Online Islamic courses

Online Islamic courses

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Islamic courses, Tutor/Teacher, domeli jhelum, Jhelum.

online Islamic education
nazira Quran with tajweed,hifzulquran, translation of the Quran, Hadith,darsat e deenia

you can contact us for resolving Shariah issues
tahqeeq o Takhrrej ulhadith

19/01/2026

AL.SUNNAH ONLINE ISLAMIC COURSES

Learn Quran Online with Expert Tutors

✅5 Days Free Trail
✅Flexible Schedule⏱
✅Lower Teaching Fee
✅Certified Tutors🎖
✅Quaterly Progress Report 📄

FOR ANY INFORMATION :
🅰️ 𝑰𝑵𝑩𝑶𝑿 𝑼𝑺
🅱️ 𝑾𝑯𝑨𝑻𝑺𝑨𝑷𝑷 +92-3139800867

18/11/2025

*تیل کی واپسی*

ایک واقعہ جو کہ مختلف الفاظ کے ساتھ پوسٹ میں گردش کر رہا ہے

کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اے امیر المؤمنین میرا تیل زمین نے پی لیا ہے وہ واپس کرا دیں ۔ آپ نے فرمایا کہ بیت المال سے دلوا دیتا ہوں وہ کہنے لگی نہیں مجھے وہی تیل چاہیے ۔ آپ نے ایک رقعہ پر کچھ لکھا اور اس عورت سے کہا جس جگہ تمھارا تیل گرا ہے وہاں جاکے یہ کاغذ رکھ دو۔ اس عورت نے وہ کاغذ وہاں رکھا تو زمین نے تیل باہر انڈیل دیا اس نے شیشی بھری اور جب اس کاغذ کو پڑحا تو اس میں لکھا تا

َ تم اس عورت کو تیل واپس کردو ورنہ اس جہ میں ایک بے نمازی کو دفنا دوں گا

بے نمازی کی نحوست کتنی زیادہ ہے کہ زمین بھی ڈر گئ اور اس نے انے اندر بے نمازی کو جگہ دینے کی دھمکی کی وجہ سے تیل باھر انڈیل دیا

یہ واقعہ کس کتا ب میں ہے ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

یہ واقعہ کسی نے خود گھڑا ہے کسی مستند ماخذ میں اس کا وجود نہیں ملا ۔

یاد رہے اس کا تعلق تاریخ سے ہے حدیث سے اگرچہ نہیں ہے مگر پھر بھی کسی مستند ماخذ میں اس کا وجود ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ ہر کوئی اپنی طرف سے واقعات گھڑ کے بیان کرنا شروع کر دے گا ۔ جو کہ بالکل بھی جائز نہیں ہے

قرآن و حدیث میں نماز کی اہمیت کے حوالہ سے صحیح دلائل اتنے زیادہ ہیں کہ اس طرح کے واقعات گھڑ کے امت کو اس کی طرف لگانے کی قطعا گنجائش نہیں ہے

دوسرا واقعہ

اس حوالہ سے ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی کہ میں تیل لارہی تھی زمین پر گر گیا اور اس نے پی لیا ہے ۔ آپ واپس دلا دیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر درہ مارا اور فرمایا کیا عمر تجھ پر عدل نہیں کرتا ؟ تم اس کا تیل واپس کرو اس جگہ سے تیل کا چشمہجاری ہوگیا اس عورت نے وہاں سے تیل لے لیا

حکم :

یہ واقعہ بھی سوشل میڈیا کے علاوہ نہیں مل سکا اس لئے اس کو بیان نہ کیا جائے



خلاصہ :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل و انصاف کسی تعارف کا محتاج نہیں اس کے لئے جھوٹے واقعات گھڑنے کی ضرورت نہیں ۔ جو واقعات ثابت ہیں ان کو ہی بیان کیا جائے

نوٹ :

اگر کسی دوست کو کسی مستند ماخذ سے یہ واقعات مل جائیں اگر ایسا ہو تو ہمیں ضرور آگاہ فرما دیں

