03/10/2023
https://chat.whatsapp.com/Dftm1n6EgFvJ4HPW4Vx4Fe
NAST_Jhang WhatsApp Group Invite
Noor Education Jhang
03/10/2023
https://chat.whatsapp.com/Dftm1n6EgFvJ4HPW4Vx4Fe
NAST_Jhang WhatsApp Group Invite
01/03/2023
https://chat.whatsapp.com/EmkIGWbY0234yqK41L6cGh
Noor Education WhatsApp Group Invite
Share & Earn
آپ بیرون ملک چلے جائیں
آپ کو کہیں بھی لکھا نہیں ملے گا
کہ
خالص دودھ
خالص گھی
خالص شہد
خالص اجزاء سے تیار فلاں چیز
خالص تانبا
خالص آٹا
یا
سو فیصد خالص انار کا جوس
وغیرہ وغیرہ
وہاں لفظ خالص کا تصور خالص تک ہی ہے وہاں ان چیزوں میں ملاوٹ کا تصور موجود ہی نہیں کہ بھلا ان میں بھی ملاوٹ کی جاسکتی ہے
وہ اپنی برانڈز کے نام
یروشلم کی کسی عبادت گاہ
یا
روم کے کسی چرچ کے نام پر بھی نہیں رکھتے کہ
مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ منافع کما پائیں
وہ اقوام اپنی چیزوں کو بہتر سے
مزید بہتر کر کے مارکیٹ میں
لاکر ایمانداری سے زیادہ سے زیادہ
بِکری چاہتے ہیں
اور
ہمارے ہاں انداز ہی نرالہ ہے
اسلامی شہد
مدنی گھی
مکی آٹا
وغیرہ
اور
مزید اضافہ کہ
"سو فیصد خالص"
ارے بھائی یہ خالص لکھنے کی نوبت ہی کیوں پیش آئی ؟
کیوں کہ جناب
یہاں ہر طرف مکاری ہے
جھوٹ فریب ملاوٹ ہے
لوگوں کو کماحقہ لکھ کر بتا کر
جتانا پڑتا ہے
*ایک پاکستانی لڑکی کی کارگزاری اپنی عرب سہیلی کے بارے*
اسکا دو ماہ کا بچہ تھا وہ پیمپر تبدیل کر وانے واش روم گئیں ۔مدد کے لئے میں بھی ساتھ ہو لی ۔بچے کو دھلانے کے بعد انھوں نے اسے مکمل وضو کروایا ۔میرے لئے یہ ایک نیا عمل تھا ۔وضو عموماً بڑے ہی کرتے ہیں اتنے چھوٹے بچوں کو وضو کروانے کا تصور نہیں ۔
اس کے بہت سے کام الگ سے تھے۔ دو سالہ بیٹی کو کھانا کھلانے لگیں ہر نوالہ منہ میں ڈال کر کہتیں الحمدللہ ،بچی بھی توتلی زبان میں دہراتی تب دوسرا نوالہ کھلاتیں۔ وہ مکمل یکسوئی سے بچوں میں مگن تھیں ۔اسی یکسوئی سے میں ان ماں بچوں کا مشاہدہ کیے جا رہی تھی۔
وہ یمن کی رہنے والی تھیں کالج میں ساتھ ہی عربی پڑھاتی تھیں یہیں دوستی ہو گئی۔خلوص اور محبت کے ساتھ اس دوستی کی وجہ عربی زبان تھی ۔انھیں ٹوٹی پھوٹی اردو اور انگریزی آتی تھی۔دیار غیر میں ہم زبان کا مل جانا ایک نعمت ہوتی ہے۔وہ جیسے ہم زبان کی ترسی ہوئی تھیں۔
کچھ ہی دنوں بعد میری دعوت پر گھر چلی آئیں ان کا ہر ہر انداز الگ سا تھا اور میں سیکھنے کی شائق۔
بچوں پر خاص توجہ سے عرب ماؤں کی فضیلت سمجھ آئی کہ وہ بچوں کا بہت خیال رکھنے والی ہوتی ہیں۔
بچوں سے فارغ ہو کر عفوا (معذرت)کہتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئیں۔
مشکل سے روکے ہوئے سوالات میں سے پہلا سوال پوچھا آپ اتنے چھوٹے بچے کو وضو کیوں کرواتی ہیں۔ ان کا جواب سوچ کی نئی جہت دینے والا تھا کہنے لگیں بچہ سب کچھ اسی عمر میں سیکھتا ہے اپنی شخصیت کی بنیادیں رکھتا ہےاس عمر میں دیا جانے والا ہر تصور پختگی کے ساتھ بچے کی شخصیت میں پیوست ہو جاتا ہے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکیزگی اسکی بنیادوں میں ڈالنا چاہتی ہوں اس لئے اسے پہلے دن سے وضو کی عادت ڈالی ہے۔
امید ہے آخری دم تک پاکی کے ساتھ رہے گا اور اس کے اعضاء وضو روز قیامت روشن ہونگے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ معصوم ہے شیاطین کے حملے بھی ہوتے ہیں ان سے تحفظ ہوگا۔
جھٹ دوسرا سوال کیا ۔کھانے کے دوران ایک مرتبہ تو اللہ کا شکر ادا کرنا سمجھ آتا ہے یہ ہر ہر نوالے پر بات سمجھ نہیں آئی۔وہ مسکرائیں اور سمجھاتے ہوئے کہا ۔
