Gulistan-e-Chisht

Gulistan-e-Chisht This welfare trust is created to spread knowledge regarding Sufism & Spirtuality

مَیں مر جائے تو عشق پختہ ہوتا ہے عاشق اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی غرض سے اس کے در پر پہنچا دستک دی تو اندر سے آواز ...
10/12/2023

مَیں مر جائے تو عشق پختہ ہوتا ہے عاشق اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی غرض سے اس کے در پر پہنچا دستک دی تو اندر سے آواز آئی کون ہے؟ عاشق نے پُرنم آنکھوں اور دلِ بے قرار کے ساتھ جواب دیا مَیں ہوں،دید کو ترس گیا ہوں اندر سے جواب ملا واپس چلا جا میرے چاہنے والوں میں مَیں کوئی نہیں ہے ابھی تجھ سے غرور و تکبّر کی بُو آتی ہے۔تیری انا باقی ہے جا کچھ عرصہ اور ہجر و فراق کی آگ میں جل عاشق نامراد مایوس ہو کر واپس لوٹ گیا کچھ ماہ و سال اور گزرے محبوب کی جدائی میں جلا صدمہ فراق سہتا رہا۔جب پھر محبوب کے دروازے پر سودائی اور دیوانہ بنا حاضر ہُوا تو محبوب نے اس بار پھر پچھلا سوال دہرایا دروازے پر کون ہے؟ عاشق نے عجز و انکساری اور ادب سے جواب دیا میری جاں! دروازے پر بھی تُو ہی ہے۔ محبوب نے یہ الفاظ سنے تو کہا اب تیری مَیں ختم ہو گئی ہے جب من و تُو کا جھگڑا ہی ختم ہُوا تو پھر دوری کیسی آ جاؤ اجازت ہے

حکایاتِ حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللّہ علیہ

اعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـمبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِيٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَر...
05/09/2023

اعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِىِّ وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ

القرآن
سورۃ نمبر 49 الحجرات
آیت نمبر 2

ترجمہ
اے ایمان والو اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اس طرح ان صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت سے آج تک مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ارد گرد ہر قسم کی مخلوقات نے خاموشی اختیار کر لی اور ابھی تک خاموشی ہے اور یہ خاموشی قیامت تک برقرار رہے گی ان شاءاللہ دراصل یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی تعظیم و تکریم و توصیف و توقیر و ادب کا مقام ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو مقام احمد مرسل صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یارب العالمین

جس طرح ایک بچے کو اس کے ذہن کے مطابق سمجھایا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح مرشد اپنے مرید کو اپنے علم کے بل بوتے اس کی ہر طرح سے ...
31/08/2023

جس طرح ایک بچے کو اس کے ذہن کے مطابق سمجھایا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح مرشد اپنے مرید کو اپنے علم کے بل بوتے اس کی ہر طرح سے رہنمائی کرتا اس کے اندر سے تمام روحانی بیماریاں جیسے انا حسد بغض عداوت کینہ وغیرہ کو ختم کرتا ہے اور زندگی کا حقیقی معنوں میں مطلب سمجھاتا ہے مرید کی خطاوں بیوقوفانہ سوالات کو نظر انداز کر کے اپنی محبت کی چھاوں میں پناہ دیتا ہے مرشد کا تصور مرید کی آنکھوں کا وہ چشمہ ہے جس میں مرید ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کو بھی انتہائی قریب سے دیکھ سکتا ہے

بظاہر مجھ کو پیشوا مل گیا ہے حقیقت میں مجھ کو خدا مل گیا ہے
اے پیرِ کامل تیری نسبت کے صدقے مجھے میرا مشکل کشاء مل گیا ہے

شہرت کا شوق کہاں میں تو بس عام ہونا چاہتا ہوں
عاشق ہوں تیرا تیرے عشق میں نیلام ہونا چاہتا ہوں

واقعہ کربلا الله تعالى سے عشق کی لازوال داستان میدان کربلا میں کس طرح امامِ عالی مقام سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے دی...
26/07/2023

واقعہ کربلا الله تعالى سے عشق کی لازوال داستان

میدان کربلا میں کس طرح امامِ عالی مقام سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے دینِ مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سر بلندی کے لیے راہِ خدا میں اپنا تمام گھرانہ قربان کیا اور عشق کی ایک ایسی عظیم داستان رقم کی جسے یاد کر کے اور پڑھ کے راہِ عشق کے مسافر سامانِ عشق و مستی حاصل کرتے رہیں گے اور ایک انوکھے رنگ سے مولا کو راضی کرتے رہیں گے تو دوسری طرف غلامانِ حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام اور حضرت سیدہ زینب بنت علی سلام الله علیہا کی باندیوں کی صف میں ہونے کا ایک ادنیٰ سا حیلہ بھی ہے کہ

