ToufiQ ahmad

ToufiQ ahmad یہ پیج میری ذاتی ہے اور اس میں عالمی سیاسی مسائل،سائنس کے عروج،اور دیگر معلومات کے استعمال کیلئے ہے،

نیا عالمی سیاسی عدم استحکام اس عالمی سیاسی عدم استحکام کے دور میں کچھ ممالک بہت زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔حال ہی میں ایران...
12/05/2026

نیا عالمی سیاسی عدم استحکام
اس عالمی سیاسی عدم استحکام کے دور میں کچھ ممالک بہت زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔
حال ہی میں ایران کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم 90 فیصد تک لیکر جاسکتے ہیں اگر مخالف کی طرف سے کسی بھی حملے کا سامنا ہوا ۔

اقوامِ متحدہ میں بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو روس، چین اور فرانس نے مشترکہ طور خارج کر دیا ہے۔روس، چین اور فرانس...
05/04/2026

اقوامِ متحدہ میں بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو روس، چین اور فرانس نے مشترکہ طور خارج کر دیا ہے۔

روس، چین اور فرانس نے کہا کہ قرارداد کے الفاظ درست نہیں ہیں ، اور جنگی کارروائی سے حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔اسی سبب یہ قرارداد ووٹنگ کے مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ امید کی جا رہی ہے ایک ہفتہ کے بعد دوبارہ رائے شماری کے لیے اس قرار داد کو پیش کیا جائے گا۔

روس اور چین کی جانب سے اسے خارج کرنا تو متوقع تھا، مگر فرانس کا ان کے ساتھ کھڑا ہونا ایک واضح اور سخت پیغام واشنگٹن کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جبکہ ایران کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔

آبنائے ہرمز تنازع: روس کے ویٹو سے اقوام متحدہ میں تعطل 4 اپریل کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل م...
04/04/2026

آبنائے ہرمز تنازع:
روس کے ویٹو سے اقوام متحدہ میں تعطل

4 اپریل کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی بحرین کی قرارداد روس کے ویٹو کے بعد تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ روس نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکی مداخلت کی حمایت نہیں کرے گا۔

بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کو ضروری دفاعی اقدامات کی اجازت دی جائے۔ تاہم روس کے ویٹو نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جس سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر امریکہ کے لیے کسی بڑے فوجی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنا مشکل ہوگا۔ روس اور چین پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کریں گے۔ اس کے باوجود امریکہ ماضی میں ’آزادیٔ نقل و حرکت‘ کے نام پر بین الاقوامی پانیوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھتا آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اپنے اتحادی ممالک کو قائل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی اقدامات کریں تاہم فرانس اور برطانیہ جیسے اہم اتحادی پہلے ہی اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کا اشارہ دے چکے ہیں۔ فرانس کا موقف ہے کہ یہ تنازع بنیادی طور پر امریکہ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اسے خود ہی اس کا سامنا کرنا چاہیے۔

ادھر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے ۔ جس کے باعث امریکہ پر بھی فوری حل تلاش کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی قیادت کے لیے پسپائی اختیار کرنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب اندرون ملک بھی ایران کے خلاف کارروائی کے قانونی پہلوؤں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل مناسب منظوری نہیں لی گئی جو کہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر امریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی بڑھاتا ہے تو اس سے نہ صرف عالمی قوانین پر سوال اٹھیں گے بلکہ اقوام متحدہ کے کردار اور اثر پذیری پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ناسا کا سب سے دور خلائی جہاز وائجر ون نظام شمسی کے کنارے پر 90000 ڈگری فارن ہائیـٹ درجہ حـرارت کی ایک حیـرت انگـیز دیوار...
27/03/2026

ناسا کا سب سے دور خلائی جہاز وائجر ون نظام شمسی کے کنارے پر 90000 ڈگری فارن ہائیـٹ درجہ حـرارت کی ایک حیـرت انگـیز دیوار سے ٹکرا گیا ہے، جس نے ناسا کے تمام سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے ہم جانتے ہیں کہ جب ہم سورج سے دور ہوتے ہیں تو خلا ٹھنڈا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ناسا کا پارکر سولر پروب خلائی جہاز 2025 میں سورج کے 61 لاکھ کلومیٹر قریب سے گزرا۔۔۔ اس وقت پارکر سولر پروب نے جو گـرمی محسوس کی وہ ناقابل یقین تھی۔۔ اب جیسے جیسے ہم قریب آتے ہیں، سورج کی گرمی سمجھ میں آتی ہے لیکن لیکن وائجر ون سورج سے 25 ارب کلومیٹر کے فاصـلے پر واقع ہے۔ 25 ارب کلومیٹر دور جانے کے بعد ایسی گـرمی پڑتی ہے کہ سمجھ سے باہر ہے۔۔۔۔۔ یہ دیوار نہ پہلے دریافت ہوئی ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کسی کو اس کا علم تھا لیکن جیسے ہی وائجر ون ان کی فضا میں داخل ہوا، ناسا کے سائنسدانوں نے فوراً نوٹ کیا کہ وائـجر ون کے سینسرز جس درجہ حرارت کا مشاہدہ کر رہے تھے وہ پیمانے پر 90,000 ڈگری فارن ہائیٹ تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہاں کا درجہ حرارت اتنا زیادہ سمجھ سے باہر ہے۔