محمد سفیان فاروق
دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم

15 جمادی الثانی 1441ھ

9 فروری 2020ع

06/08/2025

*مستری اور رسول اللہ کی بددعا*

مستری ( جو مکان تعمیر وغیرہ کا کام کرتے ہیں ) کے حوالہ سے ایک بات مشہور ہے کہ ان کی روزی میں برکت نہیں ہوتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دفعہ عید یا جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات گلی میں ایک مستری سے ہوئی آپ نے فرمایا آج کے دن کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ بچوں کے لئے رزوی کی تلاش میں جا رہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھ سے ایک دن کی مزدوری لے کر گھر چلے جاؤ ۔ پھر اسی دن دو دفعہ ایسے ہی ہی ہوا رسول اللہ کی ملاقات اس سے ہوئی اور ہر بار اس نے یہی جواب دیا اور ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزدوری دی کہ گھر چلے جاؤ ۔ جب تیسری بار نلاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کی کبھی پوری نہیں پڑے گی ۔ ہمیشہ تنگ دست رہو گے
یہ واقعہ کس حد تک ثابت ہے ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

باوجود تلاش کے ایسا کوئی واقعہ کسی بھی مستند ماخذ و مصدر میں نہیں ملا ۔ لہذا اس کو بیان کرنا جائز نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی مخصوص کام والوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی بددعا ثابت نہیں ہے ۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق رزق میں بے برکتی کے کچھ اسباب کا ذکر کیا ہے ۔ وہ کام جو بھی کرے گا اس کے رزق میں برکت نہیں ہوگی ۔چند ایک ملاحظہ ہو

1: *قسم کھانا*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قسم کھانا سامام تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس برکت ختم ہوجاتی ہے
حدثنا شعبة، قال: سمعت العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اليمين الكاذبة منفقة للسلعة ممحقة للكسب " وقال ابن جعفر: " للبركة
إسناده صحيح على شرط مسلم.
وأخرجه أبو يعلى (6458) ، والخرائطي في "مساوىء الأخلاق" (119) ، وابن حبان (4906) من طرق عن العلاء بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
وأخرجه الحميدي (1031) ، والبخاري (2087) ، ومسلم (1606) ، وأبو داود (3335) ، والنسائي 7/246، والبيهقي 5/265، والبغوي (2046) من طريق ابن شهاب الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، بلفظ: "الحلف منفقة للسلعة ... ".
وسيأتي الحديث برقم (7293) و (9349) .
وفي الباب عن أبي قتادة عند أحمد 5/297-298، ومسلم (1607) .
( مسند احمد ت ارنؤوط 12/141)
آج ہمارے معاشرے میں لوگوں کی اکثریت اس میں مبتلا ہے
2:
*مال حرام کھانا*

اس میں وہ تمام صورتیں شامل ہیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں مال حرام میں آتی ہے
جیسے سود ، جوا، انشورنس، دوسرے کی رضامندی کے بغیر مال لینا، رشوت ، سامان بیچنے میں دھوکہ دہی ، رقم صحیح چیز کی وصول کرکے ناقص چیز فروخت کرنا ، کام چوری کرنا وغیرہم
ارشاد باری ہے
اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے
يمحق الله الربا ويربي الصدقات والله لا يحب كل كفار أثيم ( البقرۃ : 276)

3: *ناحق مال میں برکت نہیں ہوتی*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
جس نے مال کو بغیر حق کے لیا اس میں برکت نہیں ہے اور وہ اس کی طرح ہے جو کھانے کے باوجود بھوکا رہتا ہے
فمن أخذها بحقها بورك له فيه ، ومن أخذها بغير حقها لم يبارك له، وكان كالذي يأكل ولا يشبع
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي. ابن عجلان: وهو محمد القرشي المدني، ينحط عن رتبة الصحيح قليلا، وقد توبع، وبقية رجاله ثقات رجال
الشيخين. سفيان: هو ابن عيينة.
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 7/311 من طريق أحمد، بهذا الإسناد.
وأخرجه الحميدي (740) ، وابن أبي شيبة 13/241-242 عن سفيان بن عيينة، به.
وأخرجه مسلم (1052) (121) ، وابن ماجه (3995) ، وابن حبان (3226) من طريق سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن عياض، به.
وسيأتي بالأرقام (11037) و (11157) و (11865) و (11866) .
وفي الباب عن حكيم بن حزام عند البخاري (1472) ، سيرد 3/402.
( مسند احمد ت ارنؤوط 17/84)

