Awami Public High School Chak No 20/M

Awami Public High School Chak No 20/M Kismat Noo-e- Hai Bashar tabdeel Hoti Hai Yahan.. Aik muqadas farz ki takmeel hoti hy yahan.,:

28/02/2023
09/11/2022

اقبال اک عہد شناس اور عہد ساز شاعر تھے۔ ان کی شاعری اک مخصوص نظام فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد مرتب کیا تھا اور محسوس کیا تھا کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا جو زوال دونوں جگہ مختلف انداز میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اس کا حل ضروری ہے۔ خصوصاً مشرق کی بدحالی ان کو مضطرب رکھتی تھی اور وہ اس کے اسباب سے بھی واقف تھے لہٰذا انھوں نے انسانی زندگی کو سدھارنے اور اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا۔ اقبال عظمت آدم کے علمبردار تھے۔ اور وہ کسی بخشی ہوئی جنت کی بجائے اپنے خون جگر سے خود اپنی جنت بنانے کے عمل کو زیادہ امکان پرور اور زیادہ حیات آفریں سمجھے تھے۔ اس کے لئے اس کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا ’’اقوام مشرق کو یہ محسوس کر لینا چاہئے کہ زندگی اپنی حویلی میں کسی قسم کا انقلاب نہیں پیدا کر سکتی جب تک اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ پیدا ہو اور کوئی نئی دنیا اک خارجی وجود نہیں حاصل کر سکتی، جب تک اس کا وجود انسانوں کے ضمیر میں متشکّل نہ ہو۔‘‘ وہ مغرب کو روحانی طور پر بیمار تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی اصلاح اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس کی عقل ہوا و ہوس کی غلامی سے نجات حاصل کرکے ’’ادب خوردۂ دل‘‘ نہ ہو جائے۔ اور اس کے لئے سوز عشق ضروری ہے۔ اقبال کا عشق اردو شاعری اور تصوف کے روایتی عشق سے مختلف ہے۔ وہ ایسے عشق کے قائل تھے جو آرزوؤں میں وسعت پیدا کر کے حیات و کائنات کو مسخر کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عشق کو عمل سے استحکام ملتا ہے جبکہ عمل کے لئے یقین کا ہونا ضروری ہے اور یقین علم سے نہیں عشق سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ عشق، علم اورعقل کو لازم و ملزوم اور ایک کے بغیر دوسرے کو ادھورا سمجھتے تھے۔ عشق کے علاوہ اقبال کی دوسری اہم شعری اصطلاح ’’خودی‘‘ ہے۔ خودی سے اقبال کی مراد وہ اعلیٰ ترین انسانی صفات ہیں جن کی بدولت انسان کو اشرف المخلوقات کے بلند درجہ پر فائز کیا گیا ہے۔ اس خودی کو پیدا کرنے کے لئے جذبۂ عشق ضروری ہے کیونکہ عشق ہی خودی کی تکمیل کرتا ہے اور دونوں اک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عشق اورعلم کی آمیزش سے فرد کی اصلاح اور معاشرہ کی تعمیر کا کام مکمل ہوتا ہے۔

اقبال کی شاعری بنیادی طور پر حرکت و عمل اور مسلسل جدوجہد کا مطابہ کرتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے یہاں بعض اوقات یہ جد وجہد حصول مقصد کے وسیلہ کی بجائے خود مقصد بنتی نظر آتی ہے۔ ’’جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پسر، وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں۔‘‘ اقبال نے اپنے فلسفیانہ خیالات کا اظہار جس فنکاری اور شعری رچاؤ کے ساتھ کیا وہ اک ایسا کارنامہ ہے جو اپنی نظیر آپ ہے۔ وہ بیک وقت شاعر، فلسفی، مصلح قوم، سیاستداں اورعالم تھے لیکن ان کی شاعرانہ شخصیت نے ان کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔ اپنی فکر کے اظہار کے لئے اقبال نے اردو کی شعری لسانیات میں زبردست اضافہ کیا۔ وہ نظم کے ہی نہیں غزل کے بھی بڑے شاعر تھے۔ انھوں نے ایک طرف نظم کو اک نیا قرینہ عطا کیا تو دوسری طرف غزل بھی ان کے یہاں اک نئے اور تازہ اسلوب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اقبال کے شعری مضامین ان کے غنائی آہنگ پر کبھی غالب نہیں آئے۔ ان کی نظموں میں زبردست نغمگی اور والہانہ پن ہے۔ اقبال کی روایت میں ایسی قوّت ہے جس کی تازگی میں امکانات کی اک دنیا آباد ہے۔