ہمارے نظام شمسی کے بالکل آخـری کنارے پر ناسا کے وائجر ون نے 90,000 ڈگری فارن ہائیٹ پر ایک دیوار دریافـت کیا، جو پلازما پر مشتمل تھا جب ناسا نے اس کا مطالعہ کیا تب پتہ چلا کہ یہ دیوار ہماری دنیا یعنی زمین کو کہکشاں میں موجود ستاروں کی مختلف خطرناک شعاعـوں سے بچاتی ہے، جیسے ہی وائجر ون خلائی جہاز سورج کے ماحول کے بیــرونی کنارے ہیلیوپاز سے گزرا، اس نے خلا میں ایک ایسا دیوار اور زون دیکھا جس کا درجہ حرارت 90,000 ڈگری فارن ہائیٹ تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی گرم پلازما سے بنا ہے۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ "دیوار" ایک ہنگامہ خیز ٹرانزیشن زون ہے اب یہ ٹرانزیشن زون کیا ہے ؟

ہمارے نظام شمسی سے باہر مختلف سـتاروں کی روشنی اور ذرات پوری کائنات میں پھیلتی ہیں جب یہ ذرات ہمارے نظام شمسی کے انٹرسٹیــلر اسپیــس میں داخــل ہوتی ہیں، تو وہ ہمارے سـورج کے ذرات سے ٹکرا جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ان ذرات کے دباؤ کی وجہ سے ہمارے سورج کے ذرات سست ہو کر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ اگر آسان لفظوں میں کہوں تو وہ یہ ہے کہ اس کو ہـمارے نـظام شمـسی کا وہ خطہ سمجھیں جہاں سـورج کے ذرات کائنات کے دوسرے ذرات سے لڑتے ہیں، انہیں اندر نہیں آنے دیتے، اگر یہ "ٹـرانزیشن زون" نہیں ہوتا تو زمین پر موجود ہر دوسرے انسان کو کینسر ہوجاتا کیونکہ ان میں الٹرا وائلٹ روشنی بھی ہوتی ہے، جو کینــسر کا باعث بنتی ہے۔ اگر ذرات یہ دیوار پار کرکے "زمیـن" پر آنے کی کوشش کرتے ہیں تو آگے وہ اوزون تہہ کا سامنا کریں گے جو زمین کو "گھیرے" ہوئے ہے اگر انہوں نے "ٹرانزیشن زون" عبور بھی کیا، تو اوزون لئیر کو پار نہیں کرسکیں گے کیونکہ وہ پہلے سے سورج کی الٹرا وایلیٹ روشنی کو بھی نہیں جانے دیتے ہیں ان کو واپس منعکس کرتے ہیں۔ ہم خاص نہیں ہیں ہم بہت خاص ہیں کیوں کہ اوزون لئـیر کے بعد ٹرانزیشن زون بھی ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کا کنارہ پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ پرتشدد اور پیچیدہ ہے۔

تحریر Tehsin Ullah Khan

ایک فون کال کی گہما گہمی۔۔۔ 22 مارچ ،اتوار کی رات فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر  کو ایران کے حوالے سے فون کیا۔ فنان...
27/03/2026

ایک فون کال کی گہما گہمی۔۔۔

22 مارچ ،اتوار کی رات فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر کو ایران کے حوالے سے فون کیا۔ فنانشل ٹائمز نے 23 مارچ کو یہ خبر دو ایسے ذرائع کے حوالے سے بریک کی ہے جنھیں اس گفتگو کی تفصیلات بتائی گئیں۔ کہ

پاکستان نے خود کو واشنگٹن کی تہران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے بنیادی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

تیئس مارچ دو ہزار چھبیس۔ یہ تاریخ یاد رکھیں کہ اس دن کا تاریخ کا حصہ بننے کا چانس ہے.

