آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہن کا خط
Islamic FacTs
Welcome to the first guide on our website, the Islamic Facts !
Whether you’re new to the teachings of Islam or just looking to quickly review what you already know, we’re happy you came here...� Islam is the fastest growing religion with over 1.6 billion followers all over the globe�
By now you probably heard about Islam through the media, conversations with a friend or coworker, or perhaps you stumbled upon it while browsing through the web. Although Islam
Bani Israel 🇮🇱
Qissa Hazrat Yahya Aleh Salam ✨
09/04/2024
آجکل سوشل میڈیا پر ایک Red Hiefer کے بارے میں بحث چل رہی ہے۔۔ یہ کیا ہے؟
29 مارچ کو شاید اسرائیلی لوگ ایک سرخ بچھڑی کی قربانی دینگے جس کے ذریعے دجال (جعلی مسیح) کو بلانے کے لئے اور مسجد الاقصی کو تباہ کریں گے! اور 8 اپریل کو رمضان کے آخری دن وہ اپنے جعلی مسیح کو بلانے کا دعوی کر رہے ہیں! اسی دن ایک تاریخی complete solar eclipse ہو گی جو 375 سالوں سے نہیں ہوئی ہے۔
لال بچھڑی کی قربانی کی تاریخ؟
لال بچھڑی کی قربانی یہودی روایت میں اہم رسم ہے۔ یہودی شریعت کے مطابق، موسی علیہ السلام کے دور میں سے صرف نو لال بچھڑیوں کو قربانی دی گئی ہیں۔ لال بچھڑی کی راکھ کو ایک پاکسازی رسم میں استعمال کیا جاتا تھا تاکہ مردے کے جسم سے رواجی نجاست کو دور کیا جا سکے۔ یہاں یہ لال بچھڑیوں کی فہرست ہے جنہیں یہودیوں نے قربانی دی:
1. حضرت موسی علیہ السلام نے پہلی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
2. حضرت عزیر علیہ السلام نے دوسری لال بچھڑی کی قربانی کی۔
3. سیدنا سائمن علیہ السلام نے تیسری لال بچھڑی کی قربانی کی۔
4. اسماعیل بن پیاوی نے چوتھی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
5. حنمیل مصری نے پانچویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
6. اسماعیل بن پیاوی نے چھٹی لال بچھڑی کی قربانی کی۔
7. حنمیل مصری نے ساتویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
8. حنمیل مصری نے آٹھویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
9. اسماعیل بن پیاوی نے نویں لال بچھڑی کی قربانی کی۔
یہ قربانیاں صدیوں کے وقفے کے بعد ہوئیں جن کے درمیان کافی gap ہے۔ دسویں لال بچھڑی کی قربانی یہودی روایت کی منتظر ہے اور یہ یہودیوں کے نزدیک ضروری ہے کہ وہ اپنے third temple کی تعمیر سے پہلے اسکی قربانی کے ذریعے پاک ہو جائیں۔
جیسا کہ لال بچھڑی کی قربانی کے بارے میں افواہیں پھیل رہی ہیں۔ اس کے لئے انہوں میں تیاری کر لی ہے(وہ ایک نہیں بلکہ پانچ کی قربانی کریں گے )۔
جو خصوصیات انکو چاہئیں وہ یہ ہیں،
- وہ خالص سرخ ہونا چاہئے (نہ کوئی سیاہ یا سفید بال)
- کنوارا ہونا چاہئے
- 34 مہینوں سے 38 مہینوں کی عمر ہونی چاہئے
اور قربانی کے وقت تقریباً 3 سال کی عمر ہونی چاہئے
جو شاید اسی مارچ سے جولائی کے درمیان ہے۔
یہ کیا کر سکتا ہے؟
انکا یہ اقدام تورات کے مطابق آخری وقت کی ابتداء ہے۔ ترتیب مندرجہ ذیل ہے ....