شیخ محمد اقبال 22 فروری 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد سپرو گوت کے کشمیری برہمن تھے لیکن اسلام قبول کر کے سیالکوٹ میں بس گئے تھے۔ اقبال کے والد شیخ نور محمد زیادہ پڑھے لکھے یا خوشحال نہیں تھے لیکن دیندار تھے اورعلماء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ شمس العلماء میر حسن سیالکوٹی ان کو ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہتے تھے۔ اقبال کی ابتدائی تعلیم مکتب میں ہوئ۔ پرائمری، مڈل اور میٹرک کے امتحانوں میں امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر وظیفہ لیا۔ ایف اے اسکاچ اسکول سیالکوٹ سے پاس کرکے بی اے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ یہیں ان کی ملاقات عربی کے اسکالر ٹی۔ ڈبلیو آرنلڈ سے ہوئی۔ اقبال نے 1899ء میں فلسفہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی کالج میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1905ء میں وہ مزید تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج میں داخلہ لیا۔ اقبال کی پہلی شادی طالب علمی کے زمانہ میں ہی اک معزز خاندان کی خاتون سے ہو گئی تھی جن سے ان کا ایک بیٹا آفتاب اقبال تھا۔

معروف خاتون عطیہ فیضی سے بھی اقبال کی دوستی رہی جو خود بھی تعلیم کی غرض سے لندن میں مقیم تھیں اور جنھوں نے دانشورانہ ادبی و علمی مذاق رکھنے والی اک ماڈرن ہندوستانی خاتون کی حیثیت سے اعلیٰ سماجی حلقوں میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔ مزاجوں میں مطابقت کی وجہ سے دونوں میں قربت پیدا ہوئی۔ لندن سے واپسی کے بعد بھی دونوں میں خط و کتابت جاری رہی۔ اردو شاعری پر بہرحال عطیہ کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے اقبال کو ریاست حیدرآباد کی ملازمت سے شدّومد کے ساتھ روکا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ دربار داری اقبال کی بے پناہ خلاقانہ صلاحیتوں کے لئے سم قاتل ثابت ہو گی۔

اقبال نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ 1890ء کے ایک طرحی مشاعرہ میں اقبال نے ’’موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے، قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے‘‘ پڑھ کے محض 17 سال کی عمر میں اس وقت کے جیّد شعراء کو چونکا دیا۔ اس کے بعد اقبال انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے۔ 1900ء میں انجمن کے ایک جلسے میں انھوں نے اپنی مشہور نظم ’’نالۂ یتیم‘‘ پڑھی جو اپنے اچھوتے انداز اور کمال سوزوگداز کی وجہ سے اتنی مقبول ہوئی کہ اجلاس میں یتیموں کی امداد کے لئے روپیوں کی بارش ہونے لگی اور آنسوؤں کے دریا بہہ گئے اور نظم کی ایک ایک مطبوعہ کاپی چار روپے میں فروخت ہوئی۔ اس کے بعد اقبال کی نظمیں انجمن کے جلسوں کی زینت بن گئیں۔ یکم اپریل 1904ء میں ادبی رسالہ ’’مخزن‘‘ کا اجراء ہوا تو اس میں اقبال کی نظم ’’ہمالہ‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی نئے انداز کی نظموں اور غزلوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا اور اقبال شعرائے ہند کی صف اوّل میں ممتاز مقام پر فائز ہو گئے۔

