07/01/2026
دنیا بھر میں طالب علم تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوقتی ملازمت کرتے ہیں، اپنی فیس خود ادا کرتے ہیں، زندگی کے بنیادی فیصلے خود لیتے ہیں اور عملی تجربے کے ذریعے خود کو مارکیٹ کے قابل بناتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں طالب علم کی ایک بڑی اکثریت ایک بالکل مختلف نفسیات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔
یہاں 99 فیصد طلبہ صبح امی کے ہاتھ کے پراٹھے کھا کر، ابو سے فیس اور جیب خرچ لے کر یونیورسٹی روانہ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑنا اور واپس لانا بھی والدین کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ گھر میں پانی کا گلاس خود اٹھانا یا کوئی معمولی کام کرنا اکثر ’’توہین‘‘ سمجھا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف سہولت پسندی نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی کمزوری کی علامت ہے: مکمل انحصار۔ ترقی پذیر ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام یا فلپائن کے طلبہ محدود وسائل کے باوجود تعلیم کے دوران انٹرن شپ، فری لانسنگ اور چھوٹے موٹے کاموں کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہاں طالب علم جانتا ہے کہ ڈگری صرف کاغذ ہے، اصل طاقت ہنر اور تجربہ ہے۔اس کے برعکس ہمارے ہاں سولہ یا اٹھارہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اکثر طلبہ
اپنی CV نہیں بنا سکتے
ایک پروفیشنل ای میل نہیں لکھ سکتے
دو سطروں میں اپنا تعارف تک نہیں کروا سکتے
یہ تعلیمی نظام کی نہیں، بلکہ طلبہ کی نفسیاتی تربیت کی ناکامی ہے۔سوال یہ نہیں کہ طلبہ ایسے کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ:کیا ہمارا تعلیمی نظام خودمختار سوچ کو فروغ دیتا ہے؟ کیا ریاست کی کوئی واضح پالیسی ہے جو نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کرے؟ کیا والدین نے سہولت اور محبت کے نام پر بچوں کو کمزور نہیں بنا دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ریاست، ادارے، والدین اور خود طلبہ سب اس بحران میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو ڈگری تو رکھتی ہے مگر اعتماد، خود انحصاری اور عملی فہم سے محروم ہے۔
جب میں اپنے نوجوانوں کو اس ناقابلِ یقین حد تک غیر عملی اور غیر تیار حالت میں دیکھتا ہوں تو دل میں ایک خوف سا بیٹھ جاتا ہے یہ جدید دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ کیا یہ ملک واقعی بہتر سمت میں جا پائے گا؟
فی الحال تو دونوں طرف طلبہ اور نظام مایوسی ہی نظر آتی ہے۔ مگر اگر آج ہم نے طالب علم کی نفسیات کو سہولت سے نکال کر ذمہ داری، محنت اور خود انحصاری کی طرف منتقل نہ کیا، تو کل ہمارے پاس صرف ڈگری یافتہ مگر بے بس نسل ہوگی۔ اور قومیں ایسی نسلوں کے ساتھ ترقی نہیں کرتیں
Mathematics Professionals