اے اہلِ بیتِ مصطفی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم یہ نذرانہ گر قبول افتند زے عز و شرف

نواسہ رسول صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کی مدینہ طیبہ روانگی سے لے کر ریگِ زارِ کربلا میں جامِ شہادت نوش کرنے تک کے تمام واقعات ایک غیر معمولی حیثیت کی حامل لازوال داستانِ عشق رقم کرتے ہیں حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام بزبانِ مصطفی صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مجھے کربلا کے میدان میں شہید کر دیا جائے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ میرا یہ بیٹا حسین علیہ السلام میرے بعد مقامِ طف میں قتل کر دیا جائے گا

طبرانی المعجم الکبیر 107: 3

خبرِ شہادت کے معلوم ہونے کے باوجود عقل کو ورطہ حیرت میں چھوڑتے ہوئے حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے سوئے کربل اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رختِ سفر باندھا تا کہ اپنے نانا سے دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہواصحابہ وسلم کے تحفظ اور سر بلندی کی خاطر کیے گئے وعدے کا نبھایا جا سکے کیوں کہ یہی وہ وقت تھا جب یزید نشہ اقتدار میں سر مست اخلاقیات کی تمام حدود کو پار کر چکا تھا اور چاہتا تھا کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اس کے مذاکرات کو مان لیں کیوں کہ وہ یہ جانتا تھا کہ امامِ حسین علیہ السلام کسی فردِ واحد کا نام نہیں بلکہ پوری امتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے امین و سربراہ کا نام ہے اگر انہیں اپنا ہم نوا بنا لیا تو پھر ہر مومن اور مسلمان میرے تابع ہو جائے گایہی وجہ ہے کہ اُس نے ہزارہا مسلح دستوں پر مشتمل قافلے سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کے مقابلے کے لیے روانہ کیے تا کہ انہیں کسی طرح مجبور کیا جائے کہ وہ اس لعین کی بیعت کے لیے رضامند ہو جائیں مگر شاید اسے خبر نہ تھی کہ اس کا مقابلہ کسی عام انسان یا دنیا کے بادشاہ سے نہیں ہے بلکہ ایک ایسی شخصیت سے ہے جو فرزندِ حضرت سیدہ فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا و حضرت سیدنا مولا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں جن کی رگوں میں حیدرِ کرار علیہ السلام کا خون ہے جو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہیں جنہیں دوشِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سواری نصیب ہوئی اور زبانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم چوسنے کا شرف حاصل ہے جن کی عفت و عصمت کی گواہی خود رب تعالیٰ نے قرآن مجید میں کھائی ہے وہ سیدنا امامِ حسین علیہ السلام جن کا ہر دن خدمتِ انسانیت اور تبلیغ و ترویجِ دین میں بسر ہوتا اور شب بھی گویا منتظر رہتی کہ اس کے دامن کو حضرت سیدنا حسین علیہ السلام اپنی چشمان سے بہنے والے آنسووں کے موتیوں سے پروئیں
حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے یزید کے کسی بھی حربے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حق کی سر بلندی کی خاطر میدانِ کربلا میں اپنے اصحاب اور اہلِ خانہ کے ساتھ خیمہ زن ہوئے محرم الحرام کو اپنے خیمہ کے سامنے کربلا کی ریت پر تشریف فرما تھے تو اونگھ آگئی اُدھر ابنِ سعد نے حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد عساکر کو حکم دے دیا کہ سیدنا امامِ حسین بن علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کر دو، یزیدی عساکر کے حملے کا شور و غل سن کر حضرت سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہا باہر تشریف لائیں اور بھائی سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کو بیدار کیا حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے سرِ انور اٹھایا اور پوچھا زینب سلام اللہ علیہا کیا بات ہے؟ سیدنا امامِ حسین علیہ السلام دشمن کی طرف سے حملے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے فرمایا ہم بھی تیاری کر چکے ہیں حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے فرمایا زینب سلام اللہ علیہا ابھی ابھی میری آنکھ لگ گئی تھی نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور بتایا کہ تم عنقریب ہمارے پاس آنے والے ہو بہن!ہم اس انتظار میں ہیں البدایہ والنہایہ

حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے عاشورا کی رات اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ دیکھو کل کا دن دشمن سے مقابلے کا دن ہےکل کا دن یومِ شہادت ہے آزمائش کی بڑی گھڑی آنے والی ہے میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم اپنے گھروں کو چلے جاؤ میں وعدہ کرتا ہوں کہ روزِ قیامت اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے تمہاری بے وفائی کا گلہ نہیں کروں گا اور گواہی دوں گا کہ نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم یہ میرے وفادار تھے میں نے بخوشی انہیں جانے کی اجازت دی تھی جس جس کو ساتھ لے کر جانا چاہتے ہو لے جاؤ یزیدیوں کو صرف میری گردن کی ضرورت ہے جب میری گردن کاٹ لیں گے تو ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو جائیں گے تم اپنی جانیں بچاؤ اور وآپس چلے جاؤ جود و سخا کے پروردہ امامِ حسین علیہ السلام آخری لمحات میں بھی دوسروں کا بھلا چاہتے نظر آتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو زندگی کے اس نازک موڑ پر بھی اپنے ہمراہ یزیدی انتقام کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا چاہتے ہیں لیکن راہِ عزیمت اور عشق و محبت کی راہ کے مسافروں پر آفریں کہ انہوں نے اپنی وفاداری کو زندگی کی عارضی مہلت پر ترجیح دی حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے جان نثار اصحاب اور شہزادوں نے عرض کیا کہ حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام خدا وہ دن نہ لائے کہ ہم آپ علیہ السلام کو چھوڑ کر چلے جائیں آپ علیہ السلام کے بغیر دنیا میں رہ کر ہم کیا کریں گے ہم کٹ مریں گے ہماری گردنیں آپ علیہ السلام کے قدموں میں ہوں گی ہم اپنی جانیں آپ علیہ السلام پر نثار کر دیں گے ہم ہر گز آپ علیہ السلام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے اپنے اصحابِ وفادار کا یہ جذبہ دیکھ کر فرمایا اچھا! یہ آخری رات ہےسجدے میں گر جاؤ، ساری رات عبادت و مناجات میں گزری جان نثارانِ حسین علیہ السلام کے خیموں سے رات بھر حمد و ثنا کی صدائیں آتی رئیں البدایہ والنہایہ

