اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ

اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ

Share

اُردو ادب کے متعلق مستند معلومات بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

02/04/2025
12/09/2024

پنجاب میں اردو

اردو کی جنم بھومی کے سلسلے میں غالباََ سب سے مشہور نظریہ حافظ محمود شیرانی نے اپنی معروف تالیف پنجاب میں اردو 1928 میں پیش کیا ہے گو اس سے پانچ برس قبل نصیر الدین ہاشمی کی دکن میں اردو شائع ہو چکی تھی مگر جہاں تک نئے مباحث چھیڑنے اور لسانی نزعات کا تعلق ہے تو محمود شیرانی کی یہ کتاب لسانی تحقیقات کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک بھاری پتھر ثابت ہوئی اور لسانیات کے محل میں یہ ایسی آواز تھی جس کی بازگشت آج تک سنی جا سکتی ہے

دراصل پنجاب میں اردو کی بحث کا آغاز شیرانی سے نہیں ہوتا کیونکہ انیسویں صدی کے اواخر سے ہی اردو زبان و ادب کے سلسلے میں پنجاب کی اہمیت اور خدمات کو جتلانے اور جھٹلانے کا قضیہ شروع ہو چکا تھا اگر لسانی نقطہ نظر سے پنجاب کا جائزہ نہ بھی لیں تو ادبی لحاظ سے پنجاب کی خدمات سے انکار ناممکن ہے کیونکہ 1857 کے بعد اردو کی ترویج اور ادب کی اشاعت کا سب سے اہم مرکز پنجاب کا دل لاہور قرار پایا تھا اردو ادب کا مطالعہ کرنے پر واضح ہو جاتا ہے کہ زبان کی جنم بھومی سے قطع نظر سب سے پہلے اس نے دکن میں ترقی کے مدارج طے کیے اس کے بعد شمالی ہند میں دہلی ادب کا مرکز بنتی ہے جس کے زوال پر لکھنؤ میں ادب کا چراغ فروزاں ہوتا ہے سب سے آخر میں جب دہلی اور لکھنؤ کی حکومتیں ختم ہو گئی تو انگریزی عملداری میں لاہور نے ادب کے آبیاری ہی نہ کی بلکہ صحافت ادبی جرائد اور انجمن پنجاب جیسے اداروں کی صورت میں ادب میں طرح نو کا بھی باعث بنتا ہے چنانچہ مولانا محمد حسین آزاد ایسی قد آور علمی شخصیت سے لے کر اقبال جیسے عظیم مفکر تک علم و ادب اور تحقیق و تنقید کے شعبے میں پنجاب یا اہل پنجاب میں قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں
دہلی اور لکھنؤ کے شعرا اور اہل علم کی یہ ایک اہم ترین خصوصیت رہی ہے کہ انہوں نے اپنی زبان کے علاوہ کسی اور علاقے کی زبان کو کبھی بیت سند نہ تسلیم کیا اس لیے دہلوی اور لکھنؤ کے شعرا میں لسانی اختلافات اور عروضی مباحث جاری رہتے تھے چنانچہ ماضی میں انہوں نے دکن شعرا اور حتی کہ نظیر اکبر آبادی جیسے قادر الکلام شاعر کو بھی در خور اتنا نہ سمجھا تو بدلے حالات میں وہ پنجاب کی اردو کو بھلا کیسے تسلیم کر سکتے تھے گو دہلی اور لکھنو ثقافت کے مراکز نہ رہے تھے مگر اہل زبان تو تھے چنانچہ یہ اہل زبان اپنے علاوہ اور کسی کو بھی زبان کا اہل نہ گردانتے یوں ادبی محاذ پر چھوٹی موٹی جھڑپیں جاری رہتی ان ادبی جھگڑوں کی بنا پر اہل پنجاب نے بھی اردو پر پنجاب کا حق تسلیم کرانے کو قلمی جہاد کا آغاز کر دیا

جب نصیر الدین ہاشمی نے علامہ اقبال کو اپنی کتاب دکن میں اردو پیش کی تو اپنے خط میں اقبال نے اس کوشش کو سرہاتے ہوئے یہ بھی تحریر کیا

