22/11/2025
استاد کا ڈنڈا یا مار نہیں پیار زندگی کا ایک تلخ تجربہ
پڑھتے ھم بھی رھے ھیں ڈنڈے تھپڑ کھاۓ ھیں گھر آ کے بتاتے تھے تو مزید بے عزتی ھوتی تھی کان پکڑوا کر دبر پر بے تحاشا چھترول ھوتی تو ھاتھ لگا لگا دیکھتے کہ ساتھ ھے بھی کہ نہیں
پھر ایک وقت آیا مار نہیں پیار کا سلوگن سکول کی boundary walls دیواروں کی زینت بنا ٹیچر کو جسمانی سزا سے روک دیا گیا حیرت کی بات ھے یہ جسمانی سزاٸیں آرمی ٹریننگ سنٹرز و کاکول اکیڈمی رسالپور اکیڈمی کیڈٹ کالجز میں جوں کی توں ھیں
انڈر ٹریننگ پولیس اور فوجی جوان افسرز کیڈٹس سخت سزاؤں Severe Corporal punishments سے مر بھی جاتے ہیں تو پرنٹ میڈیا الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کی رونق نہیں بنتے، جبکہ دوسری طرف استاد کا تھپڑ کا نشان اسے تھانے کچہری میں لا کھڑا کرتا ہے.
عام تعلیمی اداروں میں صرف استاد کو بے بس بے کس کرنا مقصود تھا، بچوں کے دل سے اس کا خوف ختم کرنا مقصود تھا کہ وہ انہیں کسی اصول Rule ضابطے Regulation کا پابند dDiscipline نہ بنا سکے اور وہ ان کی غیر اخلاقی سرگرمیوں پر ان کا محاسبہ نہ کر سکے. اس میں ان لوگوں جا ہاتھ بہت زیادہ ہے جو کبھی سکول کے اندر کسی کلاس میں ہی نہیں بیٹھے مگر فیس بک ۔پر نام نہاد صحافی بنے پھرتے ہیں ۔خود تو 4 جماعتیں نہیں پڑھی مگر تعلیمی ادارے کے خلاف پوسٹیں شئیر کرنا جہاد سمجھتے ہیں ۔کیونکہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ ایک آسان ٹارگٹ ہوتا ہے وہاں کی ٹیچرز خواتین ہوتی ہیں ۔یا انچارج زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں۔ مرد بھی ہو تو وہ جھگڑے فساد یا جوابی کاروائی والا نہیں ہوتا کیونکہ وہ صاحب علم جو ٹھہرا ۔ مگر کچھ منفی ذہنیت کے لوگ بھی اس مقدس پیشے کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ باقی شریف لوگوں کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں کے خلاف پوسٹیں شئیر کرنے والوں کو کبھی بھی منشیات فروشوں کا نام اور تصویر ۔سود خوروں کے نام اور تصویر ۔جوئے کے اڈوں کے مالکان کے نام اور تصویر ان لوگوں کی ذاتی فیس بک آئی ڈی ۔یا انکے ذاتی نمبر سے شئیر نہیں ہوتیں ۔کیونکہ وہ شریف لوگ ان خود ساختہ صحافیوں کے خلاف پوری کاروائی ڈالتے ہیں ۔
صرف بے چارہ استاد ایسے فیس بکیوں اور والدین کی تضحیک آمیز گفتگو سنتا ھے اور استاد اس ایک تھپڑ کے جرم میں جو بچے کی اصلاح کےلیے مارتا ھے سٹوڈنٹ اور parents سے معافیاں مانگتا ہے. إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
کہتے ہیں کہ معاشرہ برباد ہو گیا. اولاد والدین کی فرمانبردار نہیں رہی یا بچے اپنی طبعی عمروں سے پہلے اخلاقی پستی کی حدود میں پنگا بازی کررھے ہیں کو ماں بہن اور معصوم بچیاں بھی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں ، تو یاد رکھیں یہ سارے کام تب ہو رہے کہ استاد کے ہاتھ باندھے گئے ہیں استاد کی مار روک دی گئی اس کی جگہ CCTD نے لے لی ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ نیفے کے پستول سے بہتر تھا استاد تھپڑ مار کر شروع میں ہی روک لیتا ۔ بچے کی غلطی پر اپ اسکی سرزنش نہیں کر سکتے لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا ہوتی ہے ۔کچھ والدین ایک سکول میں آۓ تو والد کہہ رہا تھا ان پر سختی کریں میرے بیٹے نے میرے
منہ پر تھوکا ھے وہ پیسے مانگ رہا تھا میں نہیں دے سکا