03/11/2024
Expectation and Reality🙆👀
I'm Hafiz Ahmed Raza.This is my page. Follow our page for General knowledge.
03/11/2024
Expectation and Reality🙆👀
ایک خاموش پیغام
جواں مرد کی وفات پر مغرب کے بعد قبرستان جانا ہوا۔ اندر داخل ہوئے تو چاروں طرف قبریں ہی قبریں تھیں۔ چلنے کی جگہ بہت تنگ اور دشوار تھی۔ جھاڑیاں اور ان پر لگے کانٹے ہمارا استقبال کررہے تھے۔ ہر طرف ایک گہری اور پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ درخت سائیں سائیں کررہے تھے۔ چاروں طرف وحشت و ویرانی کے بسیرے تھے۔ قبریں غمناک حالت میں زندگی کے قیمتی لمحات غنیمت جاننے کا سبق دے رہی تھیں۔
ذہن کے پردوں پر ان قبر والوں کی زندگیاں ابھرنے لگیں۔ چند ہی لمحوں میں ان کی پوری زندگی کے اوراق اس طرح الٹنے لگے جیسے کوئی کتاب کے سارے صفحات پکڑ کر نیچے کی طرف سے انہیں تیزی سے ایک ایک کرکے چھوڑتا ہے اور چند لمحوں میں کتاب ختم ہوجاتی ہے۔
کیسے یہ لوگ بھی ہماری طرح زندگی گزارتے ہوں گے۔ انہوں نے بھی مختلف شوق پال رکھے ہوں گے۔ لمبی زندگی کی منصوبہ بندی کرتے کرتے اچانک موت کے فرشتے کا آنا اور پھر سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جانا۔ مال و دولت، عزت و شہرت سب کچھ یہیں رہ جانا اور خالی کفن کے ساتھ گور تیرہ میں اتر جانا۔ یہ سب مناظر ذہن میں تیزی کے ساتھ آ جا رہے تھے۔
نگاہ متلاشی ہوئی کہ کہیں کوئی مردہ قبر شق کرکے اٹھے اور اپنے اوپر گزرے موت و مابعد موت کے احوال بتائے۔ اس امید پر چاروں طرف قبروں کو دیکھا، غور سے دیکھا اور بہت غور سے دیکھا لیکن نگاہ یاس و نا امیدی کے ساتھ واپس لوٹ آئی۔ کوئی صاحب قبر اٹھنے کے لیے تیار نہ ہوا۔
جب ظاہر سے مایوسی ہوئی تو آنکھیں بند کیں اور تخیل کی دنیا میں قدم رکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہر طرف کفن میں لپٹے مردے کھڑے تھے۔ کفن مٹی سے آلودہ تھے۔ کوئی رحمتِ الہی پر خوش تھا تو کوئی عذاب الہی میں گرفتار ہونے کی وجہ سے غمگین۔ اپنے کفنوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے وہ سارے چل کر میرے پاس آئے اور حلقہ بناکر کھڑے ہوگئے۔ میں درمیان میں کھڑا تھا۔ بے بسی اور لاچارگی بھری نگاہ سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا: مجھے نصیحت کرو۔
وہ سارے مجھے نصیحت کرنے لگے۔
ایک نے کہا: گناہ چھوڑدو اللہ کی ناراضگی مت مول لو۔
دوسرا پیار سے میری داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا: حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے۔ اس میں ذرہ بھر کوتاہی بہت بڑے عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔
تیسرا میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگا: نمازوں کی پابندی کرو ورنہ عذاب قبر کے لیے تیار رہو۔
پھر سب ایک ساتھ بول اٹھے: سنو! دنیا کے پیچھے اتنا مت بھاگو کہ قبر کو بھول جاو۔ دنیا کے لیے جتنی محنت کررہے ہو اگر صرف اتنی ہی محنت قبر کے لیے کرلو تو تم کامیاب ہوسکتے ہو۔
میں نے نصیحت کرنے کا پر سب کا شکریہ ادا کیا اور وہ سارے اپنے اپنے کفن کے ساتھ واپس قبروں میں چلے گئے اور قبریں دوبارہ بند ہوگئیں۔ آنکھیں کھولیں تو سامنے صرف قبریں تھیں۔
جس کی تدفین کے لیے آئے تھے اسے دفن کیا جارہا تھا۔ قبر میں لٹا کر سلیپیں ڈالی جارہی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے میت کی جگہ خود کو تصور کیا تو بدن پر جھرجھری طاری ہوگئی۔ رگوں میں خون دوڑنے کے بجائے رینگتا محسوس ہوا۔
تدفین کے بعد بوجھل قدموں سے باہر کی طرف آنے لگے تو حدیث مبارکہ ذہن پر ابھری کہ مردہ، واپس جانے والوں کے چلنے سے پیدا ہونے والی آواز بھی سنتا ہے۔
