Online Islamic courses

Online Islamic courses Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Islamic courses, Tutor/Teacher, domeli jhelum, Jhelum.

online Islamic education
nazira Quran with tajweed,hifzulquran, translation of the Quran, Hadith,darsat e deenia

you can contact us for resolving Shariah issues
tahqeeq o Takhrrej ulhadith

23/08/2026

      سیدۃ عائشہ کا رسول اللہ  کی پلیٹ   پہچان لیناسیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی پ...
02/08/2026




سیدۃ عائشہ کا رسول اللہ کی پلیٹ پہچان لینا

سیدۃ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پلیٹ ایسے صاف کرتے کہ مدینے شریف کی پلیٹیں اگر جمع کی جائیں تو میں اس کی صفائی سے پہچان کر بتا دونگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس پلیٹ میں کھایا ہے

اس روایت کی تخریج درکار ہے ۔

باسمہ سبحانہ وتعالی

خلاصۃ البحث:

کھانے کے برتن کی صفائی کاذکر مختلف روایات میں ملتا ہے ۔ بعض ضعیف روایات میں اس کی فضیلت کا بھی ذکر ہے ۔ تاہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے متعلق مذکورہ قول باوجود تلاش کے نہیں ملا ۔ اس لیے جب تک کسی معتبر سند سے یہ بات نہ ملے ان کی طرف منسوب کرکے اسے بیان نہ کیا جائے۔

مسئولہ روایت کی تخریج و حکم:

باوجود تلاش کے سیدہ رضی اللہ عنھا کا یہ قول نہیں ملا ۔ اس لیے جب تک کسی معتبر سند سے نہ ملے بیان نہ کیا جائے

دیگر روایات:

تاہم کھانے کے برتن کی صفائی کے متعلق چند روایات ملتی ہیں ۔ جن میں سے کچھ شدید ضعیف بھی ہیں ۔ یہاں چند معتبر روایات ذکر کی جاتی ہیں ۔

جاری ہے ۔۔۔))

1: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیالہ ( برتن ) صاف کرنے کا حکم دیا

ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا: آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کر لے اور کھا لے اور اس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“ اور آپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے

صحیح مسلم ( 3/1607، دار إحياء التراث العربي – بيروت)

وحدثني محمد بن حاتم، وأبو بكر بن نافع العبدي، قالا: حدثنا بهز، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت، عن أنس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أكل طعاما ل*ق أصابعه الثلاث، قال: وقال: «إذا سقطت لقمة أحدكم فليمط عنها الأذى وليأكلها، ولا يدعها للشيطان»، وأمرنا أن نسلت القصعة، قال: «فإنكم لا تدرون في أي طعامكم البركة»



عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، مگر انہوں نے کہا: ”تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے۔“ اور فرمایا: ”تمہارے کس کھانے (کے کس حصے) میں برکت ہے، یا (فرمایا:) کس کھانے میں تمہارے لیے برکت ڈالی جاتی ہے۔

صحیح مسلم ( 3/1607، دار إحياء التراث العربي – بيروت)

وحدثنيه أبو بكر بن نافع، حدثنا عبد الرحمن يعني ابن مهدي، قالا: حدثنا حماد، بهذا

(جاری ہے ۔۔۔۔)

الإسناد غير أنه، قال: «وليسلت أحدكم الصحفة»، وقال: «في أي طعامكم البركة أو يبارك لكم»

مسند احمد ت ارنؤوط ( 20/203،موسسۃ الرسالۃ بیروت)

حدثنا عبد الرحمن، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يل*ق أصابعه الثلاث إذا أكل، وقال: " إذا وقعت لقمة أحدكم، فليمط عنها الأذى، وليأكلها، ولا يدعها للشيطان، وليسلت أحدكم الصحفة، فإنكم لا تدرون في أي طعامكم البركة "

إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم. عبد الرحمن: هو ابن مهدي.

وأخرجه مسلم (2035) ، وأبو يعلى (3377) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.

