The Physics

The Physics The physics is all about educational updates as well as scientific knowledge regarding different bra

07/01/2026

انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات 5 مئی 2026 سے شروع ہوں گے جبکہ داخلے 4 جنوری سے شروع ہوں گے۔ پنجاب بورڈز

07/01/2026

دنیا بھر میں طالب علم تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوقتی ملازمت کرتے ہیں، اپنی فیس خود ادا کرتے ہیں، زندگی کے بنیادی فیصلے خود لیتے ہیں اور عملی تجربے کے ذریعے خود کو مارکیٹ کے قابل بناتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں طالب علم کی ایک بڑی اکثریت ایک بالکل مختلف نفسیات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔
یہاں 99 فیصد طلبہ صبح امی کے ہاتھ کے پراٹھے کھا کر، ابو سے فیس اور جیب خرچ لے کر یونیورسٹی روانہ ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑنا اور واپس لانا بھی والدین کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ گھر میں پانی کا گلاس خود اٹھانا یا کوئی معمولی کام کرنا اکثر ’’توہین‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف سہولت پسندی نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی کمزوری کی علامت ہے: مکمل انحصار۔ ترقی پذیر ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام یا فلپائن کے طلبہ محدود وسائل کے باوجود تعلیم کے دوران انٹرن شپ، فری لانسنگ اور چھوٹے موٹے کاموں کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہاں طالب علم جانتا ہے کہ ڈگری صرف کاغذ ہے، اصل طاقت ہنر اور تجربہ ہے۔اس کے برعکس ہمارے ہاں سولہ یا اٹھارہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اکثر طلبہ

اپنی CV نہیں بنا سکتے

ایک پروفیشنل ای میل نہیں لکھ سکتے

دو سطروں میں اپنا تعارف تک نہیں کروا سکتے

یہ تعلیمی نظام کی نہیں، بلکہ طلبہ کی نفسیاتی تربیت کی ناکامی ہے۔سوال یہ نہیں کہ طلبہ ایسے کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ:کیا ہمارا تعلیمی نظام خودمختار سوچ کو فروغ دیتا ہے؟ کیا ریاست کی کوئی واضح پالیسی ہے جو نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے تیار کرے؟ کیا والدین نے سہولت اور محبت کے نام پر بچوں کو کمزور نہیں بنا دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ریاست، ادارے، والدین اور خود طلبہ سب اس بحران میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو ڈگری تو رکھتی ہے مگر اعتماد، خود انحصاری اور عملی فہم سے محروم ہے۔
جب میں اپنے نوجوانوں کو اس ناقابلِ یقین حد تک غیر عملی اور غیر تیار حالت میں دیکھتا ہوں تو دل میں ایک خوف سا بیٹھ جاتا ہے یہ جدید دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ کیا یہ ملک واقعی بہتر سمت میں جا پائے گا؟

فی الحال تو دونوں طرف طلبہ اور نظام مایوسی ہی نظر آتی ہے۔ مگر اگر آج ہم نے طالب علم کی نفسیات کو سہولت سے نکال کر ذمہ داری، محنت اور خود انحصاری کی طرف منتقل نہ کیا، تو کل ہمارے پاس صرف ڈگری یافتہ مگر بے بس نسل ہوگی۔ اور قومیں ایسی نسلوں کے ساتھ ترقی نہیں کرتیں
Mathematics Professionals

06/01/2026

Mathematicl Professional views پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بظاہر ترقی، تحقیق اور علم کے مراکز سمجھے جاتے ہیں، مگر ان اداروں کے اندر ایک ایسا خاموش بحران جنم لے چکا ہے جس پر نہ کھل کر بات ہوتی ہے اور نہ ہی سنجیدہ اقدامات نظر آتے ہیں۔ یہ بحران ہے اساتذہ اور طلبہ کی ذہنی صحت کا۔

آج کی پاکستانی یونیورسٹی میں طالب علم صرف نصابی بوجھ نہیں اٹھا رہا بلکہ اس کے کندھوں پر خاندان کی توقعات، معاشی مسائل، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور سماجی دباؤ بھی لدے ہوئے ہیں۔ CGPA کی دوڑ، اسکالرشپس کا خوف، اور ڈگری کے بعد روزگار کی بے یقینی نے نوجوان ذہنوں کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر طالب علم ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو جائے تو اسے کمزوری، نالائقی یا بہانے بازی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف، جامعات کے اساتذہ بھی کسی محفوظ نفسیاتی ماحول میں کام نہیں کر رہے۔ حد سے زیادہ تدریسی بوجھ، انتظامی ذمہ داریاں، تحقیقی دباؤ، کنٹریکٹ پر ملازمت، ترقی کے غیر شفاف معیار اور ادارہ جاتی سیاست نے اساتذہ کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ نتیجتاً کئی باصلاحیت اساتذہ burnout، مایوسی اور جذباتی تھکن کا شکار ہو کر یا تو تدریس سے بددل ہو جاتے ہیں یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری جامعات میں ذہنی صحت کو اب بھی ایک غیر سنجیدہ یا ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اداروں میں پیشہ ور ماہرِ نفسیات موجود نہیں، اور اگر ہوں بھی تو ان تک رسائی محدود یا غیر مؤثر ہوتی ہے۔ ذہنی مسائل کو نظم و ضبط یا اخلاقیات کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک سائنسی اور انسانی مسئلہ ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ تعلیمی نظام اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ بہتر تعلیم، بہتر ذہنی صحت کے بغیر ممکن نہیں۔ وہاں یونیورسٹیاں counseling services، faculty wellbeing programs اور stress management initiatives کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی ہم اس سمت قدم بڑھانے کو تیار ہیں؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات مل کر ایک واضح اور مؤثر mental health policy تشکیل دیں۔ ہر یونیورسٹی میں trained counselors کی تعیناتی، اساتذہ کے لیے workload management، اور طلبہ کے لیے محفوظ اور بااعتماد معاون نظام قائم کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، ذہنی صحت پر بات کرنے کو کمزوری نہیں بلکہ شعور سمجھا جائے۔