1. سرخ بچھڑی کی قربانی
2. اوزار کی پاکسازی
3. المسجد الاقصی کی تباہی
4. تیسرے temple کی تعمیر
5. جعلی مسیح کی آمد
6. امام مہدی کی آمد
7. حضرت عیسی کی آمد
8. قیامت
یہ قربانی اس سال کے درمیان تک (مارچ کا اختتام سے جون) ہو گی۔ اس کی کھال، گوشت، خون اور ہڈیوں کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو جلایا جائے گا اور پاک پانی کے ساتھ ملا کر پاک کیا جائے گا اور پھر وہ پانی جو پاکسازی کے لئے ہے،۔اسکو تیسرے temple کی بنیادوں کے ارد گرد چھڑکا جائے گا۔اس سے دجال کے زمانے کا آغاز ہو جائے گا۔
اس قربانی کو کرنے کی جگہ کا انتخاب بھی کر لیا گیا ہے اور بچھڑی (بے داغ، خالص، کنوارا) کو Texas سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ ساری چیزیں ہیں جو اس وقت دنیا میں ہو رہی ہیں،صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے،لیکن ہمیں ہر وقت اُن حالات کے لیے تیار رہنا چاہئے ، ہر نبی نے دجال کے فتنے سے پناہ مانگی ہے۔اور ہمارے سامنے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی کافی نشانیاں موجود ہیں۔ اسرائیل نے غزہ پر حملے کر کے اور کتنے معصوم مسلمانوں کو شہید کر کے ہماری اُمت مسلمہ کا response دیکھ لیا ہے،ہمارے حکمران سوئے ہوئے ہیں،ہمارے لوگوں کی اکثریت بھی صرف دنیا طلبی میں لگی ہوئی ہے،اسی لیے وہ جانتے ہیں کہ جو اُمت اتنے بڑے نقصان کے بعد بھی نہیں جاگی تو اگلے اقدام تو آرام سے وہ کر سکتے ہیں،انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
"دجال مشرق سے اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ وہ ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہوگا۔ و ایک آنکھ سے اندھا ہوگا۔ اور اس کی پیشانی پر "کافر" کا لفظ لکھا ہوگا۔ وہ یروشلم کو فتح کرے گا اور پوری دنیا کا سفر کرے گا ہر شہر میں داخل ہو گا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔
جھوٹے مسیح کے طور پر، اُسکے بہت سی ساتھیوں نے بہت سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہوگا اور ان کے صفوں میں مزید کمزور ایمان والے شامل ہوں گے۔ وہ ایک شیطانوں کی فوج کے ساتھ کام کرے گا۔ اُس کے سب سے معتبر حامیوں میں یہودی ہوں گے، جن کے لئے وہ خدا کی طرح ہوگا۔ اس کی آمد کے بعد ہماری بیویوں اور بیٹیوں کو گھر میں رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ (یہ قیامت کی نشانیاں ہیں)."
سورۃ الکھف کی پہلی اور آخری دس آیات آپ کو دجال کے فتنے سے بچا سکتی ہیں۔ پہلے دس آیات کو یاد کرنے کی کوشش کریں۔ ہر روز پڑھنے کی کوشش کریں۔خصوصاً جمعہ کے دن تلاوت کریں ترجمے کے ساتھ پڑھیں ۔یہ مزاق نہیں ہے۔ براہ کرم اس بارے میں آگاہی بڑھائیں۔ یہ ہماری امت پر سب سے بڑا، سخت اور مشکل فتنہ ہے اور بہت سے لوگ اس کے بارے میں غافل ہیں۔ براہ کرم اس کے بارے میں research کریں ۔اور اپنا ایمان بڑھائیں کیونکہ دجال ہمارے ایمان کے ساتھ کھیلے گا۔!
اللہ ہمارے ایمان مضبوط و محفوظ رکھے اور ہمیں دجال کے فتنے سے بچائے!
کیا اسلامی تعلیمات دیگر مذاہب سے چرائی گئی یے۔ ؟
پاکستانی ملحد کو قرآن پاک کا جواب
ایک علمی لطیفہ
ایک شیعہ صاحب مجھ سے کہنے لگے ابراہیم علیہ السلام شیعہ تھے
میں نے کہا کیسے؟
کہا: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ [۸۳] سورۃ الصافات
ترجمہ: اور بے شک ابراہیمؑ اس کے شیعہ میں سے ہیں
میں نے کہا آپ بھی مان جائیں گے، اس نے کہا کیسے؟ میں نے کہا:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [۱۰] وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ [۱۱] سورۃ الحجر
ترجمہ: ہم نے آپ سے پہلے جتنے شیعوں میں جتنے بھی رسول بھیجے اور جو بھی رسول آتا وہ ان کا مذاق اڑاتے
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا [۴] سورۃ القصص
ترجمہ: بے شک فرعون نے سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو شیعہ بنا رکھا تھا
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا [۳۲] سورۃ الروم
ترجمہ: ان لوگوں میں سے جنہوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود بھی شیعہ ہوگئے
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْ [۱۵۹] سورۃ الانعام
ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے وہ شیعہ تھے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں
ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا [۶۹] سورۃ مريم
ترجمہ: پھر ہر شیعہ سے ایسے ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو رحمن سے سرکشی کرتے رہے
یہ سن کر وہ صاحب ہنسے ہوئے کہنے لگے: میں تو مذاق کر رہا تھا
08/05/2023
• عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے لڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ کیا، ان میں صحابہ میں سے ایک نوجوان تھا، "عبداللہ ابن حذیفہ ابن قیس السحمی" - اللہ اس سے راضی ہو۔ ..
• مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان لڑائی طول پکڑتی رہی، اور "قیصر" مومنین کی استقامت اور ان کے مرنے کی جرأت پر حیران رہ گیا۔
اس نے حکم دیا کہ ایک مسلمان قیدی کو اس کے سامنے لایا جائے۔
وہ "عبداللہ بن حذیفہ" کو گھسیٹتے ہوئے لائے جب کہ اس کے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں تھیں۔ قیصر نے اس سے بات کی اور اس کی ذہانت اور ذہانت سے متاثر ہوا...
• اس نے اس سے کہا: عیسائیت اختیار کر لو اور میں تمہیں قید سے رہا کر دوں گا!
(اسے اسلام چھوڑنے اور عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دینا)۔
عبداللہ نے کہا: نہیں۔
• اس نے اس سے کہا: جیت جا اور میں تمہیں اپنی آدھی جائیداد دوں گا۔
اس نے کہا: نہیں۔
قیصر نے کہا: تم غالب رہو گے اور میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں اپنے ساتھ حکومت کرنے میں شامل کروں گا۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
• نہیں، خدا کی قسم، اگر تو نے مجھے اپنی بادشاہی، اپنے آباء و اجداد کی بادشاہت اور عربوں اور غیر عربوں کا بادشاہ اس شرط پر دیا کہ میں پلک جھپکنے کے لیے اپنا دین چھوڑ دوں، تو میں نے کیا کیا۔ ..
• قیصر غصے میں آ گیا، اور کہا: اگر میں تمہیں مار ڈالوں!
• اس نے کہا: مجھے مار ڈالو۔
چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اسے کھینچ کر ایک درخت پر لٹکایا جائے، اور اس نے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے گرد تیر چلائیں.. اور قیصر نے اسے متن پیش کیا، رانیہ، لیکن اس نے انکار کر دیا اور موت کا انتظار کرنے لگا...
جب قیصر نے اس کا اصرار دیکھا تو حکم دیا کہ وہ اسے جیل میں لے جائیں اور کھانے پینے سے انکار کر دیں۔
انہوں نے انہیں اس سے روکا یہاں تک کہ وہ تقریباً پیاس اور بھوک سے مر گیا۔
چنانچہ وہ اس کے لیے شراب اور خنزیر کا گوشت لائے، عبداللہ نے انہیں دیکھا تو فرمایا:
• خدا کی قسم، میں جانتا ہوں کہ میں مجبور ہوں اور یہ میرے مذہب میں جائز ہے، لیکن میں نہیں چاہتا کہ چوہا مجھ پر خوش ہو، اس لیے کھانے کے قریب نہیں آیا...
چنانچہ قیصر کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے اسے عمدہ کھانے کا حکم دیا، پھر اس نے حکم دیا کہ ایک خوبصورت عورت جو اسے بے حیائی کا پردہ فاش کرے، اس کے اندر داخل ہو، چنانچہ سب سے خوبصورت عورتیں اس کے پاس آئیں، لیکن اس نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔
وہ یہ دیکھ کر غصے سے باہر نکل گئی اور کہنے لگی:
تو نے مجھے ایک آدمی میں داخل کیا، میں نہیں جانتا کہ وہ انسان ہے یا پتھر۔
خدا کی قسم وہ نہیں جانتا کہ میں عورت ہوں یا مرد!!
جب قیصر اس سے مایوس ہوا تو اس نے تانبے کا ایک برتن منگوایا، پھر تیل کو ابال دیا گیا، اور "عبداللہ" کو برتن کے سامنے روک دیا گیا، اور ایک مسلمان قیدی کو لایا گیا، اسے ابلتے ہوئے تیل میں بیڑیوں اور طاقت سے باندھ دیا گیا۔" قیصر" اور اسے متن دکھایا گیا۔ رانیہ، لیکن اس نے انکار کر دیا۔
• قیصر کا غصہ بڑھ گیا اور اس نے حکم دیا کہ اسے برتن میں ڈال دیا جائے، اور جب وہ اسے گھسیٹ کر لے گئے اور آگ کی گرمی محسوس کی تو وہ رو پڑا!! اور اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں!!
قیصر خوش ہوا اور اس سے کہا: تم عیسائیت اختیار کرو گے، اور میں تمہیں دے دوں گا اور تمہیں عطا کروں گا...