وأخرجه ابن أبي شيبة 8/294، وعبد بن حميد (1352) ، والدارمي (2028) ، ومسلم (2034) ، وأبو داود (3845) ، وأبو يعلى (3312) ، وأبو عوانة 5/336 و366-367 و369، وأبو القاسم البغوي في "الجعديات" (3475) و (3476) ، وابن حبان (5249) و (5252) ، وأبو الشيخ في "أخلاق النبي صلى الله عليه وسلم" ص194، والبيهقي في "السنن" 7/278، وفي "الآداب" (498) ، وفي "الشعب" (5858) و (5859) ، والخطيب 1/315، وأبو محمد البغوي في "شرح السنة" (2873) ، من طرق عن حماد بن سلمة، به -والحديث عند بعضهم مختصر، ورواية الدارمي مختصرة بلفظ: "إذا سقطت لقمة أحدكم فليمسح عنها التراب، وليسم الله وليأكلها".

وسيأتي عن عفان، عن حماد برقم (14089) .

شرح النووی علی مسلم 13/207، دار إحياء التراث العربي – بيروت)

قوله (وأمرنا أن نسلت القصعة) هو بفتح النون وضم اللام ومعناه نمسحها ونتتبع ما بقي فيها

(جاری ہے ۔۔۔۔)

من الطعام ومنه سلت الدم عنها قوله صلى الله عليه وسلم في الرواية الأخيرة

2: برتن صاف کرنے سے برتن کا استغفار کرنا

اسنادہ ضعیف

معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا“

مسند احمد ت ارنؤوط (34/325، مؤسسة الرسالة)

حدثنا عفان، حدثنا المعلى بن راشد الهذلي، قال: حدثتني جدتي أم عاصم، عن رجل من هذيل يقال له: نبيشة الخير، وكانت له صحبة، قالت: دخل علينا نبيشة، ونحن نأكل في قصعة، فقال: لنا حدثنا النبي صلى الله عليه وسلم: أنه من أكل في قصعة، ثم ل*سها، استغفرت له القصعة ،

إسناده ضعيف لجهالة حال أم عاصم جدة أبي اليمان المعلى بن راشد الهذلي. عفان: هو ابن مسلم الصفار البصري.

وأخرجه المزي في ترجمة المعلى بن راشد من التهذيب 28/285-286 من طريق أحمد بن حنبل بهذا الإسناد.

وأخرجه ابن سعد في الطبقات 7/50-51 و51، والدارمي (2027) ، والبخاري في التاريخ الكبير 4/127-128، وابن ماجه (3271) و (3272) ، والترمذي (1804) ، ومن طريقه ابن الأثير في أسد الغابة 5/310، وأخرجه

ابن أبي خيثمة كما في الإصابة 3/278، وبحشل في تاريخ واسط ص 47، والدولابي في الكنى والأسماء 2/168،

(جاری ہے ۔۔۔۔)

وابن السكن، وابن شاهين كما في

الإصابة 3/278، والبيهقي في شعب الإيمان (5860) ، وفي الآداب500) ، والبغوي (2877) من طرق عن معلى بن راشد، به. ووقع في رواية بحشل لعلاء بن راشدبدل المعلى بن راشد. وقال الترمذي: حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث المعلى بن راشد.

وأخرجه ابن قانع في معجم الصحابة 1/323 من طريق محمد بن عقبة، عن معلى بن راشد، عن جدته، قالت: دخل علينا رجل من هذيل، يقال له: سحر الخير، فذكره. كذا قال ابن قانع: سحر الخير بسين وحاء مهملتين، بعدهما راء، وهو تصحيف شنيع كما نبه عليه الحافظ ابن حجر في الإصابة 3/277، والسخاوي في المقاصد ال*سنة ص 400، والصواب أنه نبيشة الخير كما تقدم، هذا مع أنه أخرجه أيضا على الصواب في ترجمة نبيشة 3/168-169، لكن وقع له في سنده خبط آخر، فقال: عن المعلى بن أسد القواس، قال: حدثني أبي، عن جدي، عن رجل من هذيل يقال له: نبيشة، فذكره. والصواب: عن المعلى بن راشد، عن جدته أم عاصم، عن نبيشة الهذلي. كذا رواه الأئمة كما تقدم.

وانظر ما بعده.

