جنگ عظیم دوم کے دوران ستمبر سنہ 1941 میں اکیس سالہ نوجوان رضا شاہ پہلوی ایران کا تخت سنبھالتا ہے۔ اس کے والد نے شاہِ ایران کے طور پر جنگ عظیم میں ڈھکے چھُپے ہٹلر کے ساتھ پیغام رسانی کی تھی۔ گو کہ اس نے کھُلے عام ہٹلر کے لیے کسی جذبات کا اظہار نہیں کیا تھا مگر اتحادیوں کی نظر میں وہ مشکوک ہو چکا تھا۔امریکا اور برطانیہ کا ماننا تھا کہ وہ نازیوں کے لیے ہمدردی رکھتا ہے۔ جب جرمنی نے روس پر حملہ کر دیا تو عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔ اتحادیوں کو روس کی مدد کرنا تھی تاکہ وہ ہٹلر کو شکست دے سکے۔ اس مقصد کے لیے سٹالن کی اسلحہ جاتی مدد کے لیے ایران خاص مقام حاصل کر گیا۔ ایرانی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے سٹالن کو مدد پہنچانا ضروری ہو گیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے شاہ ایران کو تخت سے اُتارنا ضروری تھا۔
اتحادیوں نے شاہ کو استعفیٰ پر مجبور کیا۔ شاہ کے ہاتھوں اقتدار گیا اور باگھ ڈور اس کے بیٹے نوجوان رضا شاہ پہلوی کے ہاتھ آ گئی۔ شاہ اقتدار سے رخصت ہو کر جنوبی افریقہ جلاوطن ہوا اور وہیں اس کی موت واقع ہوئی۔ ایران کے تخت پر اس کا بیٹا بیٹھ چکا تھا۔ نیا شاہ امریکا کا زبردست اتحادی تھا۔ امریکا کو ایران کی شکل میں تیل کے ذخائر نظر آ رہے تھے۔ جنگ سے نکلنے کے بعد امریکا اور یورپ کو خام تیل کی اشد ضرورت پڑنے والی تھی۔ رضا شاہ پہلوی کا اقتدار مضبوط بنانے کے لیے اس کا پہلا نکاح مصری شاہی خاندان میں طے ہوا۔ مصر کی شہزادی ایران کی ملکہ بن گئی۔
سنہ 1902 میں تہران سے تین سو کلومیٹر دور خمین نامی ایک چھوٹے سے قصبے کے مذہبی گھرانے میں روح اللہ مصطفوی نامی ایک بچہ پیدا ہوا جو بعد میں آیت اللہ خمینی کے نام سے جانے گئے۔ خمینی صاحب کے والد کی موت پراسرار حالات میں تب ہو گئی تھی جب ان کی عمر پانچ سال تھی۔ بعدازاں اپنے والد کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے خمینی صاحب نے اس کا الزام شاہ کے والد پر لگایا۔ خمینی صاحب غریب گھرانے میں پیدا ہوئے البتہ ان کی خالہ قدرے آسودہ حال تھیں۔ خالہ نے ان کی تعلیم کا خرچ اُٹھایا اور ان کو مذہبی تعلیم دلانے کے واسطے حوزہ میں بھیج دیا گیا۔ سنہ 1941 میں جب رضا شاہ تخت پر بیٹھا اس وقت خمینی صاحب 39 سالہ مذہبی شخصیت تھے لیکن عوام میں مقبول عام نہیں تھے۔ شاہ ایران کی حکومت کے خلاف وہ خطبات دیا کرتے تھے جن میں وہ حکومت کو غیر اسلامی حکومت قرار دیتے۔ رفتہ رفتہ خمینی صاحب نے اپنے فالورز کی مدد سے “فدائین اسلام” نامی ایک تنظیم بنا لی جس کا مقصد شاہ کے خلاف آواز اُٹھانا اور ایران میں شرعی حکومت کا قیام تھا۔
رضا شاہ ایران کو سیکولر ریاست بنانا چاہتا تھا۔ اس کی ترجیحات میں ایران کو یورپ کے مساوی ترقی دینا تھا اور اس مقصد کے لئے وہ سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام کو لبرل یا آزاد خیال ہونا ہو گا۔ اس نے ایران میں عورتوں کے حجاب یا پردہ پر پابندی عائد کر دی۔ اس فیصلے نے مذہبی طبقے میں غم و غصہ پیدا کیا تو وہیں ایران کے اندر ایک سیاسی پارٹی پرزور عوامی حمایت سے اُبھرنے لگی تھی۔ ایرانی عوام کی اکثریت شیعہ تھی لیکن کمیونسٹ خیالات کی حامی کمیونسٹ تودہ پارٹی ایران میں مقبول ہو رہی تھی۔ اس کی مقبولیت کی بنیادی وجوہات میں آمریت یا بادشاہت سے نجات دلا کر ایران کو عوامی ریاست یا ریپبلک بنانا تھا۔ کمیونسٹ تودہ پارٹی کی سرگرمیوں اور احتجاجوں سے گھبرا کر شاہ نے پارٹی پر پابندی عائد کر دی۔
