Al Haram Academy

Directions Website

Al Haram Academy ✨📖An experienced Quranic teacher and Mentor, organized, supportive (beginners to experts). who are university certified.

These lessons are for people of all ages (children and women). To transfer and make them practicing Muslims.

20/07/2026

"باجی! آن لائن پڑھ کر بچے کو کیا سمجھ آئے گی؟"
​یہ وہ سوال ہے جو اکثر والدین کے ذہنوں میں ہوتا ہے جب وہ پہلی بار مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ جب تک ٹیچر بچے کے سامنے ہاتھ میں ڈنڈا یا کتاب لے کر نہ بیٹھے، تب تک بچہ پڑھ ہی نہیں سکتا۔
​بطور آن لائن ٹیچر، جب میں بچوں کو پڑھاتی ہوں تو والدین کو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جو بچہ گھر میں سامنے بٹھا کر پڑھنے سے بھاگتا تھا، وہ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے ہنسی خوشی بیٹھ کر پڑھ رہا ہوتا ہے۔
​آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
​1️⃣ ڈیجیٹل دور کے بچے (Digital Generation):
آج کل کے بچے اسکرین سے محبت کرتے ہیں۔ انہیں موبائل یا لیپ ٹاپ پر کوئی بھی کام بوجھ نہیں لگتا۔ جب ہم اسی اسکرین کو دین سیکھنے کا ذریعہ بنا دیتے ہیں، تو ان کے لیے یہ ایک دلچسپ کھیل یا ایکٹیویٹی بن جاتا ہے۔
​2️⃣ دوستانہ ماحول اور یکسوئی (Focus):
مدرسے یا اکیڈمی میں اکثر بہت سے بچے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شرارتی بچوں کا دباؤ رہتا ہے یا بچہ جھجھک محسوس کرتا ہے۔ آن لائن کلاس میں ٹیچر کی پوری توجہ (One-on-One) صرف اور صرف آپ کے بچے پر ہوتی ہے۔ وہ بغیر کسی ڈر کے سوال پوچھ سکتا ہے۔
​3️⃣ جدید طریقے اور کہانیاں:
ہم صرف روایتی انداز میں سبق نہیں پڑھاتے، بلکہ اسکرین پر پیارے رنگوں، قاعدے کے الفاظ اور دلچسپ کہانیوں کے ذریعے بچوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس سے سبق ان کے دماغ میں پکا بیٹھ جاتا ہے۔
​4️⃣ وقت اور سفر کی بچت:
والدین کو بچوں کو لانے اور لے جانے کی فکر نہیں ہوتی۔ بچہ اپنے گھر کے محفوظ ماحول میں، اپنی ممی کے سامنے بیٹھ کر آرام سے پڑھتا ہے۔
​🌸 میرا ماننا ہے کہ:
دور بدل چکا ہے، تو کیوں نہ ہم اپنے بچوں کو دین سکھانے کے طریقے کو بھی جدید اور ان کے لیے آسان بنا دیں؟ اگر نیت صاف ہو اور پڑھانے والا مخلص ہو، تو فاصلے کبھی بھی علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
​اگر آپ بھی اپنے بچوں کو گھر بیٹھے، پرسکون اور دوستانہ ماحول میں تجوید کے ساتھ قرآنِ پاک یا بنیادی اسلامی تعلیمات
سکھانا چاہتے ہیں، تو آپ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
​افراح وقاص

"آج بہت گرمی ہے..." 😓بقلم : افراح وقاص شاید آج ہم سب نے یہ جملہ کئی بار کہا ہوگا۔لیکن آج جب یہی الفاظ میرے منہ سے نکلے ت...
05/07/2026

"آج بہت گرمی ہے..." 😓
بقلم : افراح وقاص

شاید آج ہم سب نے یہ جملہ کئی بار کہا ہوگا۔

لیکن آج جب یہی الفاظ میرے منہ سے نکلے تو آپ ﷺ کی ایک حدیث یاد آگئی، اور دل ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اس کے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی؛ ایک سردیوں میں اور ایک گرمیوں میں۔ تم جو شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کی سانس میں سے ہے۔" 📖 (صحیح بخاری: 3260، صحیح مسلم: 617)

ہم اس دنیا کی چند گھنٹوں کی گرمی برداشت نہیں کر پاتے... تو کیا ہم نے کبھی اس آگ سے بچنے کی فکر کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار خبردار ہے؟

پھر ایک اور خیال آیا...