میری پیاری سہیلی وہ رب جس نے ہمیں خاص طور پر بنایا تمام مخلوقات کو ہماری خدمت میں لگایا۔ ہم تو شکر ادا کر ہی نہیں سکتے ۔یہ نوالہ جو ہم منہ میں ڈالتے ہیں۔کتنے مراحل سے گزار کر ہمارے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے۔اس کا شکر تو ہر سانس کے ساتھ واجب ہے۔
شکر کا احساس بچوں کی گھٹی میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اس نے اللہ کی دی نعمتوں کا ایسا تذکرہ کیا کہ سر شرم سے جھک گیا۔
ہم ایک شکائتی ماحول میں پلنے والے لوگ ہیں ۔آپس میں ایک دوسرے سے تو نالاں رہتے ہی ہیں رب سے بھی شکوے شکائتوں ہی کا تعلق ہے ۔ اولین تعلق شکر گزاری کا ہو یہ ان سے سیکھا۔
ان کے سامنے بیٹھی زندگی کے کئی سبق لیتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔
*جو سبق سیکھے وہ آپ بھی سیکھئے*
👈 *ٹیچر کسے کہتے ہیں؟* 👉
ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ *Teacher* ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ *mostly* ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ *Teacher* ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ *Teacher* ﮐﯽ ﺩﻭﺭِ ﺟﺪﯾﺪ ﮐﯽ ﻣﺎﮈﺭﻥ *Definition* ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻭﮦ *definition* ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ:
*TEACHER is equal to Motivator*
ﺍﮔﺮ ﭨﯿﭽﺮ *Motivate* ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﻨﺎ، ﺑﺘﺎ ﺩﯾﻨﺎ، ﺳمجھا دینا ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﯾﮏ Spark ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ، will ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ licence (ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﺎﻣﮧ) ﻟﮯ ﮐﺮ Teach ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺏ ﺍﺱ *Teaching licence* ﮐﻮ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ 6 ﻣﯿﺠﺮ ﮐﻮﺍﻟﭩﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
*01» سبجیکٹ گرپ:*
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ common ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ *Upgraded* ﺑﮭﯽ ﮨﮯ؟
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ *knowledge* ﮨﻢ carry ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﮔﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
*02» کمیونیکیشن سکل:*
ﯾﮧ ﺑﮩﺖ *important* ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﮯ، ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ skill ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ۔
*03» سوشل جینئس (Social Genius):*
ﺍﺱ ﺧﺎﺹ *terminology* ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ، ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ، ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔
*04» موٹیویشن:*
ﭨﯿﭽﺮ ﻣﯿﮟ motivation ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺟﺬﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، spark ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ۔
*05» ٹریو لرنر (True Learner):*
ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ گے؟
*06» پراگریسو ایٹیوڈ (Progressive Attitude):*
ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ وہ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا...
