17/08/2026
ویسے بہت افسوس کی بات ہے ۔یہ ایک وکیل صاحب پر مظالم کی داستان ہے ۔یاد رکھیں یہ کرسی بہت ہی عارضی یے ۔اس سے آپ کی مشکلات میں اضافہ ہو گا کمی نہیں ؟
اسلام و علیکم برداران۔
امید ہے سارے بھائی خیریت سے ہوں گے۔ آزادکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں میرے آبائی حلقہ LA-17 حویلی کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے گزشتہ دو ہفتے حویلی میں گزرے۔ 10 اگست کے جعلی و فرضی انتخابی ڈرامہ نے میرے ذہن و قلب کو شدید پریشانی و ندامت میں مبتلا کر دیا ہے۔
آپ سارے دوستوں سمیت میرے حلقہ تعارف کے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ سے اور ہرحال میں آئین و قانون کی عملداری کی بات کی ہے۔ آپ سب دوست اس بات سے بھی واقف ہیں کہ میں نے ہمیشہ نامعقولیت کے مقابل اصول، حماقت کے مقابل دانش، دھونس دھاندلی کے مقابل قانون و ضابطہ کی بات کی ہے۔ غرض یہ کہ میں اللہ رسول ﷺ پر ایمان کے بعد آئین و قانون کی بالادستی سمیت اتحاد امت داعی رہا ہوں۔ آئین و قانون کے تحت قائم اداروں کے احترام سمیت رائج الوقت جمہوری نظام میں بیلٹ کے ذریعہ تبدیلی کا حامی ہوں۔ اپنے افکار و نظریات رکھتے ہوئے دوسروں کی عزت و احترام کو خود پر مقدم رکھا۔ غلطی سے بھی کوئی ناگوار عمل سرزد ہو جائے تو معذرت کرنے میں کبھی تعامل سے کام نہیں لیا۔
مگر حالیہ جعلی و فرضی الیکشن کے دوران پیش آنے والے واقعات نے راقم کو سوچ و فکر کو بری طرح متاثر کرتے ہوئے سوالات کا لامتناعی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ حالیہ انتخاب میں راقم خواجہ طارق سعید کو سپورٹ کر رہا تھا جنکے حق میں جناب وزیراعظم صاحب نے اسٹام شدہ بیان حلفی دے رکھا ہے کہ سال 2026 کے الیکشن میں خواجہ طارق سعید صاحب امیدوار ہونگے اور فیصل راٹھور صاحب ان کی حمایت کریں گے۔ سال 2021 کے انتخاب میں ٹھیک اسی طرح کا اسٹام خواجہ طارق سعید صاحب نے فیصل صاحب کو دے رکھا تھا۔ جس پر عمل درآمد کے لیے راقم خواجہ صاحب کے گھر جا کر ان سے لڑ پڑا تھا۔
راقم نے خواجہ طارق سعید صاحب کے ذاتی صاف شفاف کردار سمیت جناب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے اسٹام کی بنیاد پر خواجہ طارق سعید صاحب کی سپورٹ کا فیصلہ کیا۔ جبکہ سابق کئی الیکشن ہا میں راقم کا خاندان فیصل صاحب کی سپورٹ کرتا رہا۔
10 اگست کی صبح پولنگ سے قبل ہی فیصل صاحب کی برادری کے لوگوں نے گالی گلوچ شروع کر دی۔ پولنگ خفیہ رکھنے پر اعتراض کر کہ دوران پولنگ تین بار حملہ آور ہوئے۔ جیسے ہی کوئی ووٹ خواجہ طارق سعید صاحب کو کاسٹ ہوتا خواتین کے سامنے ووٹ ڈالنے والے کو ننگی گالیاں دے کے حملہ کر دیتے۔ پولنگ اسٹیشن پر تین بار پتھراو اور حملہ کیا گیا۔ دوپہر تک پولنگ ایک مسلسل جھگڑا کی شکل میں جاری رکھی اور مسلسل گالی گلوچ حملہ دھکے مکے برداشت کیے۔ 12:26 منٹ تک تقریباً سوا دو سو ووٹ کاسٹ ہوا اور اس دوران بیس پچیس مسلحہ افراد پولنگ اسٹیشن نمبر 166 کے اندر داخل ہو کر پولنگ بند کروا دی گئی۔ 3:40 منٹ پر یوسی سانگل کے مختلف دیہات سے 50/60 افراد اسلحہ لے کر راقم کے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گئے اور پریزائڈنگ آفیسر کے سینہ پر کلاشنکوف رکھ کر 492/555 ووٹ بحق پی پی امیدوار دستخط کرواتے ہوئے پولنگ کا سامان لے کر نکل گے۔ بعد ازاں کسی گھر میں بیٹھ کر دیگر جماعتوں کے ووٹ نکال کر جلا دیئے گے اور پی پی کے حق میں 492 ووٹ پورے کر دیئے گئے۔ اس سارے عمل کے میرے خاندان کا راستہ بند کر دیا گیا۔ ہمارے گراج پر ڈبل تالا لگا کر گاڑی روک دی گئی۔ میرے والد محترم کینسر پیشنٹ ہیں جنکو چیک اپ کے لیے راولپنڈی لے جانا تھا۔ ڈی سی صاحب کے تعاون سے گاڑی واگزار کروائی تو گراج مالک کو زبردستی دوکان نہ دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ میرے ایک مزدور کزن کو ڈنڈے مارے گئے۔ میں اپنے پڑوسی بھائیوں سے اس درجہ بغض کی توقع نہیں رکھتا تھا جو دیکھنے کو ملا۔
میں بحیثیت ایک وکیل اس سارے غیر قانونی عمل کا متاثرہ شخص ہوتے ہوئے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں اور سوچتا ہوں کہ بدمعاشیہ کہ اس ملک میں کہی میں غلط سمت تو نہیں کھڑا۔ کہئ ایسا تو نہیں کہ ووٹ لے ذریعے تبدیلی اب اس ملک میں ممکن نہیں رہی۔کہی ایسا تو نہیں کہ ایکشن کمیٹی والے درست تھے اور ہم غلط۔ اب لوگ سوال کرتے ہیں کہ کہاں گئی تمہاری آئین و قانون سمیت اصول کی باتیں تو یقین جانیے میرے پاس جواب نہیں میں لاجواب ہوں۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں کہ میں خود کو اور نوجوانوں کیا جواب دوں کہ کیونکر اس ریاستی نظام کا احترام کیا جائے۔ کیوں کسی جتھے کے ہتھے نہ چڑھا جائے جبکہ ریاست خود جتھوں کے سہارے چل رہی ہے۔ آئین و قانون اور ضابطہ تو درکنار لوگ خدا رسول ﷺ کے باغی ہو چکے ہیں۔