انہوں نے کہا کہ نہیں۔
اس نے کہا: تو کس چیز نے تم کو رویا؟
اس نے کہا: میں خدا کی قسم روتا ہوں کیونکہ میری ایک ہی جان ہے جس کو یہ سعادت ملتی ہے.. کاش میرے سر کے بالوں کی تعداد ہوتی تو تمام روحیں اس موت کی طرح خدا کی خاطر مر جاتیں۔
• "قیصر" نے اس سے مایوس ہونے کے بعد اس سے کہا: کیا تم میرا سر چوم کر مجھے جانے دو؟
عبداللہ نے کہا: اور تمام مسلمان قیدیوں کو چھوڑ دو۔
اس نے کہا: ہاں..
عبداللہ نے اس کا سر چوما اور پھر باقی قیدیوں کے ساتھ رہا ہو گیا۔
انہوں نے انہیں عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عبداللہ بن حذافہ کا سر چومنا ہر مسلمان کا حق ہے، میں شروع کروں گا، عمر کھڑے ہوئے۔ اور اس کے سر کو چوما.
▪️ خدا ان سے راضی ہو، ان کے دین پر ان کا صبر و استقامت کتنا عظیم ہے، اور خدا کی خاطر ان کی قربانی کتنی عظیم ہے...
▪️ یہ پیروی کرنے کے ہیرو ہیں۔
اپنے بچوں اور اپنے بچوں کو بتائیں، اپنے بچوں کے ذہنوں میں بسے ہوئے اصولوں اور اقدار کا سب سے خوبصورت...
حوالہ جات 📚:
- صحابہ کی تمیز میں چوٹ۔ ہمیں دعا کے احسان سے نہ بھولنا، اور خدا آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
21/04/2023
پیشانی کو جھوٹی و خطاء کار کیوں کہا گیا.
اللہ رب العزت نے سورہ علق میں ارشاد فرمایا
كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ
ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے. کیسی پیشانی جھوٹی پیشانی!
سوال بنتا ھے کہ
پیشانی کو جھوٹی اور خطاء کار کیوں کہا گیا ھے!
حالانکہ فیصلہ دل و دماغ سے کیا جاتا ھے.
جب سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو حیران ہو کر رہ گئے
کہ جو معمہ اس ترقی یافتہ دور میں حل ہوا
قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا!
دماغ کا اگلا حصہ جو پیشانی کی جانب واقع ہے وہاں سے فیصلے صادر ہوتے ہیں!
پیشانی کے اس حصے سے جذبات ظاہر ہوتے ہیں!
پیشانی کا یہی اگلا حصہ شخصیت کی صفات بناتا ھے!
محققین کہتے ہیں کہ پیشانی کا یہ حصہ کاٹ دیا جائے تو انسان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا
اور کچھ کرنے یا نہ کرنے کی صلاحیت کھو دے گا!
اس حصے کی ان خصوصیات کی بناء پر قرآن کریم میں فرمایا کہ اسی پیشانی کے بال کھینچے جائیں گے کیونکہ یہی ارادہ کرنے فیصلہ کرنے کی جگہ ہے!
محققین نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جانوروں میں دماغ کا یہ حصہ چھوٹا اور کمزور ہے
اسی لیئے جانور درست فیصلہ نہیں کر سکتے اور قیادت کے اھل نہیں ہیں!
اسی طرف قرآن کریم میں یوں اشارہ ہے
ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها
کوئی جاندار نہیں مگر اس کی پیشانی رب العزت کی قدرت میں نہ ہو!
اور حدیث پاک میں یوں دعاء ھے
ناصيتي بيدك
اے رب میری پیشانی تیرے قبضہ قدرت میں ہے!
یعنی اکمل و اتم طور پر میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں تیری مرضی کے آگے میری مرضی کچھ نہیں ہے!
اور یہی نماز میں سجدہ کرنے کی حکمت ہے کہ پیشانی کا وہ خود مختار حصہ زمین پر رکھ کر رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے ہونے کی نفی اپنی مرضی کی نفی کر دی جاتی ہے!
کہ یاربی تو نے جو میرے اندر مختار حصہ رکھا ہے جو حصہ فیصلہ کرتا ہے میں اسی حصے کو تیری چوکھٹ پر رکھ رہا ہوں!
تیری رضا پر میں راضی ہوں!
جب انسان سجدہ کرتا ہے تو دل سے خون دماغ میں جمع ہوتا ہے
وہ سارے جذبات جو دل میں ہوں وہ اس وقت اس حصے میں جمع ہوتے ہیں!
غصہ,نفرت,بغض,جرم و عصیاں یہ سب خیال کی صورت وہاں جمع ہوتے ہیں
مگر انسان جیسے ہی وہ خیالوں,گناہوں کی آماجگاہ کو زمین پر رکھ کر خود کو رب العالمین کے سپرد کرتا ھے تو رحمت کی تجلی پڑتی ہے!
