14/10/2023
مجھے اکثر فیس بک میسنجر، واٹس ایپ اور کمنٹس سیکشن میں سوال آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میرے بچے کا قد چھوٹا ہے، براہ کرم مجھے کوئی دوا بتائیں؟
طب کا ہر مسلہ نزلہ زکام نہیں ہوتا ہے کہ آپ پیناڈول یا آریناک لیں گے اور یہ ٹھیک ہوجاۓگا۔ چھوٹے قد کی تشخیص اور اس کا علاج ایک پوری سائنس ہے۔
ہم پہلے بچے کی تفصیلی ہسٹری لیتے ہیں ,قد کی پیماٸیش کرتے ہیں اور پھر مخصوص چارٹ پر کر اس کا موازنہ اس عمر کے بچوں کےقد کے اوسط سے کرتے ہیں۔ اگر بچہ اس جانچ کے مطابق چھوٹے قد کا ہے تو والدین کے قد کی پیمائش کی جاتی ہے اور دوبارہ چارٹ پر موزانہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بچے کا قد والدین کے قد کے مطابق ہےیا نہیں۔
اگر بچے کا قد نارمل ہے یا اگر بچوں کا قد چھوٹا ہے لیکن والدین کےقد سے مطابقت رکتاہے تو ہم مزید جانچ نہیں کریں گے۔ بصورت دیگر ہمیں مختلف بیماریوں کے لیے دیکھنا پڑتا ہے جس سے قد چھوٹا ہو سکتا ہے۔ عام بیماری جو چھوٹے قد کا سبب بن سکتی ہے وہ ہارمون کے مسائل ہیں جیسے تھائیرائیڈ کے مسائل، غذائیت کی کمی، تپ دق، گندم کی الرجی، گردے کے مسائل، وٹامن ڈی سے متعلقہ ہڈیوں کے مسائل اوراسی طرح اور بیماریاں ہیں۔
اس پوسٹ کو لکھنے کا مقصد عوام میں شعور پیدا کرنا ہے کہ چھوٹے قد کے لیے کوئی شربت یا گولی نہیں ہے جو آپ دواور سب ٹھیک ہو جاۓ.آپ کو پہلے چھوٹے قد کی تشخیص کرنی ہوگی اور پھر اس کی بنیادی وجہ معلوم کرنی ہوگی . علاج ان دو مراحل کے بعد ہی ممکن ہے۔
بچوں کے مسائل کے لیے ہمیشہ اپنے قابل چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔ بلوغت کے بعد ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے لہذا اگر اس کے بعد آپ اپنے ڈاکٹرکے پاس جاٸیں گے تو اس کا کوئی حل نہیں ہے۔
Dr Imran Malik Child Specialist