09/06/2026
پیغامِ تہنیت
میں بحیثیت سٹاف سیکرٹری پروفیسر محمد شریف خان صاحب، وائس پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ، کی کامیاب مدتِ ملازمت کی تکمیل پر سٹاف اور انتظامیہ کی جانب سے دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آپ کی خدمات، قائدانہ صلاحیتیں اور ادارے سے وابستگی ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔
بطور وائس پرنسپل آپ نے کالج کی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے ادارے کے نظم و نسق کو مؤثر اور مستحکم بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نظم و ضبط کے قیام، تعلیمی و انتظامی امور کی بہتری اور ادارے کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔
بطور چیئرمین سپورٹس بورڈ آپ نے کھیلوں کے فروغ اور طلبہ میں صحت مند سرگرمیوں کے رجحان کو بڑھانے کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی سرپرستی میں کالج کے کھیلوں کے معیار میں بہتری آئی اور طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع میسر آئے۔
بطور کولیگ آپ نے ہمیشہ اخلاص پر مبنی تعلقات کو فروغ دیا۔ *ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشیوں، سکون اور کامیابیوں سے بھرپور زندگی عطا فرمائے۔
آمین
تحریر.. پروفیسر ارشد شبیر
سٹاف سیکرٹری
گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ
27/05/2026
تمام کاروانینز کو عید الاضحٰی کی خوشیاں مبارک ہوں.
منجانب:
کاروانینز ایلومینائی ایسوسی ایشن گورنمنٹ گریجویٹ کالج جھنگ
25/05/2026
پروفیسر ڈاکٹر غلام شبیر رانا مرحوم
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر مختارحر
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج جھنگ
..
جب میں نے 1988ء میں گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا تو انتخاب مضامین میں اردو اعلیٰ کا انتخاب کیا ۔اردو لازمی پروفیسر شفیع ہمدم صاحب پڑھاتے تھے جب کہ اردو اعلیٰ گیارہویں اور بارہویں جماعت میں غلام شبیر رانا صاحب سے پڑھی۔ رانا صاحب رومانوی مزاج اور عمدہ شعری ذوق رکھتے تھے۔بڑے محنتی اور فعال شخصیت کے مالک تھے ۔اگرچہ سکول کیڈر سے کالج کیڈر میں آئے تھے لیکن مزاج پروفیسروں والا تھا۔درمیانہ قد،خوش لباس،ہنس مکھ،کبھی کبھی جلال میں بھی آ جاتے تھے۔کسی حد تک زود رنج بھی تھے۔عام طور پر سفید لباس میں ملبوس ہوتے، صحیح معنوں میں وہ سفید پوش آدمی تھے۔سردیوں میں سیاہ رنگ کی واسکٹ سفید قمیص شلوار کے ساتھ زیب تن کی ہوتی تھی۔جمالیاتی ذوق اور عاشقانہ مزاج جبلت کا حصہ تھا۔رومانوی شعر سناتے اور عاشقانہ قصے کہانیاں بھی ہمارا دل بہلانے کے لیے بیان کرتے رہتے تھے۔نصابی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا ۔ان کے مضامین،افسانے،انشائیے،تحقیقی وتنقیدی مضامین نامور ادبی رسائل اور جرائد میں چھپتے رہتے تھے۔کئی تصانیف بھی منظر عام پہ آ چکی ہیں۔اس معاملے وہ باقی تمام اساتذہ سے زیادہ متحرک تھے۔اگر کوئی شعر سناتا یا کسی کا پیپر مثالی ہوتا تو دل کھول کر داد اور نمبر دیتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ وہ ایم -اے کا پرچہ جو شاید کسی یونیورسٹی کی طرف سے مارکنگ کے لیے آیا ہوا تھا ۔کلاس میں ناصر کاظمی کی غزلیات جو پرچے میں درج تھیں پڑھ کر سنائیں اور ہر شعر پر سر دھنتے تھے۔ ہم بھی محظوظ ہوئے۔ کالج سے جب میں یونیورسٹی ایم -اے اردو کرنے چلاگیا تو رانا صاحب نے ایم - فل کرلیا اردو میں مزاحمتی شاعری موضوع چنا۔ پھرسندھ کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ -ڈی کے کلاس ورک کے بعد مقالے کا مرحلہ آیا تو اردو میں طنزیہ مزاحیہ شاعری کو موضوع بنایا لیکن یونیورسٹی انتظامیہ سے کسی بات پہ اختلاف ہوا تو معاملہ خراب ہو گیا ۔یونیورسٹی اساتذہ کے رویے سے بد دل ہو کر کام کو روکنا پڑا۔پھر غالباً اوپن یونیورسٹی سے کچھ معاملات طے پا گئے ۔ پی ایچ- ڈی کی ڈگری بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کی" کرنل محمد خان احوال و آثار" کو موضوع تحقیق بنایا گیا. ایم فل میں ڈاکٹر اسلم ضیا اور پی ایچ- ڈی میں ڈاکٹر نثار احمد قریشی نگران مقالہ تھے۔ ڈاکٹر نثار احمد قریشی کے وہ بڑے مداح تھے۔جب میں نے ایم-اے اردو کر لیا تو پیپر مارکنگ میں ان کا نائب ممتحن رہا۔ استاذ ،شاگرد ایک ساتھ مارکنگ کرتے رہے۔2001 میں چناب کالج جھنگ کی ملازمت کے دوران علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں فاصلاتی طریقہ تعلیم کے تحت میں نے ایم فل میں داخلہ لیا۔رانا صاحب کا بیٹا نوید احسن اس وقت چناب کالج جھنگ میں پڑھتا تھا تو رانا صاحب سے گاہے بگاہے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔کبھی ان کے گھر جانا ہوتا تو تپاک سے ملتے اور دلی خوشی کا اظہار کرتے اور بغیر کھلائے پلائے واپس نہ آنے دیتے۔ایم فل میں ڈاکٹر عمران ظفر اور میں ہم جماعت بھی ہوگئے۔وہاں ورکشاپ میں ڈاکٹر نثار احمد قریشی ،ڈاکٹرمحمد صدیق خان شبلی اورمیڈم نقوی ہمارے اساتذہ میں سے تھے جب کہ پروفیسر فتح محمد ملک، ڈاکٹر عبد العزیز ساحر،ڈاکٹر معین الدین عقیل اور ڈاکٹر عطش درانی نے مہمان مقرر کی حثیت سے لیکچر دئیے ۔جب مقالہ نگاری کا مرحلہ آیا تو میں نے" سید محمد جعفری شخصیت و فن " کے موضوع کو تحقیق کے لیے منتخب کیاـ یونیورسٹی نے ڈاکٹر غلام شبیر رانا کو میرا نگران مقرر کر دیا۔میں بھی مطمئن ہوگیا۔اس دوران ڈاکٹر غلام شبیر رانا صاحب گورنمنٹ کالج جھنگ سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے کام شروع کر چکے تھے۔بہت زیادہ مصروفیت بڑھ گئی تھی الصبح فیصل آباد جاتے، رات گئے واپس آتے ۔تھکے ہارے مدہوش ہوکر سو رہتے ایک دو مرتبہ میں نے ملنے کی کوشش کی تاکہ ان کو نگران مقالہ ہونے سے آگاہ کیا جائے۔۔مقالے کا خاکہ دکھایا کچھ ہدایات لیں اور کام شروع کردیا۔یونیورسٹی میں وی-سی اور سٹاف کی طرف سے وہ پریشان رہنے لگے۔
کچھ فتنے اٹھے حسن سے کچھ حسن نظر سے
والی کیفیت محسوس ہونے لگی۔اس دوران میری ان کی ملاقات ہوتی تو مقالے سے زیادہ وہ اپنی منصبی اور گھریلو پریشانیوں کا ذکر لے کر بیٹھ جاتے ۔میں بھی ان کی دل جوئی کے لیے اتوار والے دن کبھی کبھار چلاجاتا۔سرگودھا روڈ پہ ان کا گھر سڑک کے کنارے تھا۔گھر کا دروازہ گلی میں تھا اور بیٹھک سرگودھا روڈ کے ساتھ ملحق تھی۔بیٹھک کے باہر نام والی تختی تھی جس پر رانا صاحب کے نام کے ساتھ تمام ڈگریوں کے مخفات لکھے ہوئے تھے۔سڑک پر ٹریفک کا شور اور گھر میں بچوں کا شور کبھی وہ باہر بھاگتے کبھی اندر ۔ ایک دو بچے ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔زود رنج ہونے کی وجہ سے بھائی یا برادری کی طرف سے بھی کچھ پریشانیاں تھیں۔نوید احسن سے بہت پیار تھا ہر وقت ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتے اور اس کا بہت خیال رکھتے تھے ۔