"غالباََ پنجاب میں بھی کچھ پرانا مصالحہ موجود ہے اگر اس کے جمع کرنے میں کسی کو کامیابی ہوگی تو مورخ اردو کے لیے نئے سوالات پیدا ہوں گے"

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

11/09/2024

برج بھاشا کی بیٹی ؟

محمد حسین آزاد کی آب حیات کا آغاز ان متنازعہ فقرات سے ہوتا ہے

" اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اردو زبان برج پاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا خاص ہندوستانی زبان ہے لیکن وہ ایسی زبان نہیں ہے کہ دنیا کے پردے پر ہندوستان کے ساتھ آئی ہو اس کی عمر 800 برس سے زیادہ کی نہیں ہے اور برج کا سبزہ زار اس کا وطن ہے "

مولانا کے اس نظریے کی بیشتر محققین نے تردید کی ہے اس ضمن میں حافظ محمود شیرانی لکھتے ہیں

" اردو زبان برج بھاشا سے نہیں نکلی کیونکہ جس زمانے میں اردو کا آغاز ہوا اس وقت تو برج پاشا خود ارتقا کی منزلیں طے کر رہی تھی
لہذا اردو اور برج بھاشا میں ماں بیٹی کا رشتہ نہیں ہو سکتا لہذا بہنوں بہنوں کا رشتہ طے ہو سکتا ہے "

باحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

09/09/2024

اردو کا آغاز کیونکہ شہنشاہ اکبر کے عہد سے کیا جا رہا ہے اس لیے اس موقع پر اس عہد کی زبان کا نمونہ درج کیا جا رہا ہے تاکہ اردو کی قدیم ترین یا پھر ابتدائی صورت کا اندازہ لگایا جا سکے عبدالرحیم جانے جانا کا ایک شعر ہے

یوں رحیم بیش ہوتے ہیں اپکاری کے رنگ
بانٹن والے کے لگے جو مہندی کا رنگ

اس کے دوروں کا مجموعہ باعنوان عبدالرحیم جان جانا مرتبہ جیکریشن چوہدری تباہ ہو چکا ہے

عبدالصمد سارم نے اپنے ایک مقالہ اردو کس طرح اور کن لوگوں میں پیدا ہوئی مطبوعہ ادبی دنیا ستمبر اکتوبر 1966 میں ایسے کئی نمونے جمع کیے ہیں چنانچہ ان کے بقول

اکبر اعظم کے عہد سے پہلے کا ایک گیت مشہور ہے

تال ہے بھوپال تال اور سب تلئی ہیں
قلعہ ہے چتوڑگڑھ اور سب گڑھی ہیں
رانی ہے کملا پتی اور سب گدھئ ہیں

اکبر اعظم کے عہد 1605 میں ایک بھاٹ نے یہ کبت بنائی تھی

تنور بڑے کیواڑ کے اسبوادے کے گوڑ
بن بڑا نہور کا بھیم سنگھ سر توڑ

اکبر اعظم کے مصاحب راجہ بیربر نے مال پوے کی پہیلی بنائی تھی

گھی میں غرق سواد میں میٹھا
بن بیلن وہ بیلا ہے
کہیں بیربر سنیں اکبر
یہ بھی ایک پہیلا ہے

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

09/09/2024

میر امن کا یہ طویل اقتباس اس وجہ سے درج کیا گیا کہ اس سے ملتے جلتے خیال کا اظہار انشاء نے بھی دریائے لطافت میں کیا تھا یہی نہیں بلکہ مغربی ماہرین میں سے گارساں دتاسی سر چارلس لائل گریر سن اور جان بیمز وغیرہ سبھی نے مغل حکومت میں اور وہ بھی بالاعموم شہنشاہ اکبر کے عہد سے اس کا آغاز تسلیم کیا ہے ان تمام ماہرین کے بموجب مغل پرچم تلے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگ اور خاص طور سے فوجی جب اردو میں جمع ہو کر اکٹھے رہنے پر مجبور ہوئے تو روزمرہ کے میل ملاپ سماجی روابط اور عام بول چال میں طرح طرح کے الفاظ کی آمیزش سے ایک کام چلاؤ قسم کی بولی نے جنم لیا جس نے بعد اذاں ترقی پذیر ہو کر عربی فارسی الفاظ کی آمیزش سے اپنے دامن میں وسعت پیدا کی اور بالآخر ادبی تخلیقات کی جوت سے زبان کا نام پایا بالفظ دیگر کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا والی بات ہو جاتی ہے چنانچہ سر چارلس لائل نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا

" اردو شمالی ہندوستانی کی وہ بولی ہے جس نے عہد اکبری کے اردو بازار میں مختلف زبانوں کی آمیزش سے جنم لیا دراصل یہ لشکر کی زبان تھی "

اور گارساں دتاسی کے بقول

" ہندوستانی زبانوں کا آغاز گیارہویں صدی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے میل جول کے بعد ہوا اس لیے اسے ہندوی کہا گیا ہم اس زبان کو نام خواہ کچھ بھی دیں ہندوستانی ہندوی اور ہندی میں قواعد کا زیادہ فرق نہیں ہندوستانی دراصل مسلمانوں کی زبان ہے اس زبان کی دو شاخیں ہیں ایک اردو یا زبان اردو جسے ہم لشکری کہہ سکتے ہیں"

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

09/09/2024

اردو اور اردو کا بازار

میر امن لسانیات کے ماہر نہیں مگر انہوں نے باغ و بہار کے دیباچہ میں اردو کے آغاز اور تشکیل کے بارے میں جو کچھ لکھا اس سے کئی اور ماہرین بھی متفق نظر آتے ہیں ان کے بقول

"حقیقت اردو زبان کی بزرگوں کے منہ سے یوں سنی ہے کہ دلی شہر ہندوؤں کے نزدیک چو جگی ہے انہی کے راجہ پرجہ قدیم سے وہاں رہتے تھے اور اپنی اپنی بھاکا بولتے تھے ہزار برس سے مسلمانوں کا عمل ہوا سلطان محمود غزنوی آیا پھر غوری اور لودھی بادشاہ ہوئے اس آمد و رفت کے باعث کچھ زبانوں نے ہندو مسلمانوں کی آمیزش پائی آخر تیمور نے جن کے گھرانے میں اب تک نام نہاد سلطنت کا چلا آتا ہے ہندوستان کو لیا ان کے آنے اور رہنے سے لشکر کا بازار شہر میں داخل ہوا اس واسطے شہر کا بازار اردو کہلایا پھر ہمایوں بادشاہ پٹھانوں کے ہاتھ سے حیران ہو کر ولایت گئے آخر وہاں سے ان کر پسماندوں کو گوشمالی دی کوئی مفسد باقی نہ رہا کہ فتنہ و فساد برپا کرے جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے سب قوم قدردانی اور فیض رسانی اس خاندان لاثانی کی سن کر حضور میں آ کر جمع ہوئے لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جدی جدی تھی اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین سودا سلف سوال و جواب کرتے ایک زبان اردو کی مقرر ہوئی"

با حوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

08/09/2024

اردو کے علاقائی نام

اردو کے ناموں کے سلسلے میں بیشتر محققین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ مختلف صوبوں اور علاقوں کی رعایت سے اردو دکنی گوجری پنجابی وغیرہ بھی کہلاتی رہی جیسا کہ شیخ بہاؤدین باجن وفات 912 ہجری نے اپنے کلام کو زبان دہلوی کہا تھا چنانچہ مولوی عبدالحق کے بقول

یہ زبان یعنی اردو دکن میں ائی اور اس میں دکنی الفاظ اور لہجہ داخل ہوا تو دکنی کہلائی اور گجرات میں پہنچی تو اس خصوصیت کی وجہ سے گوجری اور گجراتی کہی جانے لگی

اور حافظ محمود شیرانی نے یوں لکھا

ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ اہالی دکن نے اردو کا نام دکنی رکھا اہالی گجرات نے اس کا نام گجراتی یا گوجری رکھ دیا لطف یہ ہے کہ خود ان ممالک کے باشندے اس کو ان ناموں سے پکارتے رہے پنجاب میں اردو ص 61

