Proud to be a Pakistani
Govt Comprehensive High School Jhelum
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt Comprehensive High School Jhelum, High School, Govt Comprehensive High School, Jhelum.
| اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ |
یہ گروپ گورنمنٹ کمپری ہینسو ہائی سکول جہلم کے تمام اساتذہ کرام اور طلباء کی یادیں اور آپس کے رابطے کے لیئے بنایا گیا ھے اس میں صرف سکول سے مطعلق گفتگو اور تصاویر وغیرہ شئیر کی جا سکتی ہیں ۔
Big shout-out to my newest top fans! Umair Rana, Zawar Syed Shabbir, Kamran Gulzar, Jamil Akhtar, Fahad Mehmood
علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے
02/06/2025
Memorable Moment at
Eid UL Fitar 2025 Gathering of 10th C Class Fellows Batch 1995
20/03/2025
Guess the place if you live in 𝑭𝒐𝒍𝒍𝒐𝒘𝒆𝒓𝒔. Highlights
19/03/2025
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Imran Butt چلو، آج تھوڑا تعارف ہو جائے
تاکہ جان سکیں ہم ایک دوسرے سے کہاں سے جُڑے ہیں!
15/03/2025
Ramadan Treats
Today's weather in Jhelum Sajid Mehmood Mirza Highlights
دفتر الٰہی : معاشرتی انحصار اور ہم آہنگی کی ضرورت اور سورہ حجرات کی آیت نمبر 12 میں غیبت، تجسّس، بدگمانی کی ممانعت
تمام انسانی معاشروں میں، انسان اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ کوئی بھی فرد، خواہ وہ کتنا ہی دولت مند، بااختیار یا ذہین کیوں نہ ہو، اپنی تمام ضروریات کو تنہا پورا نہیں کر سکتا۔ گھر کے کام کاج سے لے کر طب، تعلیم، تجارت اور حکمرانی تک، انسان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کا باہمی انحصار ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ یہ محض ایک سماجی اتفاق نہیں بلکہ ایک الٰہی اصول ہے جو انسانی وجود کی بنیاد میں شامل کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ، جو تمام مخلوقات کے لیے رازق ہے، خود کسی کو براہِ راست کھانا، لباس یا رہائش فراہم نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ خود طبیب، معلم یا تاجر کے فرائض انجام دیتا ہے۔ بلکہ، اس نے ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں انسان ایک دوسرے کے لیے وسائل اور ضروریاتِ زندگی کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے، کوئی بھی معاشرہ "دفترِ الٰہی" کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ہر فرد ایک خاص ذمہ داری نبھاتا ہے جو دوسروں کی فلاح و بہبود میں معاون ہوتی ہے۔ جیسے ایک دفتر کے مناسب طریقے سے چلنے کے لیے نظم و ضبط، تعاون اور باہمی ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے، اسی طرح معاشرے کو بھی عدل، احسان اور باہمی احترام کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔
معاشرتی ہم آہنگی کی ضرورت
اس الٰہی نظام کے مؤثر طور پر چلنے کے لیے، افراد اور برادریوں کے درمیان ہم آہنگ تعلقات نہایت ضروری ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ انسانی تمدن کی بقا اور ترقی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ قرآن مجید نے اس حوالے سے نہایت جامع رہنمائی فراہم کی ہے، جیسا کہ سورہ الحجرات (49:12) میں ارشاد ہوتا ہے:
" يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ لا تَجَسَّسُوا وَ لا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ " (12)
"اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور نہ ہی تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناپسند کرو گے۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔"
یہ آیت غیبت، بدگمانی، اور تجسس جیسے اعمال کی مذمت کرتی ہے، جو معاشرتی اتحاد کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اگر کوئی دفتر الزام تراشی، بددیانتی اور بے اعتمادی کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی کارکردگی کھو بیٹھتا ہے۔ اسی طرح غیبت، بد گمانی، تجسّس ایک انسان کی دوسرے انسان سے دوری پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اور اللہ کی جانب سے ان افعال کی شدید ناپسندیدگی کی شدت کا اندازہ اس اظہار سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان افعال کا ارتکاب کو اپنے بھائی اور وہ بھی" مردہ" بھائ کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسکے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ ان برائیوں میں ملوث ہو تو وہ باہمی انحصار کی اس بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ دفتر یعنی متعلقہ معاشرہ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
معاشرتی بے ہم آہنگی کے اثرات
جب افراد غیبت، حسد اور تجسس میں ملوث ہو جاتے ہیں تو وہ اس اعتماد کو ختم کر دیتے ہیں جو معاشرتی تعاون کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر کوئی تاجر اپنے گاہکوں کو دھوکہ دے، کوئی طبیب اپنے مریض کی دیکھ بھال میں کوتاہی کرے، یا کوئی حکمران ذاتی مفاد کو عوامی فلاح پر ترجیح دے، اسی طرح غیبت کرنے والا انسان، جس انسان کے سامنے غیبت کرتا ہے اسکو اس انسان سے مستقبل میں دوری پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے جسکی غیبت کی گئی ہوتی ہے۔ بد اطلاعاتی کو عام گفتگو کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اسی طرح سے حسد اور تجسس بھی ایسا کرنے والے انسان کو دوسرے متعلقہ انسان سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب اس الٰہی نظام کے انہدام کا باعث بنتے ہیں جس کے تحت انسان ایک دوسرے کے وسائل اور ضروریاتِ زندگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جیسے کوئی دفتر اپنے ملازمین کے عدم تعاون کے باعث تباہ ہو جاتا ہے، اسی طرح کوئی بھی معاشرہ اس وقت زوال پذیر ہو جاتا ہے جب افراد حسد، تجسّس اور غیبت کا ارتکاب کر کے اجتماعیت، متعلقہ معاشرہ یعنی ان کے ارد گرد قائم الٰہی دفتر پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔
مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے اس باہمی انحصار کو صرف مادی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لیے بھی وضع کیا ہے۔ دوسروں کی خدمت کرنا، اپنے فرائض کو دیانت داری سے ادا کرنا، اور روزمرہ کے معاملات میں حسنِ سلوک اختیار کرنا، درحقیقت، عبادت کی ایک صورت ہے۔ جیسے نماز اور روزہ بندے کو اللہ سے قریب کرتے ہیں، اسی طرح غیبت، بدگمانی اور فریب سے اجتناب کرکے معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا اللہ کے دفتر کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
نتیجہ
"دفترِ الٰہی" کا تصور اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسانی معاشرہ ایک الٰہی حکمت کے تحت قائم ہے، جہاں افراد کو ایک دوسرے پر انحصار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ نظام اسی وقت مؤثر طریقے سے چل سکتا ہے جب لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں اخلاقی اقدار کو اپنا کر ایک دوسرے کے ساتھ عادلانہ اور دوستانہ تعلقات استوار کریں۔ سورہ الحجرات میں غیبت اور دیگر سماجی برائیوں کی مذمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک خوشحال اور مستحکم معاشرے کے لیے باہمی اعتماد، احترام اور نیک نیتی ضروری ہے۔ جب افراد اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو الٰہی امانت سمجھ کر نبھاتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں، تو وہ اللہ کی مرضی کے مطابق اس کے دفتر کو چلانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
13/03/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Govt Comprehensive High School
Jhelum
49600
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:00 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |