Ataleeq Schools

Ataleeq Schools

Share

"We Are The Bright Future"
"ہم ہیں روشن مستقبل"

17/07/2025
17/01/2024

کمفرٹ زون (سہل پسندی) کیا ہے؟

کمفرٹ زون ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں آپ نئے چیلنجز قبول کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس میں رہتے ہوئے ،آپ زندگی کو بہتر بنانے یا پروفیشنل لائف میں ترقی کرنے ، آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ آپ ایک خاص لیول تک کامیابی ، اپنے مقاصد حاصل کر چکے ہوتے ہیں لیکن اگلے لیول پر جانے کی کوشش نہیں کرتے۔
کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے آپ آرام طلب اور سست ہو جاتے ہیں۔ اس میں چیزیں آپ کے لیے آسان بن چکی ہوتی ہیں۔ جو عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں زندگی بس ان کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے ۔ چیزیں آٹو پائلٹ پر ہوتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں ایک روٹین اور یکسانیت ہوتی ہے۔
کمفرٹ زون میں زیادہ عرصہ رہنا آپ کے لیے خطرناک ہے۔ یہ آپ کو اعتماد اور خوشی سے محروم کر دے گا۔ آپ کی زندگی کی کوالٹی کو نقصان پہنچائے گا۔ اس سے آپ کی صلاحیتیں ماند پڑنے لگیں گی۔ ہمیں اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہم صرف اسی وقت اچھا محسوس کریں گے جب ہمارے پاس چیلنج ہوں گے، جب ہم grow کر رہے ہوں گے۔
سیلف امپروومنٹ کے مطابق اگر آپ grow کرنا چھوڑ دیں گے ، تو آپ زوال کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں۔ grow کرنے کے لیے آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ جب آپ کوئی نیا اور مشکل کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں۔
یہ نیا کام کوئی skill یا مہارت ہو سکتی ہے جیسے پبلک سپیکنگ یا کسی نئی زبان میں مہارت حاصل کرنا۔
یہ نیا کام کوئی نئی عادت ہو سکتی ہے جیسے ٹائم مینجمنٹ سیکھنا۔
یہ نیا کا م کوئی رویہ ہو سکتا ہے جیسے دوسرے کے بارے میں اپنا تنقیدی رویہ کم کرنا یا زیادہ سوشل اور ملنسار بننا۔
کیسے پتا چلے گا کہ ہم کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھتے ہیں یا نہیں ؟ یاد رکھیں کہ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا وہ آپ کےلیے کچھ مشکل ہو گا۔
جب آپ اس کو کرنے کا سوچیں گے تو یہ آپ کو خوف سے بھر دے گا۔ اس میں رسک ہو گا کہ شاید آپ ناکام ہو جائیں گے۔ اس میں ناکامی کی صورت میں آپ کو مذاق کا نشانہ بنایا جا سکتا ہیں۔ کمفرٹ زون سے باہر جو بھی کام ہو گا اس کے لیے آپ کو اپنی ہمت جمع کرنی پڑے گی ، خود کو بار بار قائل کرنا پڑے گا۔ آپ کو سٹریس میں سے گزرنا پڑے گا۔ آپ کو خود کو stretch کرنا پڑے گا۔ خود کو بدلنا پڑے گا۔ آپ کو پورا زور لگانا پڑے گا۔ اس کے لیے آپ کو اپنا علم بڑھانا ہو گا۔ نئی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ تخلیقی صلاحیت کو جگانا پڑے گا۔
اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ سیلف امپروومنٹ کے لیے کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا سوچ رہے ہیں؟ جو آپ کے لیے چیلنج ہو۔
نئے خوابوں ، نئے منصوبوں پر کام شروع کریں۔ نئے لیول پر جانے کی تیاری کریں۔ اپنی زندگی کو جامد نہ ہونے دیں، اس میں نیا ولولہ ، نیا جوش لے کر آئیں۔
زندگی کا مزا اسی میں ہے کہ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھا جائے۔ کمفرٹ زون سے باہر ایک شاندار زندگی آپ کی منتظر ہے۔
منقول

