Ch Khurram Wahla Official

Ch Khurram Wahla Official

Share

Motivational speaker, Istikhara, vlogs, wazaif, etc

21/04/2025
Photos from Ch Khurram Wahla Official's post 04/10/2024
Photos from Ch Khurram Wahla Official's post 30/09/2024

اللہ تعالٰی کے ہر کام میں حکمت ہے

22/09/2024

ازقلم:مفتی شاکر عطاری
امی لقب کا معنی اور حکمتیں:
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے صفاتیہ میں سے ایک صفت ”اُمّی“ بھی ہے ،جس کے چند معانی ہیں؛(1)امی ،ام سے بنا ہے اور ام کا معنی اصل ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کائنات کی اصل ہیں،جیساکہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اول ما خلق اللہ نوری ومن نوری خلق کل شئی)اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نو ر کو پیدا کیا اور پھر میرے نور سے تمام چیزوں کو پیدا کیا۔اللہ تعالی کا فرمان:( لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الأفْلَاکَ)۔’’محبوب! اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو کائنات ہست و بود کو بھی وجود میں نہ لاتا۔‘‘
فاضل بریلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہے وہ جہان کی ،جان ہے تو جہان ہے۔
ظفر علی خان لکھتے ہیں:
گر ارض و سما کی محفل میں لَولَاکَ لَمَا کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں
ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب کہا:
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہوں تو پھر مہِ بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو۔
(2)امی اُم القرای کی طرف نسبت کرتے ہوئے،ام القرای مکہ کا ایک نام ہے،تو امی کا مطلب ہوا،مکہ میں رہنے والے۔
(3)امی کا ایک معنی ہے ،بے پڑھے۔یعنی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دنیا میں کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا ، مگرخلاقِ عالَم،علام الغیوب رب عزوجل نے آپ کو اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا،ایسا کیوں نہ ہوتا کہ سکھانے والا تمام مخلوق کو پیدا کرنے والا خالق،جس کا کوئی شریک نہیں،چنانچہ ارشادِ خداوندی :علمک مالم تکن تعلم۔اے محبوب جو آپ نہیں جانتے تھے،اللہ نے وہ سب آپ کو سکھا دیا۔ مزید فرمایا:”الرحمن علم القرآن“رحمن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔
سکھائی جانے والی کتاب قرآن ،جس کی ایک آیت کی بھی کوئی مثل نہیں،جس میں ہر خشک و تر کا بیان،جو خود ہر چیز کا روشن بیان ،چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: تبیانا لکل شی(یہ قرآن ہر چیز کا روشن بیان ہے)۔۔۔۔ولارطب و لایابس الا فی کتاب مبین(کوئی تر و خشک ایسا نہیں جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو)
جسے سکھایا گیا،وہ مخلوق میں سب سے اولی و اعلی ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں۔جنہوں نے رب سے سیکھ کر خود فرمایا:انا مدینۃ العلم۔میں علم کا شہر ہوں۔
اور حضرت وہب بن منبہ (متوفی ۱۱۰ھ ) رضی اللہ عنہ نے فر مایا :جب سے دنیا عالم وجود میں آئی ہے، اس وقت سے قیامت تک کے تمام انسانوں کی عقل کارسول اللہ ﷺ کی عقل شریف سے موازنہ کیا جائے تو تمام انسانوں کی عقل کو رسول اللہ ﷺکی عقل شر یف سے وہی نسبت ہوگی جو ایک ذرہ کو تمام ریگستان دنیا سے نسبت ہے۔
لہذا امی ہونا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عظیم الشان معجزات میں سے ایک معجزہ ہے اور اس کی بہتر حکمتیں تو رب ہی جانتا ہے،لیکن علمائے کرام نے اپنی دانست سے چند حکمتیں بیان کی ہیں؛
(1)۔ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو سکھانے والا صرف خداوند ِعالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہو تاکہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔
(2) کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استاد تھا، تو شاید وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہو گا۔
(3) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔
(4) جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ساری دنیا کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں، تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
(5)۔ اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد ہوتا تو آپ کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی، حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو خالق کائنات نے اس لیے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرے، اس لیے حضرت حق جل شانہ نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے کرے اور کوئی ان کا استاد ہو۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ
اَیسا امی کس لئے منت کشِ استاذ ہو
َکیا کفایت اس کو اقرء ربک الاکرم نہیں۔