نمازِ فجر جان نثار اصحاب نے حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کی اقتداء میں ادا کی، بارگاہِ خداوندی میں کربلا والے سر بسجود تھے وہ سر جنہیں آج شام نیزوں پر بھی قرآن پڑھنا تھا اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے ہوئے تھے مولا یہ زندگی تیری ہی عطا کردہ ہے ہم اسے تیری راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں 10 محرم الحرام کا سورج طلوع ہوا تو خون میں ڈوبا ہو تھا آسمان خون کے آنسو رو رہا تھا آج معصوم حضرت سیدنا علی اصغر علیہ السلام کے حلقوم میں تیر پیوست ہونا تھاخاندانِ رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بھوکے پیاسے شہزادوں کے خون سے ریگِ کربلا کو سر خ ہونا تھا ہزارہا ملعون یزیدی سپاہیوں پر مشتمل فوج کے مقابلے میں امامِ عشق سیدنا امام حسین علیہ السلام اپنے افراد جن میں خاندانِ نبوت کے بنین و بنات اور اصحابِ سیدنا امام حسین علیہ السلام موجود تھے جو راہِ عشق و وفا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے قدموں پر پروانوں کی طرح جان وار دینے کے جذبے سے سر شار تھے پھر وقت نے ثابت کیا کہ کس طرح غلامانِ حسین علیہ السلام اور عشاقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے بھوک و پیاس کی شدت کے باوجود جوانمردی اور جرات کے ساتھ اپنے سالار کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ بارگاہِ خدا میں پیش کرتے گئے الغرض جانثارانِ سیدنا امام حسین علیہ السلام ایک ایک کر کے راہِ عشق و وفا میں سرخرو ہوتے گئے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کربلا کے میدان میں تنہا کھڑے ہیں ہونٹوں پر تشنگی کے کانٹے چبھ رہے ہیں آسمان سے سورج آگ برسا رہا ہے نینوا کے سینے سے فرات بہہ رہ ہے آج نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے سوا یہ پانی ہر شخص کے لیے عام ہے امامِ عالی مقام علیہ السلام کے جانثاران ایک ایک کر کے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں گلستانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اجڑ چکا ہے چمنستانِ حضرت سیدہ فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا کو بے رحم ہواؤں نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے حضرت عون و محمد بھی رخصت ہو چکے ہیں حضرت عباس علمدار علیہ السلام مقامِ شہادت پا چکے ہیں حضرت شہزادہ قاسم علیہ السلام موت کو گلے لگا چکے ہیں حضرت سیدن شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کا بے گورو کفن لاشہ ریگِ کربلا میں پڑا ہے معصوم حضرت سیدنا علی اصغر علیہ السلام کا خون بھی فضائے کربلا کو رنگین کر گیا ہے امامِ عالی مقام علیہ السلام اپنے جانثاروں کے لاشے اٹھاتے اٹھاتے نڈھال ہو چکے ہیں لیکن اس راہِ عشق کے سالار ابنِ علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت بہادری اور جوانمردی پر ڈھلتی عمر کا سایہ بھی نہ پڑا زباں پر رب کی رضا میں راضی ہونے کا ترانہ ہے بدن کاہر حصہ زبانِ حال سے مولا سے محوِ گفتگو ہے کہ مولا اگر تیری یہی رضا ہے تو حسین تیری راہ میں سب کچھ وار کر بھی مطمئن ہے گویا سالارِ عشق شیرِ خدا حضرت سیدنا مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کا شیر اپنے تمام اثاثے لٹانے کے بعد بھی استقامت کی تصویر بنا ہوا ہے ایمان کی روشنی آنکھوں سے جھلک رہی ہے چہرے پر اعتماد کا نور بکھرا ہوا ہے گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں حضرت سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علییا رکاب تھامتی ہیں اور بھائی کو الوداع کرتی ہیں امامِ عالی مقام علیہ السلام میدانِ کربلا میں تلوار لیے کھڑے ہیں یزیدی عساکر پر خاموشی چھائی ہوئی ہے فرزندِ شیرِخدا کا سامنا کرنے سے ہر کوئی کترا رہا ہے وہ جانتے ہیں کہ مدِ مقابل کون ہے یزیدی لشکر میں سے کوئی نکل کر شہسوارِ کربلا کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ کر سکا یزیدی لشکر نے جانثارانِ حسین علیہ السلام کی استقامت شجاعت اور جرات دیکھ کر انفرادی جنگ بند کر دی تھی جب حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام مقتل میں آئے تو اجتماعی حملہ جاری تھا لیکن پورا لشکر بھی اجتماعی طور پر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر حملہ کرنے سے ڈر رہا تھا دور دور سے تیر چلاتے رہے کافی دیر تک حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے جسمِ اطہر پر کوئی زخم نہ لگا کیوں کہ قریب آکر حضرت سیدنا مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شجاعت کے وارث سے جنگ کرنے کا کسی کو حوصلہ نہیں ہواتیروں کی برسات میں امامِ عالی مقام علیہ السلام کا جسمِ اطہر چھلنی ہو گیا زخموں سے چور حضرت سیدنا امام حسین ابن علی علیہ السلام پر چاروں طرف سے حملہ کیا گیا شمر اور یزید کے بدبخت سپاہی قریب آ گئے یکبارگی حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کو تلوار وں کے نرغے میں لے لیا گیا آخر مردانہ وار جنگ کرتے کرتے شہسوارِ کربلا گھوڑے سے نیچے آ گئے نیزوں اور تلواروں سے بھی امامِ عالی مقام علیہ السلام کا جسم چھلنی کر دیا گیا
زندگی کا آخری لمحہ آ پہنچا امامِ عالی مقام امامِ سیدنا حسین علیہ السلام نے دریافت فرمایا یہ کون سا وقت ہے جواب ملا نماز عصر کا وقت ہے حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا مجھے اپنے رب کو حضور آخری سجدہ کر لینے دو خون آلودہ ہاتھوں کے ساتھ تیمم کیا اور بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ریز ہو گئے باری تعالیٰ یہ زندگی تیری ہی دی ہوئی ہے اسے تیری ہی راہ میں قربان کر رہا ہوں اے خالقِ کائنات میرا یہ آخری سجدہ قبول ہو بدبخت شمر آگے بڑھا اور اس نے چاہا کہ امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کا سر تن سے جدا کر دے کہ حضرت سیدنا امامِ حسین علیہ السلام نے فرمایا میرے قاتل ذرا مجھے اپنا سینہ تو دکھا کیوں کہ میرے نانا نے مجھے جہنمی کی نشانی بتائی تھی

