Kiran shahzadi

Kiran shahzadi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kiran shahzadi, Kakul.

جب کسی کو چُنتے ہیں تو مکمل چنتے ہیں
اُس کی وحشتیں، تکلیفیں، دکھ ، حالتیں
اداسیاں، سبھی کو اپناتے ہیں،
تعلق صرف خوشی اور مسرت کے پل ساتھ بانٹنے کا نام نہیں
دوسرے انسان کے دُکھ میں اس کو سنبھالنے اور
اس کی تکلیفوں کو کم کرنے کا نام ہے۔ 💯❤️💕

سہاروں کی عادت نہیں ہے مجھے خود کی تکلیف خود تک رہے تو زیادہ سکون دیتی ہے بے قدری کا بس ایک ہی جواب ہوتا ہے"فاصلہ"نہ ردع...
30/12/2025

سہاروں کی عادت نہیں ہے مجھے خود کی تکلیف خود تک رہے تو زیادہ سکون دیتی ہے بے قدری کا بس ایک ہی جواب ہوتا ہے
"فاصلہ"
نہ ردعمل نہ بحث بس خاموشی سے اپنی موجودگی ختم کردو۔

21/12/2025

👍👇🏻
کل اس بحث کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا
جاوید اختر: اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں
ہیں؟
مفتی شمائل ندوی: اگر مصائب خدا کی عدم موجودگی کا ثبوت ہیں تو انصاف کا مطالبہ کرنا فضول ہے۔ مصائب اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر صحیح اور غلط کا احساس موجود ہے، اور یہ خدا کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

جاوید اختر: اگر زیادہ تر لوگ کسی چیز کو سچ مان لیتے ہیں تو کیا وہ سچ ہو جاتی ہے؟
مفتی شمائل ندوی: سچائی کا تعین اکثریت سے ہو تو تاریخ میں کبھی غلط نہیں ہوا۔
پھر غلامی، نسل پرستی اور جبر کو بھی درست سمجھا جائے گا کیونکہ انہیں ایک زمانے میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔

جاوید اختر: اگر خدا کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے تو ہم اس پر کیوں یقین کریں؟
مفتی شمائل ندوی: ہر چیز جو موجود ہے اسے لیبارٹری میں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقل، محبت، ضمیر، انصاف، ان کا بھی کوئی ٹیسٹ ٹیوب ثبوت نہیں،
لیکن کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرتا۔

جاوید اختر: مذہب انسانی تخلیق ہے، اس لیے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے!
مفتی شمائل ندوی: سوال کرنا ضروری ہے،
لیکن پہلے، آئیے فیصلہ کریں:
انسان قانون بناتا ہے یا کائنات؟
اگر انسان ہی سب کچھ ہوتا
پھر موت، فطرت اور تقدیر پر اس کا اختیار کیوں نہیں؟

جاوید اختر: میں وہی مانتا ہوں جو عقل مانتی ہے۔
مفتی شمائل ندوی: عقل بہت قیمتی ہے،
لیکن عقل خود کہتی ہے کہ وہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتی۔ عقل سب کچھ سمجھ جائے تو غرور علم کہلائے گا۔

جاوید اختر: مذہب لوگوں کو تقسیم کرتا ہے۔

مفتی شمیل ندوی: مذہب لوگوں کو تقسیم نہیں کرتا۔ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کو تقسیم کرتے ہیں۔

چاقو کھانے اور انسان دونوں کو کاٹتا ہے، اس لیے قصور چھری کا نہیں بلکہ استعمال کرنے والے کا ہے۔

ان تمام سوالوں کے بعد مفتی شمیل ندوی کے جوابات جذباتی نعرے نہیں تھے بلکہ عقل، فطرت اور منطق کی تین جھلکیاں تھیں۔

کوئی اونچی آواز نہیں، کوئی طنز نہیں، بس پرسکون سوالات جنہوں نے ان کی تردید کرنے والوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ کوئی بحث نہیں تھی، یہ منطق کا پوسٹ مارٹم تھا۔
جہاں شور نہیں تھا لیکن الفاظ بھاری تھے۔
جہاں تالیاں نہیں بلکہ خاموشی گواہی دے رہی تھی۔

