Online Quran teacher

Online Quran teacher

Share

islam r Islamic knowledge

07/08/2023

حضرت عیسیٰ ؑ اور لالچی شاگرد کا واقعہ


ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے شاگرد کے ساتھ ایک سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ آرام کی غرض سے رکے اور شاگرد سے پوچھا تمہاری جیب میں کچھ ہے۔ شاگرد نے جواب دیا “جی میرے پاس دو درہم ہیں”۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر شاگرد کو دیا اور فرمایا یہ تین درہم ہو جائیں گے۔ قریب ہی آبادی ہے تم وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔

شاگرد چلا گیا اور راستے میں واپس آتے ہوئے سوچنے لگا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے۔ جبکہ روٹیاں تین ہیں۔ ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسی علیہ السلام کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی۔ لہذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں۔

چنانچہ اس نے راستے میں ہی ایک روٹی کھا لی اور باقی دو روٹیاں لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ حضرت عیسی علیہ السلام اور شاگرد نے جب کھانا کھالیا۔ تو حضرت عیسی علیہ السلام نے شاگرد سے پوچھا کہ تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھی۔

شاگرد نے جواب دیا اے اللہ کے نبی دو روٹیاں ملی تھی۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔ حضرت عیسی علیہ السلام خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک دریا آیا شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا اے اللہ کے نبی ہم دریا ابور کیسے کریں گے۔

جبکہ یہاں تو کوئی کشتی بھی نظر نہیں آ رہی۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا گھبراؤ مت میں آگے چلوں گا تو میرا دامن پکڑ کر پیچھے چلتے آنا۔ خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کر لیں گے۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا۔

اللہ کے حکم سے آپ نے دریا اس طرح سے عبور کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے۔ شاگرد نے دیکھ کر کہا میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان ہوں۔ آپ جیسا صاحبہ اعجاز نبی پہلے کبھی معبوث ہی نہیں ہوا۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا یہ معجزہ دیکھ کر تیرے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا۔ شاگرد نے جواب دیا جی ہاں! میرا دل نور سے بھر گیا ہے۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا اگر تمہارا دل نورانی ہو چکا ہے۔ تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھی؟

شاگرد نے جواب دیا اے اللہ کے نبی روٹیاں صرف دو ہی تھی۔ پھر حضرت عیسی وہاں سے آگے چل دیے راستے میں ہرنوں کا ایک گول گزر رہا تھا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک ہرن کو اشارہ کیا۔ تو وہ آپ کے پاس چلا آیا۔ آپ نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔

جب دونوں گوشت کھا چکے۔ تو حضرت عیسی علیہ السلام نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا کہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا۔ ہرن زندہ ہو گیا اور واپس دوسرے ہرنوں سے جا ملا۔ شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور استاد عطا فرمایا۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا۔ شاگرد نے کہا اے اللہ کے نبی میرا ایمان پہلے سے دگنا ہو چکا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا پھر بتاؤ روٹیاں کتنی تھی۔ شاگرد نے پھر وہی جواب دیا اے اللہ کے نبی روٹیاں بس دو ہی تھی۔

عیسی علیہ السلام پھر آگے کی جانب چل پڑے۔ ایک جگہ پر قیام کیا۔ تو دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس آدمی کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی تھی۔

یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا تیسری روٹی میں نے کھائی تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور جاتے ہوئے فرمایا تینوں اینٹیں تم لے جاؤ اور یہ کہہ کر عیسی علیہ السلام وہاں سے روانہ ہو گئے۔

اب لالچی شاگرد اینٹوں کے پاس بیٹھ کر یہ سوچنے لگا۔ انہیں کیسے گھر لے جایا جائے۔ اسی دوران کچھ ڈاکوؤں کا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں۔ تو انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں۔ لہذا ہر ایک شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آئے گی۔

اتفاق سے وہ تینوں ڈاکو بھی بھوکے تھے۔ انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دے کر کہا کہ شہر قریب ہی ہے۔ تم وہاں سے روٹیاں لے کر آؤ اور کھانا کھانے کے بعد ہم اپنا اپنا حصہ تقسیم کر لیں گے۔

چنانچہ وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا۔ اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں۔ تو باقی دونوں ساتھی مر جائیں گے اور میں تینوں اینٹوں کا اکیلا مالک بن جاؤں گا۔

جبکہ دوسری طرف اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے ساتھی کو قتل کر دیں۔ تو ہمارے حصے میں ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی۔ جب ان کا تیسرا ساتھی زہر آلود روٹیاں لے کر آیا۔ تو انہوں نے منصوبے کے مطابق اس پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا۔

قتل کرنے کے بعد انہوں نے خوشی میں سوچا کہ اب کھانا کھا لیں۔ ہمیں کھانا بھی زیادہ مل گیا اور سونا بھی۔ پھر جب انہوں نے روٹیاں کھائیں۔ تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے وہی مر گئے۔

