Loyan, Badhal Shareef

Loyan, Badhal Shareef The main purpose of this page is to promote the beautiful places for visitors.

17/08/2026

ویسے بہت افسوس کی بات ہے ۔یہ ایک وکیل صاحب پر مظالم کی داستان ہے ۔یاد رکھیں یہ کرسی بہت ہی عارضی یے ۔اس سے آپ کی مشکلات میں اضافہ ہو گا کمی نہیں ؟

اسلام و علیکم برداران۔
امید ہے سارے بھائی خیریت سے ہوں گے۔ آزادکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں میرے آبائی حلقہ LA-17 حویلی کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے گزشتہ دو ہفتے حویلی میں گزرے۔ 10 اگست کے جعلی و فرضی انتخابی ڈرامہ نے میرے ذہن و قلب کو شدید پریشانی و ندامت میں مبتلا کر دیا ہے۔
آپ سارے دوستوں سمیت میرے حلقہ تعارف کے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ سے اور ہرحال میں آئین و قانون کی عملداری کی بات کی ہے۔ آپ سب دوست اس بات سے بھی واقف ہیں کہ میں نے ہمیشہ نامعقولیت کے مقابل اصول، حماقت کے مقابل دانش، دھونس دھاندلی کے مقابل قانون و ضابطہ کی بات کی ہے۔ غرض یہ کہ میں اللہ رسول ﷺ پر ایمان کے بعد آئین و قانون کی بالادستی سمیت اتحاد امت داعی رہا ہوں۔ آئین و قانون کے تحت قائم اداروں کے احترام سمیت رائج الوقت جمہوری نظام میں بیلٹ کے ذریعہ تبدیلی کا حامی ہوں۔ اپنے افکار و نظریات رکھتے ہوئے دوسروں کی عزت و احترام کو خود پر مقدم رکھا۔ غلطی سے بھی کوئی ناگوار عمل سرزد ہو جائے تو معذرت کرنے میں کبھی تعامل سے کام نہیں لیا۔

مگر حالیہ جعلی و فرضی الیکشن کے دوران پیش آنے والے واقعات نے راقم کو سوچ و فکر کو بری طرح متاثر کرتے ہوئے سوالات کا لامتناعی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ حالیہ انتخاب میں راقم خواجہ طارق سعید کو سپورٹ کر رہا تھا جنکے حق میں جناب وزیراعظم صاحب نے اسٹام شدہ بیان حلفی دے رکھا ہے کہ سال 2026 کے الیکشن میں خواجہ طارق سعید صاحب امیدوار ہونگے اور فیصل راٹھور صاحب ان کی حمایت کریں گے۔ سال 2021 کے انتخاب میں ٹھیک اسی طرح کا اسٹام خواجہ طارق سعید صاحب نے فیصل صاحب کو دے رکھا تھا۔ جس پر عمل درآمد کے لیے راقم خواجہ صاحب کے گھر جا کر ان سے لڑ پڑا تھا۔

راقم نے خواجہ طارق سعید صاحب کے ذاتی صاف شفاف کردار سمیت جناب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے اسٹام کی بنیاد پر خواجہ طارق سعید صاحب کی سپورٹ کا فیصلہ کیا۔ جبکہ سابق کئی الیکشن ہا میں راقم کا خاندان فیصل صاحب کی سپورٹ کرتا رہا۔