10/07/2024

تربیت اولاد پارٹ 1
پنسل چوری سے پھانسی گھاٹ تک کا سفر
لازمی سنئے گا اور شئیر بھی کہجئے گا کہ نیکی کا پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے
https://youtu.be/0gIzqHajlCc?si=DLyw67BFV-CQIl-P
👆👆👆👆👆
پنسل چوری سے پھانسی گھاٹ تک کا سفر
بہت عبرت ناک واقعات
اپنی اور اپنی اولاد کی تربیت کیلئے لازمی سنیں
پسند آئے تو چینل سبسکرائب کیجئے گا
نیکی کی بات کو پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے

08/07/2024

"بابے تے شے ای کوئی نئیں"کرامت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ(قبر والے سے ہم کلام ہونا)

03/07/2024

از:مفتی شاکر عطاری
آج دورۃ الحدیث میں ”آیات و احادیث کےناسخ و منسوخ “ہونے کے اعتبار سے تفصیلی لیکچر دیا،جو عوام و خواص کے فائدے لئے بھی شئیر کیا جا رہا ہے ۔
نسخ کا لغوی معنیٰ:کسی چیز کو زائل کرنا ،تبدیل کرنا ،کسی چیز کو باطل کرکے دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کرنا، وغیرہ۔
(القاموس ،جلد 1صفحہ 533مطبوعہ بیروت)
نسخ کا اصطلاحی معنیٰ :”اماالنسخ فی الاصطلاح فھو رفع الحکم الشرعی بدلیل شرعی متاخر“ ترجمہ:حکم شرعی کو بعد میں آنے والی دلیل شرعی سے اٹھا دینے کو نسخ کہتے ہیں ۔ (تفسیر خازن ،سورۃ البقرہ، تحت الآیۃ: 106، جلد1 صفحہ 77مطبوعہ بیروت )
احکام شرعیہ کو منسوخ کرنے کی حکمتیں:
سوال :
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس میں کیا حکمت ہے کہ قرآنی آیات کی تلاوت کو باقی رکھا گیا ہے اور ان کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا ہے ؟
جواب :
(1)اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جس طرح قرآن مجید کی اس لیے تلاوت کی جاتی ہے کہ اس سے ایک شرعی حکم معلوم کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ،اِسی طرح قرآن پاک کی اس لیے بھی تلاوت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور اس کی تلاوت سے ثواب ملتا ہے۔
(2) دوسرا جواب یہ ہے کہ بالعموم احکام میں نسخ تخفیف پیدا کرنے کیلئے ہوا ہے، جیسا کہ قرآنی مثالوں سے واضح ہے اور منسوخ الحکم آیتوں کو اس لیے برقرار رکھا گیا ،تاکہ مسلمان ان آیات کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مشقت سے نجات دی اور ان کے لیے آسان احکام مشروع کر دیئے۔
یہ کلام ان آیات کے متعلق ہے جن میں مشکل احکام کو منسوخ کر کے آسان احکام مشروع کیے گئے۔
البتہ بعض منسوخ الحکم آیات ایسی ہیں کہ جن میں آسان احکام کو منسوخ کرکے مشکل احکام مشروع کئے گئے ، ان کی حکمت یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی ،تو وہ زمانہ فترت تھا اور برسوں سے جو عقائد، عادات اور معمولات ان میں رچ بس گئے تھے ،وہ ان کی فطرت ثانیہ بن چکے تھے اور یک لخت ان تمام چیزوں سے ان کو چھڑانا بہت مشکل تھا ،کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو خدشہ تھا کہ وہ اسلام کو ہی چھوڑ جاتے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قریش نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ معظمہ کی نامکمل تعمیر کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِناءِ ابراہیم کے مطابق کعبہ کو تعمیر کرنا چاہتے تھے (بناء ابراہیم میں حطیم، کعبہ معظمہ میں داخل تھا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ معظمہ میں د خ*ل اور خروج کے لیے دو دروازے بنانا چاہتے تھے ، لیکن آپ نے اس لیے ایسا نہیں کیا کہ اہل عرب کو کعبہ معظمہ سے بہت والہانہ محبت تھی ، اگر نئی تعمیر کے لیے کعبہ معظمہ کو منہدم کیا جاتا ،تو جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اسلام چھوڑ جاتے۔
( صحیح بخاری ،جلد 1،صفحہ 23، مطبوعہ کراچی )
لہٰذ اسی وجہ سے شروع میں آسان احکام مشروع کیے گئے اور جب لوگ اسلام میں راسخ ہو گئے، تو پھر سخت احکام مشروع کیے گئے،جیسا کہ شراب کا حرام ہونا، اسلام میں اس کے احکام کو آہستہ آہستہ نافذ کیا گیا ۔
بعض ایسے احکام منسوخ کیے گئے، جو مشکل اور سہل ہونے میں ناسخ کے مساوی ہیں، ان میں نسخ کی حکمت یہ تھی کہ مسلمانوں کو ابتلاء اور امتحان میں ڈالا جائے ،تاکہ مؤمنوں اور منافقوں میں امتیاز ہو جائے اور خبیث اور طیب الگ الگ ہوجائے ، جیسے بیت المقدس کے قبلہ ہونے کو منسوخ کر کے بیت اللہ کو قبلہ بنایا گیا، تو مؤمن اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور منافقوں کا خبث ظاہر ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا الا لتَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ على عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى) ترجمہ:(اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ (پہلے) جس قبلہ پر تھے، وہ ہم نے اس لیے شروع کیا تھا کہ جو لوگ رسول کی پیروی کرتے ہیں، ان کو ہم ان لوگوں سے ممتاز کر دیں، جو الٹے پاؤں پھر جاتے ہیں اور بے شک یہ (تحویل قبلہ) شاق تھا، ماسوا ان لوگوں کے جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی۔
(القرآن الکریم ،پارہ 2،سورۃ البقرہ ،آیت نمبر 143)
یہ بحث اسلام کے بعض احکام کےمنسوخ کے سلسلہ میں تھی۔
رہا یہ امر کہ اسلام کے آنے کے بعد پچھلی تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں، اس کی حکمت یہ ہے کہ نوع انسان اپنی عقل اور شعور کے اعتبار سے اس طرح تدریجاً ترقی کرتی رہی ہے، جس طرح بچہ اپنی نشو ونما کے اعتبار سے بتدریج ترقی کرتا ہے ، اس لیے ہر نبی علیہ السلام کے عہد (زمانہ)میں نوع انسان اپنی عقل اور شعور کے اعتبار سے جس درجہ میں تھی، اسی درجہ کے اعتبار سے اس پر احکام شرعیہ مشروع کیے گئے اور جب نوع انسان اپنے کامل ارتقاء کو پہنچ گئی، تو سابقہ تمام احکام منسوخ کر کے اس پر قیامت تک کے لیے ایک کامل شریعت نازل کر دی گئی۔
نسخ کی اقسام :
نسخ کی چار اقسام ہیں :
(1)قرآن کا نسخ قرآن سے ہوگا (2)قرآن کا نسخ سنت سے ہوگا
(3)سنت کا نسخ قرآن سے ہوگا (4)سنت کا نسخ سنت سے ہوگا

