07/05/2023
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورہِ زلزال، نصف قرآن، سورہِ اخلاص تہائی قرآن اور سورہِ کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘
اِس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
07/05/2023
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص ہر رات تہائی قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) تہائی قرآن مجید کیسے پڑھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورہ قُل هُوَ اﷲ اَحَد تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔‘‘
اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، دارمی، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔
’’ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعاليٰ نے قرآن مجید کے تین حصے کیے اور سورہِ قُل هُوَ اﷲ اَحَد اُن میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘
25/04/2023
اللہ سبحانہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں فرمائی جو اس قرآن کی مانند ہو۔ کیونکہ یہ اللہ کی مضبوط رسی اورمطمئن وسیلہ ہے اور اس میں دلوں کی بہار اور علوم کے چشمے ہیں اور صرف اس سے قلب کی جلا ہوتی ہے۔
25/04/2023
قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے اور اس میں غور و فکر کرو یہ دلوں کی بہار ہے اور اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ وہ سینوں میں چھپی ہوئی بیماریوں کے لیے شفا ہے اور اس کی بہتر تلاوت کرو۔ اس کے واقعات سب واقعات سے زیادہ فائدہ مند ہیں۔”) حوالہ سابق خطبہ۱۰۸ ص ۳۸۹۔(
شفاعت
25/04/2023
یہ قرآن تمہارے درمیان حق کا پاسدار ہے۔ اللہ کا وہ عہد ہے جو تمہارے لیے پیش کیا گیاہے۔ وہ جانشین ہے جو تمہارے لیے پیچھے چھوڑا گیا ہے۔ اللہ کی ناطق کتاب اور سچا قرآن ہے۔ چمکتا نور ، روشن چراغ ہے۔ اس کی بصیرتیں واضح، اس کے اسرار قابل انکشاف، اس کے ظواہر واضح، اس کے پیروکار قابل رشک ہیں۔ اس کی اتباع کرنے والوں کو رضائے حق کی طرف رہنمائی کرنے والا، اس کے سننے والوں کو نجات تک پہنچانے والا، اس سے اللہ کے نورانی دلائل اور اس کے واجب العمل احکام، قابل اجتناب محرمات، واضح دلائل، مکمل براہین، مطلوبہ فضائل، قابل اجازت اعمال اور واجب العمل شریعت تک رسائی ممکن ہے۔”
20/04/2023
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن پڑھا کرتے تھے، اور وہ بہت خوبصورت آواز والے تھے۔ پس وہ (اسید) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو بادلوں کی طرح کوئی چیز مجھے گھیر لیتی ہے، اور میرے گھر میں میری بیوی ہے اور ایک گھوڑا ہے۔ پس میں ڈر جاتا ہوں کہ میری بیوی (خوف سے) گر نہ پڑے اور گھوڑا (ڈر کر) بھاگ نہ جائے، لہذا میں جلدی سے (تلاوت سے) ہٹ جاتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے اسید! تم اسے پڑھتے رہا کرو، بیشک یہ ایک فرشتہ ہے جو قرآن کو (بہت شوق سے)سنتا ہے۔
19/04/2023
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعداد کے برابر ہیں۔ پس جب اہل قرآن میں سے کوئی جنت میں داخل ہوگا تو اس کے اوپر کسی اور کا درجہ نہیں ہوگا۔“
19/04/2023
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ قرآن شفاعت کرنے والا ہے، اور اس کی شفاعت مقبول ہے۔ جو اس کی اتباع کرتا ہے یہ اسے سیدھا جنت میں لے جاتا ہے اور جو اس کو چھوڑ دیتا ہے یا اس سے نظریں پھیر لیتا ہے تو یہ اسے اپنی ہتھیلیوں پر اٹھا کر (دوزخ کی) آگ میں پھینک دیتا ہے۔“
19/04/2023
حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ہیں جنہیں (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ بھی خوف زدہ نہ کر سکے گی اور نہ انہیں حساب دینے میں دشواری ہوگی، وہ مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ہونے تک مُشک کے ٹیلوں پر آرام کرتے رہیں گے: پہلا وہ شخص ہے جس نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے قرآن پڑھا اور کسی قوم کی امامت کی جبکہ مقتدی لوگ اس سے خوش ہوں۔ دوسرا وہ آدمی جو صرف رضائے الٰہی کی خاطر لوگوں کو پانچ وقت کی نمازوں کی دعوت دیتا ہو اور تیسرا وہ غلام ہے جو اپنے پروردگار کے معاملات بھی درست رکھے (عبادت کرتا رہے) اور اپنے آقا کے کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دے۔“
18/04/2023
حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: گھروں میں سب سے حقیر گھر وہ ہے جس میں اﷲ کی کتاب (قرآن پاک) میں سے کچھ بھی نہیں پڑھا جاتا، سو تم قرآن پاک پڑھا کرو۔ بیشک تمہیں اس کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیوں کا اجر دیا جاتا ہے جبکہ میں یہ نہیں کہتا: الم ایک حرف ہے، بلکہ ”الف“ ایک حرف ہے، ”لام“ ایک حرف ہے اور ”میم“ ایک حرف ہے (یعنی صرف الم پڑھنے سے تیس نیکیوں کا ثواب مل جاتا ہے)۔“
18/04/2023
حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ہیں جنہیں (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ بھی خوف زدہ نہ کر سکے گی اور نہ انہیں حساب دینے میں دشواری ہوگی، وہ مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ہونے تک مُشک کے ٹیلوں پر آرام کرتے رہیں گے: پہلا وہ شخص ہے جس نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے قرآن پڑھا اور کسی قوم کی امامت کی جبکہ مقتدی لوگ اس سے خوش ہوں۔ دوسرا وہ آدمی جو صرف رضائے الٰہی کی خاطر لوگوں کو پانچ وقت کی نمازوں کی دعوت دیتا ہو اور تیسرا وہ غلام ہے جو اپنے پروردگار کے معاملات بھی درست رکھے (عبادت کرتا رہے)اور اپنے آقا کے کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دے ۔