مدرسہ مظاہر القرآن، کانگڑہ، شبقدر

مدرسہ مظاہر القرآن، کانگڑہ، شبقدر اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں

ان شاءاللہ تعالی
23/12/2025

ان شاءاللہ تعالی

25/11/2025

`اس عدالت سے ڈرنا چاہیے جس میں وکیل، گواہ اور جج اللّٰہ ہی ہوگا اور پھر ایک اعلان ہوگا۔`

*وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ*

"اے مجرمو۔۔ ! آج الگ ہو جاؤ

مخلص کی نشانی،،
16/07/2025

مخلص کی نشانی،،

10/05/2025

‏"تمسَّكوا بالقرآن ..
فإنكم لن تضِلوا ولن تَهلِكوا بعدهُ أبداً."

09/05/2025

مدارس کی فضا میں روزانہ کی بنیاد پر گونجنے والی ایک صدا ہے:
"حفظ و ناظرہ کے ماہر قاری کی ضرورت ہے!"
یہ صدا اب اتنی معمولی ہو چکی ہے کہ شاید کسی کے دل پر اثر بھی نہیں ڈالتی۔ مگر ذرا توقف کر کے سوچئے… آخر کیوں؟ ہر چند مہینے بعد قاری کیوں بدلنا پڑتا ہے؟ ہر ادارہ قاری کی تلاش میں کیوں سرگرداں ہے؟

اس کا سیدھا سا جواب ہے:
ہم نے قاری کو وہ مقام، وہ سہولت، وہ تحفظ نہیں دیا جس کا وہ حقدار ہے۔

قاری کوئی مزدور نہیں کہ وقت پورا کرے، اور کام ختم ہوتے ہی اسے بدل دیا جائے۔ قاری وہ ہے جس کے ہاتھوں پر بچے قرآن یاد کرتے ہیں۔ جس کی آواز میں صبح شام رب کا کلام گونجتا ہے۔ جو نسلوں کے سینوں کو نورِ قرآن سے روشن کرتا ہے۔ وہ صرف قرآن سکھاتا نہیں، دلوں کو سلیقہ دیتا ہے، زبانوں کو ادب دیتا ہے، کردار کو راستہ دیتا ہے۔

لیکن حالات دیکھئے!
قاری سے کہا جاتا ہے کہ چوبیس گھنٹے مدرسے میں رہے، رات کو طلبہ پر نظر رکھے، صبح فجر سے پہلے اٹھے، ناشتہ بھی بعد میں کرے، دن بھر کلاس لے، شام کو سبق سنے، اور رات کو نگرانی بھی کرے۔

مگر بدلے میں؟
ایک تنگ کمرہ، بنیادی سہولتوں سے خالی، اور تنخواہ ایسی کہ اگر وہ بیمار پڑ جائے تو دوا کے لیے بھی قرض لینا پڑے۔

کیا یہ انصاف ہے؟
کیا ہم نے اس عظیم منصب کا یہ صلہ سوچا تھا؟

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ قاری حضرات کی اکثریت آج مالی، ذہنی اور جذباتی دباؤ کا شکار ہے۔

وہ تعلیم دے رہا ہے مگر اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہے۔

وہ دین سکھا رہا ہے مگر اپنے گھر کا کرایہ تک وقت پر نہیں دے سکتا۔

وہ قرآن پڑھا رہا ہے مگر خود ادھار پر سبزی لے رہا ہے۔

ایسے میں جب اس کے پاس کوئی دوسرا موقع آتا ہے، یا کوئی اور مدرسہ تھوڑی بہتر سہولت دیتا ہے، وہ وہاں چلا جاتا ہے۔ پھر مدرسہ دوبارہ اشتہار لگاتا ہے: "قاری صاحب مطلوب ہیں"۔

کوئی پوچھے!
اس کی غربت، اس کی محرومی، اس کے حالات کا ذمہ دار کون ہے؟
صرف قاری خود؟ یا ہم سب؟