وأما ل*س القصعة أو ل*قها، فقد ثبت الأمر به عن النبي صلى الله عليه وسلم من حديث أنس بن مالك السالف برقم (12815) ، ومن حديث جابر بن عبد الله أيضا السالف برقم (15224)

3:کوئی آدمی پلیٹ صاف کرنے سے پہلے نہ اٹھائے

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ کوئی آدمی اس وقت تک پلیٹ نہ اٹھائے جب تک اس کو خود چاٹ نہ لے یا کسی سے چٹوا نہ دے کیونکہ کھانے کے آخری جزو میں برکت ہوتی ہے ۔

مسند احمد ت ارنؤوط (4/412، موسسۃ الرسالۃ بیروت)

حدثنا عبد الله بن الحارث، عن ابن جريج، قال: أخبرني عطاء، أنه سمع ابن عباس، يقول: قال

( جاری ہے ۔۔۔)



رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذا أكل أحدكم من الطعام، فلا يمسح يده حتى يل*قها أو يل*قها قال أبو الزبير: سمعت جابر بن عبد الله، يقول: ذلك سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم: ولا يرفع الصحفة حتى يل*قها أو يل*قها، فإن آخر الطعام فيه البركة

إسناده صحيح على شرط مسلم، وهو موصول بالإسناد الأول، والقائل قال أبو الزبير: هو ابن جريج. وأخرجه النسائي في الكبرى(6767) من طريق حجاج بن محمد، وأبو عوانة بنحوه 5/366، وابن حبان (5253) من طريق أبي عاصم النبيل، كلاهما عن ابن جريج، بهذا الإسناد.

وسيأتي حديث جابر في مسنده 3/301 من طريق سفيان عن أبي الزبير، ويخرج هناك.

اتحاف الخیرۃ المھرۃ للبوصیری ( 4/304، دار الوطن للنشر، الرياض)

قال: وأخبرني أبو الزبير قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: سمعت من النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: لا ترفع القصعة حتى تل*قها أو تل*قها فإن آخرالطعام فيه برکۃ

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

محمد سفیان فاروق

دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم

6 صفر المظفر 1448ھ

21 جولائی 2026ع

دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم                                                   تخریج  الحدیثغیبت سے روکنے ...
14/07/2026

دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم تخریج الحدیث

غیبت سے روکنے والا درود

ایک درود شریف کی فضیلت کے حوالہ سے ایک روایت پڑھی ہے جس میں ہے کہ جب تم کسی مجلس میں بیٹھو تو یہ درود بسم الله الرحمن الرحيم، وصلى الله على محمد پڑھ لو تو اللہ تعالی تم پر ایک فرشتہ مقرر فرمائینگے جو غیبت سے تم کو روکے گا اور جب مجلس سے اتھتے ہوئے اس کو پڑھ لو تو وہ فرشتہ لوگوں کو تمھاری غیبت سے منع کرے گا ۔ ( القول البدیع)۔ اس کی کیا حیثیت ہے ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

خلاصۃ البحث

یہ روایت ناقابل اعتبار ہے بیان نہ کی جائے ۔

القول البدیع میں امام سخاوی رحمہ اللہ نے ایک موضوعی نسخہ کے حوالہ سے اس روایت کو بلاسند ذکر کیا ہے ۔اور آخر میں فرمایا کہ میں ان میں سے کسی پر اعتماد نہیں کرتا ۔

امام ذھبی ، ابن حجر عسقلانی اور دیگر نے بھی اس موضوعی نسخہ کا ذکر کیا ہے ۔

روایت کا متن:

القول البدیع للسخاوی (1/138،دار الريان للتراث)

وسمعتهما يقولان سمعنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول إذا جلستم مجلساً فقولوا بسم الله الرحمن الرحيم، وصلى الله على محمد يوكل الله بكم ملكاً يمنعكم من الغيبة حتى لا يغتابوا فإذا قمتم فقولوا بسم الله الرحمن الرحيم وصلى الله على محمد فإن الناس لا يغتابونكم ويمنعكم الملك من ذلك.