(1)قرآن کا نسخ قرآن سے :
بعض اوقات قرآن پاک کی بعد میں نازل ہونے والی آیت پہلے سے نازل شدہ آیت کا حکم ختم کر دیتی ہے ،اس کو نسخ القرآن بالقرآن کہتے ہیں۔
مثال:
اللہ پاک نے قرآن پاک میں پہلے کفار سے معاف کرنے اور در گزر کرنے کا ارشاد فرمایا ،جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 109 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: (فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ )ترجمہ کنزالایمان: تو تم چھوڑو اور درگزر کرو ،یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔
اس آیتِ مبارکہ کا حکم سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 5 سے منسوخ ہے :قال اللہ تعالیٰ : (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۚ) ترجمہ کنزالعرفان: مشرکوں کو مارو جہاں تم انہیں پا ؤاور انہیں پکڑلو اور قید کرلو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو ۔
اور سورۃ التحریم کی آیت نمبر 5 سے بھی اس آیت مبارکہ کا حکم منسوخ ہے :(یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ) ترجمہ کنزالایمان:اے غیب بتانے والے (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بُرا انجام۔
(2)قرآن کا نسخ سنت سے:
بعض اوقات قرآن پاک کی آیت مبارکہ کا نازل شدہ حکم عام ہوتا ہے اور اس کو حدیث متواتر سے خاص کر دیا جاتا ہے ،اس کو نسخ القرآن بالسۃ کہتے ہیں ۔
مثال :جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ مرنے والے شخص کی ایک بیٹی ہو تو اس کو وراثت کا نصف حصہ ملے گا (وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-) ترجمہ کنزالایمان :اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا (حصہ ہے والد کے ترکہ میں سے)
لیکن مسلم شریف کی حدیث کی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے بارے میں یہ حدیث پاک بیان فرمائی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”لانورث ما ترکناہ فھو صدقۃ “ ترجمہ:ہم انبیاء کرام جو مال چھوڑتے ہیں ، اس کا وارث نہیں بناتے ،وہ مال صدقہ ہوتا ہے ۔ ( صحیح مسلم ،جلد 2،صفحہ 81،مطبوعہ کراچی )
اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مال سے کچھ عطا نہ فرما یا ۔
اسی طرح اللہ پاک نے قرآن پاک میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 103 میں ارشاد فرمایا :(اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ) ترجمہ:کنزالعرفان :نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔
اس آیت مبارکہ کا حکم عام ہےکہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ہی ادا کیا جائے ،لیکن میدان عرفات میں نماز ظہر و عصر کو اور مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کو جمع کیا جاتا ہے،یہ حکم متواتر حدیثِ پاک سے خاص ہے ۔
چنانچہ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ’’ما رایت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی صلاۃ بغیر میقاتھا الا صلاتین جمع بین المغرب و العشاء ترجمہ:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز اس کے وقت کے علاوہ میں پڑھی ہو، مگر دو نمازیں یعنی مغرب اور عشاء (مزدلفہ میں )آپ نے جمع فرمائیں۔
(صحیح البخاري، حدیث نمبر 1682)
اور نماز ظہر و عصر کو جمع کرنے کے متعلق بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے :”عن ابن عمر، قال: غدا رسول الله صلى الله عليه وسلم من منى حين صلى الصبح صبيحة يوم عرفة حتى اتى عرفة فنزل بنمرة وهي منزل الإمام الذي ينزل به بعرفة، حتى إذا كان عند صلاة الظهر راح رسول الله صلى الله عليه وسلم مهجرا فجمع بين الظهر والعصر، ثم خطب الناس، ثم راح فوقف على الموقف من عرفة“ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے، تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب نمازظہر کا وقت آنے کو ہوا ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نمرہ سے) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا۔
(صحیح البخاري، حدیث نمبر 1933)
(3)سنت کا نسخ قرآن سے:
بعض اوقات حدیثِ پاک میں بیان کردہ حکم کو بعد میں نازل ہونے والی آیتِ مبارکہ ختم کر دیتی ہے ،اس کو نسخ السنۃ بالقرآن کہتے ہیں ۔
مثال :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ،جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی مندرجہ ذیل حدیثِ پاک میں ہے :”عن البراء بن عازب رضي الله عنهما، قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى نحو بيت المقدس ستة عشر او سبعة عشر شهرا، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب ان يوجه إلى الكعبة، فانزل الله (قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ) فتوجه نحو الكعبة، ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :ہم آپ کا آسمان کی طرف باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں، پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔
مذکورہ حدیثِ پاک کا حکم قرآن پاک کی اس آیتِ مبارکہ سے منسوخ ہے :
قال اللہ تعالیٰ : (قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ) ترجمہ کنزالعرفان:ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں ،تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے ،جس میں تمہاری خوشی ہے، تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرلو اور بیشک وہ لوگ جنہیں کتاب عطا کی گئی ہے ،وہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں۔
(2) صحیح بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے :
عن البراء رضي الله عنه قال: كان أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم إذا كان الرجل صائما، فحضر الإفطار، فنام قبل أن يفطر لم يأكل ليلته ولا يومه حتى يمسي، وإن قيس بن صرمة الأنصاري كان صائما، فلما حضر الإفطار أتى امرأته، فقال لها أعندك طعام؟ قالت: لا، ولكن أنطلق فأطلب لك وكان يومه يعمل، فغلبته عيناه، فجاءته امرأته، فلما رأته قالت: خيبة لك فلما انتصف النهار غشي عليه، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، وَنَزَلَتْ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ترجمہ:حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (شروع اسلام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا ،تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی یہاں تک کہ پھر شام ہو جاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی روزے سے تھے، جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا (اس وقت کچھ) نہیں ہے، لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا ،اس لیے آنکھ لگ گئی ،جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں (سوتے ہوئے) دیکھا تو فرمایا: افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہو گئے، جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےکیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ”حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا“ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (صبح کاذب) سے۔
اس حدیثِ پاک کا حکم سورۃ البقرہ کی آیتِ نمبر 187 سے منسوخ ہے :
قال اللہ تعالیٰ: (أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ) ترجمہ کنزالعرفان :تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا۔
اب رمضان کی راتوں میں بیویوں سے ہمبستری کرنا حلال ہے ۔
(4)سنت کا نسخ سنت سے:
بعض اوقات ایک حدیثِ پاک کا حکم دوسری حدیثِ پاک سے ختم ہوجاتا ہے ،اس کو نسخ السنۃ بالسنۃ کہتے ہیں ۔
مثال :
جیسا کہ شروع اسلام میں قربانی کا گوشت تین (3) دن سے زائد رکھنا جائز نہیں تھا ،جیسا کہ بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے : عن علي بن ابي طالب رضی اللہ عنہ ، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهاكم ان تاكلوا لحوم نسككم فوق ثلاث ترجمہ: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔
پھر اس حدیث ِ پاک کا حکم اس حدیثِ پاک سے منسوخ ہوگیا ۔
عن بريدة، انه كان في مجلس فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:” إني كنت نهيتكم ان تاكلوا الحوم الاضاحي إلا ثلاثا فكلوا واطعموا وادخروا ما بدا لكم “ ترجمہ:حضرت بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے ،جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (موجود) تھے، تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا (تو اب تم) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے ذخیرہ کرو۔
(اخبار أهل الرسوخ في الفقه والتحديث بمقدار المنسوخ من الحديث،جلد 1،صفحہ 39،مطبوعہ مکہ مکرمہ)
(2)ایسے ہی شروع اسلام میں جمعہ کے دن غسل کرنا واجب تھا ،پھر اس کا حکم دوسری حدیثِ پاک سے منسوخ ہوگیا ۔
جیسا کہ بخاری شریف کی حدیثِ پاک میں ہے :
عن ابي سعيد الخدري رضی اللہ عنہ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم“ ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے۔
(صحیح بخاری ،حدیث نمبر858)
اس حدیثِ پاک کا حکم اس حدیث پاک سے منسوخ ہوگیا ۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من توضا فبھا و نعمت و من اغتسل فالغسل افضل “ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو بہتر ہے اور جس نے غسل کیا ،تو غسل کرنا افضل ہے ۔
(اخبار أهل الرسوخ في الفقه والتحديث بمقدار المنسوخ من الحديث،جلد 1،صفحہ 37،مطبوعہ مکہ مکرمہ )
نسخ السنۃ بالسنۃ کی معرفت کی چار اقسام ہیں :
(1)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
(2)صحابہ کرام علیھم الرضوان کی صراحت سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
(3) تاریخ کے مؤخر ہونے سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
(4) حدیثِ پاک کے خلاف علماء کا اجماع ہو جانے سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :

(1)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صراحت فرمائی ہو کہ میرے اس فرمان سے فلاں فرمان کا حکم اب منسوخ ہوچکا ہے ۔
مثال : جیسا کہ اوپر قربانی کے گوشت اور جمعہ کے دن غسل کرنے والی روایات گزر چکی ہیں ،ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد سے معلوم ہوا کہ پہلے والا حکم اب ختم ہوچکا ہے ۔
(2) صحابہ کرام علیھم الرضوان کی صراحت سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
صحابہ کرام علیھم الرضوان اس بات کی صراحت فرما دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فلاں حکم منسوخ ہوچکا ہے ۔
مثال :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آگ سے پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرو۔
(شرح سنن ابی داؤد للعینی ،جلد 1صفحہ449،مطبوعہ بیروت)
اس حدیثِ پاک کا حکم سنن ابی داؤد کی حدیثِ پاک سے منسوخ ہے ،جس میں صحابہ کرام علیھم الرضوان نے صراحت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا حکم اب منسوخ ہوچکا ہے،جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری عمل مبارک یہ تھا کہ آپ آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے ۔
( سنن ابی داؤد ،جلد1،صفحہ 25،مطبوعہ کراچی )
(3) تاریخ کے مؤخر ہونے سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
تاریخ سے یہ معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فلاں سنت دوسری فلاں سنت سے مؤخر ہے ،لہٰذا پہلے والی کا حکم منسوخ ہوچکا ہے ،دوسری سنت پر عمل کیا جائے گا ۔
مثال :جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پہلے مرض میں ارشاد فرمایا کہ امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے، تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں اور آخری مرض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرام علیھم الرضوان نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہ فرمایا ،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری سنت پہلی سنت کیلئے ناسخ ہے ۔
(4) حدیثِ پاک کے خلاف علماء کا اجماع ہو جانے سے معلوم ہو کہ ایک سنت دوسری سنت کیلئے ناسخ ہے :
بعض علماء نے ایک چوتھی قسم بھی ذکر کی ہے کہ جس حدیث کے خلاف علماء کا اجماع ہو جائے، وہ بھی منسوخ ہے۔
مثال :
جیسا کہ جامع ترمذی میں یہ حدیث ِ پاک ہے کہ جو شخص شراب پیئے اس کو کوڑے مارو، دوبارہ اور تیسری باربھی کوڑے مارو اور اگر چوتھی بار شراب پیئے تو اس کو قتل کر دو ، علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ اس کے نسخ پر اجماع کی دلالت ہے، کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ شراب پینے پر قتل نہیں کیا جائے گا ۔
(شرح صحیح مسلم للنووی ،جلد 2 صفحہ 71مطبوعہ کراچی )
قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت اور حکم منسوخ ہونے کے اعتبار تین اقسام ہیں :
(1) آیت مبارکہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں
(2)آیتِ مبارکہ کی تلاوت باقی ہو،مگرحکم منسوخ ہوجائے
(3)آیت ِ مبارکہ کا حکم باقی ہو،مگر تلاوت منسوخ ہوجائے
(1) آیت مبارکہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں:
بعض اوقات قرآنِ پاک کی کسی آیتِ مبارکہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوجاتے ہیں،وہ آیتِ مبارکہ مصحف شریف میں اب موجود نہیں ہوتی اور اس کا حکم بھی نافذ نہیں ہوتا ،نِیز اس کی نماز میں تلاوت بھی جائز نہیں ہوتی ۔
مثال :امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی رات کو تہجد کے لئے اٹھے اور سورۃ فاتحہ کے بعد جو سورت ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، اس کو پڑھنا چاہا ،لیکن وہ بالکل یاد نہ آئی اور سوائے بسم اللہ کے کچھ نہ پڑھ سکے ،صبح کو دوسرے ا صحاب سے اس کا ذکر کیا، ان حضرات نے فرمایا: ہمارا بھی یہی حال ہے، وہ سورت ہمیں بھی یاد تھی اور اب ہمارے حافظہ میں بھی نہ رہی ،سب نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :آج رات وہ سورت اٹھالی گئی ،اس کے حکم و تلاوت دونوں منسوخ ہوئے ،جن کاغذوں پر وہ لکھی گئی تھی ،ان پر نقش تک باقی نہ رہے۔
(تفسیر خزائن العرفان ،36مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ،کراچی )