آج صبح امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بڑے حرفوں میں لکھا: "میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے جائیں۔" بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، این پی آر سب نے تصدیق کی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ "بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت" ہوئی ہے اور دونوں فریقین "معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔" کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام ایرانی فریق کی ایک "اعلیٰ شخصیت" سے گفتگو کی۔ بنیادی مطالبہ: ایران یورینیم افزودگی بند کرے۔ سی این بی سی کو بتایا: "ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔"

ٹرمپ نے ہفتے کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ آبنائے ہرمز کھولو ورنہ بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ مہلت 23 کی شام ختم ہونی تھی۔ مگر حملے ملتوی ہو گئے۔ تیل کی قیمتیں فوری طور پر گریں۔ عالمی منڈیوں میں ابھار آیا۔

ایران نے فوراً تردید کی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کو بتایا: "گزشتہ چند دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے جن میں کہا گیا کہ واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے لیکن تہران نے جواب نہیں دیا۔ گزشتہ چوبیس دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہوئی۔" مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید سخت لہجے میں ایکس پر لکھا: "امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ یہ جھوٹی خبریں تیل اور مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری اور امریکہ اور اسرائیل کو جس دلدل میں پھنسے ہیں اس سے نکالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔"

لیکن ایرانی ترجمان کا کہنا کہ"دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے۔"

یہ "دوست ممالک" کون ہیں؟

سی این این کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 48 گھنٹوں میں درجن بھر سے زائد فون کالز کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی۔ مصری وزیر خارجہ سے بات کی۔ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بات کی۔ سعودی وزیر خارجہ سے بات کی۔ پاکستانی عہدیداروں سے بات کی۔ مصر اور ناروے کی قیادت سے بات کی۔ سی این این نے لکھا: "بات چیت سے واقف افراد کے مطابق ترکی اور مصر دونوں نے فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ہیں۔"

مگر فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ "بنیادی ثالث" پاکستان ہے۔ روایتی ثالث عمان اور قطر اس وقت کم فعال ہیں۔

اب سوال یہ ہے: پاکستان یہ کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس کی بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔

پہلی بنیاد: رسائی۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بیک وقت واشنگٹن، تہران اور ریاض تینوں تک رسائی ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک حصہ باقاعدہ طور پر ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان 1979 سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یعنی جب تہران کو واشنگٹن تک کوئی پیغام پہنچانا ہو تو ایک راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کو ایک پاکستانی سینئر سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: "پاکستان روایتی ثالثوں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کر رہا۔ وہ ایک ایسے وقت میں پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جب اعتماد کا بحران شدید ہے اور رابطے کے ذرائع بکھرے ہوئے ہیں۔" اس نے مزید کہا: "پاکستان کو یہاں جو چیز متعلقہ بناتی ہے وہ رسائی ہے۔ فوجی سطح پر اور سیاسی سطح پر دونوں فریقوں تک۔"

دوسری بنیاد: عاصم منیر کا ذاتی رابطہ ٹرمپ کے ساتھ ہے ۔

جون 2025 مئی کے پاک بھارت تصادم کے بعد ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا,کابینہ روم میں ظہرانہ، پھر اوول آفس میں ملاقات، ایک گھنٹے کی طے شدہ ملاقات دو گھنٹے سے تجاوز کر گئی۔ ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف تھے۔ عاصم منیر کے ساتھ صرف قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک تھے۔ کوئی سویلین وزیر نہیں، کوئی سفیر نہیں، امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کو سویلین قیادت کے بغیر تنہا وائٹ ہاؤس میں بلایا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: "عاصم منیر سے ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔ میں نے انھیں شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے کہ انھوں نے جنگ نہیں کی۔" پھر کہا: "وہ ایران کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ ایران کے بارے میں کچھ بھی خوش نہیں ہیں۔ اس (عاصم منیر) نے میری بات سے اتفاق کیا۔"

ڈان اخبار نے لکھا کہ ملاقات "تلاشی" نوعیت کی تھی، حتمی نہیں۔ مگر ٹرمپ کے لیے یہ حکمت عملی تھی۔
اسرائیل ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی شمولیت چاہتا تھا۔ ٹرمپ ایسا شراکت دار ڈھونڈ رہا تھا جو قریب ہو اور جس کے پاس انٹیلی جنس کی گہرائی ہو۔

تیسری بنیاد: اسلام آباد کا ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدہ۔