• 👈 *بهروسہ مضبوط رکھے* 👉
ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا، لڑکا بار بار کہتا رہا
اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا :"میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔
یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا
'آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں'
اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: "اچھا بیٹے! اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل لے دوں گا۔" یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کچھ دنوں میں اس نے پیسے پورا کر کے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی...
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ ۔ جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں...یہ وہ لمحہ ہےجب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ اپنی شخصیت کو مٹا دینے ، ختم کردینے کی انتہا بن جاتی ہے....
اس وقت الله کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لےلیتا ہے
جب انسان اپنے رب پر اس قدر بھروسا کر لیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی اسکی ضرورت پوری کرنے والا نہیں تو الله بھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتا ، اس کی دعا ضرور قبول کرتا ہے
اور ہمارا يہ بهروسہ ہی ہمارا ايمان مضبوط کرتا ہے
آدمی کا پتلا
انسانی جسم میں 60 عناصر پائے جاتے ہیں جنکو مٹی کہا جاتا ہے۔
آکسیجن
کاربن
ہائیڈروجن
نائٹروجن
کیلسیم
فاسفورس
پوٹاسیم
سلفر
سوڈیم
کلورین
میگنیسیم
سونا
چاندی وغیرہ
انسانی جسم 37.2 ٹریلین خلیات پر مشتمل ہے۔
ہر خلیہ مرکزی جسمیہ نیوکلیس پر مشتمل ہے جو خلیہ کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول اور بحال رکھتا ہے۔
ہر انسانی نیوکلیس 46 کروموسوم پر مشتمل ہے۔ ہر نوع کے لیے کروموسوم کی تعداد الگ الگ ہے۔
ہر کروموسوم DNA پر مشتمل ہے۔ اور فرد سے متعلق تمام معلومات یہیں پائی جاتی ہیں۔
ہر ڈی این اے 4 نیوکلیوٹائیڈ پر مشتمل ہے۔
1۔ایڈینین
2۔گوانین
3۔تھائی مین
4۔سائیٹوسین
ہر ایڈینین 3 طرح کے عناصر پر مشتمل ہے۔
1۔کاربن
2۔ہائیڈروجن
3۔نائٹروجن
کاربن ایٹم مزید 3 طرح کے اجزا پر مشتمل ہے
1۔ 6الیکٹران
2۔ 6 پروٹان
3۔ 6 نیوٹران
ہر الیکٹرون قوارکس پر مشتمل ہے۔
1۔ اپ قوارک
2۔ ڈاؤن قوارک
ہر قوارک سٹرنگ نما یعنی ڈوری دار چکر ہے۔ جوکہ ابھی تک ایک سٹرنگ تھیوری کی حیثیت رکھتی ہے۔