اسی طرح ڈاکٹر شوکت سبزواری بھی اردو کے دہلوی گوجروی یا گوجری اور دکنی نام گنوانے کے بعد اردو زبان کا ارتقا میں لکھتے ہیں

یہ نام اردو کو ان مقامات کے تعلق سے دیے گئے جہاں اول اول اردو کو فروغ ملا ص 94 93

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

08/09/2024

ہندوستانی

عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ انگریزوں نے اردو کے لیے ہندوستانی کا لفظ مروج کیا تھا مثلا اویس احمد ادیب کے بموجب 1887 میں جون گل کرسٹ نے یہ لفظ وضع کیا تھا تنقیدی مطالعہ ص 238 لیکن یہ درست نہیں کیونکہ عبدالحمید لاہوری کے بادشاہ نامہ تاریخ فرشتہ اور ملا وجی کی سب رس وغیرہ میں ملکی زبان کو ہندوستانی کہا گیا ہے بلکہ سب رس کی ابتدا ہی یوں ہے

آغاز داستان با زبان ہندوستان

اس نے بعض مواقع پر اسے قول ہند بھی کہا ہے البتہ یہ حقیقت ہے کہ ہندوی وغیرہ کے مقابلے میں قدیم دور میں ہندوستانی نام نہ چل سکا جب انگریزوں اور دیگر یورپین اقوام کی ہندوستان اور اس کی زبان سے دلچسپی کا آغاز ہوا تو انہوں نے اسے مغربی مزاج کے مطابق اسے ہندوستانی اور لٹرل ہندوستانی یعنی ہندوستانی بولی اور ادبی ہندوستانی کہا اسی طرح لٹری فریر اور فیلن وغیرہ نے بھی اسے ہندوستانی لکھا چنانچہ فیلن کی گرائمر کا نام ہندوستانی گرائمر ہے ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر گل کرسٹ فرانسیسی مستشرق گارساں دتاسی اور انگریز مستشرق ڈنکن فاربس بھی اسے یہی لکھتے ہیں چنانچہ ڈاکٹر گل کرسٹ نے قصص ہند کے دیباچے میں لکھا

میں نے ہندوستانی کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ ایسی زبان ہے جس میں ہندی عربی اور فارسی کی آمیزش برابر تناسب سے ہو

واضح رہے کہ اس دور میں میر امن وغیرہ انگریزوں سے تعلق کے باوجود بھی اسے اردو کی زبان ہی کہتے ہیں با الفاظ دیگر ہندوستانی نام انگریزوں اور ان کی کتب تک محدود رہا اور عوام یا اہل قلم حسب سابق اسے اردو ہی کہتے ہیں بعض اوقات اسے مورز بھی کہا گیا مور دراصل ہسپانیہ کے مسلمانوں کو کہا جاتا تھا انگریزوں کے وقت تک کیونکہ اردو میں عربی اور فارسی کے کافی الفاظ شامل ہو چکے تھے اس لیے نو وارد یورپین افراد نے اسے صرف مسلمانوں کی زبان تصور کرتے ہوئے مورز کہا یعنی مسلمانوں کی زبان بعض اوقات یوں بھی لکھا گیا مایور علاوہ ازیں یورپین نے اسے ہندوستانی ہندوستان کی ہندوستانی کا اور ہندوستانی بھی کہا
جب کانگرس ہندی اردو کا مسئلہ کھڑا کر کے منافقت کے بیچ بو چکی تو گاندھی جی نے سیاسی مصلحت کی بنا پر زبان کا جھگڑا ختم کرنے کے لیے 1935 میں بھارتیہ ساتھیہ پریشد کی سالانہ کانفرنس منعقدہ ناگپور میں اردو کے لیے ایک نیا نام ہندی ہندوستانی ایجاد کر دیا گاندھی جی کی توقع تھی کہ یوں فوراََ تمام لسانی مباحث اور تعصب پر مبنی جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور یہ زبان راشٹر بھاشا یعنی تمام ملک کی واحد زبان بن جائے گی لیکن ہندو اکثریت کے ذہن میں جو یہ خیال جڑ پکڑ کر چکا تھا اور دوسرے مسلمانوں کی زبان ہے اس کی وجہ سے وہ محض ایک ناموس نام اپنا کر سنسکرت نما ہندی کو تج کر کے اردو نہ قبول کر سکتے تھے حالانکہ پڑھے لکھے اور غیر معتصب ہندوؤں نے ہمیشہ یہی کہا کہ یہ محض مسلمانوں کی نہیں بلکہ اہل ہند کی زبان ہے حتی کہ پنڈت جواہر لال نہرو اسی کے قائل ہیں بقول ان کے

اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دینا بے معنی بات ہے اردو سرزمین ہند میں پیدا ہوئی ہے باحوالہ اردو زبان اور ہندو از ناظم سیوہاروی ص 100

با حوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

08/09/2024

اردو کی پہلی نثری تصنیف

ویسے محققین میں اس امر پر بھی اختلاف رائے ملتا ہے کہ سب سے پہلی نثری تصنیف کس کی ہے محمد حسین آزاد آب حیات اور بعد اذاں ان کی پیروی میں محمد یحیی تنہا سیر المصنفین اور عبدالحئی گل رعنا نے فضلی کی دہ مجلس یا کربل کتھا کو اردو کی پہلی نثری تصنیف قرار دیا فضلی محمد شاہ کے عہد 1145 ہجری میں تھا ان کے بعد مولوی عبدالحق اور ان کے ہمنوائی میں پروفیسر احسن مار ہروی منشورات نے خواجہ بندہ نواز وفات 825 ہجری کی معراج العاشقین کو پہلی نثری تالیف ثابت کیا حکیم شمس اللہ قادری اردو قدیم اور ڈاکٹر محی الدین قادری زور شیخ این الدین گنج عالم متوفی 799 عیسوی کے رسالوں کو اولیت دیتے ہیں ان کے بعد مولانا حامد حسین قادری آتے ہیں ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ نے اپنے تحقیقی مقالہ اردو نثر کا آغاز و ارتقا میں مزید شواہد کی بنا پر اس بحث میں ایک نئے نام کا اضافہ کیا ہے ان کے بموجب رسالہ جنونیہ نصر کی قدیم ترین کتاب ہے یہ بیجا پور کے سرکاری عجائب گھر میں محفوظ ہے اس کے ساتھ دو اور منظوم رسالے پند نامہ اور چگی نامہ بھی منسلک ہیں رسالہ جنونیہ میں اردو معقولوں کی تشریح فارسی میں کی گئی ہے

مصنفہ کے بقول رسالے کی زبان اس کے اسلوب جملوں کی وضع اور بندش سے بھی یہی پایا جاتا ہے کہ یہ آٹھویں صدی ہجری کے اواخر کی تصنیف ہے اس رسالے کا موضوع بھی اردو کے ابتدائے رسالوں کی طرح جو اب دستیاب ہوئے اخلاق اور تصوف کے نقات پر مشتمل ہے مصنفہ نے رسالہ جنونیہ کی تاریخ 795 ہجری قرار دے کر اسے تمام رسالوں پر بالحاظ قدامت فوقیت دی ہے

با حوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

07/09/2024

محققین کی اکثریت نے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا چنانچہ عبد سمد سارم کے بقول

یہ امر قطعی طور پر ثابت ہے کہ جس پر اردو کے کسی محقق کی نظر نہیں گئی پہلا شاعر گیان ناتھ ناگوری 613 ہجری ہے جس کے بعد بابا فرید شکرگنج پنجاب متوفی 664 ہجری دکن میں پہلا شاعر نام دیو ہے اس کے بعد خواجہ گیسو دراز 835 ہجری ہے

مولانا حامد حسن قادری کے مطابق شمالی ہند میں اردو کی سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی کا تصوف اور اخلاق پر 1308 کا تحریر کردہ رسالہ ہے یہ قلمی ہے اس کے 207 صفات ہیں ان کے بقول

سید اشرف جہانگیر کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑھنے سے پہلے شمالی ہند میں امیر خسرو اور سید اشرف جہانگیر نے نظم و نثر کی بنیاد ڈالی