ستمبر 2025 ریاض کے الیمامہ محل میں ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔اس میں عاصم منیر ساتھ تھے۔
اس میں بنیادی شق:
"کسی بھی فریق پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہو گی۔"جس طرح نیٹو کی شق نمبر پانچ جیسی زبان۔
یہ معاہدہ اس لیے ہوا کیونکہ ستمبر 2025 میں اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے کسی رکن ملک پر پہلا حملہ تھا اور خلیجی ممالک کا امریکی حفاظتی ضمانتوں پر اعتماد ڈگمگا گیا تھا۔

28 فروری 2026 کو جنگ شروع ہوئی۔ ایران نے جوابی حملوں میں سعودی عرب پر بھی میزائل داغے۔ 6 مارچ کو سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ شہزادہ سلطان ہوائی اڈے کی طرف تین بیلسٹک میزائل روکے گئے۔ 7 مارچ کو سعودی عرب نے پہلی بار باہمی دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ عاصم منیر فوری طور پر ریاض پہنچے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔ شہزادہ خالد نے ایکس پر لکھا کہ دونوں نے "ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں اور انھیں معاہدے کے تحت روکنے کے اقدامات" پر بات کی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ عاصم منیر کے دورے نے پاکستان کو حرمین شریفین اور سعودی ڈھانچے کے "سلامتی ضامن" کے طور پر پیش کیا۔ حج 2026 تین ماہ سے بھی کم فاصلے پر ہے اور حج کی سلامتی ایرانی میزائل حملوں سے براہ راست خطرے میں ہے۔

ایک اور تفصیل۔ جنوری 2026 میں پاکستانی ایف سولہ بلاک 52 طیارے سعودی عرب میں کثیرالقومی فوجی مشق کے لیے موجود تھے. ۔ تجزیہ نگاروں نے بعد میں لکھا کہ یہ تعیناتی اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اسی نوعیت کی ہم آہنگی کی مشق معلوم ہوتی ہے جو حقیقی تصادم میں درکار ہوتی ہے۔

چوتھی بنیاد: پاکستان کا ایران کے ساتھ طویل سرحد اور دیرینہ تعلقات،

پاکستان کی ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی 2025 میں پاک بھارت تصادم کے فوراً بعد ایران کا دورہ کیا تھا۔ صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ یہ ذاتی رشتے ابھی اہم ہیں۔

3 مارچ2026 کو پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ایسا بیان دیا جس نے ہر دارالحکومت میں ہلچل مچا دی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ذاتی طور پر تہران کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے سنجیدگی سے لیا، خارج نہیں کیا، مذاق نہیں اڑایا، ضمانتیں مانگیں کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ایران نے اسے اتنا سنجیدگی سے لیا کہ سعودی عرب میں ایرانی سفیر نے باقاعدہ عوامی بیان دیا جس میں ریاض کے اس وعدے کو سراہا کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا کہ وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بریفنگ میں بتایا: "ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن واشنگٹن تہران کا پورا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا تھا۔" ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

پانچویں بنیاد: اندرونی خلفشار ۔۔
جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان کے اندر طوفان اٹھا۔ پاکستان کی شیعہ آبادی مجموعی آبادی کے پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر سڑکوں پر نکل آئے۔ کراچی میں مظاہرین امریکی قونصل خانے کی طرف بڑھے۔ امریکی میرین سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کی۔ کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں جھڑپوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔ گلگت بلتستان میں 3 دن کا کرفیو لگایا گیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملہ کیا۔ 12 افراد مارے گئے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر جلائی گئیں۔ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائی گئیں۔

الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستان کی خطرناک فرقہ وارانہ تاریخ ایک اور خطرے کی تہہ ہے۔ زینبیون بریگیڈ، جو پاکستانی نژاد شیعہ ملیشیا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی تربیت، مالی تعاون اور کمان میں کام کرتی ہے، نے گزشتہ دہائی میں ہزاروں لڑاکا بھرتی کیے ہیں۔ کرم ایجنسی جو اس بریگیڈ کا بنیادی بھرتی مرکز ہے وہاں 2024 کے آخری ہفتوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں 123 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

20 مارچ2026 کو عاصم منیر نے راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملاقات کی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اور صاف الفاظ میں کہا: "پاکستان میں کسی دوسرے ملک کے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔" ترجمان پاک فوج نے اسے دہرایا: "بیرونی واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔"

اب تصویر دیکھیں.

ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں بندھا ہوا ہے۔ معاہدے کی شق فعال ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے 9 دن مسلسل ایرانی حملے برداشت کیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے "سرخ لکیر" عبور کر لی ہے۔ 1 مارچ کو امریکہ، بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور امارات کا مشترکہ بیان آیا: "ہم ان حملوں کے خلاف دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔"

دوسری طرف ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر کی سرحد ہے۔ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تہران سے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی بات سنجیدگی سے سنتا ہے۔

تیسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مزدور ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں کہ معاشی طور پر خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے لیے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرتی ہیں۔

چوتھی طرف ملک کے اندر فرقہ وارانہ تناؤ ابل رہا ہے۔ پانچویں طرف افغانستان کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ پاکستانی سفیر ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے افغان تنازعے میں روسی ثالثی مانگی ہے۔

اور ان سب دباؤں کے درمیان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے فون پر بات ہو رہی ہے۔
اب کی گہرائی سمجھیں، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے23مارچ کو کینبرا میں کہا: "کوئی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں ہے اگر صورتحال اسی سمت جاتی رہی۔" انھوں نے کہا کہ 9 ممالک میں 40 سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ بحران 1973 اور 1979 کے مشترکہ تیل بحرانوں سے بدتر ہے جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل یومیہ کا نقصان ہوا تھا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنا "2026 کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر ناممکن ہے" سمندری مال برداری کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے زینیٹا کے ماہر پیٹر سینڈ نے سی این این کو بتایا۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل تیئسویں دن بڑھیں اور تین ڈالر چھیانوے سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئیں جو اگست 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
ایران کی دفاعی کونسل نے آج دھمکی دی: اگر بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو پوری خلیج میں توانائی اور پانی کے ڈھانچے نشانہ بنائے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ "غیر متحارب" ممالک صرف ایران سے ہم آہنگی سے آبنائے سے گزر سکیں گے۔ ساحلوں یا جزائر پر حملے کی صورت میں پوری خلیج مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
ادھر تل ابیب تہران پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ کل تک بھی وسیع پیمانے پر حملے ہوئے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا: "ہم بحرین، کویت اور سعودی عرب میں فوری طور پر مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام تعینات کر رہے ہیں۔"
بحرین میں آج شدید دھماکے اور فضائی خطرے کے سائرن سنے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی خلیج میں پہلی بار سائرن بجے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے کہا: "پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر جائیں۔"
اور اس سب کے بیچ میں یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا کہ ان کے پاس "ناقابل تردید ثبوت" ہیں کہ روس ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔
اب بتاؤ۔ اس شطرنج کی بساط پر پاکستان کہاں ہے؟

پاکستان ایک رسی پر چل رہا ہے۔ دائیں طرف سعودی عرب ہے جو کہتا ہے معاہدے پر عمل کرو۔ بائیں طرف ایران ہے جس کے ساتھ سرحد ہے اور جس کی شیعہ آبادی ملک کے اندر ہر جمعے کو سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ نیچے ایندھن کا بحران ہے جو معیشت کی ریڑھ توڑ سکتا ہے۔ اوپر ٹرمپ ہے جو ایک دن مہلت دیتا ہے دوسرے دن معاہدے کی بات کرتا ہے۔

اس سب کے درمیان عاصم منیر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تینوں فریقوں کا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ ٹرمپ اسے "اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہتا ہے۔ سعودی ولی عہد اس سے ذاتی طور پر ملتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ اس کے ملک کی بات سنتا ہے۔ یہ تینوں کانوں تک بیک وقت رسائی ہی اصل طاقت ہے۔
لیکن خطرے اتنے ہی بڑے ہیں۔اگر خلیجی تعاون کونسل نے اجتماعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر باہمی دفاعی معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کا دباؤ آئے گا۔ سعودی عرب اور امارات نے "سرخ لکیر" کی بات کی ہے۔ ایران کا بنیادی خطرہ فضائی ہے، ڈرون اور میزائل، اور یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان مدد کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہو گا کہ پاکستان جنگ کا فریق بن جائے۔ اور یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔"

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے: پاکستان ایران کے خلاف کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن واضح کرنا اور حقیقت میں نہ لینا دو الگ باتیں ہیں۔ جب دباؤ بڑھتا ہے تو واضح لائنیں دھندلی ہو جاتی ہیں۔
ابھی دن اہم ہے۔ چوبیس دن کی بمباری کے بعد پہلی بار ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پانچ دن کی مہلت، چھوٹی سی، مگر کھلی ہے۔