مفتی صاحب نے ثابت کر دیا۔
ایمان توہم پرستی نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے۔
جو دلیل کے ہر امتحان پر پورا اترتا ہے۔

اسے "جواب" کہنا ایک معمولی بات ہوگی۔

یہ سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا دینے والی وضاحت تھی۔

اس طرح کی وضاحت کا مقصد دلیل جیتنا نہیں ہے، بلکہ حقیقت کو پیش کرنا ہے۔
شور مچانے والے اور وضاحت کرنے والے میں یہی فرق ہے۔
اور آج وضاحت کرنے والے نے بغیر کسی ہنگامے کے سب کچھ کہہ دیا۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔ #منقول
اپنا نقطہ نظر لازمی شیئر کریں👍

21/12/2025

I got over 100 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

میں رویوں سے واقف لڑکی مگر مجھے لاعلم رہنا پسند ہےمان رکھنا پسند ہے اکثر لوگ تجسس رکھتے ہیں اُنہیں لگتا ہے کہ،شاید میں ز...
21/12/2025

میں رویوں سے واقف لڑکی
مگر مجھے لاعلم رہنا پسند ہے
مان رکھنا پسند ہے
اکثر لوگ تجسس رکھتے ہیں
اُنہیں لگتا ہے کہ،
شاید میں زندگی کی
دوڑمیں ایک ڈپریس لڑکی ہوں
کسی حد تک ٹھیک ہے
پر میں خود زندگی میں سکون کا دوسرا نام ہوں
میں اچھائی کی دعویدار نہیں
میں بات کرتی ہوں
جب کرنا چاہتی ہوں
جس سے کرنا چاہوں
ورنہ محفل میں فقط
سر کی جنبیش سے جواب دیتی ہوں
کمال کی نرم مزاج لڑکی
لیکن ضبط پر آؤں تو ہنسی کو بھی رولا دوں
خاک نشین رہنا پسند ہے
مجھے اپنی دنیا میں مگن رہنا پسند ہے
مجھے اپنی روح عزیز تر ہے
#شہزادی #کرن

میں نے برائی کا جواب برائی سے دینے کا ارادہ کیا، مگر پھر یہ جانا کہ ایسا کرنے سے میں بھی نقصان میں رہوں گا، جیسے کوئی کت...
17/12/2025

میں نے برائی کا جواب برائی سے دینے کا ارادہ کیا، مگر پھر یہ جانا کہ ایسا کرنے سے میں بھی نقصان میں رہوں گا، جیسے کوئی کتے کے کاٹنے کا جواب اسے کاٹ کر دے۔
تھوڑی دیر رک کر میں نے درختوں کو دیکھا جو اپنی خشک پتیاں گرا دیتے ہیں لیکن اپنی شاخیں اور جڑیں محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ صرف پتیاں بدلتے ہیں، اپنی بنیاد نہیں۔
تب میں نے سمجھا کہ طریقہ بدلنا مقصد کو نہیں بدلتا، اور یہی اصل سمجھداری ہے۔

ہمیں ان لوگوں کے ساتھ جو ہمارے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں، اچھے انداز میں پیش آنا چاہیے، کیونکہ ان کے جیسا بننا ایک جال ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے گندگی میں سور کے ساتھ لڑائی کرنا؛ وہ اس سے لطف اندوز ہوگا، اور ہم چاہے جیت بھی جائیں، گندگی میں لت پت ہو جائیں گے۔
یہ ایک ایسی جیت ہوگی جس کا ذائقہ شکست جیسا ہوگا۔

اچھے طریقے سے پیش آنا آپ کی تربیت اور اصولوں کا آئینہ ہے، اور یہ کسی کو اجازت نہ دینے کا بہترین طریقہ ہے کہ وہ آپ کو اپنی سطح پر لے آئے۔
یہ سچ ہے کہ ہم سب کی آنکھیں ایک جیسی ہیں، مگر ہماری نظروں کا زاویہ مختلف ہے۔

16 December 2025 Black Day🖤💔It’s been 11 years now but still this picture bring tears in my eyes16 December Black Day😢😭ب...
16/12/2025