ہم سب چاہتے ہیں کہ موسم بدل جائے، گرمی کم ہو جائے، ماحول بہتر ہو جائے۔ لیکن کیا ہم خود بھی اس بہتری کے لیے کچھ کر رہے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔" 📖 (صحیح بخاری: 2320، صحیح مسلم: 1553)

ہو سکتا ہے آپ ایک ہی درخت لگائیں... 🌳 لیکن وہ کسی مسافر کو سایہ دے دے، کسی پرندے کا گھر بن جائے، کسی بچے کو ٹھنڈی ہوا دے جائے، اور آپ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی آپ کے نامۂ اعمال میں نیکیاں لکھتا رہے۔

ذرا اپنے اردگرد دیکھیے... 👀

اگر آپ کی گلی میں درخت نہیں تو ایک درخت لگانے کا ارادہ کیجیے۔

اگر گھر میں جگہ ہے تو اپنے گھر میں لگائیے۔

اگر درخت لگانا ممکن نہ ہو، تو اپنی چھت یا بالکونی میں پرندوں کے لیے پانی کا ایک برتن ضرور رکھ دیں۔ 💧

اس چلچلاتی دھوپ میں جب کوئی ڈیلیوری بوائے آپ کے گھر آئے، یا گلی میں کوئی محنت کش نظر آئے، تو اسے ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دیں۔ یقین مانیے یہ اس وقت کی سب سے بڑی نیکی ہے۔

اپنی اصلاح صرف اپنے لیے نہ کیجیے... خود کو ایسا انسان بنائیے جس سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے۔

آخر میں بس دو سوال... 🤔

1️⃣ اگر اللہ تعالیٰ آج آپ سے فرمائے: "میرے بندوں کے لیے ایک نیکی شروع کرو"... تو آپ کون سی نیکی کا انتخاب کریں گے؟ 2️⃣ اور کیا آج آپ کی زندگی میں کوئی ایسی نیکی موجود ہے جس کا فائدہ آپ کے بعد بھی اللہ کی مخلوق کو پہنچتا رہے؟

کمنٹ کرنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور سوچیے... شاید یہی سوچ آپ کی زندگی کی سب سے خوبصورت نیکی کی شروعات بن جائے۔ ✨






23/05/2026

*مِنیٰ*
💖یہ بستی سج چکی ہے
اپنے حجاج کرام کے لئے

خوش نصیب لوگ اور ان کی سعادتیں!!!
اللّٰه رب العزت سے دعا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ مجھ سمیت آپ سبکو یہ حاضری نصیب فرمائے 🤲🤲
🌹❣️🌹
🤲 *آمین یارب العالمین* 🤲

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | آخری قسط🕊️ سنتیں اور عملی احکام✍🏻 بقلم: افراح وقاصذوالحجہ کے یہ مبارک دن صرف ذکر، روزے اور تکبیرات تک ...
23/05/2026

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | آخری قسط
🕊️ سنتیں اور عملی احکام
✍🏻 بقلم: افراح وقاص

ذوالحجہ کے یہ مبارک دن صرف ذکر، روزے اور تکبیرات تک محدود نہیں…
بلکہ ان دنوں سے وابستہ کچھ ایسی سنتیں اور اعمال بھی ہیں جو بندے کے دل میں اطاعت، محبت اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔

یہ اعمال انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ عبادت صرف زبان سے نہیں…
بلکہ اپنے ارادے، اپنے عمل اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔

⸻

✂️ قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔”
(صحیح مسلم: 1977)

یعنی یکم ذوالحجہ سے قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب عمل ہے۔

اس میں اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے اور قربانی کے جذبے کو تازہ کرنے کی ایک خوبصورت کیفیت موجود ہے۔

البتہ اگر کسی نے ناخن یا بال کاٹ لیے تو اس نے سنت پر عمل نہیں کیا ہوگا، تاہم اس کی قربانی درست ہو جائے گی۔

📌 ایک اہم وضاحت:

بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم خاص اُس شخص کے لیے ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

لہٰذا جو شخص قربانی نہیں کر رہا، اُس کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کی کوئی خاص فضیلت صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔

⸻

🕌 عید الاضحیٰ کی نماز

اس عشرۂ مبارک کے آخری دن یعنی 10 ذوالحجہ کو عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

عید کا دن صرف خوشی کا دن نہیں…
بلکہ اللہ کی کبریائی کے اعلان کا دن ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“یومِ عرفہ، یومِ نحر اور ایامِ تشریق ہم اہلِ اسلام کی عید کے دن ہیں۔”
(سنن ابوداؤد: 2419، سنن ترمذی: 773)

عید الاضحیٰ کی نماز مردوں پر واجب اور عورتوں کے لیے بھی مشروع و باعثِ اجر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید کے دن کنواری، پردہ نشین حتیٰ کہ حائضہ عورتوں کو بھی عیدگاہ لے جائیں، البتہ حائضہ عورتیں نماز سے الگ رہیں اور مسلمانوں کی دعا اور خیر میں شریک ہوں۔
(صحیح بخاری: 324، صحیح مسلم: 890)

نمازِ عید سے پہلے تکبیرات کہنا، غسل کرنا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور عیدگاہ جانا سنت ہے۔

⸻

🐑 قربانی — محبت نہیں، اطاعت کا نام

عشرۂ ذوالحجہ کے آخری دن یعنی 10 ذوالحجہ کو قربانی کرنا افضل عملوں میں سے ہے۔

قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں…
یہ اس جذبے کا نام ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی پسند، اپنا مال اور اپنی محبت تک قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔”
(سورۃ الانعام: 162)