ٹرمپ نے سی این این کو بتایا: "آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔" کہا کہ وہ آبنائے پر مشترکہ امریکی ایرانی کنٹرول دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تجویز اتنی حیران کن ہے کہ کسی نے سنجیدگی سے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن ٹرمپ نے کہی ہے۔

اصل سوال یہ ہے: کیا یہ پانچ دن کافی ہیں؟
ایران کا لہجہ دیکھو تو نہیں لگتا۔ قالیباف نے واضح کر دیا ہے۔ دفاعی کونسل نے بارودی سرنگوں کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیل تہران پر بمباری بند نہیں کر رہا۔ خلیجی ممالک جنھوں نے جنگ کی مخالفت کی تھی اب کہہ رہے ہیں کہ جنگ بندی سے پہلے ایرانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ضروری ہے۔
مگر ایک فون ہے جو راولپنڈی سے واشنگٹن گیا ہے۔
اور ایک ملک ہے جو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ شنید ہے کہ امریکی نائب صدر اسلام آباد آکر مزاکرات میں شامل ہوگا.
ابھی دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور تل ابیب پر ہیں۔
پنڈی والے افغانستان والےجوئے کے بعد شاید پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیل رہے ہیں. ٹرمپ اور ایران اور عربوں کے درمیان پڑنا شیر پر سواری کے مترادف ہے. اقوام متحدہ عضو معطل بن چکی ہے. غزہ پیس بورڈ کا پلیٹ فارم استعمال ہو سکتا ہے. تاہم زرا سا توازن درہم برہم ہوا تو کچھ بڑوں کے سر لڑھک سکتے ہیں. اللہ کرے پاکستان اس میں سرخرو ٹھہرے.

اگلے پانچ دن بتائیں گے کہ یہ فون تاریخ بدلتا ہے یا تاریخ کا حاشیہ بن کر رہ جاتا ہے۔

جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے 127 مقامات سے نمونے اکٹھے کرنے کے بعد ذخائر ملنے کی تصدیق کردی ہے۔https://www.dawnnews.tv/n...
14/01/2025

جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے 127 مقامات سے نمونے اکٹھے کرنے کے بعد ذخائر ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

https://www.dawnnews.tv/news/1250700/

چند احتیاطیں سندھ والوں کے لیے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تمام وہ حضرات جو اس وقت اس کے اطراف میں خصوصا سندھ کے علاقوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ دریا اور یہ سونے کے ذخائر ہے تقریبا اٹک کے قریب قریب ہیں تو وہاں کے اور خصوصا سندھ پٹی جو ایسی زد میں اتا ہے ان کے لیے خصوصی پیغام شیئر کیا جا رہا ہے کہ جس طرح کے حالات ہم نے خیبر پختون خواہ کے دیکھے ہیں یقینا ہر کوئی جانتا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں اس طرح کے حالات کیوں پیدا کیے گئے کیونکہ اللہ تعالی نے وہاں پر قدرتی معدنیات سے ان بستیوں کو مالامال کیا ہے اور اسی طرح بلوچستان کے پہاڑی علاقے جن کو اللہ تبارک و تعالی نے بے تحاشہ نعمتیں دی ہیں اور بے تحاشا قدرتی ذخائر عطا کیے ہیں لیکن کچھ شر پسند لوگوں کی وجہ سے جو پاکستان کی بقا کی بجائے اپنے جیبوں کو گرم کرنے کی خاطر ان علاقوں میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں اور پھر دہشت گردی کو ہٹانے کے نام پر ان لوگوں کو محروم کیا جاتا ہے جو وہاں پر رہتے ہیں جس طرح ہم سوئی گیس کو دیکھیں اور سوئی گیس کے حوالے سے جس طرح بلوچستان کے حالات اج سے 10 سال پہلے ہم دیکھیں تو کس قدر بھیانک تھے ہائے روز بم دھما کے کیے جا رہے تھے اور پھر سیکیورٹی کے نام پر جس طرح بلوچستان میں حالات کشیدہ کیے گئے اور اج تک بلوچستان والوں کو محروم رکھا جا رہا ہے اور اسی طرح خیبر پختون خواہ والے بھی اس زد میں ا چکے ہیں تو ہم سندھ والے لوگوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ خدارا اپ عزت منائیں جس قدر ہو سکے ان علاقوں سے نکل جائیں کہیں دہشت گردی کی زد میں اپ نہ ا جائیں اور پھر دہشت گردی کو ہٹانے کے نام پر اپ کو ہی دہشت گرد قرار دیا جائے گا کیونکہ ان لوگوں کا مقصد پاکستان کی بھلائی نہیں بلکہ یہاں کے ذخائر کو نکال کر اپنی جیبیں گرم کرنی ہوتی ہیں۔