کمیونسٹ تودہ پارٹی کے بعد نیشنل فرنٹ آف ایران سامنے آیا۔ اس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور محمد مصدق ایران کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ مصدق نے وزیراعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری سے شاہ کے اختیارات کو محدود کرنا شروع کیا۔ اس نے آئیل ریفائنریز کو قومیا لیا اور شاہ کو رسمی بادشاہ بنا کر رکھ دیا۔ تیل کو قومیانے کے بعد ایران سے بڑے پیمانے پر برطانوی اور امریکی انجینئیرز کا انخلا شروع ہو گیا جو ایرانی ریفائنریز کو چلانے وہاں موجود تھے۔ اب ایرانی تیل پیداوار حکومت ایران نے سنبھال لی تھی۔ اس صورتحال نے ایران میں معاشی بحران کو جنم دیا تو وہیں رضا شاہ کو عوامی مزاج سے ڈر لگ گیا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ رسمی شاہ بن چکا ہے اور عوام دن بہ دن اس کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکا اور برطانیہ کا دشمن نمبر ون محمد مصدق بن چکا تھا۔ رضا شاہ اپنے اہل و عیال سمیت ایران سے فرار ہو کر فرانس چلا گیا۔
ایران میں رضا شاہ پہلوی کو دوبارہ مظبوط کرنے کے لیے سی آئی اے نے مشن شروع کیا اور ایجنٹ کریمٹ روز ویلٹ نے ایران میں لینڈ کیا ، پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی مصدق جو ایرانیوں کی آنکھوں کا تارا تھا گلیوں میں ذلیل ہوا ۔ مرگ بر مصدق کے نعرے لگے اور چھ ماہ میں اس کا اقتدار انجام کو پہنچا۔سی آئی اے نے اس مشن پر پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ مصدق کو اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ تین سال اسے قید تنہائی میں رکھا گیا۔ پھر اس کو کینسر کی تشخیص ہونے پر اس کے گھر ہاؤس اریسٹ کر دیا گیا جہاں وہ سنہ 1967 تک اپنی موت تک رہا۔ مصدق کے گرفتار ہونے کے بعد رضا شاہ پہلوی واپس ایران پہنچا اور حکومت سنبھال لی۔ اب اس کے مقابل کوئی نہیں تھا۔ میدان صاف ہو چکا تھا ۔
مگر وہیں خمینی صاحب کو سیاسی حالات عروج دے رہے تھے۔ ان کی آواز پر عوام کان دھرنے لگی تھی۔ فدائین اسلام نامی تنظیم تہران میں شاہی گارڈز پر حملے بھی کرنے لگی تھی۔ مصدق کے بعد شاہ مطلق العنان حاکم بن چکا تھا۔ اس کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ سارے ایران میں صرف ایک ہی آواز اس کے خلاف تھی۔ وہ خمینی صاحب کی آواز تھی۔
جمی کارٹر امریکا کے صدر بنے تو ایران امریکا تعلقات اور زیادہ بڑھ گئے۔ امریکا کی تاریخ میں ایران پہلا ملک ثابت ہوا جسے امریکا نے اس کی مرضی کا اسلحہ خریدنے کی اجازت دے دی تھی۔ یعنی وہ اسلحہ بھی جو امریکا کسی کو نہیں دیتا تھا۔ جمی کارٹر کی انتظامیہ یہ چاہتی تھی کہ آئندہ کسی قسم کی شورش کو روکنے کے لئے ایرانی فوج کھڑی کرنا ضروری ہے جو شاہ کی وفادار ہو اور اس مقصد کے لئے شاہ نے اس دور کے امریکی طیارے خریدے، جدید اسلحہ خریدا، دنیا کی پانچویں بڑی فوج کھڑی کر لی جو جدید ترین امریکی اسلحے سے لیس تھی۔ بدلے میں ایرانی تیل امریکا کی منڈی بن گیا۔ عرب اسرائیل جنگ میں جب عرب ریاستوں نے امریکا کو تیل بند کرنے کا اعلان کر دیا تو ایران امریکا کی معاشی شہہ رگ بن گیا۔ عرب اس کے لیے بند تھا، ایران کھُلا تھا۔ امریکی سی آئی اے نے ایران میں خفیہ ایجنسی SAVAK کی بنیاد بھی رکھی۔ ساواک کا کام شاہ ایران کے خلاف سازش کرنے والوں یا احتجاج کرنے والوں کو کچلنا تھا۔ اس کی تربیت سی آئی اے نے کی تھی۔ ساواک ایران میں دہشت کی علامت بن گئی تھی۔
