15/04/2025
🌴 *سبق نمبر 2: نماز میں صف بندی کی اہمیت، اور کندھوں و قدموں کے ملا کر کھڑے ہونے کا نبوی طریقہ* 🌴
نماز اسلام کا سب سے اہم ستون ہے، اور جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی میں صفوں کی درستگی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف بندی کے معاملے میں سخت تاکید فرمائی اور صحابہ کرام کو اس کی پابندی کا حکم دیا۔
☘️ *1▪︎ صفوں کو درست کرنا نماز کا حصہ ہے۔* ☘️
1۔ ✒️ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی صفیں درست کرو کیوں کہ صفیں درست کرنا نماز کی تکمیل میں شامل ہے ۔
📗صحیح بخاری: حدیث نمبر، 723 / ابن ماجہ: حدیث نمبر، 993
2۔✒️ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز سے قبل ہمارے کندھوں کو پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے تھے اور فرماتے تھے : آگے پیچھے کھڑے نہ ہوا کرو ورنہ تمھارے دل بھی ایک دوسرے سے بگڑ جائیں گے۔
📗سنن نسائی: حدیث نمبر، 808
3۔✒️ عن نعمَانَ بْنُ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُسَوِّي الصَّفَّ ، حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الرُّمْحِ أَوِ الْقِدْحِ قَالَ ، فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ»
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ صف کو ( انتہائی اہتمام سے ) سیدھا کرتے تھے حتی کہ نیزے یا تیر کی طرح ( سیدھی ) کر دیتے ۔ ( ایک بار ) آپ ﷺ نے ایک آدمی کا سینہ ( صف سے ) آگے بڑھا ہوا دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی صفیں سیدھی کرو ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔‘‘
📗 ابن ماجہ: حدیث نمبر، 994
🌿 *2▪︎ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملانے کا حکم:* 🌿
1۔✒️ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» قَالَ ، قُلْنَا : وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ : «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»
حضرت جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ( صحابہ کرام سے ) فرمایا :’’ تم اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں بناتے ہیں ؟‘‘ راوی کہتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صف بندی کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘
📗 ابن ماجہ: حدیث نمبر، 992
2۔✒️ عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي ، وَكَانَ أَحَدُنَا يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَقَدَمَهُ بِقَدَمِهِ》
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، صفیں برابر کر لو ۔ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ ( صف میں ) اپنا مونڈھا اپنے ساتھی کے مونڈھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا دیتا تھا۔
📗 صحیح بخاری: حدیث نمبر، 725
3۔✒️ عن النُّعْمَانَ بْنَ بَشِير، يَقُولُ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثَلَاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَلْزَقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ》
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا :’’ اپنی صفیں برابر کر لو ۔‘‘ آپ نے یہ تین بار فرمایا :’’ قسم اللہ کی ! ( ضرور ایسا ہو گا کہ ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا ۔‘‘ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔
📗 سنن ابوداؤد: حدیث نمبر، 662
🍁 *3▪︎ صفوں میں خلا چھوڑنے سے شیطان داخل ہوتا ہے:* 🍁
1۔✒️ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عُمَرَ أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ، وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ》
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صفوں کو درست کر لو ، کندھوں کو برابر رکھو ، درمیان میں فاصلہ نہ رہنے دو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم بن جاؤ اور شیطان کے لیے خلا نہ چھوڑو ۔ جس نے صف کو ملایا ، اللہ اسے ملائے اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اسے کاٹے۔
📗 سنن ابوداؤد: حدیث نمبر، 666
2۔✒️ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ》
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو ۔ انہیں قریب قریب بناؤ اور گردنوں کو بھی برابر رکھو ۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ خالی جگہوں میں سے تمہاری صفوں میں گھس آتا ہے گویا وہ بکری کا بچہ ہو ۔‘‘
📗 سنن ابوداؤد: حدیث نمبر، 667
⚘️ *4▪︎ صفوں کو ملانے کی فضیلت* ⚘️
1۔✒️ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلِّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرْجَةً»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کا خلا پر کرے گا ، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دے گا ۔‘‘
📗 ابن ماجہ: حدیث نمبر، 995
یاد رکھیں! صف میں خلا چھوڑنا نہ صرف شیطان کے داخلے کا سبب بنتا ہے بلکہ امت کے دلوں میں تفرقہ ڈالنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ لہٰذا صفوں کو سیدھا کرنا اور کندھوں و قدموں کو ملا کر کھڑے ہونا نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے اور اتحادِ امت کی علامت بھی۔
*نوٹ:*📝
*صف بندی اور ٹخنے سے ٹخنا ملانے کی وضاحت*
نماز میں صفوں کو درست اور سیدھا رکھنا سنت مؤکدہ ہے۔ اس سلسلے میں بعض باتوں کی وضاحت ضروری ہے تاکہ ہم سنت پر عمل بھی کریں اور افراط و تفریط سے بھی بچیں۔
*1. ٹخنے سے ٹخنا ملانا صرف قیام اور رکوع کی حالت میں ہے۔*
ہر نمازی کو چاہیے کہ قیام اور رکوع کے وقت اپنے ٹخنے کو ساتھ والے نمازی کے ٹخنے سے ملائے تاکہ صفیں سیدھی اور برابر ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری نماز کے دوران ٹخنے آپس میں جُڑے رہیں۔
*2۔حد سے زیادہ پاؤں پھیلانا سنت کے خلاف ہے۔*
بعض لوگ ٹخنے سے ٹخنا ملانے کی کوشش میں ضرورت سے زیادہ پاؤں کھول دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے کندھے اپنے ساتھی کے کندھوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ سنت کے خلاف اور غلو ہے۔
*3. صرف پاؤں کی انگلیاں ملانا بھی تفریط ہے۔*
دوسری طرف کچھ لوگ صرف پاؤں کی انگلیاں ملاتے ہیں اور ٹخنے ملانے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہ بھی سنت کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ صف میں کندھے اور ٹخنے دونوں کا برابر ہونا مطلوب ہے۔
*4. اعتدال اور توازن ضروری ہے۔*
صف بندی میں اصل مقصد یہ ہے کہ:
▪︎صفیں سیدھی اور برابر ہوں
▪︎کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنا ملا ہو
▪︎صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوں
اس کے لیے ضروری ہے کہ نمازی اپنے جسم کے تناسب سے پاؤں کھولے—نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم۔
🖊 محمد طیب شیخ:
نور الھدی انسٹیٹیوٹ ککہ کولو