اسلام میں قربانی ایک عظیم عبادت ہے۔
اس میں حاجی اور غیر حاجی دونوں شامل ہیں۔

البتہ مکہ مکرمہ میں حج یا عمرہ کے موقع پر دی جانے والی قربانی “ہدی” کہلاتی ہے، جبکہ عام مسلمان جو اپنے اپنے علاقوں میں قربانی کرتے ہیں اسے “اُضحیہ” کہا جاتا ہے۔

⸻

🐄 کن جانوروں کی قربانی جائز ہے؟

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں:

“رسول اللہ ﷺ نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربان کیے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھا اور ‘بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ’ پڑھ کر اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا۔”
(صحیح بخاری: 5558، صحیح مسلم: 1966)

قربانی صرف ان جانوروں کی جائز ہے جو “بہیمۃ الانعام” میں شامل ہیں، یعنی:

• اونٹ
• گائے / بیل
• بکری
• بھیڑ
• دنبہ

ان جانوروں کا صحت مند اور عیبوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔

بہت بیمار، کانے، لنگڑے یا انتہائی کمزور جانور کی قربانی درست نہیں۔
(سنن ابوداؤد: 2802)

⸻

👥 بڑے جانور میں کتنے حصے ہوتے ہیں؟

• ایک بکری، بھیڑ یا دنبہ صرف ایک فرد کی طرف سے قربان ہوتا ہے۔
• جبکہ گائے، بیل یا اونٹ میں سات افراد تک حصہ لے سکتے ہیں۔

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں:

“ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات سات افراد کی طرف سے قربانی کی۔”
(صحیح مسلم: 1318)

ہر شریک کی نیت اللہ کی رضا اور عبادت کی ہونی چاہیے۔

⸻

✨ یہ دن گزر جائیں گے…

ذوالحجہ کے یہ مبارک دن آخرکار گزر جائیں گے…
تکبیرات خاموش ہو جائیں گی…
عید کا شور بھی تھم جائے گا…
قربانی کے جانور بھی باقی نہیں رہیں گے…

مگر سوال یہ ہے:

کیا ان دنوں نے ہمارے دل میں اللہ کی محبت بڑھائی؟
کیا ہم نے واقعی اپنے نفس کی کسی خواہش کو اللہ کے لیے قربان کیا؟

اصل کامیابی یہی ہے کہ یہ دن گزرنے کے بعد بھی انسان کے اندر
اطاعت، عاجزی اور قربانی کی روح باقی رہے۔
سلسلۂ ذو الحجہ کی تمام اقساط اپنے پڑھیں آپکے علم میں کتنا اضافہ ھوا؟

تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال 🌙
#غوروفکر
#تدبرالقرآن
#تدبر
#بدعات
#ذوالحجہ

#ہدایت

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | قسط چہارم🕋 حج✍🏻 افراح وقاصکچھ جگہیں زمین پر نہیں ہوتیں…وہ انسان کے دل کے اندر بسی ہوتی ہیں۔اور پھر جب...
21/05/2026

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | قسط چہارم
🕋 حج
✍🏻 افراح وقاص

کچھ جگہیں زمین پر نہیں ہوتیں…
وہ انسان کے دل کے اندر بسی ہوتی ہیں۔

اور پھر جب رب کا بلاوہ آ جائے…

تو انسان صرف سفر نہیں کرتا…
خوشی سے ٹوٹتا ہے، روتا ہے، اور پھر بدل جاتا ہے۔

ذوالحجہ آتے ہی
دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں خوش نصیب لوگ
اپنے گھر، کاروبار، آرام، نیند… سب چھوڑ کر
صرف ایک گھر کی طرف نکل پڑتے ہیں:

🕋 بیت اللہ

اس شوق میں
کوئی برسوں سے پیسے جمع کر رہا ہوتا ہے…
کوئی ہر نماز کے بعد یہی دعا مانگتا رہتا ہے…
اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے
جسے خود یقین نہیں آتا کہ:

«“کیا واقعی اللہ نے مجھے بلا لیا ہے؟”»

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«وَأَذِّنۡ فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ

“اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور دور دراز راستوں سے آئیں گے۔”

— سورۃ الحج: 27»

پھر جب وہ احرام باندھتا ہے…
تو صرف کپڑے نہیں بدلتا،
بلکہ اپنی انا، خواہشات اور ہٹ دھرمی بھی اتار دیتا ہے۔

نہ کوئی شان باقی رہتی ہے، نہ برانڈ…
نہ کوئی عہدہ۔

بس ایک بندہ رہ جاتا ہے…
اور اس کا رب۔

پھر اچانک ہر طرف ایک صدا گونجتی ہے:

««لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ»»

ایسی صدا…
جو صرف زبان سے نہیں نکلتی،
بلکہ روح سے نکلتی ہے۔

تصور میں وہ لمحہ آتا ہے
جب کوئی پہلی نظر کعبہ کو دیکھتا ہوگا…

اس گھر کے رعب، جلال اور ہیبت سے
اکثر لوگوں کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہوں گی…
دعائیں بھول جاتی ہوں گی…
اور آنسو بے اختیار بہنے لگتے ہوں گے۔

