours 9:00am - 5:30pm
* Ideal candidate is the one who lives nearby shaheed-e-millat road, has completed his Intermediate or A levels and is interested to study Programming languages online on different web portals e.g Al Nafay (it will be funded by the company)
Looking forward for the best talent.
ہمارے جن دوستوں نے میٹرک 2006 میں کیا ہے اردو میڈیم میں وہ ہمارا واٹس ایپ گروپ جوائن کرسکتے ہیں۔
ہمارے ساتھ کلاس میں سب سے قابل صدام حسین تھا
اب جو جو پہچان گیا وہ گروپ میں آجائے۔
ہمارا 9 اور میٹرک میں بورڈ ابراہیم علی بھائ تھا۔
13/04/2018
(روضہ پاک اور مدینہ منورہ میں حاضری کے چند آداب اور خاص دعائیں۔)
سب سے پہلے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں خوب ادب وعظمت کے ساتھ درود و سلام پیش کریں اس کے بعد ان الفاظ کے ذریعے گواہی دیں
أَشْهَدُ أَنَّکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَکَشَفْتَ الْغُمَّةَ وَجَلَيْتَ الظُّلْمَةَ وَجَاهَدْتَّ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَقَّ جِهَادِه وَعَبَدْتَّ رَبَّکَ حَتّٰی أَتَاکَ الْيَقِيْنُ، جَزَاکَ اﷲُ تَعَالٰی عَنَّا وَعَنْ وَّالِدِيْنَا وَعَنِ الْإِسْلَامِ خَيْرَ الْجَزَاءِ.
’’اے اللہ کے رسول! آپ پر درود و سلام ہو، آپ کے حق عظیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا : اور(اے حبیب! ) اگر وہ لوگ جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اُن کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے۔ میں گواہی دیتا ہوں بے شک اے اللہ کے رسول! آپ نے اللہ کا پیغام (اس کے بندوں تک) پوری طرح پہنچا دیا اور امانت کا حق ادا کر دیا اور امت کی پوری خیر خواہی فرما دی اور (کفر کے) اندھیرے کو دور فرما دیا، اور (باطل کی) تاریکی کو چھانٹ دیا، اور اللہ کے راستے میں کوشش اور قربانی کا حق ادا کر دیا، اور آپ اپنے رب کی عبادت میں لگے رہے، یہاں تک کہ واصل بحق ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے، ہمارے والدین کی طرف سے اور ملت اسلام کی طرف سے بہترین جزاء عطا فرمائے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے لئے، اپنے ماں باپ، شیخ، اساتذہ، اولاد، اعزاء و اقرباء، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لئے شفاعت مانگیں اور بار بار عرض کریں :
اَسْأَلُ الشَّفَاعَةَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ،
پھر اگر کسی نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام کے لئے کہا ہو تو شرعاً اس کا پہنچانا لازم ہے اور یوں عرض کرے :
اَلسَّلامُ عَلَيْکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
(نام و ولدیت)
پھر اپنے دائیں طرف یعنی مشرق کی طرف تھوڑا سا ہٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے چہرہ پاک کے سامنے کھڑے ہو کر سلام پیش کریں۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یوں عرض کریں
اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا سَيِّدَنَا أَبَا بَکْرِنِ الصِّدِّيْقَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا خَلِيْفَةَ رَسُوْلِ اﷲِ عَلَی التَّحْقِيْقِِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اﷲِ، ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مَنْ أَنْفَقَ مَالَه کُلَّه فِي حُبِّ اﷲِ وَحُبِّ رَسُوْلِه، حَتّٰی تَخَلَّلَ بِالْعَبَآءِ رَضِيَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْکَ وَأَرْضَاکَ أَحْسَنَ الرِّضَا، وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَکَ وَمَسْکَنَکَ وَمَحَلَّکَ وَمأْوَاکَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا أَوَّلَ الْخُلَفَائِ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُه.