حدیث پاک میں بندہ سجدے کی حالت میں سب سے زیادہ رب کی رحمت کے قریب ہوتا ھے
اور اسی وجہ سے بندے میں تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں
پرسکون ہوجاتا ھے
•••••••••••🌴 ﷽🌴•••••••••••
❤┄┅════❁ﷺ❁════┅┄❤
*فرشتےکن کیلئے رحمت کی دعاکرتےھیں؟*🤲🌹
1.باجماعت نمازکا انتظارکرنےوالوں کیلئے
(بخاری647)👳🌸🍃🌾
2.اگلی صفوں میں نمازاداکرنے والوں کیلئے❤🌻🍃🌴
(ابوداؤد664)
3.صف کی دائیں جانب کھڑےھونےوالوں کیلئے
(ابوداؤد767)👍❤🌹
4.صفوں میں مل کرکھڑے ھونے والوں کیلئے
(ابن ماجہ995)👬☘☘
5.نمازسےفارغ ھوکرجاۓنماز پربیٹھنے والوں کیلئے (حتی کہ وہ اٹھ جائیں یا بے وضو ھوجائیں)🤲🤲🌸❤
(ابوداؤد471)
6.لوگوں کوخیروبھلائی کی تعلیم دینےوالوں کیلئے
(ترمذی2687)📚🌺🍃
7.مریضوں کی عیادت کرنےوالوں کیلئے.🤕🤲🌹
(صحیح ترمذی775)
8.روزےکیلئے سحری کھانے والوں کیلئے🍛🍲🤲
(صحیح الجامع الصغیر1844)
9.نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والوں کیلئے
(ابن ماجہ907)❤🌹🍃
اللہ رب العزت ھمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کیلئےفرشتےرحمت کی دعائیں کریں🌸🍃🌾❤
آمین يا رب العالمين
💫💫💫💫
*اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیے علم دین حاصل کریں اور دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل کریں۔جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا*
❤🕋🤲🤲🤲🕋❤
💥 ؟
📚
🌺فرض نمازوں کے علاوہ سنتیں اور نوافل ادا کرنا اسلام کی خوبصورتی، ذوقِ عبادت کی علامت، عابدین کی پہچان اور مسلمانوں کا معمول ہے۔ لیکن بعض لوگ جدت پسند و روشن خیال مولویت سے متاثر ہو کر نوافل و سُنَن خصوصاً تراویح سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً عبادت کی لذت سے ناآشنا، نماز کے ذوق سے دور اور مناجاتِ الٰہی کی مٹھاس سے محروم ہوتے ہیں۔ سنّت، نفل اور تراویح کی ادائیگی بھی کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت ہے، جس کی اہمیت کم کر کے اس سے دور کرنے کی کوشش کرنا ایک مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔ معترضین یہ سوال کرتے ہیں کہ ان غیر ضروری عبادات پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے؟ الزامی جواب تو یہ ہے کہ آپ لوگ عبادت سے روکنے کی اتنی کوشش کیوں کرتے ہیں؟
💥 #تفصیلی جواب یہ ہے کہ غور کریں کہ جتنی نفل نمازیں ہیں سنتیں یا تراویح، یہ اچھے اعمال ہیں یا معاذَاللّٰه برے؟ اگر اچھے ہیں اور یقیناً بہت اچھے ہیں، تو اچھے اعمال کی تاکید کرنا اچھا ہے یا برا؟ ضرور اچھا ہے اور اس کے مقابل جو اس سے روکے، وہ برا ہے کیونکہ وہ خدا کی عبادت سے روک رہا ہے۔ ایسے شخص کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ جو لوگ غفلت میں غرق اور عبادت سے دور ہیں اُنہیں عبادت کی دعوت دے، الٹا شیطان اُسے یہ پٹی پڑھا دیتا ہے کہ جو عبادت کر رہے ہیں اُنہیں بھی گھیرنا شروع کر دو اور میرا نائب بن کر انہیں وسوسے ڈالو کہ بھائی کیا اتنی لمبی نمازِ تراویح پڑھتے ہو، اس کی کوئی اتنی تاکید نہیں ہے۔
💗سچے مسلمان کو عبادت خصوصاً تراویح کس تناظر میں دیکھنی چاہیے، اس کیلئے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں کہ رمضان المبارک کا مہینا شروع ہونے سے پہلے نبی پاک صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام سے فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس عظمت و برکت والا مہینا آنے والا ہے، جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اِس کے روزے اللّٰه تعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (تراویح پڑھنا) تطوع (یعنی نفل) ہے۔