وہ گھر…
جس کی طرف پوری زندگی رخ کر کے نماز پڑھی…
جب سامنے آتا ہوگا
تو بے قرار دل کو ایک ہی لمحے میں سکون مل جاتا ہوگا۔

پھر طواف شروع ہوتا ہے۔

لاکھوں انسان ایک مرکز کے گرد گھومتے ہیں…
جیسے اللہ انسان کو سمجھا رہا ہو:

«“تمہاری زندگی کا مرکز میں ہوں… یہ دنیا نہیں۔”»

وہاں عبادتوں کی لذت ہی الگ ہوتی ہے۔
راتیں نفلوں میں گزر جاتی ہیں…

کعبہ سامنے ہوتا ہے…
ہاتھ اٹھے ہوتے ہیں…
اور آنکھیں مسلسل بہہ رہی ہوتی ہیں۔

کوئی اپنے گناہوں پر رو رہا ہوتا ہے…
کوئی برسوں سے مانگی ہوئی دعائیں دہرا رہا ہوتا ہے…
کوئی اپنے والدین کے لیے گڑگڑا کر مانگ رہا ہوتا ہے…
اور کوئی صرف اتنا کہہ رہا ہوتا ہے:

«“یا اللہ… مجھے معاف کر دے”»

اور اللہ اپنے بندے کی ہر خاموشی، ہر آنسو اور ہر پکار کو جانتا ہے۔

پھر صفا و مروہ کی سعی…

یہ صرف ہاجرہؑ کی یاد نہیں،
بلکہ ہر اس انسان کی کہانی ہے
جو زندگی میں کبھی بے بسی میں کھڑا ہو جائے۔

اماں ہاجرہؑ اپنے بلکتے بچے کے لیے پانی تلاش کر رہی تھیں…
صحرا تھا، تنہائی تھی، مگر یقین تھا۔

اور اسی یقین پر
اللہ نے زم زم جاری کر دیا۔

اور قیامت تک کے لیے یہ سبق دے دیا:

«“جو اللہ پر بھروسہ نہیں چھوڑتا،
اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”»

پھر مقامِ ابراہیم…

وہ پتھر آج بھی گواہی دیتا ہے
کہ اللہ کے لیے اٹھائے گئے قدم
کبھی ضائع نہیں ہوتے۔

اخلاص کے ساتھ کیے گئے اعمال
زمانوں کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

پھر عرفات…

سفید احرام…
بلند ہاتھ…
روتی آنکھیں…
اور پاکیزگی میں ڈوبے وجود…

ایسا لگتا ہے جیسے
پوری انسانیت دنیا کی میل کچیل اتار کر
اللہ کے سامنے کھڑی ہو۔

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:

«“جو شخص حج کرے، اور نہ بے حیائی کرے نہ نافرمانی، وہ اس دن کی طرح واپس لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔”

— صحیح بخاری، صحیح مسلم»

وہاں جا کر سمجھ آتا ہے:

- دنیا واقعی بہت چھوٹی ہے
- غرور اور تکبر سب بے معنی ہے
- اور اللہ اپنے بندے سے بہت قریب ہے

یہی قربانی حضرت ابراہیمؑ کا وہ عظیم امتحان تھا
جس میں انہوں نے کہا:
“سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا”
یعنی ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی…
چاہے دل پر کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو۔

کاش اس بار
ہم صرف جانور قربان نہ کریں…
بلکہ اپنی انا، ضد، گناہ اور غفلت بھی اللہ کے لیے چھوڑ دیں۔

اور کاش…
ایک دن ہمارا نام بھی ان خوش نصیبوں میں لکھ دیا جائے
جو بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہیں:

««لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ،
لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ،
إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ،
لَا شَرِيكَ لَكَ» 🕋»

آج یہ کالم لکھتے ہوئے
دل بھی بھیگ گیا اور آنکھیں بھی…

اے اللہ!
جو آنکھیں تیرے گھر کے دیدار کی حسرت رکھتی ہیں،
جو دل بیت اللہ کی محبت میں دھڑکتے ہیں،
جو زبانیں “لبیک” سننے کو ترستی ہیں…

انہیں اپنے گھر کا دیدار نصیب فرما۔
ہمیں بھی ایک دن
کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر
رو رو کر تجھ سے مانگنے والا بنا دے۔

آمین یا رب العالمین 🤍🕋
#ذوالحجہ
#تدبرالقرآن
#غوروفکر
#ہدایت
#قرآن

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | قسط سوم📿 روزہ✍🏻 بقلم: افراح وقاصکبھی غور کیا ہے؟اللہ نے انسان کو فرشتوں جیسا نہیں بنایا۔اسے خواہشات د...
20/05/2026

🌙 سلسلۂ ذوالحجہ | قسط سوم
📿 روزہ
✍🏻 بقلم: افراح وقاص

کبھی غور کیا ہے؟
اللہ نے انسان کو فرشتوں جیسا نہیں بنایا۔
اسے خواہشات دیں… بھوک دی… تھکن دی…
پھر انہی چیزوں کے درمیان ایک عبادت رکھی: روزہ۔

یعنی انسان کھا سکتا ہے…
پی سکتا ہے…
چھپ کر سب کچھ کر سکتا ہے…
مگر پھر بھی رُک جاتا ہے۔

