15/02/2026
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
3/555
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور جو بندہ معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت ہی بڑھاتا ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔”
(رواہ مسلم)
14/556
حضرت ابو کبشہ عمرو بن سعد الانماریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
“میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں اور تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اسے یاد رکھو:
کسی بندے کا مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا۔
اور جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے۔
اور جو شخص سوال (مانگنے) کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے (یا اسی جیسا کلمہ فرمایا)۔
اور میں تم سے ایک اور بات بیان کرتا ہوں، اسے بھی یاد رکھو:
دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:
ایک بندہ جسے اللہ نے مال اور علم دونوں عطا کیے۔ وہ اپنے مال میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ کا حق پہچانتا ہے۔ یہ سب سے افضل درجے والا ہے۔
دوسرا وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہیں دیا۔ وہ سچی نیت سے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح نیک کام کرتا۔ پس وہ اپنی نیت کے مطابق ہے، اور دونوں کا اجر برابر ہے۔
تیسرا وہ بندہ جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہیں دیا۔ وہ بغیر علم کے اپنے مال میں اندھا دھند تصرف کرتا ہے؛ نہ اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس میں اللہ کا حق پہچانتا ہے۔ یہ بدترین درجے والا ہے۔
چوتھا وہ بندہ جسے نہ مال ملا نہ علم۔ وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں کی طرح (برے) کام کرتا۔ پس وہ اپنی نیت کے مطابق ہے، اور دونوں کا گناہ برابر ہے۔”
(رواہ ترمذی، حدیث حسن صحیح)
15/557
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا:
“اس میں سے کیا باقی ہے؟”
انہوں نے عرض کیا: اس کا صرف کندھا باقی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“کندھے کے سوا سب کچھ باقی ہے۔”
(رواہ ترمذی، حدیث صحیح)
مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بکری کا گوشت صدقہ کر دیا تھا سوائے کندھے کے، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں دے دیا گیا وہ درحقیقت ہمارے لیے آخرت میں باقی ہے، اور جو ہم نے اپنے لیے رکھا وہ اصل میں باقی نہیں۔