The Best Commerce & Law College

The Best Commerce & Law College Knowledge without action is INSANITY
&
And action without knowledge is Vanity
[s

> ایچ ای سی نے ایل ایل بی میں داخلے کے امتحان (LAT) کے لیے رجسٹریشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ *امتحان کی تاریخ:* 24 اگست ...
21/07/2025

> ایچ ای سی نے ایل ایل بی میں داخلے کے امتحان (LAT) کے لیے رجسٹریشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ *امتحان کی تاریخ:* 24 اگست 2025 ، *درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ:* 05 اگست 2025. یقینی بنائیں کہ آخری تاریخ سے پہلے اپنی رجسٹریشن مکمل کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو. یاد رہے کہ آپ اس ٹیسٹ کو پاس کیے بغیر پاکستان بھر کی کسی بھی گورنمنٹ یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں ایل ایل بی میں داخلہ نہیں لے سکتے.

09/11/2024

جب زندگی شروع ہوگی
قسط نمبر 44

بارہواں باب

بنی اسرائیل اور مسلمان

ہم حشر کے میدان کی سمت جا رہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ محور اور شائستہ نظر آئے۔
انھیں دیکھ کر میری حس مزاح بیدار ہوگئی۔ میں نے صالح سے کہا:
آؤ ذرا چلتے چلتے انھیں تنگ کرتے جائیں ۔“ ان دونوں کا رخ جھیل کی طرف تھا اس لیے وہ ہمیں قریب آتے ہوئے دیکھ نہیں سکے۔ میں شائستہ کی سمت سے اس کے قریب پہنچا اور زور سے کہا: ے لڑکی ! چلو ہمارے ساتھ ۔ ہم تمھیں ایک نامحرم مرد کے ساتھ گھومنے پھرنے کے جرم میں گرفتار کرتے ہیں ۔
شائستہ میری بلند آواز اور سخت لہجے سے ایک دم گھبرا کر پیٹی ۔ تاہم محور پر میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ مجھے دیکھا اور کہا:
پھر تو مجھے بھی گرفتار کر لیجیے۔ میں بھی شریک جرم ہوں ، یہ کہتے ہوئے انہوں نے دونوں ہاتھ آگے پھیلا دیے۔ پھر ہنستے ہوئے کہا:
مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں نہ جیل ہے اور نہ سزا دینے کی جگہ “
جیل تو یہاں نہیں ہے، مگر سزا ضرور مل سکتی ہے۔ وہ یہ کہ مغویہ ہی کے ساتھ آپ کی شادی کرادی جائے ۔ ساری زندگی ایک ہی خاتون کے ساتھ رہنا وہ بھی جنت میں بڑی سزا ہے ۔“ اس پر نحور نے ایک زور دار قہقہہ بلند کیا۔ شائستہ جو میرے ابتدائی حملے کے بعد سنبھل چکی تھی ، ہنستے ہوئے بولی :
ویسے تو آپ لوگ توحید کے بڑے قائل ہیں ، مگر اس معاملے میں آپ لوگوں کی سوچ اتنی مشرکانہ کیوں ہو جاتی ہے؟“
نحور نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی لاتے ہوئے کہا: آپ کو معلوم ہے عبداللہ ! مشرکوں کا انجام جہنم ہوتا ہے۔ اس لیے آئندہ آپ شائستہ کے سامنے ایسی مشرکانہ گفتگو مت کیجیے گا وگر نہ آپ کی خیر نہیں ۔
صالح نے اس گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا:
شائستہ! آپ اطمینان رکھیں ۔ یہ عملاً موحد ہیں۔ ان کی ایک ہی بیگم ہیں۔“
اس پر محور مسکراتے ہوئے بولے: یہ ان کا کارنامہ نہیں، ان کے زمانے میں یہ مجبوری تھی۔ خیر چھوڑیں اسے۔ یہ بتائیے کہ
آپ کی بیگم صاحبہ ہیں کہاں؟“
میں ابھی تک سنجیدگی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ میں نے ان کی طرف شرارت آمیز انداز میں دیکھتے ہوئے کہا:
در اصل ہمیں بعض دوسرے بزرگوں کی طرح بیگمات کے ساتھ گھومنے کی فراغت میسر نہیں۔“
لیکن دوسروں کی فراغت کو نظر لگانے کی فرصت ضرور میسر ہے۔“ نچور نے اسی لب و لہجے میں ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
ہم خوش ہونے والے لوگ ہیں ، نظر لگانے والے ہر گز نہیں۔“
مگر آپ نے مجھے تو نظر لگا دی ہے۔“ ، پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے: میرے پیغمبر بر میاہ نبی کو شہادت دینے کے لیے بلا لیا گیا ہے۔ میں چونکہ ان کا قریبی ساتھی تھا، اس لیے میرا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔“ یہ آخری بات کہتے ہوئے ان کے چہرے پر سنجیدگی آگئی تھی۔ آپ جا رہے ہیں؟ ، شائستہ نے پوچھا۔ ہاں ۔ تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ میں کچھ دیر تک ان معاملات میں مصروف رہوں گا۔ عبداللہ نے مجھے نظر جو لگا دی ہے۔“ یہ کہہ کر وہ ان فرشتوں کے ساتھ روانہ ہو گئے جو انہیں لینے آئے تھے۔
انبیا تو اپنی امتوں پر گواہی دے چکے۔ یہ یرمیاہ نبی کی گواہی کسی چیز کی ہو رہی ہے؟“، میں نے صالح کی سمت دیکھتے ہوئے دریافت کیا۔ جن مجرموں نے ان کے ساتھ زیادتی کی تھی، انہیں بھی ان کے انجام تک پہنچنا ہے۔ یہ
گواہی اس سلسلے کی ہے۔“
صالح نے جواب دیا۔ پھر ہم دونوں بھی حشر کی طرف روانہ ہو گئے۔
جاری ہے۔