روایت کی تخریج و حکم :

مذکورہ بالا روایت امام سخاوی رحمہ اللہ القول البدیع میں لائے ہیں ۔اگر اس روایت کو بیان کرنے والا القول البدیع کی سیاق و سباق سے عبارت دیکھتا تو قطعا اسے بیان نہ کرتا ۔ ابو المظفر السمرقندی نامی ایک راوی اپنی ملاقات حضرت خضر و الیاس علیھما السلام سے بیان کرتا ہے اور ان سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے تو اس پر وہ یہ روایات ذکر کرتے ہیں ۔ جو قریبا 20 کے قریب ہیں ۔ان میں سے ایک یہ مذکورہ روایت بھی ہے ۔

امام سخاوی خود اس کے آخر میں بیان کرتے ہیں کہ میں اس میں سے کسی پر اعتماد نہیں کرتا ۔ ان کے الفاظ رکیک ہیں ۔ آسان الفاظ میں اس نسخہ کی کوئی سند ہی موجود نہیں ۔

القول البدیع للسخاوی (1/138،دار الريان للتراث)

وذكر العلامة مجد الدين الفيروز أبادي بسنده إلى أبي المظفر السمرقندي قال دخلت يوماً في مغارة كعب فضللت الطريق فإذا أنا بالخضر عليه السلام قد رأيته فقال لي: تجد، أي امش فمشيت معه فظننت فقلت لعله خضر فقلت ما اسمك قال خضر بن انشا أبو العباس ورأيت معه صاحباً فقلت ما اسمك فقال الياس بن بسام فقلت رحمكما الله هل رأيتما محمداً - صلى الله عليه وسلم - قالا نعم قلت بعزة الله وبقدرته لتخبراني شيئاً حتى أروي عنكما فقالا سمعنا رسول الله۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وسمعتهما يقولان سمعنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول إذا جلستم مجلساً فقولوا بسم الله الرحمن الرحيم، وصلى الله على محمد يوكل الله بكم ملكاً يمنعكم من الغيبة حتى لا يغتابوا فإذا قمتم فقولوا بسم الله الرحمن الرحيم وصلى الله على محمد فإن الناس لا يغتابونكم ويمنعكم الملك من ذلك.

هذه النسخة ذكرها المجد رحمه الله بإسناده وتبعته في ذكرها ولا اعتمد على شيء منها وألفاظها ركيكة والشيخ رضي الله عنه كان ممن يقول ببقاء الخضر وهي مسألة مشهورة ليس هذا محلها والله المستعان

اس نسخہ کے متعلق چند محدثین کے اقوال

امام ذھبی نے محمد بن عبد الله بن الخيام السمرقندى، أبو المظفر راوی کے ترجمہ میں فرمایا کہ یہ وہی راوی ہے جو کہتا ہے میں نے خضر و الیاس سے سنا وہ یہ بیان کرتے ہیں اور اس نسخہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا اس کو کس نے گھڑا ہے ۔

میزان الاعتدال ( 3/602، دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت)

محمد بن عبد الله بن الخيام السمرقندى، أبو المظفر، لا أدري من ذا، وهو القائل: سمعت الخضر والياس يقولان: سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول.

من قال على ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار.

رواه العلامة أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد الفورانى صاحب التصانيف، حدثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن علي الدندانقانى المؤذن، حدثنا أبو المظفر، وهذا الحديث أملاه أبو عمرو بن الصلاح، وقال: هذا وقع لنا في نسخة من حديث الخضر والياس.

قلت: هذه نسخة ما أدرى من وضعها.

ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے امام ذھبی کی ابو المظفر الخیام کے حوالہ سے نسخہ موضوعی کی جرح کو بحال رکھا ہے ۔

لسان المیزان ( 5/221،مؤسسة الأعلمي للمطبوعات بيروت – لبنان)

محمد" بن عبد الله بن الخيام السمرقندي أبو المظفر لا أدري من ذا وهو القائل سمعت الخضر والياس يقولان سمعنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: من قال علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار رواه العلامة أبو القاسم عبد الرحمن القوراني صاحب التصانيف قال حدثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن علي الدامغاني المؤدب1 ثنا أبو المظفر وهذا الحديث أملاه أبو عمرو بن الصلاح وقال هذا وقع لنا في نسخة من حديث الخضر والياس قلت: هذه نسخة ما أدري من وضعها

برھان الدین حلبی نے امام ذھبی کے حوالہ سے اس نسخہ کا موضوعی ہونا ذکر کیا ہے ۔

الکشف الحثیث ( 1/235،عالم الكتب , مكتبة النهضة العربية – بيروت)

