14/08/2021
Kalsoom Foundation Jhethal
This Page is about promoting the Importance of Kalsoom Foundation in field of education in Teh PDKhan Distt Jhelum.
14/08/2021
18/06/2021
کلثوم مسجد اور مدرسے میں طلبعلم قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے۔ماشااللہ بیس سے پچیس طلبعلم قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہیں پر رہا ئش پزیر ہیں۔
18/06/2021
جامعہ مسجد کلثوم فائونڈیشن للہ خوشاب روڈ جیٹھل سٹاپ پر گرمیوں کے موسم میں مسافروں کی آسانی کے لئے میٹھے پانی کی سبیل لگائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور انتظامیہ کلتثوم مسجد اور کلثوم فاؤنڈیشن کو اس کام کو جاری و ساری رکھنے کی ہمت دے۔ آپ بھی اس نیک کام میں حصہ ڈال کر ثواب دارین حاصل کریں ۔ امین
سید منیر حسین بخاری
(تحریر. ..اعجاز علی خان للہ)
آئیے آج اپنے علاقے کے ایسے افراد کا تذکرہ کریں، جنہوں نے نا مہربان موسموں میں زیست کی دشوار گذار گھاٹیوں کو اپنے عزم و ہمت اور استقامت سے عبور کر کے اپنی شناخت اور پہچان بنائی. یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی توانائی اور مثبت کاوشوں سے کامیابی حاصل کی اور دوسروں کو روشنی کی راہ دکھائی. سید منیر بخاری کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے، جو اپنی ذات کے استهان پر سجدہ ریز ہونے کی بجائے دوسروں کے کام آئے اور ان کی محبتوں کو سمیٹا. امید کے آنگن کو رنگ و بو کی رعنائیوں سے خوش رنگ بنایا اور ثابت کیا کہ صحرائوں سے نخلستانوں کا سفر جانفزا اور سحر انگیز بنایا جا سکتا ہے. ان کا تعلق جیٹهل کے چھوٹے سے گاؤں سے ہے، یہ للہ سے چار کلو میٹر دور خوشاب جانے والی سڑک پر واقع ہے. تعلیم کے ابتدائی مدارج اپنےعلاقے سے مکمل کیے اور پھر مزید تعلیم کے لیے کهیوڑہ کا رخ کیا کہ اس وقت تحصیل پنڈدادنخان میں، انگریزوں کے زمانے سے اعلیٰ معیاری سکول یہاں ہی قائم تھے. یہ ایک نیم صنعتی شہر تها، دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان اور سوڈا ایش کی فیکٹری ادھر ہی ہے. یوں اسے نسبتاً ایک بہتر تعلیمی روایات اورتہذیبی اقدار کا شہر تصور کیا جاتا ہے، شاہ صاحب کو ابتدا میں ایک بہتر ماحول ملا جس نے ان کی تربیت اور شخصیت میں نکھار پیدا کیا. قدرت نے ان کو ذہانت، فطانت اور کام کرنے کی لگن کی صفات سے سرفراز کیا تها. وہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے جس سے ان کے مزاج میں دھیما پن، طبیعت میں منکسرالمزاجی اور فکر و نظر میں وسعت پیدا ہوئی اور شروع ہی سے وقت کے بہتر استعمال کو زندگی کا حصہ بنایا.