08/11/2024

جب زندگی شروع ہوگی
قسط نمبر 43

ہمارا پورا خاندان حوض کوثر کے وی آئی پی لاؤنج میں جمع تھا۔ میری تینوں بیٹیاں لیلی ، عارفہ اور عالیہ اور دونوں بیٹے انور اور جمشید اپنی ماں ناعمہ کے ہمراہ موجود تھے۔ جمشید کے آنے سے ہمارا خاندان مکمل ہو گیا تھا۔ اس لیے اس دفعہ خوشی اور مسرت کا جو عالم تھا وہ بیان سے باہر تھا۔
یوں اپنے خاندان کو اکھٹا دیکھ کر میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے صالح سے کہا:
اپنوں میں سے ایک شخص بھی رہ جائے تو جنت کا کیا مزہ ! میری بات کا جواب جمشید نے دیا جس کی بیوی بچے اور سرال والوں کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہو چکا تھا۔
ہاں ابو! مجھ سے زیادہ یہ بات کون جان سکتا ہے۔ آپ بہت خوش نصیب ہیں ۔“ یہ خوش نصیب اس لیے ہیں کہ اپنے گھر والوں کی تربیت کو انھوں نے اپنا مسئلہ بنالیا۔ وہ تو تم ہی نالائق تھے ورنہ دوسروں کو دیکھو۔ سب کے ساتھ اچھا معاملہ ہوا۔“، اس دفعہ ناعمہ نے کہا۔ امی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، مگر مجھے دنیا میں یہ خیال رہا کہ میرے ابو کی شفاعت مجھے بخشوا دے گی۔ دراصل میرے سسر کے ایک پیر صاحب تھے جن پر انھیں بہت اعتقاد تھا۔ وہ ہمیشہ میرے سر سے کہتے تھے کہ میرا دامن پکڑے رکھو۔ میں قیامت کے دن تمھیں بخشوا دوں گا۔ بس وہیں سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے ابو جیسا تو کوئی ہو نہیں سکتا۔ ان کی شفاعت میرے کام آئے گی ۔“
اس کی بات سن کر میں نے کہا:
بیٹا تم بالکل غلط سمجھے تھے۔ دیکھو تمھارے سر کو ان کے پیر صاحب نہیں بچا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ شفاعت کو ذریعہ نجات سمجھنے کی دعوت نہ ہمارے نبی نے دی اور نہ قرآن مجید میں یہ کہیں بیان ہوا ہے کہ اسے ذریعہ نجات سمجھو۔ قرآن کریم تو نازل ہی اس لیے ہوا تھا کہ یہ بتائے کہ آخرت کے دن نجات کیسے ہوگی ۔ اس نے بار بار یہ واضح کیا تھا کہ روز قیامت نجات کا پیمانہ ایک ہی ہے یعنی ایمان اور عمل صالح نزول قرآن کے وقت سارے عیسائی اس گمراہی کا شکار تھے کہ حضرت عیسی کی شفاعت انھیں بخشوادے گی جبکہ مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ ان کے بت خدا کے حضور ان کے سفارشی ہوں گے۔ اس لیے قرآن مجید نے بار بار اس بات کو واضح کیا کہ شفاعت کوئی ذریعہ نجات نہیں ہے۔ انسان کو وہی ملے گا جو اس نے کیا ہو گا ۔“
لیکن شفاعت کا ذکر قرآن میں آیا تو ہے اور حدیثوں میں بھی اس کا ذکر ہوا ہے۔“، جمشید نے سوال کیا۔
میں نے اس کے سامنے ایک سوال رکھتے ہوئے کہا: یہ بتاؤ کہ پورے قرآن یا کسی حدیث میں کہیں یہ کہا گیا ہے کہ شفاعت کو ذریعہ نجات سمجھ کر اس پر بھروسہ کر دیا اس کے لیے دعا کرو۔“
نہیں ایسا تو کہیں بھی نہیں کہا گیا۔
جمشید کی جگہ انور نے پورے اعتماد اور وثوق سے کہا تو جمشید نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا:
دو نہیں بھائی ہم تو ہر اذان کے بعد شفاعت کی دعا کرتے تھے ۔“
میں نے جمشید کی بات کا جواب دیا:
یہ تو لوگوں نے حضور کی بات میں خود اضافہ کیا تھا۔ حضور نے صرف اتنا کہا تھا کہ میرے لیے مقام محمود کی دعا کرو تو میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔ یہ نہیں کہا تھا کہ شفاعت کے لیے
بھی دعا کیا کر دیا اس پر بھروسہ کر کے عمل صالح چھوڑ دو اور مزے سے گناہ کرتے رہو ۔
صالح نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: عبد اللہ تم رکو میں انہیں شفاعت کا تصور تفصیل سے سمجھاتا ہوں ۔ دیکھو اصل نجات کا
ضابطه ایمان اور عمل صالح ہے اور اس کے سوا کچھ اور نہیں ۔ آج اگر کسی کو معافی مل رہی ہے تو دراصل وہ کسی کی شفاعت سے نہیں مل رہی بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم ، قدرت اور رحمت کی وجہ سے مل رہی ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی بس شرک ہی کو معاف نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہیں اور جس شخص کے لیے چاہیں بخش سکتے ہیں۔ چھوٹے موٹے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ دنیا کی سختیوں اور نیکیوں کی بنا پر معاف کر دیا کرتے تھے، لیکن جن لوگوں نے گناہ کا راستہ مستقل اختیار کیے رکھا اور توبہ نہیں کی انہیں تو بہر حال اس راہ پر چلنے کے نتائج آج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ تاہم کوئی بندۂ مؤمن جب اپنے گناہوں کی کافی سزا بھگت لیتا ہے ، صالح نے یہیں تک بات مکمل کی تھی کہ جمشید نے لقمہ دیا: جیسے میں نے بھگتی یا پھر لیلی نے میدان حشر کی ابتدائی خواری اٹھائی تھی ۔“.. بالکل۔۔۔۔
صالح نے اس کی تائید کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی :
میں یہ بتارہا تھا کہ جب بندہ مومن اپنی خواری اور میدان حشر کی سختیاں جھیلنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے اپنے قانون عدل کے تحت نجات کا مستحق ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کچھ نیک لوگوں کی گواہی کو جو دراصل اس کے اچھے اعمال ہی کی گواہی ہوتی ہے، اس کی مغفرت کا بہانہ بنا دیتے ہیں۔ جیسے تمھارے لیے تمھارے ماں باپ کی گواہی مغفرت کا ذریعہ بن گئی ۔ یا لیلی رسول اللہ کی اس گواہی کے نتیجے میں نجات پاگئی جو آپ نے ابتدا میں دی تھی۔ لیکن دیکھ لو کہ اس میں بھی ذاتی ایمان اور ذاتی عمل کی موجودگی ضروری ہے اور سزا تو بہر حال انسان کو بھگتنی پڑتی ہے۔ تو یہ بتاؤ کہ سزا بھگت کر معافی کا راستہ بہتر ہے یا شروع ہی میں تو بہ اور عمل صالح کا راستہ اختیار کر لینا اور بغیر کسی سختی کے نجات پا جانا بہتر ہے؟“
ظاہر ہے کہ پہلا راستہ بہتر ہے، مگر یہ بتائیے کہ پھر حضور کی شفاعت کی کیا حقیقت ہے؟“ ، اس دفعہ عارفہ نے جواب دیا اور ساتھ میں صالح سے ایک سوال بھی کر لیا۔ حضور کی شفاعت کا مطلب اگر یہ ہوتا کہ لوگوں کے پاس کوئی نیک عمل نہ ہو تب بھی حضور لوگوں کو بخشوا دیں گے تو قرآن عمل صالح کی کوئی بات ہی نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضور کی زبانی یہ کہلوا دیتے کہ لوگوں بس مجھ پر ایمان لے آؤ، میں آخر کار تم کو بخشوا دوں گا۔ یہ تو عیسائیوں کا عقیدہ تھا اور اس کا انجام انھوں نے آج بھگت لیا۔ ، ناعمہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔
صالح نے اس کی تائید میں کہا:
ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس ساری یقین دہانی اس بات کی ہے کہ ایمان لاؤ اور عمل صالح اختیار کرو اور سیدھا جنت میں جاؤ۔ باقی رہی حدیث تو حدیثوں میں جو کچھ شفاعت کے بارے میں آیا ہے اسے اگر قرآن کی روشنی میں دیکھا جاتا جو آخرت کے بارے میں حقائق بیان کرنے کی اصل کتاب ہے تو بات بالکل واضح تھی ۔“
وہ کیا بات ہے؟ جمشید نے پوچھا:
وہ یہی کہ آج کے دن گنہ گاروں نے اپنے اعمال کی پوری پوری سزا بھگتی ہے۔ اس کے بعد حضور کی درخواست وہ سبب بن گئی جس کی بنا پر لوگوں کی نجات کا امکان پیدا ہوا۔ یہ پہلی دفعہ
اس وقت ہوا تھا جب حضور نے اللہ تعالی سے یہ درخواست کی تھی کہ انسانیت کا حساب کتاب شروع ہو۔ جس کے نتیجے میں لوگوں کو انتظار کی زحمت سے نجات ملی ۔ دوسری دفعہ آپ نے اور دیگر تمام انبیا نے اپنی اپنی قوموں کو دی گئی اپنی تعلیم کی شہادت دی۔ یہ شہادت ان سب لوگوں کے لیے نجات کا باعث بن گئی جن کا عمل مجموعی طور پر اس تعلیم کے مطابق تھا۔
جیسے کے میں ۔“ ، لیلی بولی ۔
ہاں جیسے کے تم۔ اور اب تیسری دفعہ حضور اس وقت درخواست کریں گے جب کچھ لوگوں کا معاملہ مؤخر کر دیا جائے گا۔ ان کا حساب کتاب آخری وقت تک نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنے گناہوں کی پاداش میں حشر کے میدان میں خوار ہوتے رہیں گے۔ حضور ان کے لیے بار بار درخواست کریں گے۔ تاہم جب اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کے تحت ان کا فیصلہ کرنا مناسب ہوگا تب حضور کو اجازت دی جائے گی کہ وہ ان کے حق میں کوئی بات کریں۔ پھر حضور کی درخواست کے نتیجے میں ان کا حساب کتاب ہوگا جس کے بعد جا کر ان کی نجات کا کوئی امکان پیدا ہو گا۔ اور یہ ہوگا بھی سب سے آخر میں جب ایسے لوگ اپنے تمام اعمال کی بدترین سزا بھگت چکے ہوں گے اور توحید سے وابستگی اور اپنے اچھے اعمال کی بنا پر نجات کے مستحق ہو جائیں گے۔“
میرا ایک سوال ہے۔“‘ ، انور نے صالح کو مخاطب کر کے کہا۔ وہ یہ کہ اگر سب لوگ سزا بھگت کر ہی معافی کے مستحق بن رہے ہیں تو اس میں اللہ کی رحمت کہاں سے آگئی۔ یہ تو بس عدل ہو رہا ہے۔“
بہت اچھا سوال ہے ۔ ، صالح نے انور کی تحسین کرتے ہوئے جواب میں کہا۔
دیکھو! وہ اگر صرف عدل کرتے تو ایسے لوگوں کی اصل سزا جہنم کے عذاب تھے جن کا بھگتنا میدان حشر کی سختیوں سے ہزاروں لاکھوں گنا سخت سزا ہے۔ عدل کے تحت ایسے تمام لوگوں کو جہنم کی سزا بھگتنی چاہیے تھی۔ مگر ان کی رحمت یہ ہے کہ وہ حشر کی سختی کو جہنم کے عذابوں کا بدل بنار ہے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ کی صفت عدل اور صفت رحمت کا بیک وقت ظہور ہو رہا ہے ۔
صالح نے بات ختم کی تو جمشید نے کہا:
تو یہ ہے اصل بات۔ میں تو اس غلط فہمی میں رہا کہ شفاعت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم جتنے مرضی گناہ کر لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر نیک لوگ ہمیں بخشوا دیں گے۔“
یہ تصور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ یہ بس ایک غلط نہیں تھی جو قرآن کریم کو سمجھ کر نہ پڑھنے کی وجہ سے لوگوں کو ہوگئی تھی۔ نجات تو صرف ایمان اور عمل صالح سے ہوتی ہے۔ باقی رہی معافی تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملتی ہے۔ اللہ تعالی بس یہ کرتے ہیں کہ اس معافی کا اعلان اور سبب کسی نیک بندے کی گواہی یا درخواست کو بنا دیتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالی کا مقصود اپنے محبوب و برگزیدہ بندوں کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ نجات تو اپنے اصول پر ہوتی ہے۔ اور تم سے بہتر اب یہ کون جانتا ہے کہ انسان جہنم میں نہ بھی جائے تب بھی گناہوں کی کتنی سخت سزا حشر کے میدان کی سختی کی شکل میں بہر حال بھگتنی پڑتی ہے۔“
کیا جہنم میں جانے کے بعد بھی نجات کا کوئی امکان ہے؟، عالیہ نے سوال کیا تو ایک خاموشی چھا گئی ۔ کچھ دیر بعد اس سکوت کو صالح نے توڑتے ہوئے کہا:
قرآن کہتا ہے نا کہ اللہ تعالی بس شرک ہی کو معاف نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہیں اور جس شخص کے لیے چاہیں بخش سکتے ہیں ۔
مطلب؟، انور نے پوچھا۔
مطلب یہ کہ کچھ گناہ جہنم تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن ان گناہوں کے باوجود جن لوگوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی تھی ، انھیں آخر کار معافی مل سکتی ہے۔ مگر یہ معافی کس کو ملے گی، کب ملے گی ، یہ باتیں اللہ کے سوا کوئی جانتا ہے اور نہ کوئی اور طے ہی کرے گا۔ اور میرے بھائی جہنم تو ایک پل رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ جو لوگ وہاں سے نکلیں گے وہ نجانے کتنا عرصہ گزارنے کے بعد
اپنی سزا بھگت کر نکلیں گے۔ یہ مدت اتنی زیادہ ہوگی کہ اربوں کھربوں سال بھی اس حساب میں چند لمحوں کے برابر ہیں۔ اس بارے میں تو نہ سوچنا ہی بہت بہتر ہے۔“
میرے خدایا!، انور لرز کر بولا ۔
جہنم تو دور کی بات ہے، حشر کے میدان میں ایک پل کھڑے رہنا بھی نا قابل برداشت عذاب ہے ۔ جمشید نے اپنے تجربے کی روشنی میں کہا۔
لیلی نے اس پر مزید اضافہ کیا:
یہ گناہ کتنی بڑی مصیبت ہوتے ہیں۔ کاش یہ بات ہم لوگ دنیا میں سمجھ لیتے ۔“
صالح نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا:
انسانوں کی دو سب سے بڑی بدنصیبیاں رہی ہیں۔ ایک یہ کہ حشر کے دن کا مرکزی خیال حساب کتاب تھا، مگر لوگوں نے اسے شفاعت کا موضوع بنا دیا۔ دوسری یہ کہ انسانی زندگی میں مرکزی حیثیت ارحم الراحمین ، رب العالمین کی تھی، جبکہ لوگوں نے غیر اللہ کو مرکزی خیال بنا دیا۔
میں نے صالح کی تائید کرتے ہوئے کہا:
کتنی بچی بات کہی ہے تم نے صالح ! کاش لوگ یہ بات دنیا میں جان لیتے ۔“
پھر میں نے اپنے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
میرے بچوں ! اب دنیا کی زندگی قصہ ماضی ہو چکی ہے۔ اب تمھاری منزل ختم نہ ہونے والی جنت کی بادشاہی ہے۔ سکون ، آسودگی ، آسانی محبت ، رحمت ، لطف و سرور تمھیں یہ سب مبارک ہو۔ دیکھا تم نے ہمارا رب کتنا کریم و رحیم ہے۔ آؤ ہم سب مل کر اپنے رب کریم کی حمد کریں اور مل کر کہیں الحمد لله رب العالمين، “
سب نے مل کر الحمد لله رب العالمین کو ایک نعرے کی شکل میں بلند کیا۔
عبد اللہ ! حشر کے دن کے معاملات اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تمھیں اگر حشر کے معاملات سے کوئی دلچسپی باقی رہ گئی ہے تو دوبارہ وہاں چلے چلو ، کچھ دیر بعد صالح نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔
اس وقت حساب کتاب کہاں تک پہنچا ہے؟ ، ناعمہ نے دریافت کیا۔ لوگوں کی زیادہ بڑی تعداد آخری زمانے میں پیدا ہوئی تھی ۔ وہ سب اب نمٹ چکے ہیں۔
مسلمانوں اور مسیحیوں اور ان کے معاصرین کا عمومی حساب کتاب ہو چکا ہے۔ اس وقت یہود کا حساب چل رہا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ بیشتر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ دیگر امتوں میں لوگوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اس لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ میرے استاد، فرحان احمد کا کیا ہوا۔ تمھیں کچھ معلوم ہے؟“
نہیں میرا ان سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ۔ اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا۔ یہ تو میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں حوض پر نہیں ہیں ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا ہوگا۔ ویسے بہتر ہے کہ اب تم اٹھ جاؤ ۔
ٹھیک ہے۔ ہم لوگ چلتے ہیں ۔ میں نے نشست سے اٹھتے ہوئے کہا۔ ناعمہ اور بچے بھی اپنی نشستوں سے اٹھ گئے ۔ ناعمہ نے اٹھتے ہوئے کہا:
میں ان بچوں کے ہمراہ ان کے خاندانوں کے پاس جارہی ہوں۔ یہاں وی آئی پی لاؤنج میں تو صرف آپ کے بچے آسکتے ہیں۔ ان کے بچے تو نیچے انتظار کر رہے ہیں۔ میں ان کے پاس جارہی ہوں۔ اور ہاں مجھے اپنے جمشید کے لیے کوئی نئی دلہن بھی ڈھونڈنی ہے۔“ اس آخری بات پر ہم سب ہنس پڑے سوائے جمشید کے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ نئی دلہن کی بات پر ہنسے یا اپنی سابقہ بیوی کی ہلاکت پر افسوس کرے۔
جاری ہے۔

07/11/2024

جب زندگی شروع ہوگی
قسط نمبر 42

گیارہواں باب

آخر کار........

جمشید کو ابھی حساب کے لیے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ دو فرشتے اس کو عرش کے قریب لے کر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا جس پر دنیا کے پچاس ساٹھ برسوں کی دولتمندی کا تو کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا، لیکن حشر کے ہزاروں برس کی خواری کی پوری داستان لکھی ہوئی تھی۔ اس کے قریب جانے سے قبل میں نے اپنے دل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ۔ قریب پہنچا تو اس کے قریب کھڑے فرشتوں نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مگر صالح کی مداخلت پر انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ جمشید نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ وہ بے اختیار میرے قریب آیا اور میرے سینے سے لپٹ گیا۔ پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولا :
ابو میں اتنا خوفزدہ ہوں کہ اب آنسو بھی نہیں نکل رہے۔“
میں اس کی کمر تھپتھپانے کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔ پھر اس نے آہستگی سے کہا:
ابو شاید میں اتنا برا نہیں تھا۔“
مگر تم بروں کے ساتھ ضرور تھے بیٹا ! بروں کا ساتھ کبھی اچھے نتائج تک نہیں پہنچا تا تم نے شادی کی تو ایسی لڑکی سے جس کی واحد خوبی اس کا حسن اور دولت تھی ۔ خدا کی نظر میں یہ کوئی خوبی نہیں ہوتی۔ تم ہم سے الگ ہو گئے اور اپنے سر کے ایسے کاروبار میں شریک ہو گئے جس کے بارے میں تمھیں معلوم تھا کہ اس میں حرام کی آمیزش ہے۔ مگر بیوی ، بچوں اور مال و دولت کے لیے تم حرام میں تعاون کے مرتکب ہوتے رہے۔ یہی چیزیں تمھیں اس مقام تک لے آئیں ۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں ابو، مگر میں نے نیکیاں بھی کی تھیں۔ تو کیا کوئی امید ہے؟“ میں خاموش رہا۔ میری خاموشی نے اسے میرا جواب سمجھا دیا۔ وہ مایوس کن لہجے میں بولا : مجھے اندازہ ہو گیا ہے ابو ۔ اپنے بیوی بچوں اور ساس سسر کو جہنم میں جاتا دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہو چکا ہے کہ آج کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ سارا اختیار اس رب کے پاس ہے جس کے احکام کو میں بھولا رہا۔ آج جس کا عمل اسے نہیں بچا سکا اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکے گی۔ میں ہزاروں برس سے اس میدان میں پریشان پھر رہا ہوں۔ میں ان گنت لوگوں کو جہنم میں جاتا دیکھ چکا ہوں۔ مجھے اب اپنی نجات کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت معافی مانگی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ آج معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ابو! اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں ۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کر دیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا ۔ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میری آنکھوں سے آنسو نہ نہیں ہیں ، مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں برسنے لگیں ۔ اسی اثنا میں جمشید کا نام پکارا گیا۔
فرشتوں نے فوراً اسے مجھ سے الگ کیا اور بارگاہ ربوبیت میں پیش کر دیا۔ وہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر سارے جہانوں کے پروردگار کے حضور پیش ہو گیا۔ ایک خاموشی طاری تھی۔ جمشید کھڑا تھا مگر اس سے کوئی سوال نہیں کیا جا رہا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کچھ فرشتوں کے ساتھ ناعمہ وہاں آگئی۔ اس کے ساتھ ہی صالح نے مجھے اشارہ کیا تو میں ناعمہ کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا۔ ناعمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی مگر بارگاه احدیت کا رعب اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔
کچھ دیر میں جمشید سے سوال ہوا:
" مجھے جانتے ہو، میں کون ہوں؟“
اس آواز میں اتنا ٹھہراؤ تھا کہ میں اندازہ نہیں کر سکا کہ یہ ٹھہراؤ کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہے یا پھر مالک دو جہاں کے علم کا ظہور ہے۔
آپ میرے رب ہیں ۔ سب کے رب ہیں ۔ یہی میرے والد نے مجھے بتایا تھا۔“
شان بے نیازی کے ساتھ پوچھا گیا:
کون ہے تمھارا باپ؟“
جمشید نے میری طرف دیکھ کر کہا:
یہ کھڑے ہوئے ہیں ۔“
اس کے اس جملے کے ساتھ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہو چکا تھا کہ اب جمشید مارا گیا۔ کیونکہ میں نے اسے توحید کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی نصیحت کی تھی جن میں اس کا ریکار ڈ اچھا نہیں تھا۔ اب مجھ سے یہی پوچھا جانا تھا کہ میں نے اسے کن باتوں کی نصیحت کی تھی اور میری یہی گواہی اس کی پکڑ کا سبب بن جاتی ۔ مگر میری توقع کے بالکل بر خلاف اللہ تعالیٰ نے مجھے گواہی کے لیے نہیں بلایا۔ انہوں نے جمشید سے ایک بالکل مختلف سوال کیا: ابھی تم اپنے باپ سے کیا کہہ رہے تھے۔ یہ کہ اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں ۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کر دیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔“
لمحہ بھر پہلے جو میری امید بندھی تھی وہ اس سوال کے ساتھ ہی دم تو ڑ گئی ۔ جمشید کو بھی اندازہ ہو گیا کہ اس کی پکڑ شروع ہو چکی ہے۔ خوف کے مارے اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں لرزنے لگے۔ اس کے سان و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ جو دوسرے حساب کتاب میں مصروف تھے ساتھ ساتھ اس کی بات بھی سن رہے تھے۔ نہ صرف سن رہے تھے بلکہ اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کا سبب بن گئے تھے۔ وہ بڑی بے بسی سے بولا :
" جی میں نے یہ بات کہی تھی لیکن میرا مطلب وہ بالکل نہیں تھا جو آپ سمجھے ہیں ۔“
دو تمھیں کیا معلوم میں کیا سمجھا ہوں؟“ پوچھا گیا، مگر آواز میں ابھی تک وہی ٹھہراؤ تھا۔ نہ نہیں مجھے بالکل نہیں معلوم ۔ آپ کیا سمجھے ۔“، جمشید نے لڑکھڑاتی زبان سے جواب دیا۔
اس سے مزید کوئی بات کہنے کے بجائے ناعمہ سے پوچھا گیا: میری لونڈی یہ تیرا بیٹا ہے۔ اس نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ۔
ناعمہ بولی:
پروردگار ! اس نے میرے ساتھ بہت نیک سلوک کیا ۔ یہ بڑھاپے تک میری خدمت کرتا رہا۔ اس نے مال سے عمل سے اور محبت سے میرے ساتھ بہت حسن سلوک کیا ۔ اس کی بیوی اسے ٹوکتی تھی لیکن یہ میری خدمت سے باز نہیں آیا۔ اس نے اپنا مال اور اپنی جان سب بے دریغ میرے لیے وقف کر دی تھی ۔“
ناعمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جمشید کے لیے اور بہت کچھ کہے، مگر اسے معلوم تھا کہ جو پوچھا گیا ہے اس سے ایک لفظ زیادہ کہنے پر اس کی اپنی پکڑ ہو جائے گی ۔ اس لیے وہ مجبوراً اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔
پروردگار نے فرشتے کی طرف دیکھ کر پوچھا:
کیا یہ عورت ٹھیک کہہ رہی ہے؟“
فرشتے نے نامہ اعمال دیکھ کر کہا : ” اس نے بالکل ٹھیک کہا ہے ۔“
اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے میرے دل کی دھڑکن تیز کردی۔ حکم ہوا اس کے اعمال تر از و میں رکھو۔ پہلے گناہ رکھے گئے ۔ جن سے الٹے ہاتھ کا پلڑا بھاری ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد نیکیاں رکھی گئیں ۔ ہم سب کے چہرے فق تھے۔ ایک ایک کر کے نیکیاں رکھی گئیں ۔ مگر وہ گناہوں کے مقابلے میں اتنی کم اور ہلکی تھیں کہ میزان میں الٹے ہاتھ کا پلڑا بدستور بھاری رہا۔ آخر میں صرف دو نیکیاں رہ گئیں ۔ بظاہر فیصلہ ہو چکا تھا۔ ناعمہ نے مایوسی اور بے کسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ آنکھیں بند کر لیں ۔ جمشید اپنا سر پکڑ کے بے بسی سے زمین پر گر گیا۔ میں جس وقت سے میدان حشر میں آیا تھا میں نے ایک دفعہ بھی عرش کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ مگر نجانے اس وقت پہلی بار بے اختیار میری نگاہیں مالک ذوالجلال کی طرف اٹھ گئیں . ایک لمحے سے بھی کم عرصے کے لیے اس ساعت میرے دل سے وہی صدا نکلی جو زندگی کی ہر نا گہانی اور مشکل پر میرے دل سے نکلا کرتی تھی ۔ لا اله الا الله ۔ پھر میری نظر اور سر دونوں فورا جھک گئے ۔
فرشتے نے پہلی نیکی اٹھائی۔ یہ ناعمہ کے ساتھ کیا گیا اس کا حسن سلوک تھا۔ حیرت انگیز طور پر سیدھے ہاتھ کا پلڑا بلند ہونا شروع ہوا۔ میں نے اپنے برابر کھڑی ناعمہ کو جھنجھوڑ کر کہا: ناعمہ ! آنکھیں کھولو۔“
میری آواز جمشید تک بھی چلی گئی۔ اس نے سراٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ کھڑا ہو گیا ۔ اٹھتے پلڑے کے ساتھ اس کی آس بھی بن گئی۔ لیکن ایک جگہ پہنچ کر سیدھے ہاتھ کا پلڑا ٹھہر گیا۔ الٹے
ہاتھ کا پلڑا ابھی تک بھاری تھا۔ ہمارے دلوں میں جلنے والی امید کی شمع پھر بجھنے لگی۔ فرشتے نے آخری نیکی اٹھائی اور بلند آواز سے کہا۔ یہ توحید پر ایمان ہے۔ اس کے رکھتے ہی پلڑے کا توازن بدل گیا۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا - الله اكبر ولله الحمد -
اس کے ساتھ ہی مدھم لہجے میں آواز آئی: جمشید تمھارے باپ نے تمھیں میرے بارے میں یہ بھی بتایا تھا کہ میں ماں باپ سے ستر ہزار گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں ۔ یہ تم تھے جس نے میری قدر نہیں کی ۔ اسی لیے میدان حشر میں تمھیں اتنی سختی اٹھانی پڑی۔ میرا عدل بے لاگ ہوتا ہے ۔ مگر میری رحمت ہر شے پر غالب ہے۔“
فرشتے نے نجات کا فیصلہ تحریر کر کے نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا۔ جمشید کے منہ سے شدت جذبات میں ایک چیخ نکلی۔ اسے جنت کا پروانہ مل گیا تھا۔ ہزاروں سال پر مبنی اس طویل اور سخت دن کی اذیت سے اسے نجات مل گئی بلکہ ہر تکلیف سے اسے نجات مل چکی تھی۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور ہم دونوں سے لپٹ گیا۔ ناعمہ پر شادی مرگ کی کیفیت طاری تھی ۔ جمشید کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور میں اپنے وجود کے ہر رعشے کے ساتھ اس رب کریم کی حمد کر رہا تھا جس کی رحمت کا ملہ نے جمشید کو معاف کر دیا تھا۔
جاری ہے۔

07/11/2024

جب زندگی شروع ہوگی
قسط نمبر 41

اگلی شخصیت جسے حساب کے لیے پیش کیا گیا اسے دیکھ کر میری اپنی حالت خراب ہوگئی۔ یہ کوئی اور نہیں میری بیٹی لیلی کی سہیلی عاصمہ تھی ۔ اس کی حالت پہلے سے بھی زیادہ ابتر تھی ۔ اسے بارگاه احدیت میں پیش کیا گیا۔
پہلا سوال ہوا:
پانچ وقت نماز پڑھی یا نہیں؟“
اس کے جواب میں وہ بالکل خاموش کھڑی رہی ۔
دوبارہ کہا گیا:
کیا تو مفلوج تھی؟ کیا تو خدا کو نہیں مانتی تھی؟ کیا تو خود کو معبد بجھتی تھی؟ کیا تیرے پاس ہمارے لیے وقت نہیں تھا؟ یا ہمارے سوا کوئی اور تھا جس نے تجھے دنیا بھر کی نعمتیں دی تھیں ؟“
عاصمہ کو اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
اس کی جگہ فرشتے نے کہا:
پروردگارا! یہ کہتی تھی کہ خدا کو ہماری نماز کی ضرورت نہیں ہے۔“
خوب ! اس نے ٹھیک کہا تھا۔ مگر اب اس کو یہ معلوم ہو گیا ہوگا کہ نماز کی ضرورت ہمیں نہیں خود اس کو تھی۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ اس کے بغیر کوئی جنت میں کیسے داخل ہو سکتا ہے۔“
اس کے بعد عاصمہ سے اگلے سوالات شروع ہوئے۔ زندگی کن کاموں میں گزاری؟ جوانی کیسے گزاری؟ مال کہاں سے حاصل کیا، کیسے خرچ کیا ؟ علم کتنا حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا ؟ زکوۃ ،
انسانوں کی مدد، روزہ، حج ۔ یہ اور ان جیسے دیگر سوالات ایک کے بعد ایک کیے جاتے رہے۔ مگر ہر سوال اس کی ذلت اور رسوائی میں اضافہ کرتا گیا۔
آخر کار عاصمہ چیخیں مار کر رونے لگی ۔ وہ کہنے لگی:
پروردگار ! میں آج کے دن سے غافل رہی ۔ ساری زندگی جانوروں کی طرح گزاری۔ عمر بھر دولت ، فیشن، دوستیوں، رشتوں اور مزوں میں مشغول رہی۔ تیری عظمت اور اس دن کی ملاقات کو بھولی رہی۔ میرے رب مجھے معاف کر دے۔ بس ایک دفعہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دے۔ پھر دیکھ میں ساری زندگی تیری بندگی کروں گی۔ کبھی نافرمانی نہیں کروں گی ۔ بس مجھے ایک موقع اور دے دے۔“‘، یہ کہہ کر وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگی۔ دو میں تمھیں دوبارہ دنیا میں بھیج دوں تب بھی تم وہی کرو گی ۔ اگر تمھیں ایک موقع اور دے دوں تب بھی تمھارے رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ میں نے اپنا پیغام تم تک پہنچا دیا تھا۔ مگر تمھاری آنکھوں پر پٹی بندھی رہی ۔ تم اندھی بنی رہیں۔ اس لیے آج تم جہنم کے تاریک گڑھے میں پھینکی جاؤ گی۔ تمہارے لیے نہ کوئی معافی ہے اور نہ دوسرا موقع ۔“ پھر اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو اس سے پہلے لوگوں کے ساتھ ہو چکا تھا۔
عاصمہ کا انجام دیکھ کر میری حالت دگرگوں ہوگئی ۔ میرے لاشعور میں یہ خوف پوری طرح موجزن تھا کہ اگر اسی طرح میرے بیٹے جمشید کے ساتھ ہوا تو یہ منظر میں دیکھ نہ سکوں
گا۔
میں نے صالح سے کہا:
میں اب یہاں ٹھہرنے کی ہمت نہیں پاتا۔ مجھے یہاں سے لے چلو۔“ صالح میری کیفیت کو سمجھ رہا تھا۔ وہ بغیر کوئی سوال کیے میرا ہاتھ پکڑے ایک سمت روانہ ہو گیا۔ راستے میں جگہ جگہ انتہائی عبرتناک مناظر تھے۔ ان گنت صدیوں تک میدان حشر کے سخت ترین ماحول کی اذیتیں اٹھا کر لوگ آخری درجے میں بدحال ہو چکے تھے۔ دولتمند ، طاقتور، بارسوخ ، ذہین، حسین، صاحب اقتدار اور ہر طرح کی صلاحیت کے حاملین اس میدان میں زبوں حال پھر رہے تھے۔ ان کے پاس دنیا میں سب کچھ تھا۔ بس ایمان و عمل صالح کا ذخیرہ نہیں تھا۔ یہ پائے ہوئے لوگ آج سب سے زیادہ محروم تھے۔ یہ خوشحال لوگ آج سب سے زیادہ
دکھی تھے۔ یہ آسودہ حال لوگ آج سب سے زیادہ بدحال تھے۔ ہزاروں برس سے خوار و خراب یہ لوگ موت کی دعائیں کرتے ، رحم کی امید باندھے، کوئی سفارش اور شفاعت ڈھونڈتے ہوئے پریشان حال گھوم رہے تھے۔ کہیں عذاب کے فرشتوں سے مار کھاتے ، کہیں بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوتے، کہیں دھوپ کی شدت سے بے حال ہوتے یہ لوگ نجات کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ اپنی اولادوں کو، اپنے بیوی بچوں کو ، اپنی ساری دولت کو ، ساری انسانیت کو فدیے میں دے کر آج کے دن کی پکڑ سے بچنا چاہتے تھے۔ مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ وقت تو گزر گیا جب چند روپے خرچ کرکے، کچھ وقت دے کر جنت کی اعلیٰ ترین نعمتوں کا حصول ممکن تھا۔ یہ لوگ ساری زندگی ، کیرئیر ، اولاد اور جائیدادوں پر انویسٹ کرتے رہے۔ کاش یہ لوگ آج کے اس دن کے
لیے بھی انویسٹ کر لیتے تو اس حال کو نہ پہنچتے۔
میدان حشر میں بار بار لوگوں کا نام پکارا جاتا۔ جس کا نام لیا جا تا دوفرشتے تیزی سے اس کی سمت جھپٹتے اور اس کو لے کر پروردگار کے حضور پیش کر دیتے ۔ لگتا تھا کہ فرشتے مسلسل اپنے شکار پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور لاکھوں کروڑوں کے اس مجمع سے بلاتر در اپنے مطلوب شخص کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ میری متلاشی نگا ہیں لاشعوری طور پر جمشید کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔ مگر وہ مجھے کہیں نظر نہ آیا۔
صالح میری کیفیت کو بھانپ کر بولا :
میں جان بوجھ کر تمھیں اس کے پاس نہیں لے جارہا۔ اس کی بیوی، بچے ، ساس ، سر سب کے لیے پہلے ہی جہنم کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔ بہتر یہ
ہے کہ تم اس سے نہ ملو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود کوئی فیصلہ کر دیں ۔“ اس کی بات سن کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میری کیفیت بہت اداس اور غمگین ہو جاتی۔ لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں ایک احساس پیدا ہوا۔
میں صالح سے کہنے لگا:
میرے رب کا جو فیصلہ ہوگا وہ مجھے قبول ہے۔ میں اپنے بیٹے سے جتنی محبت کرتا ہوں میرا مالک میرا ان دا تا اس سے ہزاروں گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ ساری مخلوقات اپنی اولا د کو جتنا چاہتی ہے ، میرا رب اس سے بڑھ کر اپنے بندوں پر شفقت فرمانے والا ہے۔ جمشید کی معافی کی اگر ایک فیصد بھی گنجائش ہے تو یقینا اسے معاف کر دیا جائے گا۔ اور اگر وہ کسی صورت معافی کے لائق نہیں تو رب کے ایسے کسی مجرم سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں ۔ چاہے وہ میرا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔“