📚(شعب الایمان، ج 3، ص305، حدیث: 3608 ملتقطاً)
💥سوچیں کہ اس فرمان کا کیا مقصد تھا؟ تراویح پڑھو یا نہ پڑھو؟ اس کا یقیناً یہی مطلب تھا کہ پڑھو۔ پھر یہ بات یقینی ہے کہ حضور سیّد العابدین صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود بھی اپنے فرمان کے مطابق تراویح ادا فرمائی، جیسا کہ حدیثِ مبارک ہے کہ نبی کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر اگلی رات بھی آپ نے نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہو گئے، اس کے بعد تیسری یا چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی طرف نہیں نکلے۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: بیشک میں نے دیکھ لیا ہے جو تم نے کیا تھا، اور تمہاری طرف نکل کر آنے کے لئے مجھے صرف اس خوف نے روکا تھا کہ یہ نماز تم پر فرض کر دی جائے گی اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔
📚(بخاری، ج 1، ص 384، حدیث:1129)
💥تیسرے یا چوتھے دن تشریف نہ لانے کے باوجود نبی پاک علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام اور صحابۂ کرام کے دلوں میں باجماعت تراویح کی رغبت موجود تھی، لیکن باجماعت نماز کا اہتمام اس لئے نہ کیا گیا کہ کہیں فرض نہ ہو جائے۔ سرکارِ دو عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وصالِ مبارک کے بعد سیدنا عمر فاروق اور صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنھم کو چونکہ علم تھا کہ سرکار صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دلی خواہش یہ تھی کہ تراویح باجماعت پڑھی جائے، لہٰذا جب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہ کا زمانہ آیا تو اگرچہ لوگ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰه عنہ کے دور خلافت میں بھی ہمیشہ سے تراویح پڑھنے کے عادی تھے، لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں باجماعت تراویح کا اہتمام کر دیا۔
📚(بخاری، ج 1، ص 658، حدیث:2010ماخوذاً)
اور سب صحابہ نے اسے پسند کیا۔
💞تراویح پڑھنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا معمول ہے، چنانچہ خلفائے راشدین، تابعین و تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور محدثین رضوان اللّٰه علیھم اجمعین سب نے تراویح پڑھی بلکہ خود ائمہ دین کا عمل یہ تھا کہ اپنے مقلدین کو تو روزانہ بیس تراویح پڑھ کر تیس دن میں ایک قرآنِ مجید ختم کرنے کا فرماتے تھے لیکن اُن میں سے بعض خود روزانہ کی بیس تراویح میں پورا قرآن ختم کیا کرتے تھے۔
💥یاد رکھیں کہ اسلام کا مزاج اور ذوق وہی ہے جو نبی پاک علیہ الصلٰوۃ والسلام، خلفائے راشدین، صحابۂ کرام، ائمہِ دین، ائمہِ اربعہ، امت کے صُلَحا، صوفیا، عُلَما، فُقَہا اور محدّثین کا ذوق تھا۔ اب اِس سوال کا جواب خود تلاش کر لیں کہ دین کا اصل ذوق، دین کی اصل تصویر اور دین کی صحیح تعبیر وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی یا ان لوگوں کی تشریح درست ہے جو یہ کہتے پھریں کہ بھئی! مجھے احادیث میں تراویح کا لفظ دکھاؤ۔ جو بندہ یہ کہتا ہے کہ ”مجھے تراویح کا لفظ دکھاؤ“ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ تراویح پڑھو یا یہ کہ نہ پڑھو؟ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے حقیقت میں وہ نہ پڑھنے ہی پر اُکسا رہا ہے۔