مثال : اس کی ایک مثال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی وہ حدیثِ پاک بھی ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ شروع اسلام میں رضاعت کا حکم کسی عورت کے دودھ کی دس چسکیاں پینے سے ثابت ہوتا تھا ،پھر اس آیت مبارکہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو گئیں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے قریب کسی عورت کے دودھ کی پانچ چسکیاں پینے سے رضاعت ثابت ہوگی ،اس آیت مبارکہ کی بھی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوگئے ،جن لوگوں تک اس آیت مبارکہ کے منسوخ ہونے کی خبر نہیں پہنچی تھی وہ اس کی تلاوت کرتے تھے ،بعد میں سب کو اس کا علم ہوگیا اور اب مصحف عثمانی میں بھی یہ آیتِ مبارکہ موجود نہیں۔
الاتقان فی علوم القرآن ،زبدۃ الاتقان ،مصنف ابن ابی شیبہ اور موسوعۃ الاعمال الکاملۃ میں ہے : واللفظ للآخر: ما نسخ حكمه وتلاوته،: نسخ عشر رضعات بتحريم خمس رضعات ، المشار إليه في حديث مسلم عن عائشة ، قالت: كان فيما نزل من القرآن رضعات معلومات يحرمن، ثم نسخن بخمس معلومات وتوفي رسول الله وهن فيما يقرأ من القرآن أي: يقرؤها من لم يبلغه نسخها ترجمہ: جس آیت مبارکہ کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہوگئے،(عشر رضعات معلومات یعنی دس چسکیوں سے رضاعت ثابت ہونے کا حکم پانچ چسکیوں سے رضاعت ثابت ہونے) والی آیت مبارکہ سے منسوخ ہوگیا ،جس کی طرف مسلم شریف کی حدیث پاک میں اشارہ کیا گیا ہے ،جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رضاعت کا حکم کسی عورت کے دودھ کی دس چسکیاں پینے سے ثابت ہوتا تھا ،پھر اس آیت مبارکہ کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو گئیں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے قریب اس آیت مبارکہ( خمس رضعات معلومات یعنی کسی عورت کے دودھ کی پانچ چسکیاں پینے سے رضاعت ثابت ہوگی ) کی بھی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوگئے ،جن لوگوں تک اس آیت مبارکہ کے منسوخ ہونے کی خبر نہیں پہنچی تھی، وہ اس کی تلاوت کرتے تھے۔
(موسوعۃ الاعمال الکاملۃ ،جلد1،صفحہ 109،مطبوعہ بیروت)
(2)آیتِ مبارکہ کی تلاوت باقی ہو،مگرحکم منسوخ ہوجائے:
بعض اوقات کسی آیت مبارکہ کا حکم منسوخ ہوجاتا ہے ،مگر اس کی تلاوت کی جاتی ہے ،وہ آیت ِ مبارکہ مصحف عثمانی میں موجود ہوتی ہے اور اس کی نماز میں تلاوت کرنا بھی جائز ہوتی ہے ۔
مثال : جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 109 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: (فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ )ترجمہ کنزالایمان: تو تم چھوڑو اور درگزر کرو ،یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔
اس آیتِ مبارکہ کا حکم منسوخ ہوچکا ہے،مگر تلاوت باقی ہے اور یہ آیتِ مبارکہ مصحف عثمانی میں بھی موجود ہے ۔
اس آیت مبارکہ کا حکم قرآن کریم کی ان آیات مبارکہ سے منسوخ ہے :
(1)مذکورہ آیتِ مبارکہ کا حکم سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 5 سے منسوخ ہے :قال اللہ تعالیٰ : (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍۚ) ترجمہ کنزالعرفان: مشرکوں کو مارو جہاں تم انہیں پا ؤاور انہیں پکڑلو اور قید کرلو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو ۔
اور سورۃ التحریم کی آیت نمبر 5 سے بھی اس آیت مبارکہ کا حکم منسوخ ہے :(یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ) ترجمہ کنزالایمان:اے غیب بتانے والے (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی بُرا انجام۔
(3)آیت ِ مبارکہ کا حکم باقی ہو،مگر تلاوت منسوخ ہوجائے:
بعض اوقات قرآنِ پاک کی کسی آیتِ مبارکہ کا حکم باقی ہوتا ہے،مگر اس کی تلاوت منسوخ ہوجاتی ہے،وہ آیتِ مبارکہ مصحف شریف میں موجود نہیں ہوتی اور اس کی نماز میں تلاوت بھی جائز نہیں ہوتی ۔
مثال : جیسا کہ یہ آیت مبارکہ (الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما نکالاً من اللہ ،واللہ عزیز حکیم) ترجمہ:جب بوڑھا اور بوڑھی زنا کر بیٹھیں ،تو ان کو سنگسار کر دو ۔
اس آیتِ مبارکہ کا حکم باقی ہے ،مگر تلاوت منسوخ ہو چکی ہےاور اس آیت مبارکہ کی تلاوت نماز میں جائز نہیں ۔
(تفسیر نعیمی ،جلد1،صفحہ 620،مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )

Want your school to be the top-listed School/college in Jaranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Jaranwala