Love & Death

Love & Death Love is not to take some thing. Love is to deliver every thing.

Available on best rates Contact 00923003996535
18/05/2024

Available on best rates
Contact 00923003996535

https://youtu.be/vlWozcSn7Jc
13/03/2023

https://youtu.be/vlWozcSn7Jc

In this video, "The Ancient Egypt History", we explore the fascinating world of one of the most advanced and powerful civilizations of the ancient world. Dis...

02/04/2021

کاسہٕ حِرص کو دٌنیا بِھی نہیں بَھر سکتی
دِل بَسانا ہو تو اِک شَخص بہت ہوتا ہے

08/01/2021

شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں

کفنائے باغباں مجھے پھولوں کے ہار میں
کچھ تو برا ہو دل مرا اب کی بہار میں

گندھوا کے دل کو لائے ہیں پھولوں کے ہار میں
یہ ہار ان کو نذر کریں گے بہار میں

نچلا رہا نہ سوز دروں انتظار میں
اس آگ نے سرنگ لگا دی مزار میں

خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں
آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں

ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں

میں دل کی قدر کیوں نہ کروں ہجر یار میں
ان کی سی شوخیاں ہیں اسی بے قرار میں

سیمابؔ بے تڑپ سی تڑپ ہجر یار میں
کیا بجلیاں بھری ہیں دل بے قرار میں

تھی تاب حسن شوخیٔ تصویر یار میں
بجلی چمک گئی نظر بے قرار میں

بادل کی یہ گرج نہیں ابر بہار میں
برا رہا ہے کوئی شرابی خمار میں

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

تنہا مرے ستانے کو رہ جائے کیوں زمیں
اے آسمان تو بھی اتر آ مزار میں

خود حسن نا خدائے محبت خدائے دل
کیا کیا لئے ہیں میں نے ترے نام پیار میں

مجھ کو مٹا گئی روش شرمگیں تری
میں جذب ہو گیا نگۂ شرمسار میں

اللہ رے شام غم مری بے اختیاریاں
اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں

اے اشک گرم ماند نہ پڑ جائے روشنی
پھر تیل ہو چکا ہے دل داغدار میں

یہ معجزہ ہے وحشت عریاں پسند کا
میں کوئے یار میں ہوں کفن ہے مزار میں

اے درد دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزا خلش بار بار میں

افراط معصیت سے فضیلت ملی مجھے
میں ہوں گناہ گاروں کی پہلی قطار میں

ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے
ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں

تم نے تو ہاتھ جور و ستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا رہا ستم روزگار میں

کیا جانے رحمتوں نے لیا کس طرح حساب
دو چار بھی گناہ نہ نکلے شمار میں

او پردہ دار اب تو نکل آ کہ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں

روئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسی
آنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں

سیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سے
اتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں

سیماب اکبر آبادی

27/12/2020

*اس پوسٹ کو سب والدین غور سے پڑھیں*........................... *نکاح* .........................
اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے ۔.......................... *نکاح*..........................
وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے............................ *نکاح*...........................
ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔۔......................... *نکاح*..........................
بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے. اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔........................... *نکاح*...........................
بدقسمتی کی انتہا، مدارس، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں، اور والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔........................... *نکاح*..........................
انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے۔ اور اگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے۔.......................... *نکاح* ...........................
اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔......................... *نکاح*..........................
اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔ ......................... *نکاح* ......................
نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔....................... *نکاح*...........................
والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں
*یہ کوئی فحش پوسٹ نہیں ہے ایک درس ہے جو ہر والدین کی ضرورت ہے بےحیائی کو روکنے کا گناہوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کا ذریعہ ہے*

27/12/2020
10/12/2020

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے
یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے
وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے
عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے
اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے
یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا
ہوئے
ناصر کاظمی

03/12/2020

میں کیسے جدا کر سکتا ہوں اسے خود سے
اس کے نام کے کچھ حروف میرے نام میں ہیں

03/12/2020

بنتی نہیں ہے نیند کی آنکھوں سے آج کل
دونوں کے درمیان، کوئی بات ہے ضرور

20/11/2020

ایک ہی چہرے سے فرصت نہ ملی نظروں کو
ہم کسی اور طرف آنکھ اٹھاتے کیسے

Address

Kamoke, Gujranwala, Punjab
Kamoke

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Love & Death posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Love & Death:

Shortcuts

Share

Category