’’سلام آپ پر، اے ہمارے سردار ابو بکر صدیق، سلام آپ پر، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ برحق، سلام آپ پر، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی، دو (راہ حق کے فدا کاروں) میں سے ایک جبکہ وہ غار میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ سلام آپ پر، اے وہ (فدائے دین) جس نے اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں خرچ کر ڈالا، یہاں تک کہ ایک جبہ رہ گیا‘ اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوا، اور اس نے بہترین طریق پر آپ کو راضی کیا، اور جنت کو آپ کے اترنے، رہنے کی جگہ اور آپ کا مستقل ٹھکانہ بنایا۔ سلام آپ پر، اے سب سے پہلے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں آپ پر ہوں۔‘‘
پھر اتنا ہی اور ہٹ کر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے روبرو کھڑے ہو کر سلام عرض کریں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یوں عرض کریں
اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا نَاطِقًا بِالْعَدْلِ وَالصَّوَابِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا حَفِيَّ الْمِحْرَابِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مُظْهِرَ دَيْنِ الْإِسْلَامِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مُکَسِّرَ الْأَصْنَامِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْفُقَرَآئِ وَالضُّعَفَائِ وَالْأَرَامِلِ وَالْأَيتَامِ، أَنْتَ الَّذِي قَالَ فِي حَقِّکَ سَيِّدُ الْبَشَرِ : لَوْ کَانَ نَبِيٌّ مِنْ بَعْدِي لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. رَضِيَ اﷲُ تَعَالٰٰی عَنْکَ وَأَرْضَاکَ أَحْسَنَ الرِّضَا وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَکَ وَمَسْکَنَکَ وَمَحَلَّکَ وَمَأْوَاکَ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا ثَانِيَ الْخُلَفَائِ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُه.
’’سلام آپ پر اے عمر بن خطاب، سلام آپ پر، اے انصاف اور سچائی کی بات کہنے والے، سلام آپ پر، اے محراب کی طرف کثرت سے جانے والے، سلام آپ پر، اے دین اسلام کو غالب کرنے والے، سلام آپ پر، اے فقیروں، ضعیفوں، بیواؤں اور یتیموں کے سرپرست، آپ ہی ہیں جن کے حق میں سید البشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو اور آپ کو بہترین رضا کے ساتھ راضی کرے اور جنت کو آپ کے اُترنے، رہنے اور ٹھہرنے کی جگہ اور آپ کا ٹھکانہ بنائے۔ سلام آپ پر، اے دوسرے خلیفہ رسول، آپ پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔‘‘
پھر بالشت بھر مغرب کی طرف پلٹیں اور دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر عرض کریں :
اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمَا يَا وَزِيْرَي رَسُوْلِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمَا يَا مُعِيْنَي رَسُوْلِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمَا وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکًاتُه.
’’سلام آپ پر، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں وزیرو، سلام آپ پر، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں مددگارو، سلام آپ دونوں پر، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔‘‘