💞اللّٰه تعالیٰ کا مسلمانوں پر کرم ہے کہ مسجدوں میں دیکھیں تو بچے تک ماشآءاللّٰه بڑے ذوق شوق سے تراویح میں کھڑے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف عورتیں گھریلو کام کاج اور سحری و طَعام کے اہتمام کے باوجود جیسے بَن پڑے خداوندِ قدّوس کی محبت اور رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اتباع میں تراویح پڑھتی ہیں۔ 🌋لیکن افسوس کہ تراویح کے منکرین (انکار کرنے والوں) میں سے کوئی کہہ رہا ہے کہ تراویح کہاں سے ثابت ہے؟ کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ تو نماز ہی نہیں تھی۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پتا نہیں کیوں مولوی لوگ نفلوں پر اتنا زور دیتے ہیں۔ ارے بھائی! ساری امت تراویح پڑھتی آئی ہے۔ تم بتاؤ کہ ہم اُس طریقے پر چلیں جو صحابہ، تابعین، تبع تابعین، علمائے دین، محدّثین، مفکّرین، فقہائے مُجتہدین اور مجددین سب کا طریقہ ہے، یا تمہاری مانیں جو کہتے ہو کہ جو مجھے سمجھ آیا وہ ٹھیک ہے اور چودہ صدیوں میں جو پوری امّت دین سمجھی ہے وہ غلط ہے، لہٰذا میں تمہیں چھٹی دیتا ہوں، کوئی تراویح پڑھنے کی ضرورت نہیں، کوئی نفل پڑھنے کی حاجت نہیں؟ کیا کسی امتی کی جرأت ہو سکتی ہے کہ جو کام اُس کے نبی نے کیا ہو اور جس کی ترغیب دی ہو وہ اُس کام کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرے؟
*آسیہ عمران*
(رمضان شکر گزاری،قدردانی کا مہینہ ہے)
*شکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ طواف کعبہ کے دوران ایک بدو(دیہاتی) کو رب کعبہ سے ایک عجیب دعا کر تے دیکھ کر متعجب ہوتے ہیں۔
بدو باآواز بلند التجا کر رہا ہے۔ *رب کعبہ مجھے اپنے قلیل بندوں میں شامل فرما۔*
حضرت عمر رضی اللہ عنہ طواف کے بعد اس بدو سے ملتے ،اپنے ساتھ بٹھاتے ، بصد احترام پوچھتے ہیں کہ وہ قلیل لوگ کون ہیں جن میں آپ شامل ہو نا چاہتے ہیں ؟
بدو جواباقرآن کریم کی آیت تلاوت کرتا ہے۔
*وقليل من عبادي الشكور*
میرے بندوں میں سے کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔
*شکر گزاری* سے متعلق استاد محترم نے تفسیر کلاس میں منفرد بات بتائی ۔انھوں نے *شکر* کا مطلب *قدردانی* بتاتے ہوئے کہا ۔
دراصل اللہ خود *قدردان* ہے اس نے ہر مخلوق کی قدر دانی کی ہے اسے اس کا متعین مقام دیا ہے۔
اس طرح اللہ چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق بھی اس کی *قدر دانی* کرے ۔اللہ کو اللہ کی مخلوقات کو ان کے متعین مقام پر رکھے۔
سوال تھا
انسان کے *شکر یعنی قدردانی* کرنے کی صورت کیا ہوگی ؟
کہنے لگے
سادہ سی بات ہے ۔
اللہ نے آپ کو آپ کا مقام دیا عزت دی ۔
*قدردانی* یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ان کا مقام اور عزت دیں۔
اللہ نے مال سے آپ کی محتاجی دور کی
*قدردانی* یہ ہے کہ آپ دوسروں کی محتاجی دور کرنے میں لگ جائیں ۔
اللہ نے آپ کو علم دے کر ذہن کی گرہیں کھولیں ۔
*قدردانی* یہ ہے کہ آپ اس علم سےدوسروں کی الجھنیں دور کرنے لگ جائیں ۔
اللہ نے صحت دی ۔
*قدردانی* یہ ہے کہ اس صحت سے دوسروں کی صحت کے تحفظ کے لئے کام کیا جائے اس صحت سے مخلوق کی خیر کا کام کیا جائے۔
لیکن یاد رہے
مومن یہ سب کرتے لوگوں کو اپنے نہیں اللہ کے قرب کے راستے پر لگاتا ہے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ضرور ہوتے ہیں اس سے محبت بھی کرنے لگتے ہیں مگر وہ کہہ دیتا ہے اس میں اس کا کوئی کمال نہیں وہ رب کریم کی طرف جانے کا راستہ سیدھا کر رہا ہے۔اسی رب کی تفویض کردہ ذمہ داری پوری کر رہا ہے ۔
دوسرا سوال تھا ۔
*اللہ سے ہمارا کیا تعلق تھا کہ اس نے شکر کا حکم دیا ؟*
سوال پر خوش ہوئے کہنے لگے ۔
جب اللہ نے ہمیں پیدا کر کے ہماری قدردانی کی ، تب ہم نے اللہ کے قریب ہونے کی خواہش کی ۔
اھدنا الصراط المستقیم
ہم نے اللہ سے کہا ہمیں سادہ اور سیدھا راستہ بتا جو ڈائریکٹ آپ تک جاتا ہو۔
تب اللہ نے *شکر گزاری* کا راستہ بتایا ۔