16 December 2025 Black Day🖤💔
It’s been 11 years now but still this picture bring tears in my eyes
16 December Black Day😢😭
بچے سکول جائیں اور پھر واپس نہ آئیں
یا الله پھر کبھی ایسا دسمبر نہ آئے۔۔💔😭

16 𝘿𝙚𝙘𝙚𝙢𝙗𝙚𝙧 2014 (𝘽𝙡𝙖𝙘𝙠 𝘿𝙖𝙮).
ہماری خاک سے خوشبو وطن کی آے گی
ہمارا خون اسِ مٹی کے رنگ میں شامل ہے
#16دسمبر 😥
💔جب بھی خیال آتا ,دل خون کے آنسو ,روتا ہے
اللہ پاک ان والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمیـــــــــــــن یَارَبَّ العَالَمِین
🤲🤲🤲🤲
#16دسمبر

15/12/2025

*❣️زندگی کی ساری حقیقت دو آیتوں میں*

*فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى۞ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا۞*

*پس جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبختی میں پڑے گا۔اور جو میرے ذِکر سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔*

*📗 سورۃ طٰہٰ آیت نمبر 123- 124*

14/12/2025

ہم لوگ تو پہلے ہی بہت ٹوٹے ہوئے ہیں
برتے نا بہت سخت رویہ اُسے کہنا

کہنا کہ زمانے تو گزر جائیں گے لیکن
مجھ سے نہیں گزرے گا وہ لمحہ اُسے کہنا

13/12/2025

کمزور دل حضرات اس پوسٹ سے دور رہیں۔

شروعات میں ہی وہ شاک آپ سے شیئر کیا جائے گا۔
جو کسی دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے۔

تصور کریں کہ آپ کا بیٹا بمشکل 1 سال اور 2 مہینے کا ہوا ہے۔

ایک دن وہ بہت زیادہ رو رہا ہو اور شور مچا رکھا ہو۔
اور آپ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی چپ نہ ہو۔
تو گھر آیا اک مہمان اس بچے کو جھولے سے نکالے۔
اور اس بچے کا چہرہ گرم ہیٹر کے اوپر چپکا دے؟

جی ہاں یہ کھرا اور افسوسناک سچ امریکہ میں ہوچکا ہے۔

ریمنڈ کی عمر بمشکل 14 ماہ تھی اور اس دن وہ بہت رویا۔
اور اس کی مما کے فرینڈ رونالڈ نے بچے کو روٹی کی طرح پکادیا تھا۔
ہاں وہ بچہ گرم بجلی کے ہیٹر کے اوپر تڑپ رہا تھا۔

(یہ نومبر 1978 میں مشی گن کا واقعہ ہے۔)

جب بچے کو بچا کر ہسپتال پہنچایا گیا۔
تو ڈاکٹرز کے مطابق تھرڈ ڈگری کی جلن ہوئی تھی۔

پہلی ڈگری: جب ہماری جلد سرخ ہوجاتی ہے۔
مثال: دھوپ میں زیادہ دیر بیٹھنے سے جو محسوس ہوتی۔

سیکنڈ ڈگری: جلد کی اوپری تہہ جل جاتی ہے۔
جیسے گرم پانی سے جسم پہ چھالے پڑ جاتے ہیں۔

تھرڈگری: جس میں جلد کی تمام تہیں جل جاتی ہیں۔
عموما بجلی کے جھٹکے یا کھولتے تیل یا کیمیکل سے ایسا ہوتا ہے۔

اب خود تصور کر لیں کہ چھوٹے بچے پہ اس سمے کیا گزری ہوگی۔

ہسپتال کے عملے کا ماننا تھا کہ شاید ہی ریمنڈ بچ سکے۔
اور رات نکالنا بھی معجزانہ ہوگا۔

مگر کمال بہادری سے اس بچے نے اس مشکل گھڑی کا سامنا کیا۔
جب اس کا چہرہ جل کر کسی پاپڑ کی طرح سخت و خراب ہوچکا تھا۔