پھر یہ دعا کریں
اَللّٰهُمَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ، يَا رَجَائَ السَّائِلِيْنَ، وَأَمَانَ الْخَائِفِيْنَ، وَحِرْزَ الْمُتَوَکِّلِيْنَ، يَا حَنَّانُ، يَا مَنَّانُ، يَا دَيَانُ، يَا سُلْطَانُ، يَا سُبْحَانُ، يَا قَدِيْمَ الْإِحْسَانِ، يَا سَامِعَ الدُّعَآئِ اِسْمَعْ دُعَآئَ نَا، وَتَقَبَّلْ زِيَارَتَنَا وَاٰمِنْ خَوْفَنَا وَاسْتُرْ عُيُوْبَنَا وَاغْفِرْ ذُنُوْبَنَا وَارْحَمْ أَمْوَاتِنَا وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِنَا وَکَفِّرْ سَيِّئٰاتِنَا وَاجْعَلْنَا يَا اَﷲُ، عِنْدَکَ مِنَ الْعَائِذِيْنَ الْفَائِزِيْنَ الشَّاکِرِيْنَ مِنَ الَّذِيْنَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ بِرَحْمَتِکَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
’’اے اللہ! سب جہانوں کے پروردگار، اے سوال کرنے والوں کی اُمیدگاہ، اے ڈرنے والوں کے لئے جائے امن، اے توکل کرنے والوں کے لئے پناہ گاہ، اے بڑے مشفق، اے بڑے محسن، اے پورا پورا بدلہ دینے والے، اے صاحب اقتدار، اے مقدس ذات، اے ہمیشہ کے محسن، اے دعاؤں کے سننے والے، ہماری دعا سن اور ہماری زیارت کو قبول فرما، اور ہمارے خوف کو دور فرما، اور ہمارے عیبو ں کو چھپا، اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اور ہمارے مرنے والوں پر رحم فرما، اور ہماری نیکیوں کو قبول فرما، اور ہمارے گناہوں کو معاف کر، اور اے اللہ! اپنے ہاں ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما لے جو تیری پناہ میں آنے والے ہیں۔ کامیاب ہونے والے ہیں، شکر گزار ہیں وہ جنہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ غم، تیری رحمت کے سبب۔ اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے، اے سب جہانوں کے پالنے والے۔‘‘
دوسری دعا
اَللّٰهُمَّ لَا تَدَعْ لَناَ فِي مَقَامِنَا هٰذَا الشَّرِيْفِ فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اﷲِ ذَنْباً إِلاَّ غَفَرْتَه، وَلَا هَمًّا يَا اَﷲُ، إِلاَّ فَرَّجْتَه، وَلَا عَيْباً يَا اَﷲُ، إِلاَّ سَتَرْتَه، وَلَا مَرِيْضًا يَا اَﷲُ، إِلاَّ شَفَيْتَه وَعَافَيْتَه، وَلَا مُسَافِرًا يَا اَﷲُ، إِلاَّ نَجَّيْتَه، وَلَا غَائِبًا يَا اَﷲُ، إِلاَّ رَدَدْتَّه، وَلَا عَدُوًّا يَا اَﷲُ، إِلاَّ خَذَلْتَه وَدَمَّرْتَه، وَلَا فَقِيْرًا يَا اَﷲُ، إِلاَّ أَغْنَيْتَه، وَلَا حَاجَةً يَا اَﷲُ، مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْياَ وَالْاٰخِرَةِ، لَناَ فِيْهَا صَلَاحٌ، إِلاَّ قَضَيْتَهَا وَيَسَّرْتَهاَ. اَللّٰهُمَّ اقْضِ حَوَائِجَنَا وَيَسِّرْ أُمُوْرَنَا وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا وَتَقَبَّلْ زِيَارَتَنَا، وَاٰمِنْ خَوْفَنَا، وَاسْتُرْ عُيُوْبَنَا، وَاغْفِرْ ذُنُوْبَنَا، وَاکْشِفْ کُرُوْبَنَا، وَاخْتِمْ بِالصَّالِحَاتِ أَعْمَالَنَا، وَرُدَّ غُرْبَتَنَا إِلٰی أَهْلِنَا وَأَوْلَادِنَا، سَالِمِيْنَ غَانِمِيْنَ مُسْتُوْرِيْنَ، وَاجْعَلْناَ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِْينَ مِنَ الَّذِيْنَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ، بِرَحْمَتِکَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.