10 اگست کی صبح پولنگ سے قبل ہی فیصل صاحب کی برادری کے لوگوں نے گالی گلوچ شروع کر دی۔ پولنگ خفیہ رکھنے پر اعتراض کر کہ دوران پولنگ تین بار حملہ آور ہوئے۔ جیسے ہی کوئی ووٹ خواجہ طارق سعید صاحب کو کاسٹ ہوتا خواتین کے سامنے ووٹ ڈالنے والے کو ننگی گالیاں دے کے حملہ کر دیتے۔ پولنگ اسٹیشن پر تین بار پتھراو اور حملہ کیا گیا۔ دوپہر تک پولنگ ایک مسلسل جھگڑا کی شکل میں جاری رکھی اور مسلسل گالی گلوچ حملہ دھکے مکے برداشت کیے۔ 12:26 منٹ تک تقریباً سوا دو سو ووٹ کاسٹ ہوا اور اس دوران بیس پچیس مسلحہ افراد پولنگ اسٹیشن نمبر 166 کے اندر داخل ہو کر پولنگ بند کروا دی گئی۔ 3:40 منٹ پر یوسی سانگل کے مختلف دیہات سے 50/60 افراد اسلحہ لے کر راقم کے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گئے اور پریزائڈنگ آفیسر کے سینہ پر کلاشنکوف رکھ کر 492/555 ووٹ بحق پی پی امیدوار دستخط کرواتے ہوئے پولنگ کا سامان لے کر نکل گے۔ بعد ازاں کسی گھر میں بیٹھ کر دیگر جماعتوں کے ووٹ نکال کر جلا دیئے گے اور پی پی کے حق میں 492 ووٹ پورے کر دیئے گئے۔ اس سارے عمل کے میرے خاندان کا راستہ بند کر دیا گیا۔ ہمارے گراج پر ڈبل تالا لگا کر گاڑی روک دی گئی۔ میرے والد محترم کینسر پیشنٹ ہیں جنکو چیک اپ کے لیے راولپنڈی لے جانا تھا۔ ڈی سی صاحب کے تعاون سے گاڑی واگزار کروائی تو گراج مالک کو زبردستی دوکان نہ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ میرے ایک مزدور کزن کو ڈنڈے مارے گئے۔ میں اپنے پڑوسی بھائیوں سے اس درجہ بغض کی توقع نہیں رکھتا تھا جو دیکھنے کو ملا۔
میں بحیثیت ایک وکیل اس سارے غیر قانونی عمل کا متاثرہ شخص ہوتے ہوئے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں اور سوچتا ہوں کہ بدمعاشیہ کہ اس ملک میں کہی میں غلط سمت تو نہیں کھڑا۔ کہئ ایسا تو نہیں کہ ووٹ لے ذریعے تبدیلی اب اس ملک میں ممکن نہیں رہی۔کہی ایسا تو نہیں کہ ایکشن کمیٹی والے درست تھے اور ہم غلط۔ اب لوگ سوال کرتے ہیں کہ کہاں گئی تمہاری آئین و قانون سمیت اصول کی باتیں تو یقین جانیے میرے پاس جواب نہیں میں لاجواب ہوں۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں کہ میں خود کو اور نوجوانوں کیا جواب دوں کہ کیونکر اس ریاستی نظام کا احترام کیا جائے۔ کیوں کسی جتھے کے ہتھے نہ چڑھا جائے جبکہ ریاست خود جتھوں کے سہارے چل رہی ہے۔ آئین و قانون اور ضابطہ تو درکنار لوگ خدا رسول ﷺ کے باغی ہو چکے ہیں۔

یہ ہیں وہ اتنشاری لوگ ۔جن کی وجہ سے حویلی کا پرامن ماحول خراب ہوتا ہے ۔یہ سکرن شارٹ اپنے پاس رکھ لیں کسی پر کوئی حملہ ہو...
17/08/2026

یہ ہیں وہ اتنشاری لوگ ۔جن کی وجہ سے حویلی کا پرامن ماحول خراب ہوتا ہے ۔
یہ سکرن شارٹ اپنے پاس رکھ لیں کسی پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسکے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ۔
کیا قانون ان موصوف کے خلاف بھی حرکت میں آئے گا ؟

16/08/2026

تحریر:ڈاکٹر شاہد حبیب
چوہدری محسن عزیز صاحب اور خواجہ طارق سعید صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جیت مبارک ہو۔
آپ ہار کر بھی جیت گئے، اور فیصل ممتاز راٹھور صاحب جیت کر بھی ہار گئے۔
آج حویلی میں معاملہ صرف ایک انتخابی نتیجے کا نہیں، بلکہ عوام کے ووٹ، حقِ رائے دہی اور جمہوری امانت کے احترام کا ہے۔ جس استقامت، حوصلے اور جرات کے ساتھ آپ اور خواجہ طارق سعید صاحب نے اپنے مؤقف کے مطابق جمہوریت اور انصاف پر ہونے والے وار کا مقابلہ کیا، اسے حویلی کی سیاسی تاریخ مدتوں یاد رکھے گی۔

یہ کوئی مبینہ معاملہ یا محض سیاسی الزام نہیں، من پسند افراد کو پولنگ کے عملے میں شامل کرنے، ٹھپے لگانے اور تمام تر سرکاری و سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود جب مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا تو بالآخر فارم 24 کے ذریعے نتیجہ تبدیل کیا گیا، حتیٰ کہ چوہدری محسن عزیز صاحب اور خواجہ طارق سعید صاحب کے ووٹ بھی دوسرے امیدوار کے کھاتے میں ڈالے گئے۔ یوں ایک ایسی کامیابی سامنے آئی جو سرکاری کاغذ پر تو درج ہو سکتی ہے، مگر عوام کے دلوں میں موجود فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

