Jamia Hanfia Jhelum (Official)

Jamia Hanfia Jhelum (Official) The Perfect Religious Institution to Promote Islamic Values and Traditions throughout the world

23/09/2026
09/09/2026

جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام مدنی محلہ جہلم سے براہ راست

🌹ہمدم علی کرم اللہ سرہ ،صنعتِ غیرمنقوط پہ چوتھی شاہکار کتاب🌹✍️بقلم:عبدالجبار سلفی (وٹس ایپ:03228464167)حمد اس ذات کے واس...
06/09/2026

🌹ہمدم علی کرم اللہ سرہ ،صنعتِ غیرمنقوط پہ چوتھی شاہکار کتاب🌹
✍️بقلم:عبدالجبار سلفی
(وٹس ایپ:03228464167)
حمد اس ذات کے واسطے کہ جس کا کلام ہر کلام کا کمال ہے، اور درود اس ہستی پر کہ جس کا ذکر ہر دل کا سرور ہے۔ اس کے بعد عرض ہے کہ اہلِ قلم کا کام صرف لفظ کو کاغذ پر لانا نہیں، بلکہ لفظ کو روح عطا کرنا بھی ہے۔ ہر اہلِ قلم کو یہ سعادت کہاں کہ اس کے لفظ دل کا حال کہہ سکیں، اور ہر دل کو یہ مقام کہاں کہ اس کے حال کو لفظ مل سکیں۔
مولانا محمد فاروق شاہین (استاذالحدیث جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم) کا نام اردو ادب کی اس راہ میں ایک ایسا نام ہے جن کے ساتھ ذوق، جدت، محنت اور محبت کے کئی رنگ وابستہ ہیں۔ موصوف نے فنِ صنعتِ غیرمنقوط کو محض ایک لفظی کرتب نہیں سمجھا، بلکہ اسے اظہارِ عقیدت کا وسیلہ بنایا ہے۔اس سے پہلے تین خلفاے راشدین کے ذکر میں اسی فن کو کام میں لا کر جو کتب مرتب کیں، ان پر بھی راقم کو اپنی مختصر آرا قلم بند کرنے کا موقع ملا تھا۔ یہ میرے لیے محض ادبی مسرت نہ تھی بلکہ ایک روحانی سعادت بھی تھی۔اب جب کہ ’’ہمدم علی‘‘ کا مسودہ میرے سامنے آیا تو دل میں ایک بار پھر وہی سرور پیدا ہوا۔ مگر اس بار اس سرور کی نوعیت کچھ اور تھی۔ اس بار سامنے ایک ایسی ذات کا ذکر تھا جس کا نام آتے ہی تاریخ کے اوراق پر شجاعت کا نور پھیل جاتا ہے، علم کا دریا رواں ہو جاتا ہے، عدل کا میزان قائم ہو جاتا ہے، وفا کا باب کھل جاتا ہے اور محبت کا دل خود بہ خود جھک جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ موعودہ خلافتِ راشدہ کے خاتم الخلفا ہیں۔
ان کا کا ذکرِ خیر کیا جائے اور دل میں ولولہ نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ اُن کا نام آئے اور زبان پہ شٙکر کی ڈَلی محسوس نہ ہو، یہ بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح اُن کی سیرت سامنے ہو اور قلم خاموش رہے، یہ بھی اہلِ دل کے لیے آسان نہیں۔ اسی کیفیت نے اس مسودے کو میرے سامنے رکھا اور دل نے کہا کہ اس کتاب کے لیے چند سطر لکھنا دراصل کسی کتاب پر رائے لکھنا نہیں، بلکہ اپنے دل کی پاکیزہ کیفیت کا اظہار ہے۔
صنعتِ غیرمنقوط اردو نثر و نظم میں ایک نہایت مشکل اور دقیق فن ہے۔ اس میں قلم کار کے سامنے لفظوں کا ایک ایسا میدان ہوتا ہے جہاں ہر قدم پر احتیاط لازم ہے۔ ایک عام تحریر میں لفظ کا انتخاب معنی، حسن اور موقع کے لحاظ سے کیا جاتا ہے، مگر غیرمنقوط تحریر میں اس کے ساتھ ایک اور امتحان بھی شامل ہو جاتا ہے۔وہ یہ کہ ہر حرف کا دامن دیکھا جاتا ہے، ہر لفظ کو پرکھا جاتا ہے اور ہر سطر کو اس میزان پر تولا جاتا ہے کہ کہیں کوئی نقطہ اس حُسن کو مجروح نہ کر دے۔ یہ کام صرف علمِ لغت سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے وسیع مطالعہ، لفظی ذخیرے پر کامل دسترس، زبان کی ساخت سے واقفیت، مسلسل مشق اور سب سے بڑھ کر صبر درکار ہوتا ہے۔ مولانا محمد فاروق شاہین نے اس مشکل فن کو محض اختیار نہیں کیا بلکہ اسے اپنے ذوق کا حصہ بنایا ہے۔ پہلے خلفاے راشدین پر کتب، اور اب سیدنا حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے ذکرِ خیر میں یہ نیا کارنامہ اس امر کی دلیل ہے کہ موصوف کے لیے یہ فن کوئی وقتی مشغلہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل ادبی سفر ہے۔اور یہ سفر آسان نہیں کیونکہ ایک طرف عقیدت کا سمندر ہو اور دوسری طرف لفظوں کی ایسی راہ ہو جہاں قدم قدم پر حرف کی نگرانی لازم ہو، تو قلم کار کے لیے دوہرا امتحان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک طرف دل کہتا ہے کہ محبت کے سب الفاظ لکھ دو، دوسری طرف فن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ہر لفظ کو پہلے حرف کے میزان پر تولو۔ مولانا نے اس امتحان کو محبت سے قبول کیا ہے۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات میں وہ تمام اوصاف جمع ہیں جن کا ذکر اہلِ دل کو سرشار کرتا ہے۔ علم ہو تو ایسا کہ علم کے دروازے کی طرف ہر طالبِ علم نگاہ کرے۔ شجاعت ہو تو ایسی کہ میدانِ کارزار میں بڑے بڑے دل لرز جائیں۔ عدل ہو تو ایسا کہ دوست اور دشمن دونوں اس کی گواہی دیں۔ زُہد ہو تو ایسا کہ دنیا کا مال سامنے ہو اور دل اس سے آزاد رہے۔ وفا ہو تو ایسی کہ عہد کا ہر حرف جان سے زیادہ عزیز ہو۔
یہی سبب ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف تاریخ کا ذکر نہیں۔بلکہ یہ دل کا ذکر ہے، یہ کردار کا ذکر ہے، یہ علم کا ذکر ہے، یہ وفا کا ذکر ہے، یہ شجاعت کا ذکر ہے اور یہ اس امت کے اس درخشاں دور کا ذکر ہے جس میں علم و عمل، زُہد و عدل، شجاعت و عبادت اور وفا و صدق ایک ہی کردار میں جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں۔
مولانا موصوف نے اس کردار کو لفظوں میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت لفظوں سے کہیں وسیع ہے۔ قلم جس قدر آگے بڑھتا ہے، موضوع اسی قدر وسیع ہوتا جاتا ہے۔ لفظ جس قدر جمع ہوتے ہیں، شخصیت اسی قدر بے کنار محسوس ہوتی ہے۔اور یہی کسی عظیم کردار کی علامت ہوتی ہے کہ اس کے بیان کا اختتام بھی اس کے احاطے کی دلیل نہ بن سکے۔
اہلِ محبت جانتے ہیں کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں۔ محبت کا ایک ادب ہے، ایک اسلوب ہے، ایک زبان ہے اور ایک ذمہ داری ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا ذکر ادب سے ہو، ان کے مقام کا لحاظ ہو، ان کی سیرت سے سبق لیا جائے اور ان کے کردار کو محض داستان نہ بنایا جائے۔ مولانا محمد فاروق شاہین کی اس کاوش میں یہی رنگ نمایاں ہے کہ فن کو عقیدت کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
یہاں صنعت مقصودِ اول نہیں، بلکہ وسیلہ ہے کیونکہ اصل مقصود محبت ہے۔ اصل مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا ہے جن سے دل کو نور، عقل کو فکر اور عمل کو راہ ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ہمدم علی‘‘ کو محض غیرمنقوط ادب کی ایک کتاب کہنا اس کی قدر کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ کتاب ایک ادبی تجربہ بھی ہے، ایک فنی کاوش بھی، ایک قلبی نذر بھی اور ایک محبت بھرا خراج بھی۔