پہلی سیڑھی پر قدم رکھ، آخری پر رکھ نظر
منزلوں کی جستجو میں رائگاں کوئی پل نہ ہو
تعلیم سے فراغت کے بعد بخاری صاحب نے اپنے کیریئر کا آغاز اسی شہر مہربان کهیوڑہ میں پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن PMDC کے شعبہ فنانس سے کیا. اپنے بہتر تعلیمی پس منظر اور حساب کے مضمون سے فطری دلچسپی کی بنا پر انہوں نے اپنے کام کی کوالٹی، accuracy اور efficiency پر بھرپور توجہ دی، اپنے skills کو improve کیا اور زندگی بھر خوب سے خوب تر کی جستجو کے سفر کو حرز جان بنایا. وقت یوں ہی گزرتا رہا. بعض اوقات زندگی میں اتفاقات نئی امکانی رفعتوں سے آشنا کر دیتے ہیں. کهیوڑہ سکول میں ظہیر احمد، بخاری صاحب کے دوست اور کلاس فیلو تهے، بعد میں ڈاکٹر بنے اور امریکہ شفٹ ہو گئے، وہاں میڈیکل کے شعبے میں اپنا ایک مقام بنایا، ان کا خواب تھا پاکستان میں جدید سہولتوں سے آراستہ ایک ہسپتال بنایا جائے، وہ ڈاکٹروں کے وفد کے ساتھ یہاں آئے اور شفا انٹرنیشنل اسلام آباد کے کام کا آغاز ہوا. اس بڑے پروجیکٹ کے حسن انتظام کے لیے ایک ہمہ وقتی ٹیم کی ضرورت تھی. سو فنانس میں خدمات کے لیے انہوں نے اپنے کلاس میٹ سید منیر بخاری کا انتخاب کیا. اگرچہ بخاری صاحب ایک well established جاب کر رہے تهے، لیکن اپنے دوست کے کہنے پر ایک نئے ہسپتال (جو ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا) میں آنے کا risk لیا. ڈاکٹر ظہیر احمد ایک visionary شخص تهے، لوگوں کی صلاحیتوں کے مزاج شناس تهے، ایک جوہری کی طرح اچھے نگینوں کو اکٹھا کر کے ایک لڑی میں پرو دیا اور پھر شفا انٹرنیشنل کی کامیابی کی ایک اپنی تاریخ ہے. پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں یہ آغا خان ہسپتال کے بعد دوسرا بڑا ہسپتال ہے. شاہ صاحب کو کام سے عشق تها، اپنے پروفیشن پہ فوکس رکھا، دن رات محنت کی اور بتدریج ترقی کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے چیف فنانشل آفیسر CFO کے عہدے تک پہنچے اور برسوں اس پر متمکن رہے. یہ ڈاکٹر ظہیر کے دست راست تھے. پرائیویٹ اداروں میں بڑی پوزیشن پر بہت سے پریشر سے واسطہ پڑتا ہے، دفتری سازشوں کے تانے بانے بنے جاتے ہیں، لیکن شاہ صاحب ان تمام چیزوں سے بے نیاز اپنے کام میں مگن رہتے، دیانت داری اور مقدور بھر صلاحیتوں سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور کارکردگی کا بہترین معیار set کیا. اپنی پروفیشنل زندگی اصول و قواعد کے حصار میں گزاری، ہمیشہ دلآزاری سے پرہیز اور طنز سے اجتناب کیا، قنوطیت سے دور اور رجائیت کے شیدائی رہے.
کوئی تو پھول کهلائے دعا کے لہجے میں
عجیب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
سروس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی خدمت اور ان میں آسانیاں تقسیم کرنے کی تگ و دو جاری رکھی. ہسپتال کے expansion phase کے دوران علاقے کے بے شمار نوجوانوں کو مختلف لیولز پر ملازمت دلوائی، یوں سینکڑوں خاندانوں میں خاموشی سے خوشیوں کے رنگ بکهیرے اور پھر اس کا ذکر تک نہ کیا. کچھ لوگ اپنی ذات کے اسیر ہوتے ہیں، شاہ صاحب کا دل ہمیشہ دوسروں کو مسرت فراہم کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہتا. شفا ہسپتال میں سینکڑوں غریب اور مستحق مریضوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کیں. خدمت کا یہ جذبہ کیاریوں میں جھومتے خوش رنگ پھولوں کی طرح ہمیشہ دوسروں کو شاداب رکھتا. تحصیل پنڈدانخان کے لوگوں کے لیے ہسپتال میں خصوصی طور پر 10 فیصد ڈسکاؤنٹ کی سکیم متعارف کروائی. مسجد ہمارے معاشرے میں عبادت اور مل بیٹھنے کے تہزیبی قرینوں کا مرکز ہوتی ہے.شاہ صاحب نے اپنے گاؤں جیٹهل میں للہ-خوشاب روڈ پر ایک state of the art مسجد تعمیر کرائی ہے، جس میں مقامی بچوں کو دینی تعلیم کے مواقع اور سینکڑوں مسافروں کے لیے سر راہ نماز کی سہولت بھی میسر ہے. وقتاً فوقتاً مختلف اوقات میں سکالرز، علمائے کرام اور نعت خواں حضرات کو بھی دعوت دی جاتی ہے، اس طرح ایک مذہبی روایت کا احیاء کیا ہے.