02/01/2024

سنگاپور میں امتحانات سے قبل ایک اسکول کے پرنسپل نے بچوں کے والدین کو خط بھیجا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔۔
" محترم والدین!
آپ کے بچوں کے امتحانات جلد ہی شروع ہونے والے ہیں میں جانتا ہوں آپ سب لوگ اس چیز کو لے کر بہت بے چین ہیں کہ آپ کا بچہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے۔
لیکن یاد رکھیں یہ بچے جو امتحانات دینے لگے ہیں ان میں (مستقبل کے) آرٹسٹ بھی بیٹھے ہیں جنھیں ریاضی سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ترجمان بھی ہوں گے جنھیں انگلش ادب اور ہسٹری سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔
ان بچوں میں (مستقبل کے) موسیقار بھی بیٹھے ہوں گے جن کے لیے کیمسٹری کے کم مارکس کوئی معنی نہیں رکھتے ان سے ان کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ان بچوں میں ایتھلیٹس بھی ہو سکتے ہیں جن کے فزکس کے مارکس سے زیادہ ان کی فٹنس اہم ہے۔
لہذا اگر آپ کا بچہ زیادہ مارکس لاتا ہے تو بہت خوب لیکن اگر وہ زیادہ مارکس نہیں لا سکا تو خدارا اسکی خوداعتمادی اور اس کی عظمت اس بچے سے نہ چھین لیجئے گا۔
اگر وہ اچھے مارکس نہ لا سکیں تو انھیں حوصلہ دیجئے گا کہ کوئی بات نہیں یہ ایک چھوٹا سا امتحان ہی تھا وہ زندگی میں اس سے بھی کچھ بڑا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں!!!

26/12/2023

یہ کوئی عام تصویر نہیں...!!

بظاہر عام سی نظر آنے والی نیشنل جیوگرافک کی اِس تصویر نے ”سال کی بہترین تصویر“ کا ایوارڈ جیتا ھے.
کیوں ؟؟

تصویر کو زوم اِن کرکے دیکھیں، وجہ خُود سمجھ میں آجائے گی.

زندگی کے روز مرہ کے معاملات میں بھی ہمیں بارہا ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ھے، ہم دیکھ کُچھ اور رہے ہوتے ہیں، نظر کُچھ اور آرہا ہوتا ھے.

ہر منظر کا ایک پسِ منظر ہوتا ھے، ضروری نہیں وہ جیسا نظر آرہا ہوتا ھے حقیقت میں بھی ویسا ہی ہو.
ظاہری منظر اور پسِ منظر ایک دُوسرے سے یکسر مُختلف اور مُتضاد ہوسکتے ہیں اور اکثر ہوتے بھی ہیں.

سچ کی کھوج کے مُسافر ہر چیز کو، ہر منظر کو ” زوم اِن“ کرکے دیکھتے ہیں.

چیزوں کو ”زوم اِن“ کرکے دیکھنے کی عادت ڈالیں، اصل سچ کو دونوں بانہیں کھولے بھرپور مُسکراہٹ کے ساتھ اپنا استقبال کرتے ہوئے پائیں گے.

17/12/2023

دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا اس میں کتا سے مراد "کُتا" "dog" ہی لیا، سمجھا، اور پڑھا بھی جاتا ہے، لیکن آج نئی بات علم میں آئی تو ہماری علمیت کا جنازہ نکل گیا
‏یہ لفظ کُتا نہیں بلکہ کَتا ہے جس سے مراد کپڑے دھونے کا وہ ڈنڈا ہے جسے دھوبی ساتھ لیے پھرتا ہے۔
‏"وضاحت"
اصل لفظ کتکہ ہے جو بگڑ کر کتا بن گیا۔
پرانے وقتوں میں کپڑے گھاٹ پر دھوئے جاتے تھے اور کپڑوں کو صاف کرنے کیلئے دھوبی اک بھاری بھرکم ڈنڈے کا استعمال کیا کرتا تھا، جس کو کتکہ کہا جاتا تھا۔ وہ کتکہ گھاٹ پر نہیں رکھا جاتا تھا کیوں کہ کوئی اور اٹھا لے گا اور گھر لانے میں بے جا مشقت کرنی پڑتی ۔ اسلئے دھوبی وہ کتکہ راستے میں مناسب جگہ چھپا دیتا اور اگلے دن نکال کر پھر استعمال کر لیتا۔ اس طرح کتکہ نہ گھر جا پاتا اور نہ گھاٹ پر رات گزارتا۔
دھوبی کا کتکہ ۔ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
جو نئے دور میں بگڑ کر کتا بن گیا-
مستنصر حسین تارڑ
منقول _

08/11/2023

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں

13/08/2023

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو

05/08/2023

انار کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے، اس کے چھلکوں کو ضائع کرنے کے بجائے اس کی چائے بنائيں اور 6 بڑی بیماریوں سے نجات میں مدد پائيں


انار کا شمار ان پھلوں میں ہوتا ہے جن کا ذائقہ ہر عمر کے فرد کو پسند ہوتا ہے اور جس کے فوائد اس کی غذائیت کے سبب بے تحاشا ہوتے ہیں- مگر انار کے استعمال کے دوران لاعلمی کے سبب لوگ اس کے دانے تو کھا لیتے ہیں مگر اس کے چھلکوں کو کچرہ سمجھ کر پھینک دیتے ہیں جب کہ حقیقت میں انار کے چھلکے بے تحاشا غذائیت کے حامل ہوتے ہیں-