جس شخص نے غیرمنقوط فن میں قلم اٹھایا ہو وہ جانتا ہے کہ اس راہ میں کس قدر دشواری ہے۔ عام تحریر میں خیال پہلے آتا ہے اور لفظ بعد میں۔ یہاں کبھی کبھی لفظ پہلے سوچنا پڑتا ہے اور خیال کو اس کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ عام مصنف کے لیے زبان ایک وسیع میدان ہے۔ لیکن غیرمنقوط مصنف کے لیے وہی زبان ایک محدود مگر حسین گلستان بن جاتی ہے، جہاں ہر پھول چننے سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس پر کوئی نقطہ تو نہیں۔ یہاں لفظ کا حسن بھی مطلوب ہے، معنی کی صحت بھی، جملے کی روانی بھی، مضمون کی ترتیب بھی اور صنعت کی سلامتی بھی۔ ان تمام تقاضوں کو ایک ساتھ نبھانا معمولی کام نہیں۔مولانا موصوف کی یہ کتاب اسی مسلسل محنت کی شہادت ہے۔
موصوف نے اس فن میں سفر کا آغاز صرف ایک کتاب سے نہیں کیا۔ پہلے تین خلفاے راشدین کے ذکر کو اسی صنعت میں قلم بند کیا۔ ان کتب کا مقصد محض یہ دکھانا نہیں تھا کہ ایک ادیب بغیر نقطے کے لکھ سکتا ہے۔ اصل حسن یہ تھا کہ ایک مشکل فن کو اکابر کی محبت سے جوڑ دیا گیا۔ یہ سلسلہ اب حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچا ہے۔ اور اس مقام پر آ کر اس سفر میں ایک خاص معنوی تکمیل محسوس ہوتی ہے۔خلافتِ راشدہ کے ان روشن کرداروں کا ذکر، پھر اس سلسلے میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر، ایک ایسی ادبی زنجیر بناتا ہے جس کے ہر حلقے میں عقیدت، تاریخ اور ادب باہم ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
بارِ دگر عرض ہے کہ راقم کے لیے یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ ان سابقہ کتب پر اپنی آرا قلم بند کرنے کا موقع ملا۔ اب اسی سلسلے کی نئی کڑی سامنے ہے اور ایک بار پھر قلم کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ اس ادبی سفر کے ایک مرحلے پر چند سطریں عرض کرے۔ یہ میرے لیے محض اعزاز نہیں، بلکہ
یہ ایک قلبی نسبت کا اظہار ہے۔
’’ہمدمِ علی‘‘ کا عنوان بھی اپنے اندر ایک لطیف کیفیت رکھتا ہے۔ ہمدم وہ جو ”دٙم“ کے ساتھ ہو، جو راز کا امین ہو، جو دل کے قریب ہو، جو تنہائی کا ساتھی ہو، جو خوشی اور غم دونوں میں ساتھ دے۔سیدنا حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی سیرت کے ساتھ ایک ہمدم کا تصور دراصل اس قاری کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو ان کے ذکر کو محض پڑھتا نہیں بلکہ دل کے قریب رکھتا ہے۔ کتاب کا عنوان گویا قاری کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ! اس سفر میں کچھ دیر ساتھ چلو۔ تاریخ کے اس روشن دور کو دیکھو۔ علم کے اس بحر کے کنارے بیٹھو۔ شجاعت کے اس پیکر کو دیکھو۔ عدل کے اس میزان کو دیکھو۔ عبادت کے اس ذوق کو دیکھو اور پھر اپنے دل سے سوال کرو کہ ہم نے اس سیرت سے کیا لیا؟ یہ سوال اس کتاب کا سب سے بڑا حاصل بن سکتا ہے۔ کتاب کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ لوگ اسے پڑھیں اور مصنف کی صناعی کی داد دیں۔ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ قاری کتاب بند کرے تو اس کے دل میں کوئی روشنی باقی رہے۔ اگر غیرمنقوط الفاظ قاری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت تک لے جائیں تو یہ فن کامیاب ہے۔ اگر مشکل صنعت قاری کو آسان سبق دے جائے تو یہ ادب کامیاب ہے۔ اگر لفظ دل میں محبت پیدا کرے اور محبت عمل کی طرف لے جائے تو یہ کتاب کامیاب ہے۔ اور اگر قاری حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کردار کو پڑھ کر اپنے کردار کا محاسبہ کرے تو گویا مصنف کی محنت اپنی منزل پا گئی۔میرے خیال میں ’’ہمدم علی‘‘ کی سب سے بڑی قدر یہی ہے کہ اس کے پیچھے صرف لفظوں کی مشق نہیں، بلکہ ایک قلبی نسبت کارفرما ہے۔
مولانا محمد فاروق شاہین کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید وسعت دے، ان کے علم کو نافع کرے، ان کی زبان کو صدق کا ترجمان بنائے، ان کی فکر کو سلامت رکھے اور ان کی یہ ادبی خدمت قبول فرمائے۔
اللہ کرے کہ غیرمنقوط ادب کا یہ سلسلہ صرف چند کتب تک محدود نہ رہے، بلکہ اردو زبان کے اس نادر فن کو نئی زندگی ملے۔ اللہ کرے کہ اہلِ قلم اس فن کی قدر کریں، اہلِ علم اس سے استفادہ کریں اور اہلِ ذوق اس سے لطف لیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کتاب کے اوراق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت، ان کی سیرت کے فہم اور ان کے کردار سے عملی وابستگی کا ذریعہ بنیں۔
آخر میں صرف اتنا عرض ہے کہ جب مولاناموصوف کی اس کتاب کا مسودہ میرے سامنے آیا تو میں نے اسے ایک کتاب کے طور پر دیکھا، مگر چند اوراق کے بعد محسوس ہوا کہ یہ محض کتاب نہیں، ایک محبت نامہ ہے۔ایک ایسا محبت نامہ جس میں ہر لفظ کو بڑی احتیاط سے چنا گیا ہے۔ ایک ایسا محبت نامہ جس کے ہر صفحے پر قلم کی محنت بھی ہے اور دل کی کیفیت بھی۔
ایک ایسا محبت نامہ جس میں صنعت بھی ہے اور عقیدت بھی۔
ایک ایسا محبت نامہ جس میں فن بھی ہے اور فکر بھی۔
اور شاید اسی لیے اس کا مطالعہ کرتے ہوئے بارہا دل نے کہا کہ یہ قلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذکر میں صرف لفظ نہیں لکھ رہا، بلکہ اپنے دل کی نذر پیش کر رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذکرِ اطہر کے سامنے یہ چند سطریں زیادہ بھی ہیں اور بہت کم بھی۔ زیادہ اس لیے کہ دل کا حال لفظوں کو پا گیا۔اور کم اس لیے کہ حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کی عظمت کسی ایک کتاب، کسی ایک قلم اور کسی ایک تقریظ کے احاطے میں نہیں آ سکتی۔ پس اس کتاب کو میں مولانا محمد فاروق شاہین کی ادبی کاوش ہی نہیں، ان کی قلبی نذر بھی سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس نذر کو شرفِ قبول عطا فرمائے، اس کتاب کو اہلِ ذوق کے لیے باعثِ مسرت، اہلِ علم کے لیے باعثِ فکر، اہلِ عمل کے لیے باعثِ راہ اور اہلِ محبت کے لیے باعثِ سرور بنائے۔ آمین ثم آمین!

(عبدالجبار سلفی
خطیب جامع مسجد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما
ادارہ مظہرالتحقیق سبزہ زار لاہور

Address

Jamia Hanfia Talem-Ul-Islam Madni Mohallah
Jhelum
46900

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Hanfia Jhelum (Official) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share