قربانی کی جانوروں میں عیوب دیکھنے پہلے اپنے عیوب پر بھی ذرا توجہ دو اگر جانور میں کوئی عیب نہیں ہو اور تم میں ہو پھر بھی قربانی قبول نہیں ہوگی
Voice of Tawheed-Lilla Town
قرآن وسنت
قبوریو"""" شیر اشاعت کو بھونکنے سے بہتر یہ ہے کہ اپنے بابوں کی کتابوں کا دفاع کرو
16/05/2026
اشاعت التوحید والسنہ کی مجلس مققننہ کا عادتاً سماع الموتیٰ کے متعلق فتویٰ ۔
16/05/2026
مجلس مققننہ کا فیصلہ
مقننہ کا فیصلہ
تعلق روح والا اتنا بڑا مسئلہ چند سیکنڈ میں حل کردیا ہے ۔
مرنے کے بعد ‘آج کی روٹی ہماری طرف سے’ کہنے سے بہتر ہے کہ بیماری میں ‘آج کی دوا ہماری طرف سے’ کہا جائے۔💯☝️💯
آؤملکر عزم کریں کہ خوشیوں اورغمیوں کے موقع پر رسم ورواج کو چھوڑیں اور اپنے پیارے نبی کریم ص کی پیاری سنت وسیرت کواپنائیں دنیا وآخرت سنور جائے گی
03/05/2026
23/04/2026
جانشین شیخ القرآن حضرت مولانا اشرف علی صاحب کا پہلا نماز جنازہ کل بروز جمعہ دن 3 بجے لیاقت باغ راولپنڈی میں ادا کیا جائے گا ۔۔
دوسرا جنازہ بعد از نماز مغرب مرکزی عید گاہ اٹک شہر میں ادا کیا جائے گا اور تدفین جامعہ اشاعت اسلام اٹک شہر میں ھو گی
📌 موضوع: تعزیت کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا – تحقیقی جائزہ
1. قرآن کریم کی روشنی میں:
قرآن مجید میں دعا کی بارہا ترغیب دی گئی ہے، مگر کسی خاص موقع (جیسے تعزیت) پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی کوئی صریح دلیل موجود نہیں۔
"ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً" (سورۃ الاعراف:55)
ترجمہ: "اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی کے ساتھ پکارو۔"
یہ آیت عام ہے، اس میں کسی خاص طریقے یا ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں۔
2. احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ سے تعزیت کے مختلف مواقع پر جو اقوال و اعمال منقول ہیں، ان میں کہیں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت نہیں۔
2.1 حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر:
"اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد أتاهم أمرٌ شغلهم" (سنن ابی داود:3132)
ترجمہ: "آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ انہیں مصیبت نے مشغول کر دیا ہے۔"
یہاں تعزیت کی گئی مگر نہ ہاتھ اٹھائے گئے اور نہ اس کا حکم دیا گیا۔
2.2 عمومی تعزیتی کلمات:
"إن لله ما أخذ، وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى، فلتصبر ولتحتسب" (صحیح بخاری:1284)
ترجمہ: "بے شک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز اس کے ہاں مقرر وقت پر ہے، لہٰذا صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔"
یہ تعزیتی کلمات ہیں، نہ کہ اجتماعی دعا یا ہاتھ اٹھانے کا عمل۔
3. عملِ صحابہ و تابعین:
صحابہ کرام اور تابعین کے بے شمار واقعات میں تعزیت کا ذکر ملتا ہے، مگر کہیں بھی ہاتھ اٹھا کر اجتماعی یا انفرادی دعا کا ثبوت نہیں ملتا۔ اگر یہ سنت ہوتا تو صحابہ ضرور کرتے۔
4. فقہاء کی آراء:
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ: "نہ نبی ﷺ تعزیت کے لیے اجتماع کرتے تھے اور نہ صحابہ۔" (الفتاویٰ الکبریٰ 5/466)
امام نووی رحمہ اللہ: "ہاتھ اٹھا کر دعا صرف انہی مواقع پر مشروع ہے جہاں اس کی دلیل موجود ہو۔" (المجموع 3/497)
5. بدعت کا خدشہ:
"من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد" (صحیح بخاری:2697)
ترجمہ: "جس نے دین میں نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔"
لہٰذا تعزیت کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کو مستقل عمل بنانا بدعت کے قریب ہو سکتا ہے۔
6. عقل و فہم کی روشنی میں:
اگر یہ عمل مستحب ہوتا تو نبی ﷺ ضرور کرتے۔ آج کل بعض جگہوں پر اسے باقاعدہ رسم بنا لیا گیا ہے جو بسا اوقات اخلاص سے زیادہ ظاہری عمل بن جاتا ہے۔
📊 خلاصہ:
تعزیت کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے۔
نبی ﷺ، صحابہ اور تابعین سے اس کا ثبوت نہیں ملتا۔
فقہاء نے بغیر دلیل کے مخصوص مواقع پر ہاتھ اٹھانے سے منع کیا ہے۔
اسے رسم بنانا بدعت کے قریب ہو سکتا ہے۔
نتیجہ:
تعزیت کے وقت زبانی دعا، صبر کی تلقین اور دل سے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے، مگر ہاتھ اٹھانے کو لازم یا مستقل طریقہ نہ بنایا جائے۔
بہن بھائیوں کا حق کھا کر
کتے، بلیوں اور پرندوں کو دانہ ڈالنے سے معافی نہیں ملتی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jhelum