Digital Tutor Academy

Digital Tutor Academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Digital Tutor Academy, Tutor/Teacher, jhang, Jhang Sadar.

28/12/2023
26/12/2023

" اردو ہے جس کا نام "

۱۔ کان میں سرگوشی… جب سرگوشی کہا گیا تو *کان میں* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۲۔ انڈے کی طرح بیضوی… جب بیضوی کہا جائے تو *انڈے کی طرح* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۳۔ پھولوں کا گلدستہ… جب گلدستہ کہا جائے تو *پھولوں کا* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۴۔ آب زم زم کا پانی… جب *آبِ زم زم* کہا جائے تو *پانی* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۵۔ شب قدر کی رات… جب *شب قدر* کہا جائے تو *رات* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۶۔ حجر اسود کا پتھر… جب *حجراسود* یا سنگ مرمر کہا جائے تو *پتھر* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۷۔ نوشتہ دیوار پر لکھا ہے…جب *نَوِشْتَہ* کہا جائے تو *لکھا ہے* کہنے کی ضرورت نہیں۔ (نوشتہ کا درست تلفظ بروزن فرشتہ ہے)...

۸۔ ہونٹوں پر زیرلب مسکراہٹ… جب *زیرلب* کہا جائے تو *ہونٹوں پر* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۹۔ گندے پانی کا جوہڑ… جب *جوہڑ* کہہ دیا تو *گندے پانی* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۰۔ پانی کا تالاب… تالاب میں خود آب موجود ہے۔ *پانی کا* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۱۔ صبح تا شام تک، دس تا بارہ سال تک!… جب *تا* کہا جائے تو *تک* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۲۔ بہترین نعم البدل… جب *نعم البدل* کہہ دیا تو *بہترین* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۳۔ نمک پاشی چھڑکنا… جب *نمک پاشی* کہہ دیا تو مزید نمک *چھڑکنے* کی کوئی ضرورت نہیں۔

۱۴۔ زیادہ بہترین… جب بہتر یا بہترین کہا جائے تو *زیادہ* یا *بہت* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۵۔ فی الحال ابھی میں نہیں آ سکوں گا!… جب *فی الحال* کہہ دیا تو *ابھی* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۶۔ ناجائز تجاوزات… جب *تجاوزات* کہہ دیا تو *ناجائز* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۷۔ایصال ثواب پہنچانا… جب *ایصال* کہہ دیا تو *پہنچانا* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۱۸۔ قابلِ گردن زَدنی… صرف *گردن زَدنی* کہنا کافی ہے، قابل کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

۱۹۔ ابھر کر سامنے آئے ہیں… جب *ابھر* ہی گئے ہیں تو *سامنے آنے* کی کوئی ضرورت نہیں۔

۲۰۔ تا ہنوز… جب *ہنوز* کہا جائے تو *تا* کہنے کی ضرورت نہیں۔

۲۱۔ آنکھیں نمدیدہ ہو گئیں!…جب *نم دیدہ* کہا جائے تو *آنکھیں* کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

۲۲۔ روز افزوں بڑھنا… جب *افزوں* کہا جائے تو *بڑھنا* کہنے کی کچھ ضرورت نہیں۔

۲۳۔ نئی جدت… جب *جدت* کہا جائے تو *نئی* کہنے کی ضرورت نہیں۔

12/12/2023

ڈھکن تیار کرنے کی فیکٹریاں
مجھے اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد چرب زبان موٹیویشنل اسپیکرز کو سنتی ہے۔
اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں بڑے بڑے انسٹیٹیوشنز میں بطور اسپیکر مدعو کیا جاتا ہے۔
جب کہ یہ لوگ سر سے پیر تک زبان ہی زبان ہیں۔
یہ کسی فیلڈ کے ایکسپرٹ نہیں۔ کوئی اسکلز نہیں جانتے۔ کوئی کمپنی، کوئی ادارہ build نہیں کیا۔ کسی اسٹارٹ اپ کے فاؤنڈر نہیں۔
پھر بھی لاکھوں لوگ انھیں بیٹھ کر سنتے اور اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔
آپ کسی وقت یوٹیوب پر بیٹھ کر انٹرنیشنل TED Talks سنیے تو آپ جانیں کوالٹی اور ٹیلنٹ کسے کہتے ہیں۔
وہاں اپنی فیلڈ کے ماہرین مدعو کیے جاتے ہیں، بڑے بڑے achievers اور Doers کو بلایا جاتا ہے۔
وہ اپنا سفر شئیر کرتے ہیں، چول پنے کے قصے کہانیوں کی بجائے اپنے رئیل ورلڈ experiences شئیر کرتے ہیں۔
پاکستانی قوم کی اکثریت سرے سے جانتی ہی نہیں کہ "ویلیو انفارمیشن" کسے کہتے ہیں۔
میری ایک نصیحت ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں۔
*یہ نہ دیکھیں کہ کوئی بندہ کیا کہہ رہا ہے*
*بلکہ،*
*یہ دیکھیں کہ یہ کیا کرچکا ہے۔۔۔۔۔*
باتوں سے نہیں، کام سے متاثر ہونا سیکھیں۔
ان جیسے ٹین کے ڈبوں کو سن کر وقت برباد کرنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مناسب سائز کے کریانہ سٹور کے مالک کے ساتھ بیٹھ جائیے۔
وہ کم سے کم مارکیٹ کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔ ایک مناسب سائز کا اسٹور کھڑا کرچکا ہے۔ اس کی چھوٹی ہی سہی پر ایک عملی اچیومنٹ ہے۔
وہ آپ کو ان سے زیادہ لرننگ دے کر جائے گا۔۔۔۔۔۔!!!

Photos from Digital Tutor Academy's post 04/12/2023

دو سوچیں دو فطرتیں دو نتیجے
ملک ریاض اور مکیش امبانی
دونوں کھرب پتی ہیں ایک مسلسل اپنے ملک کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا کرنے کی کوشش کررہا رہا صنعتی انقلاب لا رہا ہے انڈسٹری کے شعبے میں روز افزوں ترقی کررہاہے نوجوانوں میں ایک متحرک اور محنت کی سوچ پیدا کرنے میں جتا ہے
دوسرا پراپرٹی ڈیلر ہے مکانات پے مکانات بنائے جارہاہے پر تعیش زندگی کے خواب دکھائے جارہاہے
باغات اجڑ گئے صنعتیں تباہ ہوگئیں لنگر خانے آباد ہوگئے بھکاریوں کی تعداد بڑھ رہی
بھکاری کسی بھی لبادے میں ہوں رہتے وہ شہر کے مہنگے ترین علاقوں میں ہیں صرف بھیک مانگنے بستیوں میں آتے ہیں
ایک طرف تخلیقی سوچ ہے جسکے نتائج پوری دنیا میں انڈین میڈ اشیاء کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے
سعودیہ دبی یورپین ممالک میں انڈین میڈ چیزیں آپکو ہر سٹور میں مل جائیں گی
مگر یہاں صرف تخریبی سرگرمیاں عروج پر ہیں
چند ہی سالوں میں کتنی انڈسٹریز بند ہوئیں لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے انہیں جگہوں پر کالونیاں بن گئی
مجال ہے کسی کی طبیعت پر کچھ اثر ہؤا ہو

24/11/2023

ایف‘ گریڈ اور نمبرز ختم۔۔۔ پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے رزلٹ کا نیا نظام کیسے کام کرے گا؟

پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈییٹ کے امتحانات کے نتیجے تیار کرنے کے طریقہ کار کو بدلا جا رہا ہے۔ نئے طریقہ کار کے مطابق امتحانات کے بعد نتیجہ اب نمبروں میں نہیں بلکہ گریڈز میں آیا کرے گا اور یہ گریڈز حتمی گریڈنگ پوائنٹس یعنی جی پی اے کا تعین بھی کریں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنہ 2025 کے بعد جب نیا نظام تین مراحل سے گزرنے کے بعد مکمل طور پر رائج ہو جائے گا تو میٹرک اور انٹرمیڈییٹ کے طلبہ کے رزلٹ کارڈز پر نمبرز نہیں ہوں۔

ان کی جگہ ہر مضمون میں الگ الگ اور مجموعی طور پر حاصل کیے گئے گریڈز اور گریڈنگ پوائنٹس درج ہوں گے۔ آخر میں مجموعی طور پر حاصل کیا گیا کمیولیٹو یعنی سی جی پی اے بھی درج کیا جائے گا۔