خمینی صاحب کی بڑھتی ہوئی شہرت شاہ کے لیے خطرناک ہوتی جا رہی تھی۔ بلآخر ان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد مقدمہ چلا اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سزائے موت سنا دی گئی۔ لیکن بعد ازاں عوامی غصے کو دیکھتے ہوئے ان کو عراق کے شہر نجف جلاوطن کر دیا گیا۔ اس وقت خمینی صاحب کی عمر ساٹھ سال تھی۔
سنہ 1963 میں شاہ نے ایک منصوبہ “وائٹ ریولوشن” شروع کیا جس میں زمین کی اصلاحات، تعلیم، خواتین کے حقوق اور شہری ترقی شامل تھی۔ تیل کی فروخت نے اس پروگرام کو مالی قوت دی۔ 1975 تک شرحِ خواندگی دگنی ہو کر 32 فیصد ہو گئی، ایک نیا متوسط طبقہ ابھرا، خواتین کو ووٹ کا حق ملا اور قوانین زیادہ سیکولر ہوتے گئے۔اگرچہ وائٹ ریولوشن سے شہری اور سیکولر طبقے کو فائدہ ہوا مگر معاشرے کے دیگر حصے اس سے ناراض تھے۔ تیز رفتار ترقی کے ساتھ مہنگائی، بدعنوانی، آمدنی میں عدم مساوات اور سماجی کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ دیہات سے شہر آنے والے مزدوروں کو جلد ہی احساس ہوا کہ وہ شاہ کی پالیسیوں سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔حکومت نے تیل کی آمدنی کا بڑا حصہ صنعت اور فوج پر خرچ کیا، جبکہ دیہی علاقوں کو نظرانداز کیا گیا۔ 1975 کے بعد جب تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو بے روزگاری اور بدعنوانی میں اضافہ ہوا اور لوگ شاہ کے خلاف کھل کر بولنے لگے۔
شاہ کی مخالفت مختلف شکلوں میں سامنے آئی۔ بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست اور مارکسسٹ گروہ شاہ کی مطلق العنانیت اور امریکی مداخلت کے خلاف متحد ہونے لگے۔ کچھ تنظیمیں فدائین خلق اور مجاہدین خلق مسلح کارروائیاں بھی کرنے لگیں۔تاہم سب سے مؤثر مخالفت مذہبی علما کی طرف سے آئی۔ وہ وائٹ ریولوشن کی سیکولر پالیسیوں، بدعنوانی، بیرونی اثرات اور شاہ کی مطلق طاقت کے خلاف تھے۔ چونکہ وہ مذہبی حیثیت رکھتے تھے اس لیے وہ SAVAK کے مکمل جبر سے کسی حد تک محفوظ رہے اور اپنے خطبات میں سیاسی پیغام دیتے رہے۔ شاہ کے خلاف صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ مختلف قوتیں اکٹھی ہو رہی تھیں۔ بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست سیاسی گروہ، مارکسسٹ تنظیمیں اور سب سے بڑھ کر مذہبی علما۔ یہ سب مختلف نظریات رکھتے تھے مگر ایک بات پر متفق تھے کہ شاہ کو جانا ہو گا۔ان سب میں سب سے مؤثر آواز خمینی صاحب کی تھی جو سنہ 1964 میں عراق جلا وطن کیے گئے اور پھر سنہ 1978 میں فرانس میں سیاسی پناہ لے لی۔ پیرس میں قیام کے دوران خمینی صاحب اپنی رہائش گاہ پر لیکچرز دیتے جو کیسٹ پر ریکارڈ ہوتا اور وہ کیسٹس ایران میں سمگل کی جاتیں۔ پھر ان کی ہزاروں کاپیاں بن جاتیں اور لوگوں میں تقسیم ہو جاتیں۔