میں نے اپنا تحقیقی کام مکمل کیا تو انھوں نے نہایت مثبت رائے لکھ دی یہ رائے ان کی خوش فکری اور خوش نویسی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔۔
یونیورسٹی انتظامیہ سے حالات اتنے خراب ہوئے،زچ ہوکر ، دلبراشتہ ہوکر یا تادیبی کارروائی کا شکار ہو کر وہ واپس گورنمنٹ کالج جھنگ آ گئے۔تب جاکر انھیں سکھ نصیب ہوا۔ 2009میں میرا اور عمران ظفر صاحب کا داخلہ پی ایچ- ڈی اردو میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ہوگیا۔ اس وقت صدر شعبہ ڈاکٹر انوار احمد صاحب تھے۔جو بڑے خلیق اور مہربان تھے ۔کلاس ورک کے بعد جب موضوع تحقیق کا مرحلہ آیا تو میں نے "جھنگ میں اردو ادب کی روایت" کا انتخاب کیا اور میرے نگران مقالہ ڈاکٹر محمد اشرف کمال صاحب مقرر ہوئے۔۔جھنگ کے تمام شاعروں ،ادیبوں،محققین اور ناقدین ،تخلیقی اور غیر تخلیقی نثر لکھنے والوں سے رابطہ کیا اس کے علاوہ جھنگ کی ادبی تنظیمیں اور ادبی رسائل و جرائد کا احاطہ اس مقالے میں کرنا تھا۔میں نے ایک سوال نامہ تیار کیا اور تمام زندہ ادیبوں اور شاعروں تک پہنچایا۔سب کے جواب مل گئے لیکن رانا صاحب کا جواب نہ آیا ۔میں ایک دن خود چلا گیا اور ان سے بات کی۔ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے پی ایچ- ڈی کر رہا ہوں تو مجھے لگا جیسے انھیں اچھا نہیں لگا۔موضوع کو بھی انھوں نے پسند نہ کیا ۔جب میں نے ان کو جھنگ کے ادیبوں میں شامل کرنے کے حوالے سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو انھوں نے کہا میں جھنگ سے نہیں ہوں میں تو کیمبل پور سے ہوں۔چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے اجازت چاہی۔اس کے بعد وہ گوشہ نشیں ہوگئے۔گورنمنٹ کالج جھنگ میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد شاید ہی کبھی آئے ہوں۔وفات سے چند سال پہلے مجھے باغبان نرسری میں ملے، میں نے سلام کیا تو کوئی جواب نہ آیا میں نے انھیں دوبارہ سلام کیا اور بتایا تو کہا میں نے پہچانا نہیں تھا۔ہم نے چند رسمی باتیں کیں اور وہ چلے گئے۔جب مُجھے ان کی وفات کی خبر ملی تو بہت دکھ ہوا۔جنازے کا وقت معلوم کیا اور جنازے میں شریک ہوا۔گورنمنٹ کالج کی طرف سے سٹاف میں سے پروفیسر ریاض حسین کلیرا صاحب اور پروفیسر صفدر علی شاہ صاحب شریک ہوئے جو مجھے یاد ہیں۔میں نے اپنے موبائل کیمرے سے ان کے آخری دیدار کی تصویر بنائی ۔جسے بعد میں پروفیسر بشارت حسین وقار صاحب کی وساطت سےاظہار احمد گلزار صاحب نے منگوائی اور رانا صاحب کی علمی و ادبی خدمات پر ایک جامع مضمون لکھا۔ جو ایک خاصے کی تحریر ہے
اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے ۔
23/05/2026
اس سال پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام اور گورنمنٹ کالج جھنگ دونوں کی سویں سالگرہ ہے. گویا اس سال ڈاکٹر عبدالسلام کی فزکس کے حوالے سے خدمات کے سلسلے میں عبدالسلام صدی منانی چاہیے.
پاکستان میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں؟..
کوئی عبدالسلام صدی منائے یا نہ منائے ان کے بڑے سائنسدان ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا.
وہ کتنے بڑے سائنسدان تھے اور ان کی کیا خدمات ہیں.. اس حوالے سے بہت سی کتابیں مل جاتی ہیں.
یہاں ان زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر پیش کی جا رہی ہیں جن سے ان کے عظیم پروفیسر، ڈاکٹر اور سائنسدان ہونے کے شواہد ملتے ہیں.