سٹرنگ کا ذریعہ ڈارک میٹر یا کاسمک ریز ہے۔
سمری:
خلیہ
نیوکلیس
کروموسوم
ڈی این اے
نیوکلیوٹائیڈ
ایڈینین۔۔۔گوانین۔۔۔تھائی مین۔۔۔سائیٹوسین
کاربن۔۔۔نائٹروجن۔۔۔ہائڈروجن
الیکٹران۔۔۔پروٹان۔۔۔نیوٹران
قوارک
سٹرنگ
ڈارک میٹر
یہ ہے سائنس کی آخری حد۔۔۔جوکہ مادے تک محدود ہے۔
اس سے آگے روحانیت ہماری راہنمائی کرتی ہے۔
یعنی مادہ کی حقیقت روشنی ہے۔
روشنی کی حقیقت نور ہے۔
اور نور کی حقیقت تجلی ہے۔
تجلی صفت الہیہ ہے۔
صفت ذات کا ہی ایک رخ ہے۔
اور ذات واحد اللہ ہے۔
قرآن مجید کی سورتوں کے نام بمع مطلب:
۲- سورۂ بقرہ (گائے )
۳- سورۂ آل عمران (عمران کی اولاد)
۴- سورۂ نساء (عورتیں)
۵- سورہ ٔمائدہ (دسترخوان)
۶- سورہ ٔانعام (جانور، مویشی)
۷- سورہ ٔ اعراف (بلندیاں)
۸- سورۂ انفال (اموال غنیمت)
۹- سورۂ توبہ (معافی)
۱۰- یونس (ایک پیغمبر کا نام)
۱۱- سورۂ ہود (ایک پیغمبر کا نام)
۱۲- سورہ ٔ یوسف ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۳- سورۂ رعد ( بادل کی گرج)
۱۴- ابراہیم ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۵- سورۂ الحجر(ایک مقام کا نام)
۱۶- سورۂ نحل (شہد کی مکھی)
۱۷- سورہ ٔٔبنی اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد)
۱۸- کہف (غار)
۱۹- سورۂ مریم (عیسی علیہ السلام کی والدہ کا نام)
۲۰- سورۂ طٰہ (حروف تہجی کے دو حروف)
۲۱- سورۂ انبیاء (اللہ کے پیغمبر، نبی کی جمع)
۲۲- سورۂ حج (زیارت)
۲۳- سورۂ مومنون (ایمان والے لوگ)
۲۴- سورۂ نور (روشنی )
۲۵- سورہ فرقان (حق و باطل میں امتیاز کرنے والی چیز)
۲۶- سورۂ شعراء (شاعر کی جمع)
۲۷- سورہ نمل ( چیونٹی)
۲۸- سورہ قصص (قصے، سچے واقعات)
۲۹- سورہ ٔ عنکبوت ( مکڑی)
۳۰- سورۂ روم (روم)
۳۱- سورہ لقمان (ایک صالح بزرگ کا نام)
۳۲- سورۂ سجدہ (جھکنا، سجدہ کرنا)
۳۳- سورہ ٔ احزاب (حزب : گروہ ، جمع : احزاب، جنگ)
۳۴- سورۂ سبا ( ایک قوم )
۳۵- سورۂ فاطر (پیدا کرنےوالا)
۲۶- سورۂ یسین (رسول کا نام)
۳۷- سورہ صافات ( صف بستہ )
۳۸- سورۂ ص (حروف تہجی کا ایک حرف)
۳۹- سورہ زمر ( گرورہ در گروہ)
۴۰- سورۂ مومن ( ایمان والا)
۴۱- سورہ حم (حروف تہجی کے حروف)
۴۲- سورہ ٔ شوری ( صالح و مشورہ)
۴۳- سورہ زخرف (سونا)
۴۴- سورہ دخان ( دھواں)
۴۵- سورہ جاثیہ ( گٹھنوں کے بل گرے ہوئے ہونا)
۴۶- سورہ االحقاف ( ایک جگہ کا نام)
۴۷- سورہ محمد (پیغمبر اسلام حضرت محمد ص کا نام مبارک)
۴۸- سورہ فتح (جیت، کامیابی)
۴۹- سورہ حجرات (حجرے ، کمرے)