نئے نطام میں ایک اور پیشرفت یہ بھی کی گئی ہے کہ ’ایف‘ گریڈ یعنی ’فیل‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کی جگہ ’یو‘ گریڈ لے گا جس کا مطلب ہو گا ’ان سیٹیسفیکٹری‘ یعنی یہ گریڈ لینے والے طالب علم کی کارکردگی ’تسلی بخش نہیں‘۔

پرانے نظام میں جب کسی طالب علم کو کوئی مضمون پاس کرنا ہوتا تھا تو اسے کم از کم 33 یا 33 فیصد نمبر درکار ہوتے تھے۔ نئے نظام میں پاس کے اس پیمانے کو تبدیل کر کے 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا جائے گا۔

اس نئے نظام کا نفاذ پورے ملک میں یکساں ہو گا اور اس کا آغاز رواں تعلیمی سال یعنی 2023 سے کر دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنہ 2024 کے امتحانات کے بعد آنے والے رزلٹ کارڈز پر نئے نظام کے گریڈ موجود ہوں گے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مختلف پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے ’میرٹ‘ کا نظام بھی بدل جائے گا۔ مثال کے طور پر اس سے پہلے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لیے دوڑ میں امیدواروں کو معلوم ہوتا تھا کہ انھیں داخلے کیے لیے کم از کم کتنے نمبر درکار ہوں گے۔

نئے نظام کے مطابق یہ مقابلہ اب سی جی پی اے پر منتقل ہو جائے گا۔ تو یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس تبدیلی سے پاکستان میں تعلیم کے معیار میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی آئے گی بھی یا نہیں؟

یہ نظام کام کیسے کرے گا اور پرانا نظام بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے وضاحت کے لیے بی بی سی نے متعلقہ ادارے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن یعنی آئی بی بی سی کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح سے بات کی۔

نیا گریڈنگ نظام ہے کیا؟

آئی بی سی سی کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ امتحانات کے نتائج دینے کا نیا نظام باقی دنیا میں رائج جدید طریقہ کار سے مطابقت رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے پرانے نظام کا متبادل تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو دو قسم کے بین الاقوامی طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں ایک پوائنٹس سسٹم تھا یعنی 9 سے لے کر ایک تک پوائنٹس دیے جاتے ہیں یا پھر دوسرا انگریزی حروف یعنی ایلفابیٹس کا 7 نکاتی نظام ہے۔

ان کے مطابق ’ہم نے اس نظام کو اپنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ پہلے سے بھی ہمارے ہاں کسی نہ کسی صورت میں رائج ہے اور لوگ اس سے واقف ہیں‘ تاہم پاکستان میں رائج کیا جانا والا نیا نظام 7 نکاتی کے بجائے دس نکاتی ہو گا۔‘

اس نئے نظام کے دس پوائنٹس کے مطابق اے پلس پلس سب سے اول گریڈ ہو گا۔ یہ 95 فیصد سے 100 فیصد تک کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ملے گا۔ اس کا مطلب ’ایکسیپشنل‘ ہو گا اور اس کے گریڈنگ پوائنٹس 5 ہوں گے جو کہ جی پی کی سب سے زیادہ حد ہے۔

اسی طرح اے پلس کا جی پی 4.7 ہو گا اور کارکردگی 90 سے 95 فیصد کے درمیان ہو گی۔ یوں دسواں اور سب سے آخری گریڈ ’یو‘ یعنی ’ان سیٹیسفیکٹری‘ ہو گا جو 40 فیصد سے کم کارکردگی پر دیا جائے گا اور اس کا جی پی اے صفر ہو گا۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح کہتے ہیں کہ ’اس کا مطلب یہ ہو گا طالب علم کی کارکردگی تسلی بخش نہیں اور اس کو دوبارہ تیاری کر کے امتحان دینے کی ضرورت ہے۔‘ یو گریڈ بنیادی طور پر ایف گریڈ کو ختم کرے گا اور کوئی بھی مضموں یا مجموعی طور پر سیشن پاس کرنے کی حد 40 فیصد کارکردگی ہو گی۔