اقبال نے کیمبرج اور میونخ یونیورسٹیوں سے فلسفہ میں اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کیں۔ پی ایچ ڈی کے لئے ان کے مقالہ کا موضوع: ’’ایران میں ما بعد الطبیعات کا ارتقاء‘‘ تھا۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کے حصول کے بعد انھوں نے لندن سے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیا۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر کئے گئے اور ساتھ ساتھ وکالت بھی کرتے رہے جس کی کالج نے انھیں خصوصی اجازت دے دی تھی۔ بعد میں انھوں نے کالج کی ملازمت چھوڑ دی اور وکالت کو ہی اپنا پیشہ بنا لیا۔ کچھ عرصہ تک ان کی شاعری خاموش رہی لیکن پھر ان کی قومی و ملّی نظموں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو ان کی شہرت دوام کا باعث بنا۔ ان میں ’’شکوہ‘‘، ’’شمع و شاعر‘‘، ’’خضر راہ‘‘ اور ’’طلوع اسلام‘‘ انجمن کے جلسوں میں پڑھی گئیں۔ 1910ء میں فارسی مثنوی’’اسرار خودی‘‘ شائع ہوئی اور پھر تین سال بعد ’’رموز بیخودی‘‘ منظر عام پر آئی جو ’’اسرار خودی‘‘ کا تتمّہ تھی۔ اس کے بعد اقبال کی شاعری کے مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوتے رہے۔ آخری مجموعہ ’’ارمغان حجاز‘‘ ان کی زندگی میں تیار تھا لیکن موت کے بعد شائع ہوا۔ عملی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اقبال 1926ء میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1930 میں مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں ان کو صدر چنا گیا۔ 1935ء میں پنجاب یونیورسٹی نے اور اگلے سال علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔

1935ء میں عید کے دن سویّاں کھانے کے بعد ان کا گلا بیٹھ گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے حلق میں رسولی پیدا ہوگئی تھی۔ بجلی کے علاج سے کچھ افاقہ ہوا لیکن آواز پوری طرح بحال نہیں ہوئی۔ وکالت کا کام بند ہو گیا ایسے میں ریاست بھوپال نے داد رسی کی اور 500 روپے ماہوار ان کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ ان کی دوسری بیگم کا انتقال 1935 میں ہو گیا تھا، جو دو کمسن بچّے چھوڑ گئی تھیں۔ ان کی تربیت کی پریشانی نے اقبال کی صحت اور زیادہ بگاڑ دی۔ ان کو دمہ کے دورے پڑنے لگے۔ کھانستے کھانستے بیہوش ہو جاتے تھے۔ دسمبر 1937ء میں مرض نے شدّت اختیار کر لی اور 21 اپریل 1938ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

اقبال کی شاعری میں مقصد کو اوّلیت حاصل ہے۔ وہ اپنے کلام سے اقوام مشرق پر چھائی کاہلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اس کے لئے وہ عشق،عقل، مذہب، زندگی اور فن کو اک مخصوص زاویہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے یہاں دل کے ساتھ دماغ کی کارفرمائی نمایاں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا کلام محض فلسفیانہ اور حکیمانہ ہے اور اس میں شعریت کی کوئی کمی ہے۔ ان کے مفکرانہ کلام میں بھی سوز اور جذبہ کا گہرا گداز شامل ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں اردو کے کلاسکی سرمایہ سے استفادہ کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اردو شاعری کو نئی نئی اصطلاحات، تشبیہوں اور رموز و علائم کا اک خوبصورت ذخیرہ بھی عطا کیا۔ انھوں نے زبان کو حسب ضرورت برتا، کہیں روایت کا اتباع کیا تو کہیں اس سے انحراف۔ بقول رشید احمد صدیقی اقبال کی نظموں کا شباب ان کی غزلوں کی شراب میں ڈوبا ہوا ہے۔ اقبال نے اردو شاعری سے حزن و قنوطیت کے عناصر ختم کر کے اس میں رجائیت، جوش اور نشاط آفرینی پیدا کی۔ اقبال کے یہاں فکر اور جذبہ کی ایسی آمیزش ہے کہ ان کے فلسفیانہ افکار ان کی داخلی کیفیات و واردات کا آئینہ بن گئے ہیں۔ اسی لئے ان کے فلسفہ میں کشش اور جاذبیت ہے۔ اقبال نے اپنے عہد اور اپنے بعد آنے والی نسلوں کو ایسی زبان دی جو ہر طرح کے جذبات اور خیالات کو خوبصورتی کے ساتھ ادا کر سکے۔ ان کے بعد شروع ہونے والی ادبی تحریکیں کسی نہ کسی عنوان سے ان کے سحر میں گرفتار رہی ہیں۔ اردو کے تین عظیم شاعروں میں میرؔ کی شاعری اپنے قاری کو ان کا معتقد بناتی ہے، غالبؔ کی شاعری مرعوب و مسحور کرتی ہے اور اقبالؔ کی شاعری قاری کو ان کا گرویدہ اور شیدائی بناتی ہے۔