صرف اس لیے…
کہ “میرا اللہ دیکھ رہا ہے۔”

اور جب یہی روزہ ذوالحجہ کے مبارک دنوں میں ہو…
تو اس کی خوبصورتی اور بڑھ جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “اللہ کے نزدیک کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔”
— صحیح بخاری

سوچیے…
جن دنوں کے اعمال اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہوں…
ان دنوں میں روزہ رکھنا کتنا عظیم عمل ہوگا۔

امہات المؤمنین میں سے ایک روایت کرتی ہیں:

> “رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کے پہلے نو دن روزہ رکھا کرتے تھے۔”
— سنن ابی داؤد : 2437 (صحیح)

یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین ان دنوں کو صرف گزرنے نہیں دیتے تھے…
بلکہ عبادت، ذکر، تلاوت، صدقہ اور روزوں سے بھر دیتے تھے۔

🌿 روزہ آخر اتنا خاص کیوں ہے؟

کیونکہ یہ دکھاوے سے بہت دور عبادت ہے۔
نماز پڑھتے ہوئے لوگ دیکھ لیتے ہیں…
صدقہ دیتے ہوئے بھی کوئی دیکھ سکتا ہے…
مگر روزہ؟

کوئی نہیں جانتا کہ بندہ واقعی روزے سے ہے یا نہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> “روزہ میرے لیے ہے… اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔”
— صحیح مسلم

نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

> “جو شخص اللہ کے لیے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور کر دیتا ہے۔”
— صحیح بخاری

اور فرمایا:

> “روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔”
— مسند احمد

🌙 پھر ان دنوں میں ایک دن ایسا آتا ہے…
جسے پورے عشرے کا دل کہا جا سکتا ہے۔

یومِ عرفہ۔

وہ دن جب میدانِ عرفات میں لاکھوں لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں…
روتے ہیں… مانگتے ہیں… گڑگڑاتے ہیں…
اور زمین سے آسمان تک رحمتیں اترتی ہیں۔

اسی دن کے روزے کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “مجھے اللہ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک پچھلے اور ایک اگلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
— صحیح مسلم

دو سال۔
صرف ایک دن کے روزے پر۔

یہ اللہ کی رحمت کا انداز ہے…
وہ تھوڑے عمل پر بھی بہت عطا کر دیتا ہے۔

✨ اب ایک اہم بات…

ہر سال عرفہ کے روزے پر ایک بحث ضرور شروع ہو جاتی ہے:
روزہ سعودی عرب کے حساب سے رکھا جائے؟
یا اپنے ملک کی 9 ذوالحجہ کے مطابق؟

راجح اور مضبوط بات یہی ہے کہ ہر ملک اپنے چاند اور اپنی قمری تاریخ کے مطابق عرفہ کا روزہ رکھے گا۔

کیونکہ:

📌 رمضان، عید، عاشوراء اور باقی تمام عبادات بھی ہر ملک اپنی تاریخ کے مطابق ادا کرتا ہے۔

📌 دنیا کے مختلف ممالک کے اوقات الگ ہیں۔ بعض جگہ جب سعودی عرب میں عرفہ ہوتا ہے تو کہیں عید شروع ہو چکی ہوتی ہے۔

📌 اگر پوری دنیا کو صرف سعودی تاریخ کا پابند کر دیا جائے تو کئی ممالک کے مسلمانوں کے لیے عملی طور پر یہ ممکن ہی نہیں رہتا۔

اس لیے اپنے ملک کی 9 ذوالحجہ کے مطابق عرفہ کا روزہ رکھنا ہی درست اور زیادہ مضبوط موقف ہے۔

🌧 ایک بات یاد رکھیں…

شیطان انسان کو اکثر یہ سوچ دے دیتا ہے:
“اب پورے نو روزے نہیں رکھ سکتے تو رہنے دو…”

حالانکہ اللہ کو تعداد سے زیادہ اخلاص پسند ہے۔

ہو سکتا ہے آپ پورے نو دن نہ رکھ سکیں…
مگر شاید ایک سچا روزہ ہی آپ کی مغفرت کا سبب بن جائے۔

ہو سکتا ہے عرفہ کے دن کی چند گھنٹوں کی بھوک…
قیامت کے دن ہمیشہ کی راحت بن جائے۔

اور ہو سکتا ہے…
اسی ذوالحجہ میں اللہ آپ کا نام معاف کیے گئے لوگوں میں لکھ دے۔ 🌿
ان شاءاللہ
#غوروفکر
#تدبرالقرآن
#تدبر

#ہدایت
#ذوالحجہ

🌙 عشرۂ ذوالحجہ | قسط دوم📿 تکبیرات✍🏻 افراح وقاصوہ ذکر جو دلوں کو جھکا دیتا ہےکبھی کبھی کچھ دن عام دن نہیں ہوتے… وہ انسان...
19/05/2026