اصل ضرورت اب اس سوچ کو بدلنے کی ہے۔

قاری کو محض "استعمال" نہ کریں، اسے "آباد" کریں۔

اسے صرف رہائش نہ دیں، اس کی رہائش میں عزت و سکون ہو۔

تنخواہ ایسی ہو کہ وہ اپنی زندگی عزت سے گزار سکے۔

بونس، انعامات، حوصلہ افزائی، ترقی — یہ سب صرف اداروں کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ قاری کی دلجمعی کے لیے بھی ضروری ہیں۔

اگر ایک قاری سے بھرپور نتائج چاہیے، تو دو قاری رکھو، کام تقسیم کرو، بوجھ کم کرو، محنت کا حق ادا کرو۔

یاد رکھیں، قاری صاحب اگر راضی، مطمئن، اور دل سے جُڑا ہو گا، تو طلبہ کے سینے روشن ہوں گے، ادارے کی فضا روحانی ہو گی، اور قرآن کا فیض جاری رہے گا۔

ورنہ ہر سال، ہر چھ مہینے بعد نیا قاری، نیا سبق، نیا چہرہ، نیا نقصان۔
اور یوں علم کا یہ قافلہ کبھی منزل تک نہ پہنچ پائے گا۔

اب وقت ہے کہ ہم مدارس کی دیواروں سے آگے دیکھیں۔
صرف عمارت نہ بنائیں، ماحول بنائیں۔
صرف قاری نہ رکھیں، اس کو سنواریں، اس کو سنبھالیں۔

تب ہی وہ دن آئے گا جب قرآن کے یہ گمنام خادمین گمنامی سے نکل کر عزت، اطمینان، اور قیادت کے مقام پر فائز ہوں گے — جیسا کہ ان کا حق ہے۔
منقول

16/04/2025

*والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری*

والدین کا بنیادی فرض صرف اپنی اولاد کو تعلیم دینا نہیں بلکہ انہیں ایک اچھا انسان بنانا بھی ہے۔ معاشرے میں ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ والدین اپنی پوری توانائی بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، یا بڑا آفیسر بنانے میں لگا دیتے ہیں، لیکن ان کی اخلاقی تربیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، آج ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ مگر اخلاقی اقدار سے عاری افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، لیکن اگر یہ شعور اخلاقی بنیادوں پر استوار نہ ہو تو معاشرہ توازن کھو دیتا ہے۔ محض کتابی علم اور ڈگریاں حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ بچوں میں محبت، احترام، ایثار، ہمدردی اور وفاداری جیسے اوصاف پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جب ایک بچہ بچپن میں اپنے والدین سے محبت، رواداری اور دوسروں کا خیال رکھنے کا درس حاصل کرتا ہے، تو وہ بڑا ہو کر ایک ذمہ دار اور بااخلاق شہری بنتا ہے۔
والدین کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ان کا بچہ کسی بڑی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسا انسان بنے جو دوسروں کے لئے باعثِ راحت ہو۔ اگر ایک فرد اپنے علم اور مہارت کو دوسروں کی خدمت اور معاشرتی بھلائی کے لئے استعمال کرے، تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔ لہٰذا، ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی و دینی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دیں تاکہ وہ نہ صرف ایک کامیاب بلکہ ایک اچھے انسان کے طور پر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں
منقول