’’اے اللہ! اس معزز مقام، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں ہمارا کوئی گناہ نہ رہے جسے تو معاف نہ کر دے، اور اے اللہ! کوئی غم نہ رہے جسے تو دور نہ فرما دے، اور اے اللہ! کوئی عیب نہ رہے جسے تو چھپا نہ دے، اور اے اللہ! کوئی بیمار نہ رہے جسے تو صحت و آرام عطا نہ فرما دے، اور اے اللہ! کوئی مسافر نہ رہے جسے تو (سفر کی مشکلات سے) چھٹکارا نہ دے دے، اور اے اللہ! کوئی کھویا ہوا نہ رہے جسے تو لوٹانہ دے، اور اے اللہ! کوئی دشمن نہ رہے جسے تو رسوا اور برباد نہ کر دے، اور اے اللہ! کوئی فقیر نہ رہے جسے تو غنی نہ کر دے، اور اے اللہ! ہماری دنیا اور آخرت کی ضرورتوں میں سے کوئی ضرورت جس میں ہماری بہتری ہو ایسی نہ رہے جسے تو پورا نہ کر دے اور آسان نہ فرما دے۔ اے اللہ! ہماری حاجتوں کو پورا فرما دے اور ہمارے کاموں کو آسان کر دے اور ہمارے دلوں کو کھول دے اور ہماری اس زیارت کو قبول فرما، اور ہمارے خوف کو دور کر دے، اور ہمارے عیبوں کو چھپا دے، اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے، اور ہماری تکلیفوں کو دور کر دے، اور نیکیو ں کے ساتھ ہمارے اعمال کا خاتمہ فرما، اور ہماری اجنبیت کو ہمیں اپنے اہل و عیال میں لوٹا کر دور کر دے، اس حال میں کہ ہم صحیح و سلامت ہوں، کامیاب ہوں اور ہمارے عیبوں پر پردہ پڑا ہوا ہو۔ ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما، ان نیک بندوں میں جن پر نہ خوف طاری ہو اور نہ وہ غمگین ہوں۔ اپنی رحمت کے سبب، اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے، اے جہانوں کے پالنے والے۔‘‘
پھر منبرِ اطہر کے قریب، اور پھر ریاض الجنہ میں آ کر دو رکعت نفل جب کہ وقت مکروہ نہ ہو پڑھیں اور دعا کریں۔
جب تک مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو ایک سانس بھی بے کار نہ جانے دیں۔ ضروریات کے سوا اکثر اوقات مسجد شریف میں باطہارت حاضر رہیں، نماز، تلاوت اور درود میں وقت گزاریں، خلافِ ادب گفتگو نہ کریں، ہمیشہ ہر مسجد میں جاتے وقت اعتکاف کی نیت کر لیں۔
یہاں ایک نیکی کے عوض پچاس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں، لہٰذا عبادت میں زیادہ کوشش کریں اور کھانے پینے میں کمی ضرور کریں۔ مدینہ طیبہ میں اگر روزہ رکھنا نصیب ہو جائے، بالخصوص گرمی میں تو یہ بڑی سعادت کی بات ہے اور اس پر وعدۂ شفاعت ہے۔
روضۂ انور کو دیکھنا عبادت ہے، اس لئے اسے کثرت سے دیکھنا چاہئے اور اس شہر میں یا شہر سے باہر جہاں کہیں گنبدِ خضراء پر نظر پڑے فوراً دست بستہ ادھر منہ کر کے صلوٰۃ و سلام عرض کریں اس عمل کے بغیر ہرگز نہ گزریں کہ یہ خلافِ ادب ہے۔
یہاں کم از کم ایک بار قرآن مجید ختم کرنا چاہئے۔
دن میں پانچ دفعہ یا کم از کم صبح شام مواجہہ شریف میں سلام کے لئے حاضری دیں۔
بلا عذر ترک نماز ہر جگہ گناہ ہے اور کئی بار ہو تو سخت حرام اور گناہ کبیرہ اور یہاں ایسا کرنا گناہ کے علاوہ سخت محرومی ہے۔(العیاذ باللہ تعالٰی)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے:
’’جس نے میری مسجد میں مسلسل چالیس نمازیں پڑھیں اور اُن میں سے کوئی نماز بھی فوت نہ ہوئی تو اُس کے لئے دوزخ سے آزادی، عذاب سے نجات اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے۔‘‘
(احمد بن حنبل، مسند، 3 : 155، الرقم : 12605)
لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ ہر وقت دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب واحترام ہونا چاہیے۔
قبر انور کو ہر گز پشت نہ کریں اور حتی الامکان نماز میں بھی ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں پشت روضہ مبارک کی طرف نہ کرنی پڑے۔
روضۂ اقدس کا نہ طواف کریں نہ سجدہ اور نہ ہی اتنا جھکیں کہ حالت رکوع کے برابر ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم آپ کی اطاعت میں ہے۔
رخصت کے وقت مزارِ پرانوار پر حاضری دیں اور مواجہہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بار بار اس نعمت کا سوال کریں اور تمام آداب رخصت بجا لائیں اور سچے دل سے دعا کریں کہ الٰہی ایمان و سنت پر مدینہ طیبہ میں مرنا اور جنت البقیع میں دفن ہونا نصیب ہو۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
(جنت البقیع کی دعا)
جنت البقیع میں حاضر ہو کر یہ دعا کریں :
اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ يَا أَهْلَ الْبَقِيْعِ، يَا أَهْلَ الْجَنَابِ الرَّفِيْعِ، أَنْتُمُ السَّابِقُوْنَ وَنَحْنُ إِنْ شَائَ اﷲُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ، أَبْشِرُوْا بِأَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ، لَا رَيْبَ فِيْهَا، وَأَنَّ اﷲَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ. اٰنَسَکُمُ اﷲُ تَعَالٰی وَشَرَّفَکُمُ اﷲُ تَعَالٰی بِقَوْلِ أَشْهَدُ أَنْ لاَّ إِلٰه إِلاَّ اﷲُ وَحْدَه لَا شَرِيْکَ لَه وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه.