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

07/09/2024

اردو کا پہلا ادیب

حافظ محمود شیرانی کی تحقیقات کے مطابق نثر میں سب سے پہلے محمد عطا حسین خان تحسین نے نو طرز مرصع اور نظم میں لاہور کے مراد شاہ لاہوری نے لفظ اردو با معنی زبان کے استعمال کیا بعد میں انہوں نے مصحفی کے شعر کو شاہ مراد پر اولیت دی
یہ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں نے قصہ چہار درویش کے تراجم میں لفظ اردو استعمال کیا حافظ محمود نے اس سلسلے میں شاہ مراد کے

ان دو اشعار کا حوالہ بھی دیا ہے
یہ قصہ ہے جو چار درویش کا
اگر نظم ہو تو بہت ہے بجا
لیکن ہو اردو زبان میں بیاں
کہ بھاتی ہے ہر ایک کو یہ زباں
اب اولیت کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی سن لیجئے کہ پنڈت برج موہن دتا تریا کیفی کے خیال میں عہد شاہ جہاں کے پنڈت چندر بھان برہمن لاہوری 1073 نے سب سے پہلے اردو غزل کہی تھی ان کا ایک شعر درج ہے

پیا کے نام کی سمرن کیا چاہوں کہوں کیسے
نہ تسبیح ہے نہ سمرن ہے نہ کٹی ہے نہ مالا ہے

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

07/09/2024

اُردو تحقیق کے آئینے میں

علامہ آئی آئی قاضی نے 15 دسمبر 1938 کراچی میں منعقدہ " یوم اُردو " میں پیش کردہ خطبہ صدارت میں لفظ اُردو کے بارے میں نئے تحقیقاتی مواد کی بنا پر لفظ اُردو کو ترکی زبان کا لفظ ماننے سے انکار کر دیا وہ اس ضمن میں رقمطراز ہیں

لفظ اُردو کی ابتدا کے بارے میں عوام میں اتنی فضول باتیں مشہور ہو گئی ہیں درحقیقت یہ اُن اولین الفاظ میں سے ایک ہے جو آریہ اس خطے میں اپنے ساتھ لائے یہ ثابت کرنا آسان ہے کہ یہ لفظ اصلاً تُرکی نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عام سندھی بول چال میں " اُردو " ڈھیر یہ اشیاء کے ذخیروں اور انسانوں کے اجتماع کو کہتے ہیں اس لفظ کے یہ معنی عربوں کے سندھ میں وارد ہونے سے تین ہزار برس پہلے سے رائج ہیں تا ہم لفظ اُرد سندھ یہ ہند میں پیدا نہیں ہوا اس کی ابتدا ما قبل تاریخ کے ماضی میں ہوئی وہ لوگ جو لندالمانی (lindoze ermanic ) زبانوں سے کچھ شناسائی رکھتے ہیں اس لفظ کو سیکنڈ ینویا ایران یہ ہندوستان میں ( یہ تینوں علاقے آریاؤں کے خاص وطن تھے) بیک وقت موجود پاتے ہیں قدیم ناردک ( Nordic ) دیو مالا میں لفظ ارد یہ ارتھ ایک دیوی کہ نام ہے جو خود تقدیر ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لندالمانوی زبانوں کے بولنے والوں میں اپنے مغربی یہ مشرقی مساکن کی طرف مراجعت سے پہلے ہی یہ لفظ مستعمل تھا اگر ہم اوستا یہ قدیم فارسی زبان کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ لفظ وہاں مل جائے گا اردبل کا شہر دار اور اردشیر بادشاہ اس لفظ کے استعمال کے ثبوت ہیں جس مفہوم میں یہ لفظ مستعمل ہے اسی مفہوم میں جدید فارسی میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلا فوج کیمپ بازار وغیرہ اور ان تمام مفاہیم میں قدر مشترک واضح ہے یہ ڈھیر بھی ہے مجمع بھی مجموعہ بھی پس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لفظ ارد اریائی زبان کے قدیم ترین لفظوں میں سے ہے اور آج تک زندہ چلا آتا ہے
یعنی انسانی معاشرت کا یہی وہ لفظ ہے جو لفظ اردو کا ماخذ ہے جس کے معنی ایسے مجمع کی زبان کے ہیں جس میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں

بحوالہ ڈاکٹر سلیم اختر

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Jhang