۵۰- سورۂ ق (حروف تہجی کاایک حرف )
۵۱- سورۂ ذاریات ( گرد اڑانے والی ہوا)
۵۲- سورۂ طور ( ایک پہاڑ کا نام)
۵۳- سورہ نجم (ستارہ)
۵۴- سورہ قمر (چاند)
۵۵- سورہ رحمن (بہت زیادہ رحم فرمانے والا ، اللہ تعالی کے اسمائے حسنی)
۵۶- سورہ واقعہ (قیامت)
۵۷- سورہ حدید (لوہا)
۵۸- سورہ مجادلہ (بحث ، تکرار ، جھگڑا)
۵۹- سورہ حشر (جمع ہونا، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، قیامت)
۶۰- سورہ ممتحنہ (امتحان لینے والی)
۶۱- سورہ صف (صف بستہ)
۶۲- سورہ جمعہ (دنوں میں سے ایک مبارک دن)
۶۳- سورہ منافقون ( منافق لوگ)
۶۴- سورہ تغابن (خسارہ سے دو چار ہونا)
۶۵- سورہ طلاق (آزاد کرنا، طالق دینا)
۶۶- سورہ تحریم (حرام کر دینا)
۶۷- سورہ ملک (بادشاہی)
۶۸- سورہ قلم (قلم)
۶۹- سورہ حاقہ (حقیقت، قیامت)
۷۰- سورہ معارج (بلندیاں)
۷۱- سورہ نوح (ایک پیغمبر کا نام)
۷۲- سورہ جن ( آگ سے پیدا کردہ ایک مخلوق)
۷۳- سورہ مزمل (چادر لپیٹنے واال)
۷۴- سورہ مدثر (چادر اوڑھنے واال)
۷۵- سورہ قیامت (یقینا قائم ہونے الی، قیامت)
۷۶- سورہ ٔ الدھر(بنی آدم)
۷۷- سورہ ٔمرسالت (ہوائیں)
۷۸- سورہ نبأ (اہم خبر)
۷۹- سورہ نازعات (کھینچنے والیاں، ہوا کی صفت)
۸۰- سورہ عبس (تیوری چڑھانا)
۸۱- سورہ ٔ تکویر (لپیٹنا )
۸۲- سورہ الانفطار( دراڑ)
۸۳- سورہ المطففین (ناپ تول میں کمی)
۸۴-سورہ الانشقاق ( شق ہونا )
۸۵- سورہ البروج ( آسمانی برج )
۸۶- سورہ الطارق ( چمکتا تارا )
۸۷-سورہ الاعلیٰ ( اعلی )
۸۸- سورہ الغاشیہ ( آنے والی آفت )
۸۹- سورہ الفجر ( فجر)
۹۰-سورہ البلد ( شہر)
۹۱-سورہ الشمس ( سورج )
۹۲-سورہ الیلل ( رات)
۹۳ -سورہ الضحیٰ ( دن کو اجالا)
۹۴-سورہ الشرح ( سکون قلب )
۹۵- سورہ التین ( انجیر )
۹۶-سورہ العلق ( جمع ہوا خون )
۹۷-سورہ القدر ( قدر)
۹۸-سورہ البیان ( واضح قسم)
۹۹-سورہ الزلزلہ ( زلزلہ)
۱۰۰-سورہ العادیات ( سر پٹ دوڑنے والے گھوڑے)
۱۰۱-سورہ القارعہ ( کھڑکھڑابے والی)
۱۰۲-سورہ التکاثر ( کثرت کی خواہش )
۱۰۳-سورہ العصر ( دور عصر )
۱۰۴-سورہ الھمزہ ( ریب جوئی والا)
۱۰۵-سورہ الفیل ( ہاتھی)
۱۰۶-سورہ القریش ( قریش )
۱۰۷-سورہ الماعون ( عام استعمال کی چیزیں )
۱۰۸-سورہ الکوثر ( حوض کوثر)
۱۰۹-سورہ الکافرون (کافر)
۱۱۰-سورہ النصر (مدد)
۱۱۱- سورہ لہب( آگ کے شعلے)
۱۱۲-سورہ الاخلاص (وحدانیت)
۱۱۳- سورہ الفلق ( صبح)
۱۱۴-سورہ الناس (انسان،لوگ)
*"وقت" کی "وقت" پر قدر کریں۔."وقت" کے پاس بھی اتنا "وقت" نہیں کہ وہ دوبارہ آپ کو "وقت" دے سکے۔۔۔!!*