23/05/2026
کاروانین کہانی(10)
ڈاکٹر عبدالسلام
گورنمنٹ کالج جھنگ کے نامور سپوت ، البرٹ آئن سٹائن کی طرح نظریاتی طبیعیات کے پروفیسر ، نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام جو چار سال تک (1938 تا 1942 ) اس مادر علمی کے طالب علم رہے, 29 جنوری 1926 کو جھنگ شہر میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم جھنگ شہر سے ہی حاصل کرنے کے بعد 12 سال کی عمر میں انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ میں نویں جماعت میں داخلہ لیا ۔ 1940ء میں 14 سال کی عمر میں میٹرک اور یہیں سے 1942ء میں ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا ۔اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے 1944ء میں بی۔ اے اور 1946ء میں ریاضی میں ایم ۔اے کیا۔ وہ میٹرک سے ایم۔ اے تک تعلیمی ریکارڈ توڑتے رہے اور کامیا بیا ں سمیٹتے رہے ۔اچھے نتائج کی بنیاد پر 1946ء میں کیمبرج یونیورسٹی، سینٹ جونز کالج میں داخلہ لیا ۔یہاں سے انہوں نے 1949ء میں ریاضی اور طبیعات میں ڈبل فرسٹ کلاس آ نرز کے ساتھ بی۔ اے کی ڈگری مکمل کی ۔1950ء میں انہیں کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے فزکس میں سب سے شاندار " اسمتھ پرائز " دیا گیا ۔1951ء میں کیمبرج کی کیونڈش لیبارٹری سے فزکس میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔1951 میں ہی انہیں پرنسٹن یونیورسٹی میں جہاں کہ البرٹ آئنسٹائن کام کر رہے تھے، میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ اسی دوران انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ ریاضی کے صدر کی پیشکش بھی موصول ہوئی ۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے پروفیسر بن گئے اور یوں یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا ۔ 1952 میں پروفیسر ولف گینگ پالی( 1942 کے نوبل انعام یافتہ اور عبدالسلام کے دوست ) انڈین سائنس ایسوسی ایشن کی دعوت پر بمبئی آ ئے ۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی بلا بھیجا۔ بلا اجازت انڈیا جانے پر گورنمنٹ کالج لاہور نے انہیں کالج سے فارغ کر دیا ۔1954 میں عبدالسلام واپس کیمبرج یونیورسٹی، سینٹ جونز کالج چلے گئے جہاں وہ فزکس کے لیکچرر کے طور پر کام کر نے لگے ۔تین سال بعد 1957 میں انہیں امپیریل کالج لندن میں شعبہ نظریاتی فزکس کا ہیڈ بنا دیا گیا ۔ عبدالسلام نے پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھے اور وقتاً فوقتاً اپنے ملک کا دورہ کرتے رہے ۔1961 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے انہیں چیف سائنٹیفک آ فیسر مقرر کر دیا ۔1960 کی دہائی میں ان کی کوششوں سے کئی سائنٹیفک ادارے قائم ہوئے۔ 1962 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر بنے ۔ 1968 میں انہوں نے ایٹمز فار پیس Atoms for Peace ا یوارڈ حاصل کیا جس کا مقصد دنیا میں نیوکلیائی علم کو امن کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ 1970 میں کراچی میں کینیڈین سائنس دانوں کی مدد سے پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ کھڑا کیا۔ 1967 میں عبدالسلام نے الیکٹرو ویک اتحاد کے نظریہ کو ریاضیاتی طور پر ثابت کیا ۔اس کامیابی پر انہیں ، شیلڈن گلیشو اور سٹیون وینبر گ کے ساتھ مشترکہ نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس نظریہ کو تجربات کی مدد سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اور کسی اسلامی ملک سے انور سادات کے بعد دوسرے شخص تھے۔
پاکستان کے لیے خدمات
ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنسی ترقی کے لیے بھی بے شمار خدمات انجام دیں۔ وہ حکومت پاکستان کے سائنسی مشیر رہے۔ پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے SUPARCO کے قیام میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے نوجوان سائنس دانوں کی تربیت اور تحقیق کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کیں۔
انہوں نے اٹلی کے شہر Trieste میں International Centre for Theoretical Physics قائم کیا، جہاں دنیا بھر خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے طلبہ اور سائنس دان تحقیق کرتے ہیں۔ بعد میں اس ادارے کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا.
ڈاکٹر عبدالسلام نہایت سادہ مزاج، محنتی اور علم دوست انسان تھے۔ وہ نوجوانوں کو تعلیم اور تحقیق کی طرف راغب کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ ترقی کا راز سائنس اور تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی خدمت میں گزار دیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام 21 نومبر 1996 میں 70 سال کی عمر میں الزائمر کے مرض سے انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام اپنی مادر علمی کے خیر خواہوں میں سے تھے۔ وہ ایک عرصہ تک یہاں کے شعبہ فزکس کے لیے سائنٹیفک جرنلز اور انسٹرومنٹس کے علاوہ کئی دوسری اشیاء بھیجتے رہے۔ کالج میں شعبہ فزکس کا اجرا بھی انہی کے کہنے سے ہوا تھا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ان سے منسوب عبدالسلام بلاک ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین کے نام سے منسوب بلاک ان کا ادارے کے لئے خاص عطیہ ہے۔
تحقیق وترتیب: بشیر احمد ناز : ریٹائرڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کیمسٹری۔ گورنمنٹ کالج جھنگ ۔