4:*ناپ تول میں کمی*

ناپ تول کی کمی سے قحط سالی ، رزق کی تنگی اور ظالم بادشاہ مسلط کیے جاتے ہیں
ولم ينقصوا المكيال والميزان، إلا أخذوا بالسنين وشدة المؤونة وجور السلطان عليهم.
حسن لغيره وهذا إسناد ضعيف، لضعف ابن أبي مالك واسمه خالد بن يزيد بن عبد الرحمن الهمداني الدمشقي.
وأخرجه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 3/ 220 و 8/ 333 - 334 من طريق خالد ابن يزيد، بهذا الإسناد.
وأخرجه باختصار الطبراني (13619) من طريق خالد بن يزيد ...
وله طريق آخر يتقوى به عند الحاكم 4/ 540، والطبراني في "مسند الشاميين" (1558)، وفي "الأوسط" (4671) من طريقين عن الهيثم بن حميد، عن أبي معيد حفص بن غيلان، عن عطاء بن أبي رباح قال: كنت مع عبد الله بن عمر ...
وهذا إسناد حسن رجاله ثقات إلا أن حفص بن غيلان ينزل عن رتبة الصحيح.
( سنن ابن ماجہ ت ارنؤوط 5/150)
یہ چند ایک باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو رزق کی تنگی ،بے برکتی وغیرہ کے اسباب ہیں ۔ اس میں کسی مخصوص طبقہ ، گروہ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے ۔ جو بھی یہ کرے گا وہ ان مسائل کا شکار ہوگا ۔ اور جب پوری قوم اس میں ملوث ہو تو پھر وہی حال ہوگا جو آج ہمارا ہے ۔ الامان والحفیظ

جمعہ
محمد سفیان فاروق
جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم
7 صفر المظفر 1447ھ
2 اگست 2025ع

08/05/2025

رِباطُ يَومٍ ولَيْلَةٍ خَيْرٌ مِن صِيامِ شَهْرٍ وقِيامِهِ، وإنْ ماتَ جَرَى عليه عَمَلُهُ الذي كانَ يَعْمَلُهُ، وأُجْرِيَ عليه رِزْقُهُ، وأَمِنَ الفَتّانَ.

الراوي : سلمان الفارسي.
المحدث : مسلم.
المصدر : صحيح مسلم.
الصفحة أو الرقم: 1913.
خلاصة حكم المحدث : [صحيح].
التخريج: من أفراد مسلم على البخاري.

26/01/2025

كُنَّا عِنْدَ رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ، فَقالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَومٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِن جُلَسَائِهِ: كيفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قالَ: يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فيُكْتَبُ له أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عنْه أَلْفُ خَطِيئَةٍ.
المزيد...
الراوي : سعد بن أبي وقاص.
المحدث : مسلم.
المصدر : صحيح مسلم.
الصفحة أو الرقم: 2698.
خلاصة حكم المحدث : [صحيح].
مسند احمد3 / 80 ،سنن ترمذی 3463،السنن الکبری للنسائی 9980

13/01/2025

*والد کو پانی پلانے کا اجر*

ایک پوسٹ میں ہے

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
جس نے اپنی چھوٹی عمر میں والد کو ایک مرتبہ پانی پلایا اللہ بروز قیامت اسے حوض کوثر سے ستر 70 مرتبہ پانی پلائے گا ( جمع الجوامع)
یہ حدیث ثابت ہے ؟ اس کو بیان کرسکتے ہیں ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

*خلاصۃ البحث*
مذکورہ بالا روایت کی یہ سند ضعیف ہے ۔ نسبت بالجزم کے ساتھ بیان سے احتیاط کرے ۔پیاسے مسلمان کو پانی پلانے پراللہ تعالی رحیق مختوم سے پانی پلائیں گے یہ روایت اور دیگر صحیح روایات پانی پلانے کے اجر میں ثابت ہیں

*روایت کا متن مع سند*

حدثنا عبد الله بن الحسين بن بالويه الصوفي، ثنا محمد بن الحسين بن نهشل البلخي، ثنا أبي، ثنا جعفر بن محمد، ثنا عبد الرحيم بن سليمان، ثنا مسعر بن كدام، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سقى والده شربة ماء في صغره سقاه الله سبعين شربة من ماء الكوثر يوم القيامة» غريب من حديث مسعر - أو سعيد، لم نكتبه إلا من هذا الوجه
( حلیۃ الاولیاء 7/240)
نیز یہ روایت جمع الجوامع 9/335، کنزالعمال 16/443 میں ہے

*اسنادی حیثیت*

اس سند میں تین رواۃ کا ترجمہ نہیں مل سکا ۔ یہ مجہول ہیں ۔
محمد بن الحسين بن نهشل البلخي، حسین بن نہشل ، جعفر بن محمد