اگر ہم نے اس خاموش بحران کو مزید نظرانداز کیا تو ہم نہ صرف اپنی نوجوان نسل بلکہ اپنے تعلیمی مستقبل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی جامعات میں ذہنی صحت کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو نمبروں، ڈگریوں اور رینکنگز کو دی جاتی ہے۔

20/12/2025
𝐌𝐒 𝐌𝐏𝐡𝐢𝐥 𝐃𝐞𝐠𝐫𝐞𝐞 𝐑𝐞𝐪𝐮𝐢𝐫𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭𝐬 𝐚𝐬 𝐩𝐞𝐫 𝐇𝐄𝐂, 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐚𝐬 𝐨𝐟 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟏𝟑, 𝟐𝟎𝟐𝟓
18/11/2025

𝐌𝐒 𝐌𝐏𝐡𝐢𝐥 𝐃𝐞𝐠𝐫𝐞𝐞 𝐑𝐞𝐪𝐮𝐢𝐫𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭𝐬 𝐚𝐬 𝐩𝐞𝐫 𝐇𝐄𝐂, 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐚𝐬 𝐨𝐟 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟏𝟑, 𝟐𝟎𝟐𝟓

18/11/2025

جس کے بھی چند فالورز ہو جاتے کچھ پیسوں کےلیے اسٹوڈنٹس کیساتھ paid online session شروع کر دیتے۔ یاد رہے رحمدلی اور نیک نیتی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔۔!!

11/11/2025
11/11/2025

AIوزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس
• وزیراعلیٰ نے صوبے کے سرکاری سکولوں میں چھٹی جماعت سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے کورسز متعارف کرانے کی ہدایت کر دی، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے اور مطلوبہ وسائل ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت

• مستقبل کی معیشت، تعلیم، صحت اور انتظامی نظام میں مصنوعی ذہانت کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، نوجوانوں کو اے آئی کی تعلیم دینا دراصل انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے، مصنوعی ذہانت کی تعلیم سے نوجوانوں میں تخلیقی سوچ اور عالمی معیار کی مہارتیں پیدا ہوں گی، محمد سہیل افریدی

• وزیراعلیٰ کی ضم اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی ہدایت

• وزیراعلی محمد سہیل آفریدی کی سرکاری سکولوں میں حاضری اور نتائج کو بہتر بنانے کے لیے اچانک دوروں کی بھی ہدایت، صوبائی وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے حکام سرکاری سکولوں کے دورے کریں اور جائزہ لیں، سرکاری امور کی انجام دہی میں غفلت برتنے والے ملازمین کو عہدوں سے فارغ کیا جائے، محمد سہیل افریدی

• وزیر اعلیٰ کی طلبہ کو فراہم کی جانے والی ٹیکسٹ بکس کی اشاعت سرکاری پرنٹنگ پریس سے کرانے کی بھی ہدایت، وزیراعلیٰ کی ٹیکسٹ بکس کی پرنٹنگ اور اسٹیشنری کی خریداری کے لیے ٹینڈرز سے متعلق انکوائری کرانے کی بھی ہدایت

• وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سے گرلز گائیڈ فنڈ اور سکاؤٹس فنڈ سے متعلق تفصیلی ڈیٹا طلب کر لیا۔ ان فنڈز کو اسٹریم لائن کرنے کے لیے میکینزم تیار کرنے کی ہدایت کر دی

• وزیراعلیٰ کی اساتذہ کی پوسٹنگ ٹرانسفر، لیو انکیشمنٹ، پروموشن سمیت تمام امور ڈیجیٹل کرنے کی ہدایت
• وزیراعلیٰ کی سکولوں میں فراہم کی جانی والی سکالرشپس کو بھی ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل کرنے کی ہدایت

17 Lakh
11/11/2025

17 Lakh

Address

Kahuta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Physics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Physics:

Shortcuts

Share

Category