اس کے بعد کچھ سرجریز کی گیں۔
اور وہ دھیرے دھیرے صحت مند ہوگیا۔

دوسری طرف رونالڈ کو 10 سال جیل ہوئی۔

ادھر ریمنڈ دھیرے دھیرے بڑا ہونا لگا۔

مگر خراب چہرے سے لوگوں نے مزاح اڑایا۔
یوں وہ کسی حد تک افسردہ بھی رہنے لگا۔

جلے ہوئے چہرے کی وجہ سے سوسائٹی نے قبول نہیں کیا۔
حالاں کہ اس میں ریمنڈ کا رتی برابر بھی قصور نہیں تھا۔

چناں چہ یہ بچہ تنہا اور اداس رہنے لگا۔
اور صرف 13 سال کی عمر میں شراب نوشی شروع کردی۔

اس کے سخت رویے کی وجہ سے گھر سے نکالا گیا۔
ہاسٹل میں کوچ کی نگرانی میں کافی عرصہ گزارنا پڑا۔

اک اور سزا نے اس بچے کو مکمل بدل دیا۔

جب اسے کوچ کی نگرانی میں وقت گزارنا پڑا۔
تب اسے پتہ چلا:

“کوچ کا باپ بھی شراب نوشی کا شکار تھا۔”

ریمنڈ نے بعد میں لکھا:
"اسی وقت مجھے احساس ہوا کہ ہر کسی کے زخم ہوتے ہیں۔
کچھ باہر نظر آتے ہیں۔ اور کچھ اندر چھپے رہتے ہیں۔"

سال 1998ء میں انہوں نے کالج مکمل کیا۔
چار سال بعد انہوں نے میجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔
امریکن ہاکی لیگ میں اکائونٹ مینجر کی پوزیشن بھی کام کیا۔

اور اب وہ درمیانے درجے کے بزنس مین ہیں۔
اک خوشگوار کاروباری شخصیت ہونے کے علاوہ ان کی کتاب بھی شایع ہوئی۔
کتاب Scars: Leaving Pain in the Past کہ کچھ قیمتی موتی پڑھیے:

1): ہم اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتے۔
مگر اسے اپنے بہتر مستقبل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

2): جب تک آپ " کیوں میں" میں رہو گے۔
ماضی میں ہی پھنسے رہو گے۔

3): آپ دوبارہ تعمیر ہوسکتے ہو۔

4): جب آپ اپنا درد دوسروں کی مدد میں بدلوگے۔
حقیقی شفا شروع ہوجائے گی۔

5): زندگی میں تبدیلی روزانہ کی روٹین ہے۔
اپنے حوصلے سے کہانی کو بدلو۔

اور اب وہ خوشگوار زندگی گزار رہا ہے:
وہ اپنی تقاریر سے لوگوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔
اس کی کتاب سے لوگوں کو امید ملتی ہے۔
وہ اپنے پائوں پہ کھڑا ہوکر زندگی کا مقابلہ کر رہا ہے۔

قارین اکرام!
آپ بھی خود سے یہ سوال اگر کرتے ہیں ۔
"وائے می ! اللہ جی۔۔۔۔؟"
تو اس سوال کو بھول کر موجودہ صورتحال کو وسعت قلبی سے قبول کریں۔

اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں مگن ہوجائیں۔

آپ کو ریمنڈ کی سچی کہانی سے کیا سبق ملا؟
اور بچوں کے رونے کا کیسے ہینڈل کرتے ہیں؟

شکریہ
بلال مختار 🖊️
آسٹریلیا

13/12/2025

اللّٰہ کے ذکر کی فضیلت
جنت میں بہت سے ایسے گھر ہوں گے جو ذکر الہٰی کے سبب بنائے جائیں گے لہذا کثرت سے ﷲ تعالیٰ کا ذکر کریں تاکہ ہمارا بھی جنت میں بہت خوبصورت گھر ہو. `رَبِّ ابۡنِ لِىۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِى الۡجَـنَّةِ

13/12/2025

جی چاہتا ہے کرن! تیرے نام پہ سب کچھ ہار دوں
اور تو کچھ نہیں بس اپنی زندگی وار دوں
#کرن #شہزادی

Address

Kakul

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kiran shahzadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share