’’سلام ہو تم پر اے اہل بقیع، اے عالی بارگاہ والو! تم ہم سے چلے گئے اور ہم ان شاء اللہ آپ سے ملنے والے ہیں۔ تمہیں خوشخبری ہو کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور بلاشبہ اللہ زندہ کر کے قبر والوں کو اُٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ تم کو مانوس بنا لے اور تم کو اس قول کے ساتھ معزز فرمائے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔‘‘
شہدائے احد کے مزارات پر حاضری و دعا
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد کی قبروں پر سالانہ تشریف لے جاتے اور فرماتے تم پر سلام ہو، تم نے صبر کیا، تمہاری آخرت اچھی ہے۔ زائرین کو بھی چاہئے کہ ان مزارات پر حاضر ہو کر یوں سلام عرض کریں اور دعا کریں :
اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يًا حَمْزَةُ عَمَّ رَسُوْلِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا سَيِّدَ الشُّهَدَآئِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا أَسَدَ اﷲِ وَأَسَدَ رَسُوْلِه، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا عَبْدَ اﷲِ بْنَ جَحْشٍ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ يَا شُهَدَآئَ أُحُدٍ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ، فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ، اَللّٰهُمَّ اجْزِهِمْ عَنِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِه اَفْضَلَ الْجَزَائِ وَأَجْزِلْ ثَوَابَهُمْ وَأَکْرِمْ مَقَامَهُمْ وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِمْ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ يَا أَکْرَمَ الْأَکْرَمِيْنَ.
’’اے حضرت حمزہ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا! آپ پر سلام ہو، اے شہداء کے سردار! آپ پر سلام ہو، اے اللہ اور اس کے رسول کے شیر آپ پر سلام ہو، اے عبد اللہ بن جحش! آپ پر سلام ہو، اے مصعب بن عمیر! آپ پر سلام ہو، اے شہدائے اُحد! آپ پر سلام ہو، تم نے جو صبر کیا اُس پر تمہیں سلام ہو، اور آخرت کا گھر ہی سب سے بہتر ٹھکانہ ہے۔ اے اللہ! اِنہیں اِن کے اسلام کی بدولت اور اِن کے اہلِ خانہ کو بہترین اجر عطا فرما، اِن کے ثواب کو بڑھا دے اور اِن کا مقام بزرگی والا بنا دے، اِن کے درجات بلند فرما اپنے احسان اور کرم کے صدقے، اے سب سے بڑھ کر کرم کرنے والے!‘‘
۔ الوداع اے شہر حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الوداع!
جب مدینہ منورہ سے رخصت ہونے لگیں تو مسجد نبوی میں حاضر ہو کر دو رکعت نماز نفل ادا کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر خوب آنسو بہائیں، اپنے والدین، عزیزو ں، دوستوں اور تمام اُمت مسلمہ کے لئے درج ذیل دعا کریں :
اَللّٰهُمَّ إِنِّي اَسْأَلُکَ بِنُوْرِ وَجْهِکَ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَلِجَمِيْعِ أَهْلِ بَيْتي وَأَحِبَّائِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُوْمِنَاتِ، مَغْفِرَةً لاَّ تُغَادِرُ ذَنْبًا، وَتُدْخِلَنَا الْجَنَّةَ جَمِيْعًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، اَللّٰهُمَّ أَعِذْنَا جَمِيْعًا مِنْ هُمُزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ وَأَمِتْنَا وَأَمِتْهُمْ مَعَ الْإِيْمَانِ عَلٰی مَحَبَّتِکَ وَمَحَبَّةِ نَبِيِّکَ صلی الله عليه وآله وسلم وَسُنَّتِه بِرَحْمَتِکَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.