🌙 عشرۂ ذوالحجہ | قسط دوم
📿 تکبیرات
✍🏻 افراح وقاص

وہ ذکر جو دلوں کو جھکا دیتا ہے

کبھی کبھی کچھ دن عام دن نہیں ہوتے… وہ انسان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں عام نہ سمجھے۔ عشرۂ ذوالحجہ انہی دنوں میں سے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جو صرف گزرنے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کو بدلنے کے لیے آتا ہے۔ جو اسے عام دنوں کی طرح گزار دے، وہ دراصل ایک بہت بڑا موقع کھو دیتا ہے۔

یہ دن صرف قربانی یا عید کی تیاری نہیں… یہ دن اپنی سمت درست کرنے، سوچنے اور لوٹنے کے ہیں۔ یہ وہ وقفہ ہے جس میں انسان اپنے اندر جھانک سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کہاں جانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ»
“اور ان مقرر دنوں میں اللہ کا ذکر کریں” — سورۃ الحج: 28

مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ “معلوم دن” ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔

یہ دن ایسے ہیں جن میں انسان رمضان میں کی گئی اپنی نفس کی تربیت کو جانچتا ہے، اپنے اندر کی کمزوریوں سے مقابلہ کرتا ہے، اور پھر بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے۔ اور انہی دنوں کا سب سے نمایاں، سب سے زندہ اور سب سے اثر رکھنے والا ذکر تکبیر ہے:

«الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد»

اگر اس ایک جملے کو دل سے سمجھ لیا جائے تو زندگی کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ کیونکہ جب بندہ “الله أكبر” کہتا ہے تو وہ صرف الفاظ ادا نہیں کرتا… وہ اپنے اندر ایک اعلان کرتا ہے کہ:

دنیا اپنی اصل میں بڑی نہیں…
خوف اپنی حد سے زیادہ طاقتور نہیں…
پریشانیاں مستقل نہیں…
خواہشات سچ نہیں…
اور اصل حقیقت صرف یہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔

یہ کوئی نظری بات نہیں تھی، یہ ان لوگوں کی زندگی تھی جنہیں ہم صحابہ کہتے ہیں۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ حضرت ابنِ عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ عشرۂ ذوالحجہ میں بازاروں میں نکلتے، بلند آواز سے تکبیر کہتے، اور لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ جگہیں جہاں عام طور پر دنیا کی باتیں غالب ہوتی ہیں، وہاں اللہ کی بڑائی کی آوازیں کیسے غالب آ جاتی تھیں؟ یہی وہ فرق تھا جو ان کے دین اور ہمارے معمول میں نظر آتا ہے۔

تکبیرات کے الفاظ کے بارے میں بھی ایک خوبصورت وسعت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ»
ترجمہ: تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے [البقرۃ:185]

نبی کریم ﷺ سے تکبیر کے لیے کسی ایک لفظ کو لازم قرار دینا ثابت نہیں، بلکہ مختلف منقول الفاظ کے ساتھ تکبیر کہنا جائز اور درست ہے۔ البتہ صحابہؓ سے جو الفاظ منقول ہیں ان کو اختیار کرنا زیادہ بہتر اور بابرکت طریقہ ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے:
«الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے تھے:
«الله أكبر كبيرًا، الله أكبر كبيرًا وأجل، الله أكبر ولله الحمد»

اور حضرت سلمان فارسیؓ سے بھی منقول ہے:
«الله أكبر، الله أكبر كبيرًا»

ان اختلافات میں کوئی ٹکراؤ نہیں… بلکہ ایک بہت بڑی وسعت ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مقصد الفاظ نہیں، اللہ کی بڑائی کو دل میں زندہ رکھنا ہے۔ جب یہ شعور پیدا ہو جائے تو پھر الفاظ خود راستہ بنا لیتے ہیں۔

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہ سب صرف پڑھنے کی بات ہے یا جینے کی بھی؟

اللہ کا ذکر کسی ایک وقت کا محتاج نہیں۔ یہ چلتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے، کام کرتے ہوئے بھی، گھر میں بھی، سفر میں بھی، اور دل کی خاموشیوں میں بھی۔ لیکن ان دنوں میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر عرفہ کے دنوں سے لے کر ایامِ تشریق تک، جب یہ ذکر ایک خاص روحانی وزن اختیار کر لیتا ہے جیسا کہ صحابہؓ کے آثار سے معلوم ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ الفاظ کم ہیں یا زیادہ… اصل سوال یہ ہے کہ یہ ذکر ہماری زندگی میں جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔ ہم نے دین کو وقتوں اور موقعوں میں بانٹ دیا ہے، حالانکہ یہ ہر لمحے کا ساتھ ہے۔

بازار آج بھی ہیں… مگر ذکر کم ہے۔
الفاظ آج بھی ہیں… مگر اثر کم ہے۔
زندگی آج بھی ہے… مگر “الله أكبر” کی کیفیت کم ہے۔

اور شاید سب سے سخت سوال یہی ہے: اگر یہ دن واقعی سب سے افضل دن ہیں، تو کیا ہم واقعی انہیں اسی طرح جی رہے ہیں یا صرف گزار رہے ہیں؟