ہاں ہاں یقینا مردہ ہماری آوازیں سن رہا ہے اور معلوم نہیں کہ ہمارے جانے پر افسوس کررہا ہے یا دیدار یار و رحمت پروردگار کی خوشی میں ہمیں جلدی جانے کا کہہ رہا ہے۔
پھر سوچا کہ
یہ سارے حالات و واقعات جو ابھی میرے تصور میں ہیں یقینا میرے ساتھ پیش آنے ہیں۔ کیا ان حالات کے لیے میں نے خود کو تیار کیا ہے؟
میرا شمار کن لوگوں میں ہوگا ان میں جن کے کفن پھٹ کر بدن کیڑے مکوڑوں کی خوراک بنے گا یا ان میں جن کے اجسام تو کجا ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوتا؟ قبر کا دبانا ماں کی طرح ہوگا یا اس طرح کہ ہڈیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں؟ قبر جنت کا باغ بنے گی یا جہنم کا گڑھا۔؟ انہی تصورات کو لیتے ہوئے باہر کی طرف آنے لگا کچھ لمحوں بعد قبرستان سے باہر تھا، بائیک اسٹارٹ کرکے روڈ پر آیا تو شاید مردے کے ساتھ وہ سارے تصورات بھی وہیں دفن ہوگئے۔ دوبارہ موت بھول کر دنیاوی مصروفیات میں مست ہوگیا۔
محمد شعیب مدنی
29 اکتوبر 2024
23/10/2024
شھادت کے وقت مجاھد یحییٰ سنوار سے برآمد ہونے والا سامان
تسبیح,عطر, ٹارچ, دعاؤں کی کتاب, گھڑی اور چیوگم بھوک کو دبانے کے لیے اور شخصی شناخت کے لیے پاسپورٹ
یہ کل اثاثہ تھا اس مرد مجاھد کا!
ہر اللہ والا جو دنیا میں دین کی خدمت سے نام کماتا ہے وہ دنیا کو پیروں تلوں ہی روند دیتا ہے۔ اس کا کل اثاثہ یہی ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ آخری سفر پر روانہ ہوتا ہے.
ہم دنیا کی رنگینیوں اور آسائشوں میں اتنے مگن ہیں کہ اس فقیری کے لطف کو پا بھی نہیں سکتے
19/10/2024
شہیدِ وقت یحییٰ السنوار رحمه الله نے آج سے بیس سال پہلے کتاب لکھی جس نام الشوک و القرنفل ہے
اس میں لکھا
اے میری پیاری ماں اب وعدے کا وقت آگیا ہے
اس میں جو لکھا آج پورا ہوگیا
میں نے دیکھا ہر طرف جنگ کا ماحول ہے میں نے ان پر حملہ کر دیا ہے
میں نے ان کو کاٹ کے رکھ دیا پھر میں شہید ہوگیا
پھر میں نے دیکھا کہ میں جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود ہوں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے فرما رہے ہیں خوش آمدید خوش آمدید 🌹
شہید کا ایک مقولہ مشہور ہے
ہم اس موت سے ڈرتے ہیں جو بستر پر آئے
اس موت سے محبت کرتے ہیں جو میدانِ جنگ میں آئے
یحییٰ السنوار نے وہ مقولہ سچ کر دکھایا
✍️
پنجاب کالج کا معاملہ
یہ رضا مندی سے نہیں بالجبر ہوا ہے
ہر ماں باپ یہی سمجھتے ہیں کہ کالج و یونیورسٹی و اسکول میں ہماری بچی متقیہ نمازی حاجن ہے مگر یقین کریں آگ کا اثر ہر وہ بچی اپنے اوپر محسوس کرتی ہے جو غیرت ایمانی سے معمور ہو!
شاید ذاتِ الٰہی جلال میں ہے جو پے در پے دنیاوی ادارے ننگے ہوتے جا رہے ہیں
مگر والدین کی غیرت مر چکی ہے آئے روز کی خبریں سن کر ان سنی کر دیتے ہیں
دینی مدارس میں بچیوں کو نہیں بھیجتے کہ مستقبل نہیں بن سکے گا
دنیاوی اداروں میں بھیج کر مستقبل کے نام سے عزت و عصمت تباہ کروا دیتے ہیں!
اعتراض پھر بھی دینی مدارس پر؟
✍️
06/10/2024
For Watching video Click this Link👇🏻
https://youtu.be/iSNOZH0HCSA
How to send and Receive Email in PC or Laptop | Hafiz Ahmed Raza
https://youtu.be/5hThkedwxds?si=jQvZ-ZWd45irIzs8
ScreenShot in PC or Laptop I Hafiz Ahmed Raza
29/09/2024
دنیا کے اے مسافر!!
موت تیری منزل ہے
⚰️
دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں
😊
25/09/2024
کیوں کہ دور کچھ ایسا ہے کہ
کل تک وہ قوم جو کھیلتی تھی ننگی شمشیروں کے ساتھ
آج فلمیں دیکھتی ہے اپنی ہمشیروں کے ساتھ!!
حبّ احمد کی تبلیغ تو نے نہ کی
کٹ گئی عمر گستاخیوں میں تیری
نقص ہی ڈھونڈنا اگر ہے مقصد تیرا
یونہی بستر اُٹھانے سے کیا فائدہ
20/09/2024
12 ربیع الاول 1446ھ بمطابق 15 ستمبر 2024 جشن ولادتِ خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم