27/03/2026
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں تعلیمی صورتحال اور حالیہ پالیسی فیصلوں کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماہرینِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اس موقع پر پریزیڈنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز فیصل آباد جناب فاروق یوسف شیخ، قائمہ کمیٹی برائے کالجز ایجوکیشن کے چیئرمین بیرسٹر محمد دانش شیخ، چیئرمین ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پاکستان و ممبر ایف سی سی آئی کالجز ایجوکیشن کمیٹی خالد حیات کموکا، سرپرست اعلیٰ پرائیویٹ سکولز الائنس زاہد محمود بٹ و ممبر کالجز ایجوکیشن کمیٹی، اور جنرل سیکرٹری پنجاب کالجز ایسوسی ایشن و ممبر ایف سی سی آئی ایجوکیشن کمیٹی محمد قاسم بٹر ,پریزیڈنٹ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پروفیسر طاہر شہزاد , شہزاد سردار ,اظہر اقبال اور منیر اشرف نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومتِ پنجاب کا یکم اپریل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم اس تاخیر کے باعث طلبہ کو ہونے والا تعلیمی نقصان انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیول بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کی بار بار بندش ایک غیر متوازن اور یکطرفہ اقدام تھا، جس سے لاکھوں طلبہ کی تعلیم، امتحانات، داخلہ شیڈول اور نئے تعلیمی سیشن بری طرح متاثر ہوئے۔ تعلیمی سال کے دنوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے باعث طلبہ عالمی تعلیمی معیار سے مزید پیچھے جا رہے ہیں، جبکہ خاص طور پر بورڈ کلاسز کے طلبہ بغیر مکمل تیاری کے امتحانات دینے پر مجبور ہوئے، جو کہ تعلیمی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، معیشت اور استحکام کی بنیاد ہے، اس لیے اسے کسی بھی ہنگامی پالیسی کا آسان ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے۔ آن لائن تعلیم کو متبادل کے طور پر پیش کرنا بھی زمینی حقائق کے برعکس ہے کیونکہ ملک کی بڑی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے، جس سے تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ:
تعلیمی اداروں کی اچانک بندش جیسے غیر منصوبہ بند فیصلوں سے مکمل اجتناب کیا جائے
تعلیمی سال کے دن فوری طور پر بڑھائے جائیں تاکہ طلبہ کے نقصان کا ازالہ ممکن ہو
گرمیوں کی تعطیلات اور ہفتہ وار چھٹیوں میں مناسب کمی کر کے تعلیمی تسلسل بحال کیا جائے
تعلیمی پالیسی سازی میں اساتذہ، اداروں اور ماہرینِ تعلیم کو باقاعدہ شامل کیا جائے
تعلیمی شعبے کو کسی بھی ہنگامی فیصلے میں ترجیحی بنیادوں پر محفوظ رکھا جائے
امتحانی نظام اور شیڈول کو زمینی حقائق کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا جائے تاکہ طلبہ کے ساتھ انصاف ہو
آن لائن تعلیم کو اس وقت تک بطور متبادل پیش نہ کیا جائے جب تک ملک کے تمام طلبہ کو مساوی سہولیات میسر نہ ہوں
اجلاس میں نامور ماہرین تعلیم سروش عطاء, فہد حنیف, محمد دانیال شیخ , میاں عبدالستار ,میاں محمد صدیق,جمشید خان ,اظہر بشیر , داؤد احمد , عبدالشکور میڈم ثمرہ ایوب , اسلم حیات کموکا , میڈم صائمہ شوکت ,کلیم اللہ ,عبدالناصر ,ڈاکٹر مزمل حسین , عبدالسلام اور کثیر تعداد میں اسٹینڈنگ کمیٹی فار ہائر ایجوکیشن چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران اور ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران نے شرکت کی اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ طلبہ کے مستقبل کے تحفظ، تعلیمی معیار کی بہتری اور پالیسی اصلاحات کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعاون جاری رکھا جائے گا۔
Association Of Private Schools Pakistan