21/05/2026
جب ایک شخص خود کو “امام” کہلواتا ہو، روحانی پیشوا ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، مگر غیر محرم خواتین سے مصافحہ کرتا پھرے، تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسی امامت ہے؟
حال ہی میں Prince Karim Aga Khan کی پاکستان آمد پر Aseefa Bhutto Zardari سے مصافحہ کی تصاویر سامنے آئیں۔
اسلام میں ایک عام مسلمان کو بھی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں، تو پھر ایک ایسا شخص جو خود کو “امامِ وقت” کہلوائے، اس کے عمل کا کیا جواز ہے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے۔”
جو لوگ اندھی عقیدت میں ہر عمل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ دین شخصیتوں سے نہیں بلکہ قرآن و سنت سے چلتا ہے۔
امامت وہی معتبر ہے جو شریعت محمدی ﷺ کی پابند ہو، نہ کہ مغربی رسم و رواج کی پیروکار۔
#اسلام
30/04/2026