امام ابنِ عساکر نے حضرت سیدنا امام حسین بن علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا

گویا میں ایک سفید داغوں والے کتے کو دیکھ رہا ہوں جو میرے اہلِ بیت علیہم السلام کے خون میں منہ مار رہا ہے کنز العمال

چنانچہ حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام نے نشانی دیکھ کر فرمایا ہاں شمر یہ بد بختی تیرا ہی مقدر ہے وہ بد بخت آگے بڑھا اور سرِ اقدس کو تن سے جدا کر دیا ادھر روح نے قفسِ عنصری سے پرواز کی اور بارگاہِ خداوندی میں سرخرو ہوئی

یا أَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِی إِلَی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً.

اے اطمینان پا جانے والے نفس تو اپنے نفس کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور مطلوب بھی

سانحہ کربلا کے دیگر پہلو ؤں کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم لیکن ایک پہلو جو نمایاں نظر آتا ہے وہ حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کا اللہ تعالی و محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی ذات سے عشق تھا اللہ کی ذات سے عشق اس طرح کہ مدینہ منورہ سے روانگی سے لے کر ریگِ زارِ کرب و بلا میں جامِ شہادت نوش فرمانے تک زبان پر کوئی شکوہ نہ لانا یہ عاشقوں کا ہی شیوہ ہوا کرتا ہے اور عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم اس طرح سے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرما دیا کہ حسین علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں تو گویا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا حسین علیہ السلام سے ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ میرے دین کو تا قیامت میرا یہ بیٹا ہی سربلند کرے گا

زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ساتھ تعلق میں اس قدر فنائیت کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی منشا کو سمجھتے ہوئے بلا چوں و چراں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا

اس عظیم قربانی کے صلے میں گویا یہ صدا آ رہی تھی کہ اے حسین ابنِ علی علیہ السلام میری رضا اور عشق کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے والے آج تو نے راہِ عشق میں اپنا سب کچھ وار دینے کی ایک لازوال داستاں رقم کر دی ہے جسے عشق کا دم بھرنے والے ہر دور میں مشعلِ راہ بناتے رہیں گے اور سلیقہ عشق سیکھتے رہیں گے کہ اگر اللہ سے عشق کرنا ہو تو اس حد تک اس کی ذات میں فنا ہونا پڑتا ہے کہ انسان کی اپنی ذات فنا ہو جائے اور ہر حال میں کہے مولا جو تیری مرضی جیسے تو راضی

عقل و دل و نگاہ کا مُرشدِ اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات

صدقِ خلیل بھی ہے عشق صبرِ حسین بھی ہے عشق
معرکہِ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

تصوف ﻗﻠﺐ ﻭ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﺼﻮﻑ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﻗﻮﺍ...
27/03/2021

تصوف

ﻗﻠﺐ ﻭ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﺼﻮﻑ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﻗﻮﺍﻝ

حضور ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻏﻮﺙ ﺍﻋﻈﻢ شيخ عبد القادر جيلانى رضى اللّٰه عنہ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺩﻝ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺁﻻﺋﺶ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﺼﻮﻑ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮨﮯ

ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ رحمۃ اللّٰه علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ کہ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﻣﻮﺍﻓﻘﺖ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﯼ ﺻﻔﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻨﺎ، ﻧﻔﺴﺎﻧﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ، ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﻋﻠﻮﻡ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﭼﺎﮨﻨﺎ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮐﺎﻣﻞ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﺻﻠﯽ ﷲ تعالٰی ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﺼﻮﻑ ﮨﮯ

ﺣﻀﺮﺕ ﺫﻭﺍﻟﻨﻮﻥ ﻣﺼﺮﯼ رحمۃ اللّٰه علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﻮﻓﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ

ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮩﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﷲ رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ ﺗﺴﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺻﻮﻓﯿﮧ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺑﺸﺮﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﺪﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻔﮑﺮ ﺳﮯ ﭘﺮ ﮨﻮ، ﻗﺮﺏ ﺧﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮ
حضرت ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﺰﻭﯾﻨﯽ رحمۃ اللّٰه علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﺼﻮﻑ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
حضرت ﺷﯿﺦ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻧﻮﺭﯼ رحمۃ اللّٰه علیہ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﻧﻔﺲ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺟﻮﺍﻧﻤﺮﺩﯼ ورور ﺭﺳﻤﯽ ﺗﮑﻠﻔﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﺳﺘﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﮎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﺼﻮﻑ ﮨﮯ

ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺒﻠﯽ رحمۃ اللّٰه علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ کہ ﺻﻮﻓﯽ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﻭﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺕ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ

ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﺍﺣﺪ رحمۃ اللّٰه علیہ ﮐﺎ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺻﻮﻓﯽ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻨﺖ ﻧﺒﻮﯼ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﺻﻠﯽ ﷲ تعالٰی ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺮﺷﺪ ﮐﺎﻣﻞ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮨﯿﮟ

ﻋﺎﺭﻑ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺿﺎ ﻣﺤﺪﺙ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ رحمۃ اللّٰه علیہ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﻝ ﻋﺮﻓﺎﺀ ﺑﺎﻋﺰﺍﺯ ﺷﺮﻉ ﻭ ﻋﻠﻤﺎﺉ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺷﻌﺮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼٰ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻗﻮﻝ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺗﺼﻮﻑ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﷲ ﺻﻠﯽ ﷲ تعالٰی ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮨﻮ

دیدارِ حق کے لیے طالب کے دل میں جذبہ عشق کا پیدا ہونا لازم ہے دراصل روح اور اللہ کا رشتہ ہی عشق کا ہے بغیر عشق نہ تو روح...
15/08/2020

دیدارِ حق کے لیے طالب کے دل میں جذبہ عشق کا پیدا ہونا لازم ہے دراصل روح اور اللہ کا رشتہ ہی عشق کا ہے بغیر عشق نہ تو روح بیدار ہوتی ہے اور نہ ہی دیدار پا سکتی ہے
عشق ایک بیج کی صورت میں انسان کے اندر موجود ہے
مگر سویا ہوا ہے جیسے جیسے ذکر وتصور اسم اللہ ذات مشقِ مرقومِ وجودیہ اور مرشد کی توجّہ سے یہ روح کے اندر بیدار ہونا شروع ہوتا ہے ویسے ویسے روح کی اللہ کے لیے تڑپ اور کشش میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے فقراء کاملین نے عشق کو دیدارِ حق کے لیے لازمی قرار دیا ہے
عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی عشقِ حقیقی ہی بارگاہ رب العالمین میں باریابی دلاتا ہے عشق ہی انسان کو شہ رگ کی روحانی راہ پر گامزن کرکے آگے لے جانے والا ہے
یہی اس راہ سے شناسا کراتا ہے یہی روح کے اندر وصالِ محبوب کی تڑپ کا شعلہ بھڑکاتا ہے یہی اسے دن رات بے چین و بے قرار رکھتا ہے آتشِ ہجر تیز کرتا ہے اور یہی دیدارِ حق کا ذریعہ بنتا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیمکلیام شریف کی دو معزز شخصیات جن کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی، ساہیں بشیر صاحب محروم  جو  کلیام شریف ...
12/06/2020

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کلیام شریف کی دو معزز شخصیات جن کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی، ساہیں بشیر صاحب محروم جو کلیام شریف کے عظیم درگاہ سے منسلک تھے ایک مشعور علمی ادبی اور روحانی شخصیت کے مالک تھےق سائیں شہریار صاحب کے چچا ، اور ساہیں خورشید صاب جن کا انتقال کچھ دن پہلے ہوا نہیت ہی شفیق انسان سائیں شہریار خورشید صاحب کے والد محترم تھے ،اللّٰہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے فضل فرمائے اور ان برگان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. آمین
الفاتحہ

Moments of blessings InshaAllah very soon!!!
13/12/2019

Moments of blessings InshaAllah very soon!!!

حضرت بابا فضل الدین چشتی صابری کلیامیؒ کا دس روزہ سالانہ عرس مبارک کلیام شریف میں مورخہ 31 دسمبر 2019 تا 9 جنوری 2020 تک...
13/12/2019

حضرت بابا فضل الدین چشتی صابری کلیامیؒ کا دس روزہ سالانہ عرس مبارک کلیام شریف میں مورخہ 31 دسمبر 2019 تا 9 جنوری 2020 تک نہایت عقیدت و احترام سے منایا جائے گا ! تمام احباب کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ..!!!
منجانب ساہیں شہریار خورشید صاحب

ع ش ق
28/11/2019

ع ش ق

Address

Kalyam Sharif
Kaliam Awan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gulistan-e-Chisht posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Gulistan-e-Chisht:

Shortcuts

Share

Category