محمد بن عبد الله بن الخيام السمرقندي أبو المظفر قال الذهبي لا أدري من ذا وهو القائل سمعت الخضر والياس يقولان ان سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من قال علي ما لم أقل الحديث رواه العلامة أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد الفوراني صاحب التصانيف حدثنا أبو بكر أحمد بن محمد بن علي الدندانقاني المؤذن حدثنا أبو المظفر وهذا الحديث أملاه أبو عمرو بن الصلاح وقال هذا وقع لنا في نسخة من حديث الخضر والياس قال الذهبي قلت هذه نسخة لا أدري من وضعها انتهى يعني فيحتمل أنه وضعها بن الخيام أو يحتمل غيره والله أعلم

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

محمد سفیان فاروق

دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم

27محرم الحرام 1448ھ

13 جولائی 2026ع

#حديث #فتاوى

AL.SUNNAH ONLINE ISLAMIC COURSESLearn Quran Online with Expert Tutors✅5 Days Free Trail✅Flexible Schedule⏱✅Lower Teachin...
19/01/2026

AL.SUNNAH ONLINE ISLAMIC COURSES

Learn Quran Online with Expert Tutors

✅5 Days Free Trail
✅Flexible Schedule⏱
✅Lower Teaching Fee
✅Certified Tutors🎖
✅Quaterly Progress Report 📄

FOR ANY INFORMATION :
🅰️ 𝑰𝑵𝑩𝑶𝑿 𝑼𝑺
🅱️ 𝑾𝑯𝑨𝑻𝑺𝑨𝑷𝑷 +92-3139800867

*تیل کی واپسی*ایک واقعہ جو کہ  مختلف  الفاظ کے ساتھ پوسٹ میں گردش کر رہا ہےکہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی...
18/11/2025

*تیل کی واپسی*

ایک واقعہ جو کہ مختلف الفاظ کے ساتھ پوسٹ میں گردش کر رہا ہے

کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اے امیر المؤمنین میرا تیل زمین نے پی لیا ہے وہ واپس کرا دیں ۔ آپ نے فرمایا کہ بیت المال سے دلوا دیتا ہوں وہ کہنے لگی نہیں مجھے وہی تیل چاہیے ۔ آپ نے ایک رقعہ پر کچھ لکھا اور اس عورت سے کہا جس جگہ تمھارا تیل گرا ہے وہاں جاکے یہ کاغذ رکھ دو۔ اس عورت نے وہ کاغذ وہاں رکھا تو زمین نے تیل باہر انڈیل دیا اس نے شیشی بھری اور جب اس کاغذ کو پڑحا تو اس میں لکھا تا

َ تم اس عورت کو تیل واپس کردو ورنہ اس جہ میں ایک بے نمازی کو دفنا دوں گا

بے نمازی کی نحوست کتنی زیادہ ہے کہ زمین بھی ڈر گئ اور اس نے انے اندر بے نمازی کو جگہ دینے کی دھمکی کی وجہ سے تیل باھر انڈیل دیا

یہ واقعہ کس کتا ب میں ہے ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

یہ واقعہ کسی نے خود گھڑا ہے کسی مستند ماخذ میں اس کا وجود نہیں ملا ۔

یاد رہے اس کا تعلق تاریخ سے ہے حدیث سے اگرچہ نہیں ہے مگر پھر بھی کسی مستند ماخذ میں اس کا وجود ہونا ضروری ہے ۔ ورنہ ہر کوئی اپنی طرف سے واقعات گھڑ کے بیان کرنا شروع کر دے گا ۔ جو کہ بالکل بھی جائز نہیں ہے

قرآن و حدیث میں نماز کی اہمیت کے حوالہ سے صحیح دلائل اتنے زیادہ ہیں کہ اس طرح کے واقعات گھڑ کے امت کو اس کی طرف لگانے کی قطعا گنجائش نہیں ہے

دوسرا واقعہ

اس حوالہ سے ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمر کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی کہ میں تیل لارہی تھی زمین پر گر گیا اور اس نے پی لیا ہے ۔ آپ واپس دلا دیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر درہ مارا اور فرمایا کیا عمر تجھ پر عدل نہیں کرتا ؟ تم اس کا تیل واپس کرو اس جگہ سے تیل کا چشمہجاری ہوگیا اس عورت نے وہاں سے تیل لے لیا

