19/08/2026
"تکبر، وہ بیماری جو جنت کا دروازہ بند کر دیتی ہے"
ایک سوال: کیا آپ کے دل میں تکبر ہے؟
شاید آپ کہیں: "نہیں! میں تو بالکل عاجز ہوں!" مگر ذرا سوچیں، کیا کبھی آپ نے کسی غریب کو حقیر سمجھا؟ کبھی ماتحت پر غصہ کیا؟ کسی کی بات سننا اپنی توہین سمجھا؟۔۔۔ اگر ہاں، تو تکبر ہے!
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا!
رائی کے دانے کے برابر! یہ کتنا چھوٹا ہے، مگر انجام کتنا بڑا!
" چار پیسے اور تھوڑا عہدہ: اکڑ پھر کس بات کی؟"
آج ہمارے معاشرے میں یہ بیماری عام ہے، چار پیسے آئے تو غریبوں کو حقیر سمجھنے لگے! تھوڑا عہدہ ملا تو اکڑ گئے!
مگر ذرا سوچیں، جس کرسی پر آج بیٹھے ہو، اس پر کتنے آئے اور کتنے گئے! کتنے بڑے بڑے افسر آئے اور چلے گئے! کتنے مالدار آئے اور خالی ہاتھ چلے گئے! تم بھی رہنے والے نہیں، اکڑ پھر کس بات کی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو خود بڑا بننا چاہتا ہے اللہ اسے اٹھا کر نیچے پھینکتا ہے! اور جو چھوٹا بنتا ہے اللہ اسے بلندیاں عطا کرتا ہے۔
یہ اللہ کا قانون ہے، یہ کبھی نہیں بدلتا۔
"پیٹ میں درد، بخار، تکلیف کیوں؟"
ایک بزرگ نے فرمایا: اللہ پیٹ میں درد کیوں دیتا ہے؟ تاکہ تیری میں نکل جائے! سر میں درد کیوں ہوتا ہے؟ تاکہ تیری اکڑ نکل جائے! بخار کیوں چڑھتا ہے؟ تاکہ تیری خودی ٹوٹے!
انسان کتنا کمزور ہے، ایک چھوٹے سے بیکٹیریا سے بیمار پڑجاتا ہے! ایک چھوٹی سی تکلیف میں سب کچھ بھول جاتا ہے! تو پھر تکبر کس بات کا؟
اللہ کو اپنے بندے کی تواضع پسند ہے، عاجزی پسند ہے، دلوں کو صاف رکھنا پسند ہے!
"شریعت کا مزاج: دوسروں کی خوبیاں دیکھو"
شریعت کا اصول کیا ہے؟ دوسروں کی خوبیاں دیکھو، اپنی خامیاں دیکھو!
ہر انسان میں خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی۔۔۔ مگر شریعت کہتی ہے دوسروں کی خوبیاں دیکھو، خامی نظر آئے تو پردہ ڈالو!
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بڑا فاسق فاجر آدمی تھا، اس کا جنازہ نہ پڑھائیں!
آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: کسی نے اسے کوئی نیکی کرتے دیکھا ہے؟
ایک صحابی نے کہا: ہاں! ایک رات میں نے اسے اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے دیکھا!
**آپ ﷺ آگے بڑھے، جنازہ پڑھایا اور قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: لوگ تجھے جہنمی کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے۔
سبحان اللہ! یہ ہے اچھائیاں دیکھنے کا اصول۔
"عبداللہ بن عباس نے اعتکاف چھوڑ دیا!"
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں اعتکاف میں بیٹھے تھے، مسجد نبوی کا اعتکاف! کتنی بڑی عبادت!
ایک شخص پریشان دیکھا، خود اس کے پاس گئے اور پوچھا: "تم بہت پریشان لگ رہے ہو!"
اس نے کہا: ہاں! کسی کا قرض ہے جو ادا نہیں کر سکتا!
حضرت ابن عباس نے کہا: "کیا میں تمہاری سفارش کروں؟" اور اعتکاف چھوڑ کر نکل گئے۔
وہ شخص حیران۔۔۔ آپ اعتکاف چھوڑ کر نکل آئے؟
حضرت ابن عباس نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کے لیے چلے، یہ دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے!
دس سال کے اعتکاف سے افضل۔۔۔ کسی کی مدد کرنا!
یہ "کیوں" کا لفظ، زندگی سے نکال دو!
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اور فرماتے ہیں: "دس سال میں آپ ﷺ نے مجھے ایک بار بھی "کیوں" نہیں فرمایا!" یہ ہے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق!
آج ہمارے گھروں میں: کیوں دیر سے آئے! کیوں یہ کیا! کیوں وہ نہیں کیا! یہ "کیوں" کا لفظ گھروں کو جہنم بنا دیتا ہے!
اس کی جگہ یہ کہیں: کوئی بات نہیں! یہ دو الفاظ گھروں کو جنت بنادیتے ہیں۔
آج سے تین فیصلے کریں:
1️⃣ تکبر چھوڑیں، عاجزی اپنائیں۔
2️⃣ دوسروں کی خامیاں نہیں، خوبیاں دیکھیں۔
3️⃣ جھگڑوں کے بجائے معافی اور "کوئی بات نہیں" کہنا سیکھیں۔
یاد رکھیں:
اخلاق اچھے ہوں تو گھر جنت بن جاتا ہے، اور تکبر انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر سے بچائے، عاجزی عطا فرمائے اور نبی کریم ﷺ جیسے اعلیٰ اخلاق نصیب فرمائے۔ آمین۔
Tablighi Awam Pro 📲 ہمارا یوٹیوب اور فیس بک پیج فالو کریں