عبد الله بن الحسين بن بالويه الصوفي راوی کا ترجمہ بعض حضرات نے ذکر کیا ہے ۔ اس لئے اس راوی کو مجہول نہیں کہ سکتے
عبد الله بن الحسين بن بالويه بن يحيى الوراق المعروف بأبي القاسم الصوفي النيسابوري
( تاریخ نیشابور 1/90)
عبد الله بن الحسين بن بالُوْيَه بن بحر بن عبد الله بن إبراهيم بن الفرخان، أبو القاسم، الورَّاق الصُّوْفي، المفيد، النَّيسَابُوري.
سمع: أبا العباس الأصم، وأبا حامد بن الشرقي، ومكي بن عبدان، ومحمد بن عبد الله الأصبهاني، ومحمد بن حمدون بن مالك البغدادي، وغيرهم.
وعنه: أبو عبد الله الحاكم، ووصفه بالصوفي المفيد، وأبو نعيم الأصبهاني، وأبو عبد الرحمن السلمي.
توفي سلخ جمادى الأولى سنة ثلاث ... وثلاثمائة.
قلت: [صدوق عابد] ولو كان مفيدًا في الحديث والروايات لقلت: ثقة مكثر، لكن كلام الحال هنا يحتمل أنه مفيد في بابه وهو التصوف.
"مختصر تاريخ نيسابور" (44/ أ)، "طبقات الصوفية" (16، 78)، "الأنساب" (5/ 489).
( الروض الباسم فی تراجم شیوخ الحاکم 1/594)

*حکم*

مذکورہ بالا سند ضعیف ہے ۔ اس روایت کی کوئی دوسری سند بھی نہیں مل سکی

*پانی پلانے والے کو اللہ رحیق مختوم سے پانی پلائے گا*

پانی پلانے کے اجر پر صحیح روایات موجود ہیں ۔ کچھ روایات میں جانور تک کو پانی پلانے پر اجر کا ذکر ہے

ایک روایت میں ہے جس نے پیاسے مسلمان کو پانی پلایا اللہ اسے رحیق مختوم سے پانی پلائے گا

حدثنا علي بن الحسين، حدثنا أبو بدر، حدثنا أبو خالد - الذي كان ينزل في بني دالان - عن نبيح
عن أبي سعيد عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "أيما مسلم كسا مسلما ثوبا على عري كساه الله من خضر الجنة، وأيما مسلم أطعم مسلما على جوع أطعمه الله من ثمار الجنة، وأيما مسلم سقى مسلما على ظمإ سقاه الله عز وجل من الرحيق المختوم" (1).
) إسناده حسن. أبو خالد الدالاني - واسمه يزيد بن عبد الرحمن - صدوق
حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات. قال المنذري في "الترغيب والترهيب" 3/ 117: رواه أبو داود من رواية أبي خالد يزيد بن عبد الرحمن الدالاني، وحديثه حسن. نبيح: هو ابن عبد الله العنزي، وأبو بدر: هو شجاع بن الوليد، وعلي بن الحسين: هو ابن إشكاب.
وأخرجه الترمذي (2617) من طريق عطية العوفي، عن أبي سعيد. وعطية العوفي ضعيف.
وهو في "مسند أحمد" (11101). وكنا قد قلنا عن أبي خالد الدالاني بأنه مدلس تبعا للحافظ في "التقريب" مع أن أحدا لم يصفه بذلك.
وقد أورده ابن أبي حاتم في "العلل" 2/ 171 من طريق عطية العوفي عن أبي سعيد، ونقل عن أبيه قوله: الصحيح موقوف، الحفاظ لا يرفعونه. قلنا: يعني من طريق عطية العوفي
( سنن ابی داود ت ارنؤوط 3/110)

*خلاصہ کلام*

اس روایت کی مذکورہ بالا سند ضعیف ہے ۔ اس لئے اس روایت کی نسبت بالجزم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے میں احتیاط کی جائے ( یعنی یہ نہ کہا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بلکہ کہے روایت میں ہے ، روایت بیان کی جاتی ہے ، حدیث میں ہے وغیرہم)
نسبت بالجزم کئے بغیر بیان کرسکتے ہیں ۔
جمعہ
محمد سفیان فاروق
جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم
7 جنوری 2025ع

07/11/2024

نماز قضاء کرنے پر دوکروڑ اٹھاسی لاکھ سال دوزخ میں سزا والی روایت باسند کسی کتاب میں نہیں مل سکی
اس لیے معتبر سند ملنے تک بیان نہ کی جائے

06/11/2024

علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل
میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مثل ہیں
اس روایت کی کوئی اصل نہیں
کشف الخفاء 2/ 42

05/11/2024

الکاسب حبیب اللہ

ان الفاظ سے کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں موجود نہیں ۔
تاہم کسب حلال کے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Jhelum?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Domeli Jhelum
Jhelum