جیٹهل گاؤں میں بخاری صاحب نے مقامی خواتین کو مختلف skills سکھانے کے لیے ایک تربیتی ادارہ قائم کیا تا کہ وہ کام سیکھ کر اپنے گھروں میں عزت و احترام سے ذاتی کاروبار شروع کر سکیں. علاقے بهر میں شرح خواندگی کو بہتر بنانے کی خاطر، تعمیر ملت پرائیویٹ سکولز قائم کرنے میں اعانت کی. اسلام آباد میں تحصیل پنڈدانخان کے لوگوں کے مل بیٹھنے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے ایک فورم پنڈدانخان ویلفیئر سوسائٹی کی بنیاد ڈالی، ان گنت اجلاس اور میٹنگ کا انعقاد کیا اور اپنے روایتی اور تہذیبی قرینوں کو ایک سمت دی. اس ٹیم میں بے شمار لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا، ابتدائی برسوں میں سید حسن رضا کاظمی نے شاہ صاحب کی معاونت کی. شاہ صاحب اب جاب سے ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن محبتیں اور آسانیاں تقسیم کرنے کا عمل آج بھی جاری ہے کہ بدلتی رتوں میں بہار کی پہلی بارش جب مٹی پر پڑتی ہے تو اک خوشگوار اور سوندھی سوندھی خوشبو ماحول کو عطر بیز کر دیتی ہے. شاہ صاحب جیسے افراد، لوگوں کے دلوں کے تاج محل میں ہمیشہ آباد رہتے ہیں کہ امید کا دیا تو ہمیشہ روشن رہتا ہے.
کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم
03/06/2021
پنڈ دادن خان وہلفیئر سوسائٹی، اسلام اباد، کی جانب سے تحصیل پنڈ دادن خان کے عوام کے لیے شاندار تحفہ
پنڈ دادن خان شہر میں اعلیٰ معیار کا
"ہسپتال و ڈائیلیسز سینٹر"
بالمقابل بن رضیہ میرج ہال
الحمد للہ ممبران کے تعاون اور سوسائٹی انظامیہ خصوصاً جناب سید منیر حسین بخاری، صدر اور جناب عتیق الرحمان جنجوعہ، جنرل سیکریٹری کی کاوشوں سے پروجیکٹ تکمیلی مراحل میں ہے۔ جن حضرات نے اس سلسلے میں تعاون کیا، سوسائٹی اور اہل علاقہ ان کے شکر گزار ہیں۔
فنڈ دے کر صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالئے۔ اپنی مٹی کا قرض اتارئیے چاہے جتنی بھی رقم ہو۔
فنڈدینے کے لیے رابطہ کیجئے:
سید منیر حسین بخاری
صدر، پنڈ دادن خان ویلفیئر سوسائٹی، اسلام آباد
+923215007128
عتیق الرحمان جنجوعہ
جنرل سیکریٹری
+923335106978
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ
اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُ♥️
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
چلو ایک نعرہ ہوجائے ✌🏼
تاجدار ختم نبوت زندہ باد ✨💝
Hafiz Syed Subhan Muneer Bukhari is reciting Quran Pak at Mehfil e Naat Jamia Masjid Kalsoom Foundation
11/02/2021
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jhelum