سنہ 1978 کے آغاز تک معاشی بحران اور سیاسی بے چینی نے احتجاج کو جنم دیا۔پہلی چنگاڑی ایرانی ریاست کی 2500 سالہ تقریبات منعقد کرنے کے بعد بھڑکی۔ اس عالی شان تقریبات پر سو ملین ڈالرز پھونک ڈالے گئے۔ دنیا بھر سے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ ان کی خاطر مدارت کو عالی شان انتظامات کیے گئے اور رنگا رنگ تقریبات اور پارٹیاں منعقد کی گئیں۔ ان شاہی اخراجات کی خبر ایرانی عوام میں پھیلی تو اخراجات کے خلاف مظاہرے شروع ہونے لگے۔تہران میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلا کر متعدد لاشیں گرا دیں۔ اس کے بعد جنازے بڑے احتجاجی مظاہروں میں بدل گئے اور ایران بھر میں پھیل گئے۔ بڑے شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے، اور سنیما ریکس کا سانحہ پیش آیا جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ عوام نے اس کا الزام حکومت پر لگایا۔
احتجاج بڑھتے گئے، خاص طور پر مساجد اور تعلیمی اداروں میں۔ شاہ نے فوج کو محدود طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا مگر ردعمل غیر منظم رہا۔ کچھ وزراء اصلاحات کا مشورہ دیتے رہے جبکہ حکومت نے مفاہمتی اقدامات بھی کیے مگر وہ ناکافی ثابت ہوئے۔7 ستمبر کو مارشل لا نافذ کیا گیا مگر اگلے دن ایک لاکھ مظاہرین تہران کے جالہ اسکوائر میں جمع ہوئے جہاں فوج نے فائرنگ کر دی۔ یہ واقعہ Black Friday کے نام سے مشہور ہوا اور اس نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔
1978 کے آخر تک ملک بھر میں احتجاج جاری رہا۔ میڈیا اور ریاستی ادارے بھی اپوزیشن کے حق میں جھکنے لگے۔جنوری 1979 میں شاہ نے شاپور بختیار کو وزیر اعظم بنایا جس نے اصلاحات شروع کیں، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایرانی فوج اور خفیہ ایجنسی SAVAK کے لوگ بھی خمینی صاحب سے متاثر ہو رہے تھے۔ احتجاج خونی ہوتے جا رہے تھے۔ ایرانی مظاہرین کو اسلحہ روس نے فراہم کیا۔ روس ایران سے امریکا کا صفایا چاہتا تھا۔ بلآخر سولہ جنوری کو شاہ ایران چھوڑ کر مصر بھاگ گیا۔یکم فروری 1979 کو خمینی صاحب جلاوطنی سے واپس تہران آئے۔ دس لاکھوں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ اگلے دس روز مزید خونی ثابت ہوئے۔ شاہ کے وفادار فوجی دستے یعنی امپیریل گارڈز مظاہرین پر فائرنگ کرتے رہے۔ لیکن آخر کار 11 فروری کو فوج نے غیر جانبداری اختیار کر لی اور یوں شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ مارچ 1979 میں ریفرنڈم ہوا جس میں اکثریت نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا۔ایرانی انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست بدل دی۔ امریکا ایک اہم اتحادی کھو بیٹھا، جبکہ ایران ایک نئی نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا جس کی بنیاد مذہب اور انقلاب پر تھی۔
وہ ایرانی فوج جو امریکی تعاون سے کھڑی ہوئی آج امریکا اسے ختم کرنے کے در پے ہے، وہ خفیہ ایجنسی ساواک جو سی آئی اے نے بنائی وہ بعد ازاں انقلاب کے بعد ختم تو کر دی گئی مگر اسی کے سرکردہ لوگوں نے پاسدارانِ انقلاب کی بنیاد رکھی۔ آج ایران جہاں کھڑا ہے اس موڑ سے آگے اس کا مستقبل کیا ہو گا یہ آنے والا وقت بتا دے گا۔
Credit : Syed mehdi bukhari
https://www.facebook.com/share/1KDqMRcNq9/
Competitive Exams & GK with Sir Adnan
Online GENERAL KNOWLEDGE Preparation
📚 Daily GK, MCQs & Exam-Focused Content
🎓 Guided by GK Mentor Sir Adnan
📲 Contact for Classes & Guidance
15/03/2026
Want your school to be the top-listed School/college in Jhang?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jhang
35200