یہ نظام پرانے نظام سے کیسے مختلف ہے؟

پرانے نظام میں امحانات کے نتائج میں بنیادی طور پر نمبرز مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جن کی بنیاد پر گریڈز کا تعین کیا جاتا ہے تاہم اس میں جی پی یا سی جی پی اے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہ نظام بنیادی طور پر انگریزی حروفِ تہجی کے 6 نکات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس میں سب سے بڑا گریڈ اے اور سب سے بُرا گریڈ ایف ہے، جس کا مطلب فیل ہے۔ لفظ ’فیل‘ اس کے سامنے درج کیا جاتا ہے جو رزلٹ کارڈ کا حصہ ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ تعلیمی معیار پرکھنے کے لیے امتحانات کے جدید بین الاقوامی نظام ’فیل‘ کے لفظ کو منظر پر آنے نہیں دیتے۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پرانے نظام کے مطابق طالب علموں کو نمبرز دیے جاتے تھے اور صرف اسی پر ان کی کارکردگی کو جانچا جاتا تھا۔ ضروری نہیں کہ یہ ان کی حقیقی کارکردگی کی صحیح عکاسی کرتے ہوں۔‘

اسی طرح وہ مزید کہتے ہیں کہ پرانے نظام کے مطابق رزلٹ کارڈز پر طالب علم کو اس کی کارکردگی کے حوالے سے فیڈبیک دینے کا کوئی طریقہ بھی نہیں تھا جو نئے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ’اب جو نئے رزلٹ کارڈز آئیں گے ان پر پہلے مرحلے میں نمبرز بھی ہوں گے اور ساتھ جی پی اور گریڈز بھی ہوں کے جیسا کہ جی پی 5 اور گریڈ اے پلس پلس لیکن جب یہ مکمل طور پر رائج ہو جائے گا تو نمبرز مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔
بشکریہ بی بی سی اردو

21/11/2023

مفت کھانا کھائیں.....!
جگہ جگہ یہ لکھا دیکھ خیال آتا ہے،
ایسا بینر کہیں نہیں نظر آتا جس پر لکھا ہو:
مفت ویلڈنگ سیکھیں
مفت پلمبرنگ سیکھیں
مفت گاڑی مستری بنیں
مفت انجینئرنگ سیکھیں
مفت کمپیوٹر سیکھیں
مفت چائینی، کورین، جاپانی، انگلش لینگویج کورس کریں
مفت درزی بنیں وغیرہ وغیرہ۔
خیرات کرنے والے قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں۔
دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں آپ تنخواہ پر ایک استاد رکھ لیں اور صرف ایک ہفتے کی ویلڈنگ لرننگ کلاس دیں اور آخر میں دس ہزار کی ایک ویلڈن مشین ہر سیکھنے والے کے حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا۔ اور تاحیات عزت کی روزی روٹی کمائے گا۔
قوم کو بھکاری نہیں ہنر مند بنائیں، یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے، آپ سے ایک ضرورت مند نے سوال کیا تو آپ نے اسے کلہاڑا لے کر دیا اور فرمایا جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو۔

سوچ کے نئے زاویے
Copied

21/11/2023

سکول بیگ ختم کرو . . . سکول کے ہیوی بیگ کی بجائے فائل نما بیگ ہونے چاہییں جس میں بچوں کے روزمرہ کام کے کا ریکارڈ ہو بس. باقی بُکس اور نوٹ بُکس سکول میں ہی رکھی جائیں . . . لکھنے یا رٹے مارنے کےلیے گھر کا کام تفویض کرنے کی بجائے روز کی چھوٹی چھوٹی پریکٹِکل اسائنمنٹس دی جائیں اور مہینہ کے آخر پہ 4-5 بچوں کا گروپ بناکر اُنہیں پراجیکٹ دیا جائے. اور اِن تمام اسائنمنٹس اور پراجیکٹ کے باقاعدہ مارکس رکھے جائیں. اِس سے کیا ہوگا کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بڑھیں گی اور ٹیم ورک کا جذبہ بھی پیدا ہوگا جس سے وہ مسائل کا حل نکالنا سیکھ سکیں گے. وگرنہ تو ہم copy pasters ہی پیدا کرتے رہیں گے. —
Copied

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang Sadar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Jhang
Jhang Sadar
35200