’’یا اللہ! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے بطفیل تیرے نور ذات کے، تو مجھے اور میرے تمام خاندان، اور سب دوستوں، اور میرے والدین، اور کل مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ ایسی بخشش جو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑ
( الوداعی دعا)
اَلْوِدَاعُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ! اَلْفِرَاقُ يَا نَبِيَّ اﷲِ! اَلْأَمَانُ يَا حَبِيْبَ اﷲِ! لَا جَعَلَه تَعَالٰی اٰخِرَ الْعَهدِ، لَا مِنْکَ، وَلَا مِنَ الْوُقُوْفِ بَيْنَ يَدَيْکَ إِلاَّ مِنْ خَيْرٍ وَّعَافِيَةٍ وَصِحَّةٍ وَسَلَامَةٍ، إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اﷲُ تَعَالٰی جِئْتُکَ وَإِنْ مُتُّ فَأَوْدَعْتُ عِنْدَکَ شَهَادَتِي وَأَمَانَتِي وَعَهْدِي وَمِيْثَاقِي مِنْ يَوْمِنَا هٰذَا إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَهِيَ شَهَادَةُ أَنْ لاَّ إِلٰه إِلاَّ اﷲُ وَحْدَه لَا شَرِيْکَ لَه وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه، سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَo وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَo وَالْحَمْدُ لِلّٰه رَبِّ الْعَالَمِيْنًo
04/04/2018
مورے مورے زما دستار بندی دہ ٭
امی امی میری دستار بندی ہے
-----------------------------
ہیلو ہیلو مورے مورے
آپ سن رہی ہیں میری آواز آرہی ہے
عبداللہ جان ماں کو فون ملا رہا تھا اس نے اپنے استاد سے موبائل لیکر گھر کال کی تھی لیکن سگنل پرابلم کہ بات کٹ رہی تھی
اس نے ایک بار پھر ٹرائی کی اور گھنٹی جانے پر پھر بولا
مور جانے اے مورے
آگے سے دیہاتی بخمینہ نے کہا زور سے وایہ بچییا ( بولو میرے بچے )
مورے پہ تامو زیرہ دہ ( اماں آپکو خوشخبری دینی ہے )
سہ دی کور تہ رازے ( کیا ہے گھر آرہے ہو )
نہ مورے نہیں امی جان آپکو بتانا تھا کہ میں حافظ ہوگیا ہوں میری دستار بندی ہے
بخمینہ کو تو جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی مارے خوشی کے چیخ نکلی اور پھر آنسو نکل آئے کہ کتنی راتیں جاگ کر مسافری میں اسکے لخت جگر نے اللہ کے قرآن کو یاد کیا ہے
وہ روندھی آواز میں بولی
وائے بچیا ہائے میرے بیٹے ماں صدقے جائے تو اس رمضان میں تراویح سنائے گا نا
عبداللہ جان نے فخر سے بتایا آو کنہ مورے ہاں نا ماں اس دفعہ مصلے پر تیرا بیٹا سنائے گا
یہ سنتے ہی بخمینہ نے فون کاٹ دیا کیونکہ عبداللہ جان کے ابو کی بہت خواہش تھی کہ اسکا بیٹا کبھی تراویح میں قرآن سنائے لیکن وہ یہ منظر نہ دیکھ سکا وہ بھی عالمی جمہوریت کے چیمپین امریکی ڈرون میں ایک دن کھیتوں میں کام کرتے شہید ہوگیا تھا
بخمینہ ایک مسلمان ماں تھی اس نے شوہر کی شہادت پر ہمت نہیں ہاری اور کمر کس لی کہ شوہر کی خواہش ضرور پوری کرے گی
اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس نے جلدی جلدی اپنا ٹرنک کھولا اس میں سے گلہ نکالا اسے توڑا
اسی دن کے لئے تو پائی پائی جوڑی تھی پیسے نکالے اپنے بھائی کو بلوایا اور اپنے بیٹے کے لئے سفید کپڑے منگوائے کچھ مٹھائی منگوائی کچھ ہار منگوائے
ہار بھائی کو دیا کہ دستار بندی میں عبداللہ جان کو پہنادے اور کپڑے دے بھیجے لیکن بخمینہ کو کیا معلوم کہ وہ کپڑے نہیں عبداللہ کا کفن بھجوارہی ہے
رات بھر وہ روتی رہی لیکن جب بیٹے کا تصور آتا تو مسکرا دیتی وہ بہت خوش تھی
وہ ساری احادیث اسکے ذہن میں آرہی تھیں جو اس نے اپنے شوہر سے سن رکھی تھیں
رات روتے ہنستے کٹی صبح لو پھوٹتے ہی خاوند کے قبر پر گئی ایک پھول اسکے سرہانے رکھا اور کہا
میں افغان عورت ہوں تیرے ساتھ وعدہ تھا کہ تجھے سرتاج بنا کر رکھوں گی لے پھر میرا بچہ تیرے لئے ایسا تاج لیکر آرہا جسکی روشنی سورج سے زیادہ ہے ۔
اسکے بعد بخمینہ نے گھر کی صفائی ستھرائی شروع کردی وہ بھاگ بھاگ کر گھر سجارہی تھی کہ میرا بیٹا آئے گا اسکی دستار بندی ہے ۔
ایک دم فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی اسکے بھائی کی گھبرائی ہوئی آواز تھی وہ فون پر بس رو رہا تھا
ماں ماں ہوتی ہے خدشے آنے شروع ہورہے تھے وہ سختی سے جھٹلارہی تھی اور ساتھ ساتھ اللہ خیر کے اللہ خیر کے بھی کہہ رہی تھی
اڑوس پڑوس کی عورتیں جمع تھیں کہ عبداللہ جان کا استقبال کریں گے پھول کی پتیاں انکے ہاتھوں میں تھی
کہ عبداللہ کے ماموں نے کہا کہ عبداللہ نہیں رہا
سہ اوشو لالا ( بھائی کیا ہوا ) دھڑکتے دل سے بخمینہ نے پوچھا
عبداللہ جان شہید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخمینہ کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک گئی یوں لگا کہ سر سے کسی نے آسمان کھینچ لیا موبائل اسکے ہاتھ سے نیچے گرا اور وہ دیوار کیساتھ لگ کر بیٹھ گئی
عورتوں نے جلدی بڑھ کر ہلایا بخمینے سہ اوشو سہ خو اووایا
لیکن بخمینہ کی زبان گنگ آنکھوں سے آنسو رواں اور آخر آنسو پونچھتے ہوئی بولی
عبداللہ کی دستار بندی ہوگئی ہے وہ کامیاب ہوگیا لیکن اسکی دستار بندی جنت میں ملا محمد عمر کریں گے اس لئے وہ جنت چلا گیا ہے ۔۔۔
اتنے میں عبداللہ کے ماموں بھی آگئے وہ ہسپتال سے آرہے تھے آتے ہی بہن سے لپٹ گئے کیا کہتے بہن نے کہا مجھے عبداللہ کی دستار بندی دیکھنی ہے
بھائی اسے لیکر اس مقام پر چلا گیا جہاں سے عبداللہ نے جنت کا سفر شروع کیا تھا
ماں تو ماں ہوتی ہے عبداللہ کا سفید لباس سرخ تھا
وہ عبداللہ کے سرہانے کھڑی بلک بلک کر، تڑپ تڑپ کر آہیں بھر بھر کر سسک سسک کر رو رہی تھی،
اور نیم مدہوشی میں ایک ہی سوال زبان پر تھا مجھے میرے بیٹے کا جرم تو بتائیں، اس کا قصور تو دکھائیں، یہ آہیں بھرنے بھرتے زمیں پر گر گئی۔
(اس پہر کلیجہ منہ کو آرہا اور مزید لکھنے کی سکت نہیں۔)
02/04/2018