اس سارے معاملے کی ایک اور تلخ حقیقت مسلم لیگ (ن) کے کردار کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تاثر ہے کہ یہ نشست وزیراعظم آزاد کشمیر کو گویا تحفے میں دے دی گئی۔ اس انتخاب نے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے: اگر عوام کی رائے کا احترام صرف اس وقت ہو جب وہ طاقتوروں کی خواہش کے مطابق ہو تو پھر جمہوریت کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟

ہماری جمہوریت کی کیفیت آج مجھے اس عمارت جیسی محسوس ہوتی ہے جو حرام کی کمائی سے تعمیر کی گئی ہو، مگر اس کی پیشانی پر بڑے فخر سے لکھ دیا جائے:

"هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي"

عمارت خواہ کتنی ہی بلند اور خوب صورت ہو، اگر اس کی بنیاد ناانصافی پر رکھی گئی ہو تو پیشانی پر لکھی مقدس عبارت اس بنیاد کو پاک نہیں کر سکتی۔

اور قدرت کا اصول بھی عجیب ہے۔ ناانصافی ہمیشہ اپنا انجام فوراً نہیں دکھاتی۔ ظالم کو مہلت ملتی ہے تو وہ اسے اپنی فتح اور اقتدار کو دائمی سمجھ بیٹھتا ہے، مگر قرآن متنبہ کرتا ہے:

"وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ"
اور ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔
(سورۃ ابراہیم: 42)

مہلت، رضامندی نہیں؛ خاموشی، غفلت نہیں؛ اور وقتی کامیابی، حقانیت کی سند نہیں۔ اقتدار امتحان بھی ہے اور امانت بھی، اور تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ طاقت ہمیشہ کسی ایک کے پاس نہیں رہتی۔

سردار عتیق احمد خان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہیں بالآخر ایک عام انسان نے تقریباً 21 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ یہی تاریخ کا سبق ہے کہ عوامی رائے کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اگر ووٹوں میں ردوبدل نہ ہوتا تو چوہدری محسن عزیز صاحب تقریباً 38 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوتے اور خواجہ طارق سعید صاحب تقریباً 27 ہزار ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہوتے۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے تھے۔

میں بالخصوص خواجہ طارق سعید صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ جس حوصلے، جرات اور استقامت سے انہوں نے اس نظام کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ بعض اوقات اصل کامیابی اسمبلی کی نشست نہیں بلکہ طاقت کے سامنے اصول پر کھڑے رہنا ہوتی ہے۔

چوہدری محسن عزیز صاحب اور خواجہ طارق سعید صاحب! میری آپ دونوں سے گزارش ہے کہ آج اپنے لیے جس انصاف اور ووٹ کے تقدس کا مطالبہ کر رہے ہیں، کل اقتدار میں آکر اپنے مخالف کے ووٹ کی بھی اسی طرح حفاظت کیجیے۔ حویلی کے عوام سے عہد کیجیے کہ نہ کسی کو ان کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے دیں گے اور نہ خود کبھی وہ راستہ اختیار کریں گے جس کے خلاف آج کھڑے ہیں۔

اگر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ جرم ہے تو مخالف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ بھی جرم ہے۔ اصل آزمائش اس دن ہوگی جب طاقت آپ کے ہاتھ میں اور مخالف کا حق آپ کی امانت ہوگا۔

اس انتخاب کے بعد پیپلزپارٹی کے لوگوں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات نے حالات کو مزید تلخ کیا ہے۔ سیاسی اختلاف کسی کو کسی کی جان، عزت یا مال کو نقصان پہنچانے کا حق نہیں دیتا۔ اس کے باوجود میری آپ دونوں سے درخواست ہے کہ اپنے کارکنوں اور چاہنے والوں کو صبر، تحمل اور امن کی تلقین کریں۔ ظلم کا جواب ظلم سے نہیں بلکہ قانون اور انصاف سے دیا جانا چاہیے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ دونوں حویلی کے امن، انصاف، عوامی حقوق اور تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل بنائیں۔ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ، مگر حویلی ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔

ہمیں ایک نشست نہیں، حویلی کو بچانا ہے؛
اقتدار نہیں، انصاف چاہیے؛
انتقام نہیں، قانون کی بالادستی چاہیے؛
اور تقسیم نہیں، امن اور اتحاد چاہیے۔

ووٹ چرایا جا سکتا ہے، عوام کا شعور نہیں۔
کاغذ پر نتیجہ بدلا جا سکتا ہے، دلوں کا فیصلہ نہیں۔
اور وقتی فتح طاقت دلا سکتی ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ کردار کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ حویلی کو امن کا گہوارہ بنائے، ہمارے لوگوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت فرمائے، ہمیں نفرت اور انتقام کی سیاست سے محفوظ رکھے اور ہماری قیادت کو ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر حویلی کے امن، انصاف، اتحاد اور تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

15/08/2026

کچھ دنوں بعد فیصل راٹھور طارق سعید محسن عزیز یہ سب مل کر اکٹھے کھائیں گے بیٹھیں گے مک مکا کریں گے لیکن حویلی میں عوام ایک دوسرے کا سر پھاڑ رہی ہے اپنے بنیادی حقوق کے لیے حویلی کی عوام کبھی بھی نہیں نکلتی چاہے وہ کسی بھی برادری سے ہو لیکن لیڈروں کے لیے ایک دوسرے کا سر پھاڑ رہی ہے افسوس ہے ایسی عوام پہ

15/08/2026

جیتنے والو ۔ دیکھ لو ۔۔۔۔۔کیسے دھندلا کیا ۔
میں جبی سیداں میں مردانہ بوتھ پر طارق سعید صاحب کا پولنگ ایجنٹ تھا ۔ ھمارے بوتھ پر فیصل راٹھور صاحب کو 135 ووٹ ملے ، محسن عزیز صاحب کو 96 ووٹ طارق سعید صاحب کو 10 ووٹ جبکہ جماعت اسلامی کو 13 ووٹ پڑے
زنانہ بوتھ پر فیصل صاحب کو 199 ووٹ جبکہ محسن عزیز صاحب کو 107 ووٹ ، طارق سعید صاحب کو 10 ووٹ اور جماعت اسلامی کو 10 ووٹ پڑے
یوں جبی سیدان میں فیصل صاحب کو کل 334 ووٹ جبکہ محسن عزیز صاحب کو 204ووٹ طارق سعید صاحب کو 20 ووٹ اور جماعت اسلامی کو 23ووٹ پڑے ۔ عامر نذیر صاحب کو کوئی ووٹ نہیں پڑا
جبکہ آر او آفس سے جاری انتخابی نتیجے میں فیصل صاحب کے 1100 سے اوپر ووٹ بتائے گئے ، جبکہ عامر نذیر صاحب کو 55 ووٹ ، محسن عزیز صاحب کے 35 ووٹ جبکہ طارق سعید صاحب کے صفر ووٹ دکھائے گئے
پریزائڈنگ آفیسر نے فارم 24 دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ ھمارا اختیار نہیں ، تصدیقیں دیں ، ایک تصدیق پر مبہم مہر لگانے کی کوشش کی جس پر راقم نے اعتراض کیا ، جس پر دوبارہ مہر لگائی
یوں کھلم کھلا دھاندل کیا گیا

15/08/2026

عوام کا کیا قصور ؟
انتظامیہ کہاں ہے ؟
ذمہ۔دار کون ؟
عام آدمی کو کون سمجھائے ؟
لیڈرز کہاں ہیں ؟
طارق سعید کے حامیوں نے خورشید آباد کو بند اور یرغمال کیا ہوا ہے محسن عزیز کے حامیوں نے کہوٹہ شہر کو بند اور یرغمال کیا ہوا ہے فیصل راٹھور کے حامیوں نے پلنگی شہر کو بند اور یرغمال کیا ہوا ہے ۔عام عوام کا کیا قصور ہے کیوں زلیل کیا ہؤا ہے الیکشن ہونا تھا یا سلیکشن ہو گئ بات ختم ۔ ان تینوں نے حویلی کو بدنام کروایا ساتھ پروس راولاکوٹ میں لوگ مر رہے ہیں یہ حویلی کے اندر ڈانس پارٹیاں کر رہے ہیں ۔کشمیر کے ساتھ جتنا دھوکہ حویلی کے لوگوں نے کیا شاید یہ دشمن ملک بھی نا کرتا ۔۔اس دور میں کوئی کسی کو کچھ نہیں کر سکتا یہ راستے بند گالیاں دینا کوئی بڑا کمال نہیں ہے ۔۔