32 کلو میٹر کی پٹی پر 28 لاکھ تولہ سونا موجود، جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے بھی ذخائر کی تصدیق کردی، سابق صوبائی وزیر ابراہیم حسن رند کا سوشل میڈیا پر بیان

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں جنگلات میں آگ لگنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے- ایسا ہزاروں سالوں سے ہوتا آیا ہے- عام طور...
11/01/2025

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں جنگلات میں آگ لگنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے- ایسا ہزاروں سالوں سے ہوتا آیا ہے- عام طور پر جنگلات کی آگ بجلی گرنے سے شروع ہوتی ہے اور آناً فاناً کئی سو سے کئی ہزار ایکٹر رقبے پر پھیل جاتی ہے- سردیوں میں اکثر جھاڑیاں اور گھاس پھونس سوکھ جاتا ہے اور بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے- پچھلے کئی سالوں سے کیلیفورنیا اور نواحی ریاستوں میں خشک سالی بھی چل رہی ہے جس وجہ سے درخت اور جھاڑیاں انتہائی خشک ہیں جو جلد آگ پکڑ لیتی ہیں- خصوصی طور پر موجودہ سردیوں میں اس علاقے میں بالکل بارش نہیں ہوئی- اس کے علاوہ اس موسم میں اس علاقے میں سانتا اینا ہوائیں چلتی ہیں جو خشکی سے سمندر کی طرف چلتی ہیں کیونکہ سردی کی وجہ سے خشکی پر درجہ حرارت سمندر کی نسبت کم ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہوا سکڑتی ہے تو اس کا پریشر بھی خشکی پر سمندر کی نسبت زیادہ ہوتا ہے- کیلیوفورنیا کا بہت بڑا علاقہ صحرا ہے جس میں نمی بہت کم ہوتی ہے- سردی سے ہوا میں نمی مزید کم ہو جاتی ہے- گویا سردیوں میں کیلیفورنیا کے میدانی علاقوں میں ہوا کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے اور ہوا میں نمی بہت کم ہوتی ہے- چونکہ سمندر پر درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے اور گرم ہوا کا پریشر کم ہوتا ہے، اس لیے سردیوں میں ہوا ان صحرائی علاقوں سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے- یہ ہوا انتہائی خشک بھی ہوتی ہے-

یہ تمام تو فطری عوامل ہیں جو ہزاروں لاکھوں سالوں سے موجود رہے ہیں اور ان کی وجہ سے ہر سال کیلیفورنیا کے جنگلوں میں آگ لگتی ہے جو کئی ہزار ایکٹر زمین پر جنگلات کو جلا دیتی ہے- ان میں اگر وہ عوامل بھی شامل کریں جو انسان کی وجہ سے ہیں تو مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے- گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہواؤں کا درجہ حرارت زیادہ رہنے لگا ہے جس وجہ سے ہواؤں کے جھکڑوں کی رفتار بھی زیادہ ہو گئی ہے- جن علاقوں میں پہلے جنگل تھے وہاں اب انتہائی گنجان شہر آباد ہو چکے ہیں- ان شہروں میں اکثر گھروں کا سٹرکچر لکڑیوں کا بنا ہوتا ہے اس لیے یہ بہت جلد آگ پکڑتے ہیں- برسوں کی خشک سالی کی وجہ سے کیلیفورنیا کی جھیلوں اور زیر آب پانی کے لیول (یعنی واٹر ٹیبل) میں مسلسل کمی آ رہی ہے جس سے درخت مزید سوکھ رہے ہیں اور آگ بجھانے کے لیے میسر پانی بھی کم ہو رہا ہے- تیز ہواؤں سے خشک درخت ٹوٹ کر بجلی کی تاروں پر گرتے ہیں تو تاروں کو شارٹ سرکٹ کر دیتے ہیں یا تاروں کو زمین پر گرا دیتے ہیں جس سے سپارکنگ ہوتی ہے- اکثر یہ سپارکنگ آگ کا آغاز ہوتی ہے-

اس بار چونکہ ہوائیں بہت ہی تیز ہیں اس لیے اس دفعہ آگ بہت ہی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے- پانی کی کمی کی وجہ سے فائر برگیڈ کے عملے کو پانی نہیں مل رہا- چونکہ زیادہ تر امیر لوگ ساحل کے پاس رہنا چاہتے ہیں اس لیے ساحل کے پاس آبادی بہت گنجان ہے اور آگ اسی جانب بڑھ رہی ہے- کئی نواحی علاقے پہلے سے آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور سینکڑوں گھر نذر آتش ہو چکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف جانے کی ہدایت کی جا رہی ہے- فی الحال آگ کو کنٹرول میں لانا مشکل نظر آ رہا ہے-