آخر میں بات پھر اسی ایک حقیقت پر آ کر رکتی ہے کہ یہ عشرہ صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں… یہ دل کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع ہے۔

اور اس کی کنجی کوئی مشکل نہیں… بس ایک سادہ مگر بھاری جملہ:

«الله أكبر… الله أكبر… لا إله إلا الله…»
#غوروفکر
#تدبر
#دین
#ہدایت
#تدبرالقرآن
#قرآن

وہ دن… جن میں تمام بڑی عبادات اکٹھی ہو جاتی ہیںسلسلۂ ذوالحجہ | قسط اول (فضیلت)بقلم: افراح وقاصوَالۡفَجۡرِۙ ۞وَلَيَالٍ عَ...
18/05/2026

وہ دن… جن میں تمام بڑی عبادات اکٹھی ہو جاتی ہیں

سلسلۂ ذوالحجہ | قسط اول (فضیلت)

بقلم: افراح وقاص

وَالۡفَجۡرِۙ ۞
وَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ ۞

اللہ تعالیٰ فجر کی قسم کھاتے ہیں…
اور پھر “دس راتوں” کی قسم کھاتے ہیں۔

سوچیں…
جس چیز کی قسم خود ربِّ کائنات اٹھائے، وہ کتنی عظمت والی ہوگی؟

اکثر مفسرین کے نزدیک ان “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“یہی تفسیر صحیح ہے۔”
📖 تفسیر ابن کثیر (8/413)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﻌﺸﺮ»

“دنیا کے دنوں میں سب سے افضل دن (ذوالحجہ کے) دس دن ہیں۔”
📖 صحیح الجامع الصغیر: 1133

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ کے نزدیک کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔”

صحابہؓ نے عرض کیا:
“اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟”

آپ ﷺ نے فرمایا:

“جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس نہ لایا۔”
📖 صحیح بخاری: 969

سوچیں…
جن دنوں کے اعمال کو جہاد جیسے عظیم عمل پر فضیلت دی جا رہی ہو،
وہ دن کتنے قیمتی ہوں گے؟

یہ صرف دس دن نہیں…
یہ اللہ کی طرف سے روحوں کو جگانے کا موسم ہے۔
یہ وہ دن ہیں جب غفلت میں ڈوبا انسان بھی واپس آسکتا ہے۔
یہ وہ دن ہیں جن میں ٹوٹا ہوا دل بھی اللہ کے قریب ہوسکتا ہے۔

🌙 ایک اہم بات…

علماء نے رمضان کے آخری عشرے اور ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں فرق اس طرح بیان کیا ہے کہ:

▫️ رمضان کے آخری عشرے کی راتیں افضل ہیں، کیونکہ ان میں لیلۃ القدر آتی ہے۔
▫️ جبکہ ذوالحجہ کے ابتدائی دن افضل ہیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں، اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں۔”
📖 مجموع الفتاویٰ (25/287)

✨ مگر ذوالحجہ کے اس عشرے کی ایک ایسی خاص بات ہے…
جو شاید کسی اور عشرے میں جمع نہیں ہوتی۔

وہ یہ کہ…

سال کے باقی دنوں میں عبادات الگ الگ دکھائی دیتی ہیں…
مگر ذوالحجہ کے یہ مبارک دن ایسے ہیں جن میں اسلام کی عظیم عبادات ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں۔

نماز بھی…
روزہ بھی…
زکوٰۃ بھی…
ذکر بھی…
تکبیرات بھی…
قربانی بھی…
اور حج جیسی عظیم عبادت بھی۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“عشرۂ ذوالحجہ کی امتیازی حیثیت کا سبب غالباً یہ ہے کہ دیگر ایام کے مقابلے میں بڑی بڑی عبادتیں مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج ان ایام میں جمع ہو جاتی ہیں۔”
📖 فتح الباری (3/136)

یہی وجہ ہے کہ یہ دن اللہ کے نزدیک انتہائی محبوب ہیں۔

🌿 ان دنوں کی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ:

اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں اپنے ذکر کی کثرت کا خصوصی حکم دیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ

“اور تاکہ وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں۔”
📖 سورۃ الحج: 28

اکثر مفسرین کے نزدیک “ایام معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔

اسی لئے صحابہ کرامؓ ان دنوں میں تکبیرات بلند آواز سے پڑھتے تھے، یہاں تک کہ بازار بھی اللہ کے ذکر سے گونج اٹھتے تھے۔

ذرا تصور کریں…

زمین کے ایک کونے میں کوئی شخص تہجد میں رو رہا ہے…
کہیں کوئی بوڑھی عورت تسبیح پڑھ رہی ہے…
کہیں کوئی نوجوان پہلی بار سچی توبہ کر رہا ہے…
کہیں کوئی حاجی عرفات میں ہاتھ اٹھائے کھڑا ہے…
کہیں “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں…
اور کہیں کوئی خاموشی سے کسی بھوکے کو کھانا کھلا رہا ہے۔

گویا پوری امت ایک روحانی موسم میں داخل ہو جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے…

کیا ہمارے دل بھی اس موسم میں داخل ہوتے ہیں؟
یا ہم صرف عید کے کپڑوں، کھانوں اور مصروفیات تک محدود رہ جاتے ہیں؟

ذوالحجہ کا عشرہ صرف “فضائل” سننے کے لئے نہیں آیا…
یہ اپنے آپ کو بدلنے کے لئے آیا ہے۔

✨ یہ دن ہمیں سکھاتے ہیں کہ:

▪️ عبادت صرف چند اعمال کا نام نہیں، اللہ سے تعلق کا نام ہے۔
▪️ قربانی صرف ایک رسم نہیں… یہ حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو زندہ کرنے کا اعلان ہے۔
▪️ جب ایک مسلمان قربانی کرتا ہے تو وہ صرف جانور ذبح نہیں کرتا… بلکہ وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ:

“یا اللہ! اگر تیری رضا کے لئے مجھے اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی محبتیں اور اپنی ضدیں بھی قربان کرنی پڑیں… تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔”

▪️ لیکن یاد رکھیں… اللہ کو نہ اس گوشت کی ضرورت ہے، نہ خون کی۔

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ

“اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
📖 سورۃ الحج: 37

▪️ یعنی اللہ کے ہاں اصل چیز جانور کی قیمت نہیں… دل کی کیفیت ہے۔
▪️ کتنے لوگ بڑے جانور قربان کرتے ہیں… مگر تکبر نہیں چھوڑتے۔
▪️ کتنے لوگ سنت ادا کرتے ہیں… مگر دلوں کو زخمی کرتے رہتے ہیں۔
▪️ کتنے لوگ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں… مگر اپنی خواہشات کو ذبح نہیں کرتے۔
▪️ اللہ کو دکھاوا نہیں چاہئے… اخلاص چاہئے… عاجزی چاہئے… اور وہ دل چاہئے جو واقعی اس کی طرف جھک چکا ہو۔
▪️ ذکر صرف زبان سے نہیں، دل سے ہونا چاہئے۔
▪️ توبہ صرف الفاظ نہیں، زندگی کے رخ کو بدلنے کا نام ہے۔
▪️ اور سب سے بڑھ کر… انسان جتنا اللہ کے قریب ہوتا ہے، دنیا اتنی ہی چھوٹی لگنے لگتی ہے۔

🌿 اس عشرے میں اپنے معمولات بدلیں…

▫️ قرآن کو روزانہ کا حصہ بنائیں
چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مگر غور سے پڑھیں۔

▫️ تکبیرات کو اپنی زبانوں پر زندہ کریں
الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد

▫️ یومِ عرفہ کے روزے کا اہتمام کریں
کبھی ایک دن انسان کی کئی سال کی غفلت بدل دیتا ہے۔

▫️ صدقہ کریں
کیونکہ بعض اوقات کسی کی دعا، انسان کی تقدیر بدل دیتی ہے۔

▫️ اپنے دلوں کو صاف کریں
حسد، بغض، تکبر، نفرت… یہ سب دل کو اندھا کر دیتے ہیں۔

▫️ رات کے کسی پہر چند منٹ اللہ کے سامنے بیٹھیں
بغیر بناوٹ کے۔
بغیر لمبی دعاؤں کے۔
صرف سچے دل کے ساتھ۔

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ…

بہت لوگ قربانی کرتے ہیں،
مگر اپنی انا قربان نہیں کرتے۔

بہت لوگ ذکر کرتے ہیں،
مگر دل دنیا ہی کے گرد گھومتا رہتا ہے۔

بہت لوگ عبادت کرتے ہیں،
مگر انسانوں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔

اور بہت لوگ “نیک” دکھائی دیتے ہیں…
مگر تنہائی میں اللہ سے بہت دور ہوتے ہیں۔

اللہ کو صرف اعمال کی تعداد نہیں چاہئے…
اخلاص چاہئے۔
عاجزی چاہئے۔
ٹوٹا ہوا دل چاہئے۔
اور سچی واپسی چاہئے۔

🌙 یاد رکھیں…

یہ دن چند لمحوں کی طرح گزر جائیں گے۔
پھر صرف یہ باقی رہ جائے گا کہ:

ہم نے ان دنوں میں کیا پایا؟
کتنا بدلے؟
کتنا جھکے؟
اور کتنی سچائی کے ساتھ اللہ کی طرف لوٹے؟

شاید یہ ہمارا آخری ذوالحجہ ہو۔
اور شاید ایک سچی توبہ…
ایک آنسو…
ایک دعا…
اللہ کے ہاں ہماری پوری زندگی بدل دے۔

اللہ ہمیں ان مبارک دنوں کی صحیح قدر کرنے والا، اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے والا، اور اپنی رحمت کے قریب ہونے والا بنا دے۔ آمین۔
#غوروفکر
#بدعات
#ہدایت
#تدبر
#تدبرالقرآن
#سوچ

15/05/2026

Address

Gala Mandi
Kamoki
52470

Opening Hours

Monday 00:00 - 00:00
Tuesday 00:00 - 00:00
Wednesday 00:00 - 00:00
Thursday 00:00 - 00:00
Friday 00:00 - 00:00
Saturday 00:00 - 00:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Haram Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category