میری بات سن کر صالح مسکرایا اور بولا :
تم بھی بہت عجیب ہو ۔ اتنے عجیب ہو کہ بس .. ہاں ! شاید میں عجیب ہوں، مگر ایک کریم رب کا بندہ ہوں ۔ اس نے میرے قلب پر سکینت نازل کر دی ہے۔ اب مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں ۔ ویسے ہم جا کہاں رہے ہیں؟“ یہ ہوئی نا بات ۔ اب تم لوٹے ہو۔ اب تم دوبارہ ایک باپ سے عبداللہ بنے ہو۔ لیکن میں تمھیں یہ بتادوں کہ ابھی تک لوگوں کی نجات کا امکان ہے۔ اللہ تعالی میدان حشر کی اس سختی کو بہت سے لوگوں کے گناہوں کی معافی کا سبب بنا کر ان کے نیک اعمال کی بنا پر انھیں معاف کر رہے ہیں ۔ تم نے اتفاق سے سارے مجرموں کا حساب کتاب ہوتے دیکھ لیا، مگر کچھ لوگوں کو ابھی بھی معاف کیا جارہا ہے۔ اس لیے کہ خدا کے انصاف میں کوئی بھی نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی ۔“
میں نے صالح کی بات کے جواب میں کہا:
بے شک میرا رب بڑا قدردان ہے، مگر ہم کہاں جا رہے ہیں؟“ ہم دراصل جہنم کی سمت جا رہے ہیں۔ میں تمھیں اب اہل جہنم سے ملوانا چاہ رہا ہوں ۔
تو کیا ہم جہنم میں جائیں گے؟
دو نہیں نہیں۔ یہ بات نہیں۔ اس وقت اہل جہنم کو جہنم کے قریب پہنچادیا گیا ہے۔ یہ جو تم میدان دیکھ رہے ہو اس میں الٹے ہاتھ کی سمت ایک راستہ بتدریج گہرا ہو کر کھائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جہنم کے ساتوں دروازے اس کھائی سے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ تم نے قرآن میں پڑھا ہے کہ ان سات دروازوں میں سات مختلف قسم کے مجرم داخل کیے جائیں گے ۔“ صالح مجھے یہ تفصیلات بتا ہی رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میدان میں نشیب کی سمت ایک راستہ اتر رہا تھا۔ ہم اس راستے پر نہیں گئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جو بلند زمین تھی اس پر چلتے رہے۔ تھوڑی دیر میں یہ راستہ تنگ ہو کر کھائی کی شکل میں تبدیل ہو گیا ۔ ہم اوپر ہی تھے جہاں سے ہمیں نیچے کا منظر بالکل صاف نظر آ رہا تھا۔ اس راستے پر جگہ جگہ فرشتے تعینات تھے جو مجرموں کو مارتے گھسیٹتے ہوئے لا رہے تھے۔
تھوڑا آگے جا کر اس تنگ راستے یا کھائی پر رش بڑھنے لگا۔ یہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا ۔ بد ہیبت اور بد شکل مرد و عورت اس جگہ ٹھے پڑے تھے ۔ یہ وہ ظالم اور فاسق و فاجر لوگ تھے جن کے انجام کا اعلان ہو چکا تھا اور جہنم میں داخلے سے قبل انہیں جانوروں کی طرح ایک جگہ ٹھونس دیا گیا تھا۔
وقفے وقفے سے جہنم کے شعلے بھڑکتے اور آسمان تک بلند ہوتے چلے جاتے ۔ ان کے اثر سے یہاں کا سارا آسمان سرخ ہو رہا تھا۔ جبکہ ان کے دیکھنے کی آواز ان مجرموں کے دلوں کو دہلا رہی تھی۔ کبھی کبھار کوئی چنگاری جو کسی بڑے محل جتنی وسیع ہوتی اس کھائی میں جا گرتی جس سے زبردست ہلچل مچ جاتی ۔ لوگ آگ کے اس گولے سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کو کچلتے اور پھلانگتے ہوئے بھاگتے ۔ ایسا زیادہ تر اس وقت ہوتا جب کچھ بڑے مجرم اس گروہ کی طرف لائے جاتے تو آگ کا یہ گولہ ان کا استقبال کرنے آتا ۔ جس کے نتیجے میں ان لوگوں کی اذیت
اور تکلیف میں اور اضافہ ہو جاتا۔
صالح نے ایک سمت اشارہ کر کے مجھ سے کہا:
وہاں دیکھو، جیسے ہی میں نے اس سمت دیکھا تو مجھے وہاں کی ساری آواز میں صاف سنائی دینے لگیں۔ یہ کچھ لیڈر اور ان کے پیروکار تھے جو آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ پیروکار اپنے لیڈروں سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے تمھارے کہنے پر حق کی مخالفت کی تھی۔ تم کہتے تھے کہ ہماری بات مانو تمھیں اگر کوئی عذاب ہوگا تو ہم بچالیں گے۔ کیا آج ہمارے حصے کا کوئی عذاب تم اٹھا سکتے ہو یا کم از کم اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی بتا دو؟ تم تو بڑے ذہین اور ہر مسئلے کا حل نکال لینے والے لوگ تھے۔ وہ لیڈر جواب دیتے: اگر ہمیں کوئی راستہ معلوم ہوتا تو پہلے خود نہ بچتے۔ ویسے ہم نے تو تم سے نہیں کہا تھا کہ جو ہم کہیں وہ ضرور مانو۔ ہم نے زبر دستی تو نہیں کی تھی۔ ہمارے راستے پر چلنے میں تمھارے اپنے مفادات تھے۔ اب تو ہم سب کو مل کر اس عذاب کو بھگتنا ہوگا۔ اس پر پیروکار کہتے : اے اللہ ہمارے ان لیڈروں نے ہم کو گمراہ کیا۔ ان کو دو گنا عذاب دے۔ جواب میں وہ لیڈر جھنجھلا کر کہتے کہ ہمیں بد دعا دے کر تمھاری اپنی حالت کونسی بہتر ہو جاتی ہے۔
اس گفتگو پر صالح نے یہ تبصرہ کیا:
ان سب کے لیے ہی دو گنا عذاب ہوگا کیونکہ جو پیرو کار تھے وہ بعد والوں کے لیڈر بن گئے اور ان کو اسی طرح گمراہ کیا۔ دیکھو ان کے مزید پیرو کار آ رہے ہیں۔
میں نے دیکھا تو واقعی اس ہجوم میں دھکم پیل شروع ہوگئی کیوں کہ کچھ اور لوگ ان کی طرف آئے تھے۔ وہ لیڈر بولے۔ ان بد بختوں کو بھی یہیں آنا تھا۔ پہلے ہی جگہ اتنی تنگ ہے یہ بد بودار
لوگ اور آگئے۔ نئے آنے والے اس بدترین استقبال پر آپے سے باہر ہو گئے اور ایک نیا جھگڑا شروع ہو گیا۔ جو تھوڑی دیر میں مار پیٹ میں تبدیل ہو گیا ۔ اہل جہنم ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ، گالیاں بکتے باہم دست و گریباں ہو گئے ۔ لاتیں گھونسے ، دھکم پیل اور چیخ و پکار کے اس جبس زدہ ماحول میں لوگوں کی جو حالت ہو رہی تھی ، ظاہر ہے میں صرف دیکھ اور سن کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ مگر مجھے یقین تھا کہ یہ لوگ اپنی دنیا کی زندگی کو یاد کر کے ضرور رو رہے ہوں گے جس میں ان کے پاس سارے مواقع تھے ، مگر جنت کی نعمت کو چھوڑ کر انھوں نے اپنے لیے جہنم کی اس وحشت کو پسند کر لیا۔ صرف چند روزہ مزوں، فائدوں ، خواہشات اور تعصبات کی خاطر۔
صالح مجھ سے کہنے لگا:
ابھی تو یہ لوگ جہنم میں گئے ہی نہیں ۔ وہاں تو اس سے کہیں بڑھ کر عذاب ہوگا۔ ان کے گلے میں غلامی اور ذلت کی علامت کے طور پر طوق پڑا ہوگا۔ پہننے کے لیے گندھک اور تارکول کے کپڑے ملیں گے جو دور ہی سے آگ کو پکڑ لیں گے۔ یہ آگ ان کے چہرے اور جسم کو جھلسا دے گی ۔ وہ اذیت سے تڑپتے رہیں گے مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آئے گا نہ ان پر ترس کھائے گا۔ پھر ان کی جھلسی ہوئی جلد کی جگہ نئی جلد پیدا ہو گی جس سے انھیں شدید خارش ہوگی ۔ یہ اپنے آپ کو کھجاتے کھجاتے لہولہان کر لیں گے، مگر کھجلی کم نہ ہوگی ۔