30/10/2022

ایک غریب دیہاتی، بارگاہ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم میں، انگوروں سے بھری ایک رکابی کا تحفہ پیش کرنے کیلئے حاضر ہوا۔
رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے رکابی لی، اور انگور کھانے شروع کیئے۔
پہلا دانہ تناول فرمایا اور مُسکرائے۔
اُس کے بعد دوسرا دانہ کھایا اور پھر مُسکرائے۔
اور وہ بیچارہ غریب دیہاتی، آپ کو مسکراتا دیکھ دیکھ کر خوشی سے نہال۔۔۔
صحابہ سارے منتظر، خلاف عادت کام جو ہو رہا ہے کہ ہدیہ آیا ہے اور انہیں حصہ نہیں مل رہا۔۔۔
رسول علیہ السلام، انگوروں کا ایک ایک دانہ کر کے کھا رہے ہیں اور مسکراتے جا رہے ہیں۔
میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔۔۔۔ آپ نے انگوروں سے بھری پوری رکابی ختم کر دی۔۔
اور آج صحابہ سارے متعجب!
غریب دیہاتی کی تو عید ہو گئی تھی۔۔۔۔
خوشی سے دیوانہ۔۔۔ خالی رکابی لیئے واپس چلا گیا۔
صحابہ نہ رہ سکے۔۔۔۔ ایک نے پوچھ ہی لیا،
یا رسول اللہ؛ آج تو آپ نے ہمیں شامل ہی نہیں کیا؟
رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مسکرائے اور فرمایا؛
تم لوگوں نے دیکھی تھی اُس غریب کی خوشی؟
میں نے جب انگور چکھے ۔۔۔۔ تو پتہ چلا کہ کھٹے ہیں۔
مجھے لگا کہ اگر تمہارے ساتھ یہ تقسیم کرتا ہوں تو ہو سکتا ہے تم میں سے کسی سے کچھ ایسی بات یا علامت ظاہر ہو جائے، جو اس غریب کی خوشی کو خراب کر کے رکھ دے۔
(اور بیشک آپؐ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر ہیں)
بیشک

17/09/2022

(‏کس مرض میں کونسا جوس پئیں؟)

بیماریوں میں جوس کے ذریعے علاج جوس تھیراپی کہلاتی ہے ۔ جوس کا استعمال جسم کے اعضاء کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ۔خاص کر ایسے اعضاء جن کا کام فاضل مادوں کو خارج کرنا ہوتا ہے۔یعنی پھیپھڑے ، جگر،گردے اورجلد وغیرہ ۔ ان صلاحیتوں میں اضافہ کی وجہ سے میٹابولزم
‏کا عمل تیز ہوتا ہے اور اسکے فاضل مادے اور ٹوکسن زیادہ تیزی سے خارج ہوجاتے ہیں۔
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو جوس ،تازہ پھل اور سبزیاں کھانے کا مشورہ دیتا ہے ۔ اس کی وجہ ان چیزوں کے صحت پر اچھے اثرات ہوتے ہیں ۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم
‏بیماری میں جوس پیتے ہیں تو یہ ہماری طبیعت کو اور خراب کردیتا ہے اس کی وجہ غلط جوس کا استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر پھل اور سبزی ہر بیماری میں مفیدنہیں ہوتا ۔

بیماریوں کے لحاظ سے جوس کا استعمال کریں:

تیزابیت:

تیزابیت میں انگور ، موسمی ، میٹھے ، گاجر کا جوس استعمال کریں۔

الرجی:
‏الرجی کی صورت میں خوبانی، انگور ،چقندراور گاجر کا جوس پئیں۔

ایکنی:

کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے انگور ، آلوچہ ، ٹماٹر ،کھیرا اور ناشپاتی کا جوس لیں۔

انیمیا:

خون کی کمی دور کرنے کے لیے ، آلوچہ ، لال انگور ، چقندر ، اسٹرابیری ، گاجر اور پالک کا جوس پئیں۔

گٹھیا:

گٹھیا کے مرض میں
‏انناس ، کھٹے سیب ، کھٹی چیری ،لیموں ، گریپ فروٹ ،کھیرا ،چقندر ، پالک کا جوس پئیں۔

استھما:

جن لوگوں کو سانس کی تکلیف ہے۔ ان کے لیے خوبانی ،لیموں ،آڑو ، گاجر اور مولی مفید ہے۔

برونکائٹس:

سینے کے انفیکشن میں پیاز ،گاجر ،آڑو ،ٹماٹر،انناس ،لیموں کا رس فائدہ مند ہیں۔

نزلہ:

پالک،
‏گاجر ، پیاز ، گریپ فروٹ اور انناس کا رس مفید ہے۔

شوگر:

کینو، موسمی ، گریپ فروٹ ،سلاد ،گاجر، پالک استعمال کریں۔

ڈائریا:

ڈائریا میں پپیتا ،لیموں ،انناس اور گاجر کا استعمال فائدہ مند ہے۔

ایکزیما:

جلدی بیماری ہے اس کے لیے کھیرا ، چقندر ،لال انگور اور پالک مفید ہے۔
‏دل کی بیماریاں:

چقندر، لال انگور ،لیموں ، کھیرا ، گاجر اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں۔

سردرد:

انگور ، لیموں ، گاجر ، سلاد اور پالک سردرد میں مفید ہیں۔

ہائی بلڈپریشر:

ہائی بلڈپریشر میں انگور ، گاجر ، کینو اور چقندر کا جوس لیں۔

انفلوئنزا:

انفلوئنزا میں خوبانی ، پیاز ، گاجر
کینو،انناس اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں
پیلیا:-
اس میں ناشپاتی،انگور،گاجر،پالک،کھیرا اور لیموں کا استعمال کریں
ماہواری کی بے ترتیبی کے لیے :-
ماہواری کو روٹین میں لانے کے لیے
چقندر،الوچہ،چیری،پالک اور انگور کا استعمال کریں
موٹاپا:-
موٹاپا کم کرنے کے لیے لیموں،کینو،چیری،انناس
‏پپیتہ،ٹماٹر،چقندر،بندگوبھی۔سلاد،پالک
اور گاجر کو اپنی غذا میں شامل کریں ۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چقندر کینسر کے مرض سے بچنے میں معاون ہے کیونکہ اس میں بیٹا کیروٹین پایا جاتا ہے۔ اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس کا روزانہ ایک کپ جوس کا پینا چاہیے۔

14/09/2022

🚨الرٹ 🚨 وارننگ 🚨
شہرلودہراں بہاولپور اور گردو نواح والے اپنے گھر، دفتر، سڑکوں اور بازاروں میں زیادہ محتاط اور محتاط رہیں۔
اندرون سندھ سے بہت سے سخت گیر جرائم پیشہ ڈاکو گینگ اندرون سندھ میں سیلاب کی وجہ سے پنجاب میں داخل ہو کر آباد ہو چکے ہیں۔

یہ مرد بھاری ہتھیاروں سے لیس خطرناک ہیں اور ان کی خواتین ساتھی بھی ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر مسلح ڈاکو خطرناک اغوا کار اور قاتل ہیں۔

خاص طور پر رات کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور الگ تھلگ راستے اور خالی سڑکیں نہ لیں۔

3/4 دن پہلے صبح 6 بجے بکھی نالہ سے ثقلین ارائیں دکاندار اور مستری زوار ارائیں کو مارا پیٹا گیا اور لوٹ لیا گیا۔ اس کے علاوہ درجنوں گھروں میں چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں.