14/08/2026

افسوس ناک خبر ۔
مظفرآباد میں راجہ برادری اور چوہدری برادران میں جگھٹڑا 3 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا
حلقہ کھاوڑہ کے علاقہ ترہالہ میں زمین کے تنازع دو برادریوں کے تصادم میں تبدیل ہو گیا، چوہدری امریز، چوہدری طاہر اور چوہدری نیاز کو راجہ برادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا جبکہ 3 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

پرزور مذمت کرتے ہیں ۔یہ کون لوگ ہیں جو حویلی کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں ؟
14/08/2026

پرزور مذمت کرتے ہیں ۔
یہ کون لوگ ہیں جو حویلی کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں ؟




14/08/2026

حویلی میں الیکشن: جمہوری اقدار، سیاسی قیادت اور عوامی ذمہ داری

الیکشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام جمہوری طریقے سے اپنی اکثریتی رائے کے مطابق ایسے نمائندے کا انتخاب کریں جس پر انہیں اعتماد ہو۔ کامیاب امیدوار کی ذمہ داری صرف اپنے ووٹرز تک محدود نہیں رہتی، بلکہ کامیابی کے بعد وہ پورے حلقے اور تمام شہریوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ جمہوریت میں منتخب نمائندے کا اصل کردار قانون سازی، عوامی مسائل کی ترجمانی، اداروں کی بہتری اور ریاستی نظام کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو دبانا یا مخالفین کے لیے مشکلات پیدا کرنا۔

دنیا کے جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ کسی شہری نے کس امیدوار کو ووٹ دیا، کس جماعت کی حمایت کی یا کس سیاسی اجتماع میں شرکت کی، یہ اس کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ منتخب نمائندے کو اس بنیاد پر شہریوں کے درمیان امتیاز نہیں کرنا چاہیے کہ کون اس کا حامی ہے اور کون مخالف۔ ریاستی ادارے بھی کسی سیاسی جماعت یا فرد کے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے بعض علاقوں، بالخصوص آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں، انتخابی سیاست کا ماحول کئی مرتبہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ یہاں انتخابات محض سیاسی مقابلہ نہیں رہتے بلکہ بعض اوقات برادری، گروہی وابستگی، ذاتی دشمنی اور سیاسی دباؤ کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ انتخابی تنازعات میں تشدد، راستے بند کرنے، بازار بند کرانے، گھروں پر پتھراؤ، دھمکیوں اور فریقین کو دباؤ میں لانے جیسے واقعات انتہائی تشویش ناک صورتحال پیدا کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کی قیمت اکثر عام اور غریب شہری ادا کرتے ہیں۔ نوجوان جذبات میں آ کر ایسے تنازعات کا حصہ بن جاتے ہیں جن سے ان کا ذاتی مستقبل تباہ ہو سکتا ہے۔ بعض واقعات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور برسوں تک دشمنیاں چلتی رہتی ہیں، جبکہ سیاسی قیادت اور بااثر افراد اپنے راستے پر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یہ سوال ہر شہری کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر ہم چند دن کی انتخابی سیاست کے لیے اپنی پوری زندگی کی خوشیاں کیوں داؤ پر لگا دیتے ہیں؟ جس امیدوار کو ہم ووٹ دیتے ہیں، وہ اگر کامیاب ہو بھی جائے تو کیا ہماری جان، عزت، روزگار اور مستقبل سے زیادہ قیمتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سیاست نظریات، منشور اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، ذاتی دشمنی کی بنیاد پر نہیں۔ اگر کوئی شخص مخالف امیدوار کو ووٹ دیتا ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ اس کے گھر کا راستہ بند کرنا، اسے دھمکی دینا، اس کے کاروبار کو نقصان پہنچانا، اس پر دباؤ ڈالنا یا اسے ریاستی اداروں کے ذریعے ہراساں کرنا جمہوری رویہ نہیں بلکہ قانون اور شہری آزادیوں کی نفی ہے۔

اسی طرح سیاسی قیادت کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ عوام اپنے قائدین کی بات سنتے اور ان کے رویے کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر قیادت اپنے کارکنوں کو برداشت، مکالمے اور قانون کی پاسداری کا درس دے تو انتخابی ماحول پرامن رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنا کر پیش کیا جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