جب کبھی انہیں بھوک لگے گی تو انھیں کھانے کے لیے خاردار جھاڑیاں اور کڑوے زہریلے تھوہر کے درخت کے وہ پھل دیے جائیں گے جن پر کانٹے لگے ہوں گے۔ جبکہ پینے کے لیے غلیظ اور بد بودار پیپ، ابلتا پانی اور کھولتے تیل کی تلچھٹ ہوگی جو پیٹ میں جا کر آگ کی طرح کھولے گا اور پیاس کا عالم یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس کو تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پینے پر مجبور ہوں گے۔ وہ پانی ان کی پیٹ کی انتڑیاں کاٹ کر باہر نکال دے گا۔ جہنم میں فرشتے انھیں بڑے بڑے ہتھوڑوں سے ماریں گے۔ جس سے ان کا جسم بری طرح زخمی ہو جائے گا۔ ان کے زخموں سے جو لہو اور پیپ نکلے گی وہ دوسرے مجرموں کو پلائی جائے گی۔ پھر ان کو زنجیروں میں باندھ کر کسی تنگ جگہ پر ڈال دیا جائے گا۔ وہاں ہر جگہ سے موت آئے گی مگر وہ مریں گے نہیں۔ اس وقت ان کے لیے سب سے بڑی خوش خبری موت کی خبر ہو گی مگر وہاں انھیں موت نہیں آئے گی ۔ وقفے وقفے سے یہ سارے عذاب وہ ہمیشہ بھگتے رہیں گے۔“
میں یہ تفصیلات سن کر لرز اٹھا۔ صالح نے مزید کہا: اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرنے سے قبل یہاں اوپر لایا جائے گا اور انہیں جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل بٹھا دیا جائے گا۔ چنانچہ ان کے لیے سب سے پہلا عذاب یہ ہوگا کہ وہ اپنی آنکھوں سے سارے عذاب دیکھ لیں گے۔ پھر گروہ در گروہ اہل جہنم کو جہنم کی تنگ و تاریک جگہوں پر لے جا کر ٹھونس دیا جائے گا اور عذاب کا وہ سلسلہ شروع ہوگا جس کی تفصیل میں نے ابھی بیان کی ہے۔“
تو کیا سارے اہل جہنم کا یہی انجام ہوگا ؟“
نہیں یہ تو بڑے مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ دوسروں کے ساتھ ہلکا معاملہ ہو گا مگر یہ ہلکا معاملہ بھی بہر حال نا قابل برداشت عذاب ہی ہوگا۔
پھر اس نے ایک اور سمت اشارہ کیا۔ تو میں نے دیکھا کہ وہاں بعض انتہائی بد ہیبت اور مکروہ شکل کے لوگ موجود ہیں۔ صالح ایک ایک کر کے مجھے بتانے لگا کہ ان میں سے کون شخص کس رسول کا کافر اور مخالف تھا۔ میں نے خاص طور پر نمرود اور فرعون کو دیکھا کیونکہ ان کا ذکر بہت سنا تھا۔ انھی کے ساتھ ابو جہل، ابولہب اور قریش کے دیگر سردار موجود تھے۔ ان سب کی حالت نا قابل بیان حد تک بری ہو چکی تھی ۔ وقت کے یہ سردار اس وقت بدترین غلاموں سے بھی بری حالت میں تھے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ سچائی آخری درجے میں ان کے سامنے آچکی تھی مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ خدا کے مقابلے میں سرکشی کی اور مخلوق خدا پر ظلم و ستم کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت صالح نے مجھے ایک بہت ہی عجیب مشاہدہ کرایا۔ اس کے توجہ دلانے پر میں نے دیکھا کہ ان سب کے وسط میں ایک بہت بڑا دیو ہیکل شخص کھڑا تھا۔ اس کے جسم سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور پورا جسم زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا۔ وہ ان سب سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا کہ دیکھو اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور جو وعدے میں نے کیسے تھے وہ سب جھوٹے تھے۔ آج مجھے برا بھلا نہ کہو۔ میں تمھارے سارے اعمال سے بری ہوں۔ میری کوئی غلطی نہیں ہے۔ میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ تم نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا۔ اگر تم نے میری بات مانی تو اس میں میرا کیا قصور تم لوگ مجھے مت کو سو بلکہ خود کو ملامت کرو۔ آج نہ میں تمھارے لیے کچھ کر سکتا ہوں اور نہ تم میرے لیے کچھ کر سکتے ہو۔ مجھے اس گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ یہ موصوف کون ہیں۔ میں نے اپنے اندازے کی تصدیق کے لیے صالح کو دیکھا تو وہ بولا :
تم ٹھیک سمجھے۔ یہ ابلیس ہے۔ اللہ کا سب سے بڑا نا فرمان ۔ آج سب سے بڑھ کر عذاب بھی اس کو ہو گا ۔ مگر باقی لوگوں کو بھی ان کے کیے کی سزا ملے گی ۔ میں اوپر کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں اپنے عظیم رب کی شکر گزاری کر رہا تھا جس نے مجھے شیطان کے شر اور دھوکے سے بچالیا وگرنہ زندگی میں بارہا اس ملعون نے مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی عافیت میں رکھا۔ میرا ہمیشہ یہ معمول رہا کہ میں شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا تھا۔ سو میرے اللہ نے میری لاج رکھی ۔ مگر جنھوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور شیطان کو اپنا دوست بنایا وہ بدترین انجام سے دوچار ہو گئے۔
اسی اثنا میں صالح میری طرف مڑا اور بولا : میں نے پوچھا کیوں؟
وہ بولا جمشید کو حساب کتاب کے لیے پیش کیا جانے والا ہے۔ تمھیں گواہی کے لیے بلایا جا رہا ہے ۔ عبداللہ چلو تمھیں بلایا جا رہا ہے۔“
میری گواہی ؟
ہاں تمھاری گواہی ۔“
میری گواہی اس کے حق میں ہوگی یا اس کے خلاف ۔
دیکھو اگر اللہ نے اسے معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر وہ تم سے کوئی ایسی بات پوچھیں گے جس کا جواب اس کے حق میں جائے گا۔ اور اگر اس کے گناہوں کی بنا پر اسے پکڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ تم سے کوئی ایسی بات پوچھیں گے جو اس کے خلاف جائے گی۔ یا ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی اور معاملہ کریں۔ حتمی بات صرف وہی جانتے ہیں ۔ میری حالت جو ٹھہری ہوئی تھی ایک دفعہ پھر دگرگوں ہوگئی اور میں لزرتے دل اور کانپتے قدموں کے ساتھ صالح کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔
جاری ہے ۔

Address

NEAR Telephone Exchange
Kahror Pakka
59340

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923017739613

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Best Commerce & Law College posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Best Commerce & Law College:

Shortcuts

Share

Category