پھر جب واپسی پر حضرت عیسی علیہ السلام اسی راستے سے گزرے۔ تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں۔ جبکہ پاس چار لاشیں پڑی ہیں۔ آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور پھر فرمایا دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔

03/08/2023

ایک شخص اپنی پیداوار کے
تین حصے کرتا تھا ایک حصہ
اپنے کھانے اور بال بچوں کے کھانے
کے لئے ایک اللہ کی راہ میں خرچ ک
رنے کے لیے نکلتا اور ایک حصہ
اپنے باغ کی دیکھ بھال کے لئے رکھتا۔

وہ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتا تھ
ا اس لیے اس کے کھیت میں
اللہ تعالی کی طرف سے بڑی
برکت ہوتی اور اس کی کھیتی
ہمیشہ سرسبز رہتی اگر کبھی ا
س کے باغ کو سیراب کرنے کے لیے
پانی نہ رہتا تو بادل کئی اور برستے
اور پانی ندی نالوں سے ہو کر
اس کے ہاں آ جاتا۔

ایک مرتبہ کا واقع ہے ایک ادمی
جنگل میں سے جا رہا تھا اچانک
اس کے کان میں آواز آئی کہ کوئی آ
دمی بادلوں سے کہہ رہا تھا کہ ج
اؤ اور فلاں کے باغ کو سراب کر د
و بادلوں کو حکم دینے والے
شخص نے باغ کے مالک کا نام بھی لیا۔

چنانچہ وہ بادل وہاں سے
ہٹ کر ایک پتھریلی زمین پر
خوب موسلا دھار بارش برسائی وہ
پانی بہہ کرایک نہر میں
جا پونچھا وہ نہر اس آدمی
کے باغ میں آتی تھی۔

اب وہ آدمی جو جنگل میں بادلوں
کا منظر دیکھ رہا تھا وہ اس
بہتے ہوئے پانی کے ساتھ ساتھ
چل پڑا یہ دیکھنے کہ اخریہ
پانی کس کے باغ کو سیراب کرتا ہے
آخر یہ ماجرا کیا ہے اور یہ کس
بزرگ کی کرامات ہیں۔

وہ ادمی نہر کے کنارے کنارے
چلتا ہوا اس باغ تک جا پہنچا
اور نہر سے ہو کر اب یہ پانی
نالوں کے ذریعے اس کے باغ میں
آنے لگا اور باغ کو سیراب کرنے
لگا اس باغ میں ایک بزرگ پانی
کو ادھر ادھر بکھر گئے تھے
تاکہ پانی پورے باغ میں پھیل جائے۔

اس راہ گیر مسافر نے ان سے
دریافت کیا کہ حضرت آپ کا
نام کیا ہے اس بزرگ نے وہی نام
بتائیے جو اس مسافر نے بادلوں میں
سنا تھا بزرگ نے پوچھا کہ بھائی
آپ میرا نام کیوں دریافت کر رہے
ہیں کہ آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے۔

اس مسافر نے بتایا کہ میں جنگل
سے گزر رہا تھا وہاں میں نے
ایک عجیب منظر دیکھا کہ کوئی
آدمی بادلوں سے کہہ رہا تھا کہ
وہ آپ کے باغ کو جاکر سیراب کر دیں

اس آدمی نے آپ کا نام بتایا تھا
وہ بادل کہی اور برسا لیکن نہر کے
ذریعے پانی آپ کے باغ میں آ پہنچا

یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر
اس کی حقیقت جاننے کے لیے
اس بہتے پانی کے ساتھ ساتھ چلتا آیا
کہ دیکھو کہ وہ کیسے بزرگ ہیں
جن پر یہ خاص نظرے رحمت ہیں
پھر اس مسافر نے پوچھا کہ حضرت
آپ کیا کرتے ہیں کہ اس باغ کو
سیراب کرنے کا غیبی انتظام ہو جاتا ہے۔

اس پر ان بزرگ نے بتایا اس باغ
سے مجھے جو کچھ بھی ملتا ہے
میں اس کے تین حصے کرتا ہوں
ایک حصہ اپنی اولاد کے لئے ایک حصہ
اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں
اور ایک حصہ اس باغ کی دیکھ
بھال کے لئے اس لئے جب بھی
میرے باغ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے
جو قدرت کی طرف سے اس کا
انتظام ہو جاتا ہے۔

عزیز دوستو سچ ہے جو اپنی
حلال کی کمائی کا کچھ حصہ اللہ
کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ
کبھی رائیگاں نہیں جاتا بے شک
اللہ بہترین بدلہ دینے والا ہے.

26/03/2022

Ayain Quran pak sekhain r dsrn ko sekhain

Online Quran teacher 24/03/2022

Online Quran teacher is available only for kids and female

Online Quran teacher islam r Islamic knowledge

Want your school to be the top-listed School/college in Jhelum?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Jhelum