حویلی جیسے علاقوں میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق بنائیں۔ مخالف امیدوار اور اس کے حامیوں کا احترام کیا جائے، انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں اشتعال انگیز زبان سے گریز کیا جائے، راستے بند کرنے، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور تشدد کی ہر شکل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اختلاف کی صورت میں مذاکرات، قانونی راستے اور ادارہ جاتی طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا غیر سیاسی اور آزادانہ کردار انتہائی ضروری ہے۔ پولیس، انتظامیہ، تعلیم، صحت، بجلی، آبپاشی اور دیگر سرکاری محکمے کسی منتخب نمائندے یا سیاسی گروہ کے ذاتی کنٹرول میں نہیں ہونے چاہئیں۔ سرکاری ملازم کو اس خوف میں کام نہیں کرنا چاہیے کہ حکومت یا سیاسی وابستگی تبدیل ہونے کی صورت میں اس کا تبادلہ، ترقی یا ملازمت متاثر ہو جائے گی۔ اداروں کی مضبوطی ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

حویلی کے عوام کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاست کو شخصیات اور برادریوں سے نکال کر کارکردگی، تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، بجلی، پانی، امن و امان اور نوجوانوں کے مستقبل سے جوڑیں گے۔ ووٹ کسی شخصیت کے لیے اندھی عقیدت نہیں بلکہ پانچ سال کے لیے عوامی نمائندگی کا ایک امانت ہے۔ اس لیے امیدوار سے سوال ہونا چاہیے: آپ نے گزشتہ مدت میں کیا کیا؟ آئندہ پانچ سال کے لیے آپ کا منشور کیا ہے؟ آپ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے لیے کیا عملی منصوبہ رکھتے ہیں؟

ایک باشعور ووٹر کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کس کے لیے لڑ سکتا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کتنا سمجھداری سے کر سکتا ہے۔

ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ "میرا امیدوار جیتے، چاہے کچھ بھی ہو۔" اس کے بجائے یہ سوچ پیدا کرنا ہوگی کہ "میرا علاقہ جیتے، میرا معاشرہ جیتے، قانون کی حکمرانی جیتے اور عام آدمی جیتے۔"

قرآن و سنت اور ہماری معاشرتی اقدار بھی ظلم، زیادتی اور ناانصافی کے بجائے عدل، صبر اور اصلاح کا درس دیتی ہیں۔ ایک معاشرہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتا؛ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہاں انسان کی جان، عزت، آزادیِ رائے اور قانون کی بالادستی محفوظ ہو۔

اس لیے حویلی سمیت ہر علاقے کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ انتخابی سیاست کو تشدد سے نکال کر خدمت کی سیاست بنایا جائے۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے، مخالف کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری حریف سمجھا جائے، اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے اور قانون توڑنے والے کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔

آخر میں ایک بات بہت اہم ہے: ظلم، دھونس اور طاقت کے ذریعے کسی معاشرے کو مستقل طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔ پائیدار نظام وہی ہوتا ہے جو انصاف، قانون، برداشت اور عوام کے حقیقی اعتماد پر قائم ہو۔

حویلی کے نوجوانوں اور عوام کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے نفرت، خوف اور سیاسی دشمنیوں کی میراث چھوڑنی ہے یا ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں اختلافِ رائے جرم نہ ہو، ووٹ آزاد ہو، ادارے غیر جانب دار ہوں اور سیاست کا مقصد صرف اور صرف عوام کی خدمت ہو۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شخصیات کے لیے نہیں، اصولوں کے لیے کھڑے ہوں؛ برادری کے نام پر نہیں، میرٹ کے نام پر ووٹ دیں؛ اور سیاسی دشمنی کے بجائے جمہوری اختلاف کو قبول کریں۔
اگر تحریر پسند آیی تو شئیر کریں

*چرون سے کہوٹہ جانے والی گاڑی ہائی ایس ٹیوٹا کرسن دھڑہ کے مقام پر حادثہ کاشکار۔* ایک بندہ بنام مہتاب دین موقع پر جان کی ...
26/03/2026

*چرون سے کہوٹہ جانے والی گاڑی ہائی ایس ٹیوٹا کرسن دھڑہ کے مقام پر حادثہ کاشکار۔*
ایک بندہ بنام مہتاب دین موقع پر جان کی بازی ہارگیا۔
جبکہ مزیدچارافرادزخمی۔
تفصیلات کاانتظار۔۔۔

Address

Kahuta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Loyan, Badhal Shareef posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Loyan, Badhal Shareef:

Shortcuts

Share