23/05/2026
کاروانین کہانی(10)
ڈاکٹر عبدالسلام
گورنمنٹ کالج جھنگ کے نامور سپوت ، البرٹ آئن سٹائن کی طرح نظریاتی طبیعیات کے پروفیسر ، نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام جو چار سال تک (1938 تا 1942 ) اس مادر علمی کے طالب علم رہے, 29 جنوری 1926 کو جھنگ شہر میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم جھنگ شہر سے ہی حاصل کرنے کے بعد 12 سال کی عمر میں انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ میں نویں جماعت میں داخلہ لیا ۔ 1940ء میں 14 سال کی عمر میں میٹرک اور یہیں سے 1942ء میں ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا ۔اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے 1944ء میں بی۔ اے اور 1946ء میں ریاضی میں ایم ۔اے کیا۔ وہ میٹرک سے ایم۔ اے تک تعلیمی ریکارڈ توڑتے رہے اور کامیا بیا ں سمیٹتے رہے ۔اچھے نتائج کی بنیاد پر 1946ء میں کیمبرج یونیورسٹی، سینٹ جونز کالج میں داخلہ لیا ۔یہاں سے انہوں نے 1949ء میں ریاضی اور طبیعات میں ڈبل فرسٹ کلاس آ نرز کے ساتھ بی۔ اے کی ڈگری مکمل کی ۔1950ء میں انہیں کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے فزکس میں سب سے شاندار " اسمتھ پرائز " دیا گیا ۔1951ء میں کیمبرج کی کیونڈش لیبارٹری سے فزکس میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔1951 میں ہی انہیں پرنسٹن یونیورسٹی میں جہاں کہ البرٹ آئنسٹائن کام کر رہے تھے، میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ اسی دوران انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ ریاضی کے صدر کی پیشکش بھی موصول ہوئی ۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے پروفیسر بن گئے اور یوں یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا ۔ 1952 میں پروفیسر ولف گینگ پالی( 1942 کے نوبل انعام یافتہ اور عبدالسلام کے دوست ) انڈین سائنس ایسوسی ایشن کی دعوت پر بمبئی آ ئے ۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی بلا بھیجا۔ بلا اجازت انڈیا جانے پر گورنمنٹ کالج لاہور نے انہیں کالج سے فارغ کر دیا ۔1954 میں عبدالسلام واپس کیمبرج یونیورسٹی، سینٹ جونز کالج چلے گئے جہاں وہ فزکس کے لیکچرر کے طور پر کام کر نے لگے ۔تین سال بعد 1957 میں انہیں امپیریل کالج لندن میں شعبہ نظریاتی فزکس کا ہیڈ بنا دیا گیا ۔ عبدالسلام نے پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھے اور وقتاً فوقتاً اپنے ملک کا دورہ کرتے رہے ۔1961 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے انہیں چیف سائنٹیفک آ فیسر مقرر کر دیا ۔1960 کی دہائی میں ان کی کوششوں سے کئی سائنٹیفک ادارے قائم ہوئے۔ 1962 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر بنے ۔ 1968 میں انہوں نے ایٹمز فار پیس Atoms for Peace ا یوارڈ حاصل کیا جس کا مقصد دنیا میں نیوکلیائی علم کو امن کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ 1970 میں کراچی میں کینیڈین سائنس دانوں کی مدد سے پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ کھڑا کیا۔ 1967 میں عبدالسلام نے الیکٹرو ویک اتحاد کے نظریہ کو ریاضیاتی طور پر ثابت کیا ۔اس کامیابی پر انہیں ، شیلڈن گلیشو اور سٹیون وینبر گ کے ساتھ مشترکہ نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس نظریہ کو تجربات کی مدد سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اور کسی اسلامی ملک سے انور سادات کے بعد دوسرے شخص تھے۔
پاکستان کے لیے خدمات
ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنسی ترقی کے لیے بھی بے شمار خدمات انجام دیں۔ وہ حکومت پاکستان کے سائنسی مشیر رہے۔ پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے SUPARCO کے قیام میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے نوجوان سائنس دانوں کی تربیت اور تحقیق کے فروغ کے لیے بہت کوششیں کیں۔
انہوں نے اٹلی کے شہر Trieste میں International Centre for Theoretical Physics قائم کیا، جہاں دنیا بھر خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے طلبہ اور سائنس دان تحقیق کرتے ہیں۔ بعد میں اس ادارے کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا.
ڈاکٹر عبدالسلام نہایت سادہ مزاج، محنتی اور علم دوست انسان تھے۔ وہ نوجوانوں کو تعلیم اور تحقیق کی طرف راغب کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ ترقی کا راز سائنس اور تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی خدمت میں گزار دیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام 21 نومبر 1996 میں 70 سال کی عمر میں الزائمر کے مرض سے انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام اپنی مادر علمی کے خیر خواہوں میں سے تھے۔ وہ ایک عرصہ تک یہاں کے شعبہ فزکس کے لیے سائنٹیفک جرنلز اور انسٹرومنٹس کے علاوہ کئی دوسری اشیاء بھیجتے رہے۔ کالج میں شعبہ فزکس کا اجرا بھی انہی کے کہنے سے ہوا تھا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ میں ان سے منسوب عبدالسلام بلاک ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین کے نام سے منسوب بلاک ان کا ادارے کے لئے خاص عطیہ ہے۔
تحقیق وترتیب: بشیر احمد ناز : ریٹائرڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر آف کیمسٹری۔ گورنمنٹ کالج جھنگ ۔