شیطان نے اللہ کو چیلنج کیا اور انسان کے سیدھے راستے کی راہ پر رکاوٹ ڈال کر بیٹھ گیا۔
اس سے انسان کا بلند مقام ، عزت افزائی، قدردانی، برداشت نہ ہوئی ۔اس کا کہنا تھا انسان اس مقام کے قابل نہیں ہے وہ ناشکرا ہے۔
شیطان نے انسان کی ناشکری ثابت کر نے کو مہلت مانگی کہ میں اس کا ناشکرا پن۔ثابت کروں گا۔
*شکر* کی ضد *کفر* ہے۔
ایک طرف انسان جسے اپنی *شکر گزار ی* ثابت کرنی ہے ۔
دوسری طرف شیطان کہ جسے انسان کو ہر صورت ناشکرا ثابت کرنا ہے۔
گویا *شکر* اور *کفر* کی جنگ ہے۔
جب کوئی شخص مال و دولت ،صحت ، سکون یا کسی بھی معاملے میں شکر گزار ہوتا ہے تو اللہ کا وعدہ ہے ۔وہ ان چیزوں کو بڑھا دے گا۔
یہ بڑھوتری کا معاملہ سمجھنا مشکل تھا ۔
*میرا سوال تھا اگر اللہ نے ہمیں دولت دی ہم وہ سب اللہ کے بندوں میں بانٹ دیں تو کیا نتیجہ میں ڈبل دولت مل جائے گی ؟*
وہ مسکرائے۔
بیٹے یہاں معاملہ تھوڑا مختلف ہے ۔ یہاں وسیلے کی نہیں اصل کی بات ہوتی ہے۔
دولت سے انسان کو دو چیزیں ملتی ہیں ۔
*۔محتاجی* ختم ہوتی ہے
*۔عزت* ملتی ہے
دولت ان دو چیزوں کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ جب آپ خرچ کرتے ہیں نتیجہ میں آپ کی محتاجی کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے ۔آپ کا مقام اور عزت بڑھ جاتی ہے۔
یعنی آپ کو *اصل* حاصل مل جاتا ہے ۔
اس بات سے بھی انکار نہیں کہ دولت کی کشادگی بھی ہوتی ہے ۔برکت بھی بڑھتی ہے ۔ اطمینان بھی ملتا ہے۔
شکر گزار ی کا رویہ اتنا پیارا رویہ ہے کہ اس سے دولت کے حصول کی تڑپ نہ صرف ختم ہوتی ہے۔بلکہ آپ محدود پیمانے سے نکل کر وسیع پیمانے پر سوچنے لگتے ہیں۔ یہ طرز فکر آپ کو فقیر ی میں بھی بادشاہ بنا دیتا ہے ۔
اللہ کا قرب ایسا بلند مقام ہے کہ جس کے راستے کی لذت ہر تشنگی ختم کر دیتی ہے۔ آپ کے پاس مال و دولت کے انبار نہیں ہوتے مگر لوگ آپ سے ملنا ،آپ کا قرب چاہتے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔
رب کریم نے اس صفت کو اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے جوڑا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلامی اور دیگر نعمتیں یاد دلاتے فرماتے ہیں
" *شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ۔“*
حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :
" *نوح علیہ السلام میرا شکر گزار بندہ تھا۔“*
شکر گزاری نہ صرف انبیا کا شیوہ بلکہ مومن سے مستقل مطلوب رویہ ہے ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
*بل الله فاعبدو كن من الشاكرين*
تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔“
اللہ رب العزت کی اپنی صفت بھی الشکور “ ہے ، جس کا مطلب ہے تھوڑے عمل پر زیادہ عطا کر نے والا۔ اللہ رب العزت کی اس صفت کو حدیث مبارکہ سے سمجھا جاسکتا ہے
ایک شخص نے راستے سے کانٹے کو ہٹایا۔ راستہ صاف کیا تو اللہ نے اتنی قدر کی کہ اتنے چھوٹے سے عمل کے بدلہ اسے بخش دیا۔ اس طرح ایک شخص نے پیاسی بلی کو پانی پلایا۔ اللہ
رب العزت نے اسے بھی بخش دیا۔
شکر گزاروں سے رب کریم کا وعدہ ہے نعمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔
*لئن شكرتم لأزيدنكم ولئن كفرتم إن عذابي لشديد*
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے نعمتوں کے بارے میں فرمایا۔ اللہ کی نعمتیں ایک جگہ نہیں رکتیں۔ ان نعمتوں کو شکر گزاری سے اپنا قیدی بنالو۔ یعنی شکر گزاری کے سبب نعمتیں اپنے پاس مستقل رکھی جاسکتی ہیں۔
دوسرے معنوں میں آپ کا ان نعمتوں سے غلامی کا تعلق نہیں رہتا ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi Lines
24700