بہت سے لوگوں کے خیال کے برعکس امریکہ کے پاس لامحدود وسائل نہیں ہیں- امریکہ کا انفراسٹرکچر بہت پرانا ہے اور ماضی کی حکومتیں انفراسٹرکچر کو اپڈیٹ کرنے میں ناکام رہی ہیں- اس وجہ سے حکام کو آگ پر کنٹرول کرنے میں بہت سی ایسی مشکلات بھی پیش آ رہی ہیں جو اصولاً ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہونی چاہییں- فنڈز کی کمی کی وجہ سے ہنگامی حالات اور بڑے پیمانے پر آگ سے نمٹنے کے لیے جو سازوسامان درکار ہے کارکنوں کے پاس وہ ساز و سامان نہیں ہے- ایسی بڑی آگ عموماً اس وقت کنٹرول میں آتی ہے جب اسے جلنے کے لیے مزید میٹیریل نہ ملے- جنگلات میں آگ کے گرد ایک پٹی میں جنگلات کو صاف کر کے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے لیکن شہری علاقوں میں ایسی حفاظتی پٹی تشکیل دینا ممکن نہیں ہے
~تحریر قدیر قریشی

جاپانی کی ایک ریسرچ اینڈ مینیو فیکچرنگ کمپنی آنے والے چند برسوں میں انسانی واشنگ مشین متعارف کراۓ گی۔اوساکا میں قائم شاو...
30/11/2024

جاپانی کی ایک ریسرچ اینڈ مینیو فیکچرنگ کمپنی آنے والے چند برسوں میں انسانی واشنگ مشین متعارف کراۓ گی۔

اوساکا میں قائم شاور ہیڈ میکر سائنس کمپنی نے ایک نئی اور جدید ترین واشنگ مشین تیار کی ہے جو صرف انسانوں کے لئے ہو گی اس جدید مشین کا نام ہیومن واشنگ مشین آف دی فیوچر رکھا گیا ہے۔

پانی کی تلاش کے لئے تین ارب کلو میٹر کا سفر کیوں ؟ناسا 10 اکتوبر کو پانی کی تلاش کے لئے اپنا ایک سائنسی مشن طویل سفر پر ...
24/09/2024

پانی کی تلاش کے لئے تین ارب کلو میٹر کا سفر کیوں ؟

ناسا 10 اکتوبر کو پانی کی تلاش کے لئے اپنا ایک سائنسی مشن طویل سفر پر روانہ کر رہا ہے۔
زمین کے باہر پانی کی تلاش میں ناسا کا ایک بڑا راکٹ مشتری کے چاند یوروپا کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔
یہ راکٹ 6 سال کے سفر کے بعد اپریل 2030 مین اپنی منزل پر پہنچے گا۔
یوروپا زمین کے چاند سے قدرے چھوٹا ہے لیکن سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق وہاں زمین کے تمام سمندروں سے دگنا پانی موجود ہے۔
پانی کی موچودگی سے وہاں کسی شکل میں زندگی کی موجودگی کو تقویت ملتی ہے۔ اگر وہاں زندگی کے آثار دریافت ہوۓ تو یہ ناسا کے سائنسدانوں کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
اس سفر کے دوران راکٹ 13 ارب کلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گا۔

09/06/2024

GAZA ceasefire ❗

چندریان 3 کافی وقت زمین اور چاند کے مدار میں گردش کرنے کے بعد بدھ کی شام 5 بجے چاند کی سطح پر لینڈ کرگیا۔۔فیول کی بچت کے...
24/08/2023

چندریان 3 کافی وقت زمین اور چاند کے مدار میں گردش کرنے کے بعد بدھ کی شام 5 بجے چاند کی سطح پر لینڈ کرگیا۔۔
فیول کی بچت کے علاوہ درست طریقہ اسی طرح ہی چنا گیا کہ مدار میں گھما کر اسکی سپیڈ کو کم کرکے آسانی سے لینڈ کو ممکن بنایا جائے سو کامیابی مل گئی۔
یاد رہے کہ اسکی لینڈنگ کے کُچھ دن پہلے روسی خلائی چاند گاڑی اسکے برعکس سفر کرکے چاند پر اترنے کی کوشش میں چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔۔

Address

Jhatpat

Telephone

+923098594652

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ToufiQ ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to ToufiQ ahmad:

Shortcuts

Share

Category