برائے مہربانی اضافی نقدی، مہنگے سیل فون ساتھ نہ رکھیں اور زیورات نہ پہنیں۔
براہ کرم ڈرائیونگ کے دوران یا پارکنگ موڈ میں اپنے اردگرد کے ماحول سے ہوشیار رہیں۔

براہ کرم یاد رکھیں یہ سخت اندرون سندھ ڈاکو گینگز بے رحم ہیں اور مردوں، عورتوں یا بچوں کو اغوا کرنے یا گولی مارنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
خدا کے لیے اپنے بچوں کو نوکروں کے ساتھ دوستوں کے گھروں، مالز، بازاروں یا اسکولوں میں تنہا نہ بھیجیں، والدین اور سرپرستوں کو ہر وقت ساتھ دینا چاہیے۔

حکومت، پولیس وغیرہ کو کوئی پرواہ نہیں اور ہمیشہ کی طرح ہر چیز سے انکار کر دیں گے۔ آپ کو اپنا اور اپنے پیاروں کا خود ہی خیال رکھنے کی ضرورت ہے، لہذا براہ کرم زیادہ محتاط اور چوکس رہیں۔

برائے مہربانی اس پیغام کو آگے بھیجیں اور اپنے تمام رابطوں کے ساتھ شئیر کریں۔... copied

6ستمبر 1965ء ‏یوم دفاع ! تجدید کا دن ہے۔❣️یہ دن بتاتا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔ پاکستان 🇵🇰 ہماری دھرتی ماں ہے6 ستمبر کی یاد ت...
06/09/2022

6ستمبر 1965ء ‏یوم دفاع ! تجدید کا دن ہے۔❣️
یہ دن بتاتا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔ پاکستان 🇵🇰 ہماری دھرتی ماں ہے
6 ستمبر کی یاد تازہ کرتے ہوئے راہِ حق کے ہر شہید کو، ہر غازی کو، ہر سپاہی کو وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔۔

پاک فوج کے ان بہادر اور نڈر سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مملکت خداداد پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریخ نہی کرتے۔
پاکستان ذندہ 🇵🇰🇵🇰

04/09/2022

*بریکنگ_نیوز_!!!*

احساس راشن رعایت پروگرام پنجاب کے رہاٸشی شہریوں کے لیے دوبارہ شروع ہو گیا ہے اپنے ہی نام سے رجسٹرڈ سم سے شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 8123 پے سینڈ کریں جواب میں یہ میسج آتا ہے پنجاب احساس راشن رعایت پروگرام کے لیے آپ کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔

ہم آپ سے جلد رابطہ کریں گے۔ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی ۔
حکومت پنجاب

اپنے اردگرد غریب مستحق لوگوں تک یہ خبر پہنچائیں سکے تو خود میسج کر کے دیں ہو سکتا ہے آپ کے میسج کر کے دینے سے کسی کو راشن ملنا شروع ہو جائے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔

*شکریہ*
پوسٹ کو شیئر کریں شکریہ

*‌‏اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍوَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَاصَلَّیتَ عَلٰی اِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَ اھِیمَ ا...
27/08/2022

*‌‏اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍوَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَاصَلَّیتَ عَلٰی اِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَ اھِیمَ اِنَّکَ حَمِیدٌمَّجِیدٌ*
*اَللّٰھُمَّ بَارِک عَلی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍکَمَابَارَکتَ عَلی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلی اٰلِِ اِبرَ اھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیدٌمَّجِیدٌ*

سب دوستوں سے درخواست ہے حسب توفیق
درود شریف پڑھیں اور سیلاب زدگان کے لیے دعا فرمائیں 🙏

Address

Awami School 20/m
Kahror

Telephone

+923027821633

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami Public High School Chak No 20/M posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Awami Public High School Chak No 20/M:

Shortcuts

Share

Category