حکم :

یہ واقعہ بھی سوشل میڈیا کے علاوہ نہیں مل سکا اس لئے اس کو بیان نہ کیا جائے



خلاصہ :

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل و انصاف کسی تعارف کا محتاج نہیں اس کے لئے جھوٹے واقعات گھڑنے کی ضرورت نہیں ۔ جو واقعات ثابت ہیں ان کو ہی بیان کیا جائے

نوٹ :

اگر کسی دوست کو کسی مستند ماخذ سے یہ واقعات مل جائیں اگر ایسا ہو تو ہمیں ضرور آگاہ فرما دیں

محمد سفیان فاروق
دارالافتاء جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم

15 جمادی الثانی 1441ھ

9 فروری 2020ع

*مستری اور رسول اللہ کی بددعا*مستری ( جو مکان تعمیر وغیرہ کا کام کرتے ہیں ) کے حوالہ سے ایک بات مشہور ہے کہ ان کی روزی م...
06/08/2025

*مستری اور رسول اللہ کی بددعا*

مستری ( جو مکان تعمیر وغیرہ کا کام کرتے ہیں ) کے حوالہ سے ایک بات مشہور ہے کہ ان کی روزی میں برکت نہیں ہوتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دفعہ عید یا جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات گلی میں ایک مستری سے ہوئی آپ نے فرمایا آج کے دن کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ بچوں کے لئے رزوی کی تلاش میں جا رہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھ سے ایک دن کی مزدوری لے کر گھر چلے جاؤ ۔ پھر اسی دن دو دفعہ ایسے ہی ہی ہوا رسول اللہ کی ملاقات اس سے ہوئی اور ہر بار اس نے یہی جواب دیا اور ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزدوری دی کہ گھر چلے جاؤ ۔ جب تیسری بار نلاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کی کبھی پوری نہیں پڑے گی ۔ ہمیشہ تنگ دست رہو گے
یہ واقعہ کس حد تک ثابت ہے ؟

باسمہ سبحانہ وتعالی

باوجود تلاش کے ایسا کوئی واقعہ کسی بھی مستند ماخذ و مصدر میں نہیں ملا ۔ لہذا اس کو بیان کرنا جائز نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی مخصوص کام والوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی بددعا ثابت نہیں ہے ۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق رزق میں بے برکتی کے کچھ اسباب کا ذکر کیا ہے ۔ وہ کام جو بھی کرے گا اس کے رزق میں برکت نہیں ہوگی ۔چند ایک ملاحظہ ہو

1: *قسم کھانا*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قسم کھانا سامام تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس برکت ختم ہوجاتی ہے
حدثنا شعبة، قال: سمعت العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اليمين الكاذبة منفقة للسلعة ممحقة للكسب " وقال ابن جعفر: " للبركة
إسناده صحيح على شرط مسلم.
وأخرجه أبو يعلى (6458) ، والخرائطي في "مساوىء الأخلاق" (119) ، وابن حبان (4906) من طرق عن العلاء بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
وأخرجه الحميدي (1031) ، والبخاري (2087) ، ومسلم (1606) ، وأبو داود (3335) ، والنسائي 7/246، والبيهقي 5/265، والبغوي (2046) من طريق ابن شهاب الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، بلفظ: "الحلف منفقة للسلعة ... ".
وسيأتي الحديث برقم (7293) و (9349) .
وفي الباب عن أبي قتادة عند أحمد 5/297-298، ومسلم (1607) .
( مسند احمد ت ارنؤوط 12/141)
آج ہمارے معاشرے میں لوگوں کی اکثریت اس میں مبتلا ہے
2:
*مال حرام کھانا*

اس میں وہ تمام صورتیں شامل ہیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں مال حرام میں آتی ہے
جیسے سود ، جوا، انشورنس، دوسرے کی رضامندی کے بغیر مال لینا، رشوت ، سامان بیچنے میں دھوکہ دہی ، رقم صحیح چیز کی وصول کرکے ناقص چیز فروخت کرنا ، کام چوری کرنا وغیرہم
ارشاد باری ہے
اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے
يمحق الله الربا ويربي الصدقات والله لا يحب كل كفار أثيم ( البقرۃ : 276)

3: *ناحق مال میں برکت نہیں ہوتی*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
جس نے مال کو بغیر حق کے لیا اس میں برکت نہیں ہے اور وہ اس کی طرح ہے جو کھانے کے باوجود بھوکا رہتا ہے
فمن أخذها بحقها بورك له فيه ، ومن أخذها بغير حقها لم يبارك له، وكان كالذي يأكل ولا يشبع
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي. ابن عجلان: وهو محمد القرشي المدني، ينحط عن رتبة الصحيح قليلا، وقد توبع، وبقية رجاله ثقات رجال
الشيخين. سفيان: هو ابن عيينة.
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 7/311 من طريق أحمد، بهذا الإسناد.
وأخرجه الحميدي (740) ، وابن أبي شيبة 13/241-242 عن سفيان بن عيينة، به.
وأخرجه مسلم (1052) (121) ، وابن ماجه (3995) ، وابن حبان (3226) من طريق سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن عياض، به.
وسيأتي بالأرقام (11037) و (11157) و (11865) و (11866) .
وفي الباب عن حكيم بن حزام عند البخاري (1472) ، سيرد 3/402.
( مسند احمد ت ارنؤوط 17/84)

4:*ناپ تول میں کمی*

ناپ تول کی کمی سے قحط سالی ، رزق کی تنگی اور ظالم بادشاہ مسلط کیے جاتے ہیں
ولم ينقصوا المكيال والميزان، إلا أخذوا بالسنين وشدة المؤونة وجور السلطان عليهم.
حسن لغيره وهذا إسناد ضعيف، لضعف ابن أبي مالك واسمه خالد بن يزيد بن عبد الرحمن الهمداني الدمشقي.
وأخرجه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 3/ 220 و 8/ 333 - 334 من طريق خالد ابن يزيد، بهذا الإسناد.
وأخرجه باختصار الطبراني (13619) من طريق خالد بن يزيد ...
وله طريق آخر يتقوى به عند الحاكم 4/ 540، والطبراني في "مسند الشاميين" (1558)، وفي "الأوسط" (4671) من طريقين عن الهيثم بن حميد، عن أبي معيد حفص بن غيلان، عن عطاء بن أبي رباح قال: كنت مع عبد الله بن عمر ...
وهذا إسناد حسن رجاله ثقات إلا أن حفص بن غيلان ينزل عن رتبة الصحيح.
( سنن ابن ماجہ ت ارنؤوط 5/150)
یہ چند ایک باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو رزق کی تنگی ،بے برکتی وغیرہ کے اسباب ہیں ۔ اس میں کسی مخصوص طبقہ ، گروہ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے ۔ جو بھی یہ کرے گا وہ ان مسائل کا شکار ہوگا ۔ اور جب پوری قوم اس میں ملوث ہو تو پھر وہی حال ہوگا جو آج ہمارا ہے ۔ الامان والحفیظ

جمعہ
محمد سفیان فاروق
جامعہ صدیقیہ قادریہ ڈومیلی جہلم
7 صفر المظفر 1447ھ
2 اگست 2025ع

رِباطُ يَومٍ ولَيْلَةٍ خَيْرٌ مِن صِيامِ شَهْرٍ وقِيامِهِ، وإنْ ماتَ جَرَى عليه عَمَلُهُ الذي كانَ يَعْمَلُهُ، وأُجْرِيَ...
08/05/2025

رِباطُ يَومٍ ولَيْلَةٍ خَيْرٌ مِن صِيامِ شَهْرٍ وقِيامِهِ، وإنْ ماتَ جَرَى عليه عَمَلُهُ الذي كانَ يَعْمَلُهُ، وأُجْرِيَ عليه رِزْقُهُ، وأَمِنَ الفَتّانَ.
الراوي : سلمان الفارسي.
المحدث : مسلم.
المصدر : صحيح مسلم.
الصفحة أو الرقم: 1913.
خلاصة حكم المحدث : [صحيح].
التخريج: من أفراد مسلم على البخاري.

Address

Domeli Jhelum
Jhelum

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Islamic courses posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Online Islamic courses:

Shortcuts

Share

Category