Qiam Pur Virkan

Qiam Pur Virkan A village on Baig Pur Road

GOOD NEWS for all the researchers!! Deadline for Abstract Submission is extended. Now you can submit your abstracts till...
09/12/2022

GOOD NEWS for all the researchers!! Deadline for Abstract Submission is extended. Now you can submit your abstracts till 15th December 2023. This extension is only for Poster Presenters.

We cordially invite you to attend the First International Conference on Advances in Functional Materials (ICAFM-2023) to be held in Department of Physics, University of the Punjab, Lahore, Pakistan, on February 20-22, 2023.

Get yourself registered by filling below form with correct information:
https://docs.google.com/forms/d/1bW1NuJVS0JewQm6tGkBf17GKubcrmWxe7tQGAnRkb3U/edit

For abstract submission Email directly at [email protected] or submit online at link below:
http://journals.pu.edu.pk/conference/ICAFM-2023/ICAFM2023/login?source=%2Fconference%2FICAFM-2023%2FICAFM2023%2Fauthor%2Fsubmit%3FrequiresAuthor%3D1

How to submit abstract on our conference website? Watch for tutorial:
https://www.youtube.com/watch?v=5bMovLoCau0

Our Conference Website:
http://journals.pu.edu.pk/conference/ICAFM-2023

For any queries, don't hesitate to ask.
(Contact details are given in the website)

08/11/2022

*شادی سے پہلے*

*بیٹی :
پاپا میں کسی کی غلامی نہیں کر سکتی۔

*باپ :
کوئی کسی کی غلامی نہیں کرتا میری بچی۔
سب اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔
جو کام عورتوں کے لئے مشکل ہوتے ہیں، وہ مرد کرتے ہیں اور جو مردوں کے لئے مشکل ہوتے ہیں، وہ عورتیں کرتی ہیں، یونہی مل جل کر گزارا ہوتا ہے۔

*شادی کے بعد :

*بیوی :
میں کھانا گرم نہیں کروں گی

*شوہر :
تو اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ۔
میں تمہاری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں اور تم میری ضروریا ت پوری نہیں کرسکتی تو ٹھیک ہے پھر مجھے بھی تمہاری ضرورت نہیں۔

*طلاق کے بعد :

(اسلام آباد کی سڑکوں پر بینر اٹھائے ہوئے)

کھانا خود گرم کر لو۔
کھانا خود گرم کر لو۔
کھانا خود گرم کر لو۔
کھانا خود گرم کر لو۔

*باپ کے مرنے کے بعد :

*بھائی :
دیکھو میری بہن!
میں اب فیملی والا ہوں، میری بیوی تمہیں اور برداشت نہیں کر سکتی،
تم اپنا بندوبست کہیں اور کر لو۔

*نوکری کی تلاش میں :

*دفتر والے :
ہمارے پاس ایک فی میل ریسپشنسٹ کی جگہ خالی ہے، آپ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں، آپ ہمارے ہاں کام کر سکتی ہیں۔

*ڈھلتی عمر :

*دفتر والے :
بی بی!
ہم معذرت خواہ ہیں، آپ کے کام میں اب پہلے جیسی تندہی نہیں رہی لہٰذا آپ کہیں اور نوکری ڈھونڈ لیں، ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں رہی۔

*ظالم بڑھاپا :

*نئی جگہ والا :
محترمہ! آپ کی اتنی عمر ہو گئی ہے، اب میں آپ کو کیا نوکری دوں، اب تو آپ کو آرام سے اپنے بچوں کی کمائی کھانی چاہیئے.

*بینر والی آنٹی :
میرے بچے نہیں ہیں، کوئی نہیں ہے میرا۔

*نیو دفتر والا :
اوہ!
چلیں میں آپ کے لئے کچھ کرتا ہوں۔
میرا 20 لوگوں کا اسٹاف ہے،
کیا آپ ان سب کے لیئے کھانا پکا سکتی ہیں ؟
میں آپ کو چھ (6) ہزار روپے ماہانہ دوں گا.

*لبرل آنٹی :
صرف چھ (6) ہزار ؟

*نیو دفتر والا:*
میں جانتا ہوں کہ ان چھ ہزار میں آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوتی، مگر میں مجبور ہوں، میرے پاس اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔

*بینر والی آنٹی
ٹھیک ہے۔
مجھے منظور ہے.
اس کی آنکھوں سے آنسو زار زار بہہ رہے تھے
اور سوچ رہی تھی کہ
کاش
جوانی میں ہی کھانا گرم کر دیتی ۔۔۔۔۔
شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات........

06/11/2022

مرد کی پہلی مُحبت اُس کی کلاس ٹیچر
اور آخری مُحبت اسپتال کی نرس ہوتی ھے.
درمیانی محبتوں کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔۔۔🙂🙂

Hassan Ali & Usman Buzdar are same. You try to remove them & universe decides to go against you.
26/08/2022

Hassan Ali & Usman Buzdar are same. You try to remove them & universe decides to go against you.



09/02/2022
07/02/2022

مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل
مَیں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں

اے یارِ خوش دیار تجھے کیا خبر کہ مَیں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں

بدلا نہ میرے بعد بھی موضوعِ گفتگو
مَیں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں

مجھ سے بچھڑ کے تُو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ مَیں بھی تری خواہشوں میں ہوں

تُو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی مَیں شریک ترے قہقہوں میں ہوں

احمد فراز

1.12 Am
08 Feb, 2022

01/02/2022

یہ فخر تو حاصل ھے ، برے ھیں کہ بھلے ھیں
دو چار قدم ھم بھی ، تیرے ساتھ چلے ھیں

جلنا تو خیر ، چراغوں کا مقدر ھے ازل سے
یہ دل کے کنول ھیں ، کہ بجھے ھیں نہ جلے ھیں

تھے کتنے ستارے ، کہ سرِ شام ھی ڈوبے
ھنگامِ سحر ، کتنے ھی خورشید ڈھلے ھیں

جو جھیل گئے ھنس کے ، کڑی دُھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھائوں میں ، وہ لوگ جلے ھیں

اک شمع بجھائی ، تو کئی اور جلا لیں
ھم گردشِ دوراں سے ، بڑی چال چلے ھیں

25/01/2022

ہمیں اکثر یہ پریشانی رہتی ہے کہ ہماری مالی حالت کیوں خراب ہے اور آج کل اتنی غربت کیوں ھے؟

۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے

ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (مٹی) لگایا کرتے تھے۔۔

(سلیٹ) پر سلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (بجری کا کنکر) استعمال کرتے تھے۔

اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے۔

اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔

کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔

اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔

گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔

آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔

مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔

آج تو اسکول کے بچوں کے دو یا تین یونیفارم ضرور ہوتے ہیں

آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔

ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔

آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا...

غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...

آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..

اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں غریب ہوں۔

*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے.*

*ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں.*
المختصر، خواہشات کم کریں غربت خود ہی کم ہو جائے گی۔ اور آپ کی روزمرہ زندگی، کام، صحت سب بہتر ہو جائیں گے۔

25/01/2022

تمہارے سرد روئیےسے صاف لگتا ہے
ہمارا ساتھ ضروری نہیں سفر کے لیے

کہیں پہ بیٹھ کے پیتے ہیں چائے کا اک کپ
پھر اس کے بعد بچھڑتے ہیں عمر بھر کے لیے
۔
عمران رشید یاور

Address

Kamoke

Telephone

+923494182164

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qiam Pur Virkan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Qiam Pur Virkan:

Shortcuts

Share