15/04/2025

*نئے بچے جو داخل ہوئے ہیں اور نورانی قاعدے سے شروع کیا ہے ان کو کیس چلائیں؟*

1) ان کا سبق دو ٹائم کریں ۔
یعنی دن میں دو دفعہ سبق سنائیں ۔
صبح بھی اور دوپہر بھی ۔
2) ان کے سبق لکھنے کی ترتیب بنائیں کہ روز کا سبق ان کو لکھ کر دیں اور پھر یہ اس کو دیکھتے ہوئے لکھتے جائیں ۔
اس سے سبق بھی پکا ہوگا ۔ لکھنا بھی سیکھیں گے ۔
اور مصروف بھی رہیں گے ۔
3) ایک وائٹ بورڈ پر حروف تہجی اور جہاں تک سبق ہوتا جائے اسے روز لکھیں اور پھر باری باری بچے اسے سب کو پڑھائیں اور یہ بورڈ کلاس کے ایک کونے میں نیچے ہونا چاہیے ۔
4) بچوں کو سبق کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی مسنون دعائیں آہستہ آہستہ یاد کروائیں ۔
5) نورانی قاعدے اور ناظرہ کے بچوں کے لئے تین گھنٹے کافی ہوتے ہیں ۔
اضافی وقت ہو تو ان کو اردو ، ریاضی وغیرہ سکھائیں ۔
یعنی بنیادی چیزیں سکھائیں ۔
6) بچوں کو دو گھنٹے بعد وقفہ دیں ، جس میں وہ باتیں کریں یا وضو وغیرہ
تو اس سے بھی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے اور دوبارہ پڑھنے کے لئے ترو تازہ ہوجاتے ہیں
قاری محمد عطاء الرحمن صاحب

14/04/2025

سال کی ابتدا ہے ۔
والدین آرہے ہوں گے ۔
تو یہ باتیں سامنے ضرور کریں ۔ اصول و ضوابط سے آگاہ کریں ۔
کمنٹ کھولیں

11/04/2025

مدارس میں نئے تعلیمی سال کے داخلوں کا آغاز ہورہا ہے، اپنے گھر، خاندان اور علاقے کے نوجوانوں کو علمِ دین سیکھنے کے لیے مدارس میں داخلہ لینے کی ترغیب دیجیے، یہ ان کے ساتھ بھی بھلائی ہے اور ان کے خاندان اور معاشرے کے ساتھ بھی بھلائی ہے اور یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہے!
منقول۔
مدرسہ مظاہر القرآن،
کانگڑہ تحصیل شبقدر ضلع چارسدہ
میں داخلوں کا آغاز
12 اپریل 2025 ہفتہ کے دن سے شروع ہوں گے ان شاءاللہ تعالیٰ
شعبہ جات:
1)قاعدہ تجوید کے ساتھ،
2)ناظرہ تجوید کے ساتھ،
3)حفظ القرآن تجوید کے ساتھ،
4)ترجمہ قرآن، تفسیر کے ساتھ،
اور اس کے علاوہ
5)پرائمری سکول
اور
6)کمپیوٹر بھی سکھائی جاتی ہے،

رابطہ نمبر: 03113838768

نوٹ:1) محدود داخلے ہوں گے خواہشمند حضرات بروقت رابطہ کریں
2) طالب علم کا ب فارم یا والد کا شناختی کارڈ فوٹو سٹیٹ لازمی ہے،
3)موسم کے مطابق بستر لانا لازمی ہے۔

22/03/2025

🌷 مسافر طلباء اور عید 🌷
دینی مدارس میں کچھ ایسے طلباء اور اساتذہ کرام بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی مجبوری کی وجہ سے عید کے دنوں میں اپنے گھروں کو نہیں جاتے ۔
اور ان کے یہ دن مدرسہ میں ہی گزرتے ہیں ۔
ایسے موقعہ پر مدرسہ کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان طلباء اور اساتذہ کا ضرور خیال کریں ۔
وسعت کے مطابق عید کے دن ان کا اکرام کریں ، ان کی دعوت کریں ۔
ان کو عیدی دیں ، ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ حال احوال گپ شپ کریں ،
انہیں اس بات کا احساس نہ ہونے دیں کہ وہ گھروں سے دور ہیں تو کوئ ان کا پرسان حال نہیں اور نہ کوئ ان کی عید میں ان کے ساتھ خوشی منا رہا ہے ۔
اور اگر ممکن ہو تو کسی مقام پر تفریح کے لئے لیکر جائیں ۔
غرض یہ کہ ایک خوشی والا ماحول دینے کی کوشش کریں تاکہ وہ ان بھی خوشیوں کے ان لمحات کو اچھے سے گزار سکیں ۔
ابو خداش ۔

Address

Qasam Abad Road
Kangra
24630

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مدرسہ مظاہر القرآن، کانگڑہ، شبقدر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category