انار کے چھلکوں کی چائے
انار کے چھلکوں کو استعمال میں لانے کے لیے ان چھلکوں کو اچھی طرح دھوپ میں سکھا لیں اس کے بعد ان کو گرائيںڈر میں اس طرح پیس لیں کہ وہ پاؤڈر کی شکل اختیار کر لےاس پاوڈر کو کسی بھی کافی والی بوتل میں ڈال کر محفوظ کر لیں-

ایک کپ پانی ممیں آدھا چمچ پسے ہوئے انار کے چھلکے شامل کر لیں اور اس کو چائے کی طرح چولہے پر پکائيں اس کے بعد اس میں حسب ذائقہ لیموں کا رس اور شہد کو شامل کر دیں اور اس کو ٹھنڈا یا گرم دونوں صورتوں میں پیا جا سکتا ہے-

انار کے چھلکوں کی چائے کے فوائد
بار بار پیشاب آنے کے لیے
اکثر لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کو بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے اس تکلیف کے لیے دن میں ایک بار انار کے چھلکوں کو دن میں ایک بار کسی بھی وقت استعمال کریں اور کچھ ہی دنوں میں فائدہ دیکھیں-


پیٹ کے درد کے لیے
اگر کسی وجہ سے پیٹ میں درد ہو رہا ہو اور بدہضمی کی تکلیف کا بھی سامنا ہو تو اس صورت میں انار کی چائے ایک اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے اور اس چائے کو ٹھنڈا کر کے دو دو گھونٹ کر کے پلائيں کچھ ہی دیر میں پیٹ کے درد سے افاقہ ہو جائے گا-

سانس کی بدبو کے لیے
اکثر لوگوں میں معدے کے مسائل کے سبب یا مسوڑھوں کی خرابی کی وجہ سے منہ سے بدبو آنے کی شکایت ہوتی ہے جو سخت شرمندگی کا سبب ہوتی ہے اس کو دور کرنے کے لیے انار کے چھلکوں کی چائے بہت بہترین ہوتی ہے اس چائے سے کلیاں کرنے سے مسوڑھے ٹھیک ہوتے ہیں دانت کے درد سے نجات ملتی ہے جب کہ اس کے کچھ گھونٹ پی لینے سے معدے کی تکالیف میں آرام ملتا ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے-

بواسیر کے لیے
بواسیر چاہے خونی ہو یا بادی دونوں کے علاج کے لیے انار کے چھلکے اکسیر کا اثر رکھتے ہیں دن میں دو بار انار کے چھلکوں کی چائے کے استعمال سے ہر طرح کی بواسیر کی تکالیف کا خاتمہ ہوتا ہے-

ٹانسلز اور گلے کی خراش کے لیے
اکثر بچوں میں بار بار گلے خراب ہونے کی وجہ ٹانسلز قرار دی جاتی ہے جس کے علاج کا واحد حل ان کا آپریشن ہوتا ہے مگر دن میں دو بار انار کے چھلکوں کی نیم گرم چائے سے غرارے کر کے ٹانسلز کے آپریشن کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے بلکہ اس سے ہمیشہ کے لیے جان بھی چھڑائی جا سکتی ہے-


وزن کم کرنے کے لیے
اگر کسی کا کولیسٹرول بہت بڑھا ہوا ہو اور وہ وزن کم کرنے کا بھی خواہشمند ہو تو اس صورت مں اس کو چاہیے کہ وہ انار کی چائے بناتے ہوئے اس میں ایک ٹکڑا ادرک کا بھی شامل کر لیں اور دن میں دو بار اس کا استعمال کریں کچھ ہی دنوں میں وزن میں قدرتی طور پر کمی آنی شروع ہو جائے گی اور چربی پگھلنے لگے گی-“
# نقل۔۔۔چسپاں #

31/07/2023

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسرجدا تھا اور اسکا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام کو ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"-
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی, وہ جس تانبہ ساز کو دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال ملیں گے- بڑھیا کہتی 6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا- آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
‏بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 30 ریال میں خریدوں گا!!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 30 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور
‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 30 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبےدوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپکو کاروبار نہیں آتا؟!! بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 30 ریال میں اسے خریدا ھے...
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:

(میں نے برتن نہیں خریدا, میں نے اسکے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں, میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں, میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے)

عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اسکو دیکھتا رہ گیا...
اتنے میں غیبی آواز آئی ۔۔۔۔۔
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا , گرنے والے کوتھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو میں خود تمہارے پاس چل کر آوں گا "۔

حکایت شیخ سعدی سے ماخوذ.

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mandi Shah Jewana
Jhang
35200

Opening Hours

Monday 07:00 - 15:00
Tuesday 07:00 - 15:00
Wednesday 07:00 - 15:00
Thursday 07:00 - 15:00
Friday 07:00 - 15:00
Saturday 07:00 - 15:00