15/06/2026
مفتی اعظم منہاج القرآن انٹرنیشنل مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی وفات پر دل انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہے۔ وہ نہ صرف ایک جلیل القدر عالمِ دین، فقیہ، مفسر، محدّث اور صاحبِ افتاء شخصیت تھے بلکہ ایک عظیم معلم، مربی اور مخلص تحریکی راہنما بھی تھے۔
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً چار دہائیوں تک کالج آف شریعہ اور جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں تدریس کے فرائض نہایت اخلاص، محنت اور علمی وقار کے ساتھ سرانجام دیے۔ ان کے سینکڑوں شاگرد آج دنیا بھر میں دینِ اسلام کی خدمت، تدریس، دعوت، افتاء اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں سرگرمِ عمل ہیں، جو ان کے علمی فیض اور تربیت کا روشن ثبوت ہیں۔
مرحوم کی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، تحقیق، افتاء اور امت کی فکری و روحانی رہنمائی کے لیے وقف رہی۔ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن اور دارالافتاء منہاج القرآن کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی علمی بصیرت، عاجزی، تقویٰ اور طلبہ کے ساتھ شفقت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
میں ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، رفقاء اور وابستگان کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دینی، علمی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ پسماندگان اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی
پرنسپل، کالج آف شریعہ