02/05/2023
بسم الله الرحمن الرحيم
🌹نمازِ توسل 🌹
🌷برائے زیارت، توسل، رابطہ ،امام زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف صلواة الله عليه 🌷
🌺احتمام نماز 🌺
دوستو...!
جملہ اعمال خیر کے لیے احتمام اور تکلف کرنا بہت ضروری اور بہت بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس میں جتنا تکلف کیا جائے اتنی آفدیت ہوتی ہے مثلاً ایک آدمی نیند سے اٹھتا ہے اور دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کرتا ہے اور دو رکعت نماز صبح پڑھ لیتا ہے نہ پڑھنے سے اگرچہ یہ بہتر ہے کہ اس سے آدمی بے نمازوں کی فہرست سے باہر ہو جائے گا
مگر نماز کی حقیقی اور اعلیٰ درجوں کو نہ پا سکے گا اور اہداف صلواة کا حصول نہ ہو گا اس کے مقابلے میں کوئی شخص صبح کو اٹھتا ہے نماز کے لیے مخصوص لباس پہنتا ہے وضو یا غسل کر کے لباس پر خوشبو لگا کر جائے نماز کو احترام سے بچھاتا ہے یعنی تکلف کرتا ہے اور بڑے خشوع و خضوع یکسوئی اور حضورِ قلب سے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی آفدیت پہلے والی نماز سے ہزار گنا زیادہ ہو گئی اس لیے پہلے نماز توسل کے لیے احتمام کیا کرنا ہے؟وہ لکھتا ہوں
1.اس نماز کا احتمام بدھ کی رات سے کرنا چاہیے یعنی منگل کا دن گزرنے کے بعد جو رات آتی ہے کیونکہ اس نماز کو کم از کم تین راتیں پڑھنا ضروری ہے اور اس طرح تیسری رات شبِ جمعہ ہو گئی جو سیدة "اللیالی" یعنی جملہ راتوں کی سردار ہے اور اس رات اور دن میں ہر انسان اپنے وارثِ زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف کا مہمان ہوتا ہے اور شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ ہمارے وارث زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف سے مخصوص ہے
2. بعض لوگ منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ ان چار دنوں میں روزہ بھی رکھ لیتے ہیں جس سے اس کی آفدیت بڑھ جاتی ہے اور کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
3. اعمالِ مخصوص بہ امام زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف کے لیے ایک لباس مخصوص کرنا چاہیے، سادہ کاٹن کا لباس ہو اور اگر کھدر کا لباس ہو تو بہتر ہے رنگ سفید ہو تو بہتر ہے اسے مالِ مخمس یعنی ایسے پیسوں سے لیا جائے جس کا خمس اور زکوٰۃ ادا ہو جس رقم کا حصول شرعی طرح سے درست ہو عرفا کی وصیت ناموں کو پڑھتے ہیں تو لکھا ہوتا ہے کہ ہمارے کفن کے اوپر ہماری فلاں عبا ڈال دینا، کیونکہ اس عبا کے ساتھ ہم نے چالیس سال نماز شب ادا کی ہے یعنی ایک مخصوص لباس کو وہ چالیس سال تک عبادت کا ساتھی اور گواہ بنا کر رکھتے تھے عبادت کے لئے اوپر اوڑھنے کی چادر کا رنگ سیاہ ہو تو بہتر ہے جس رات نماز توسل شروع کرنا ہو اس لباس کو اپنے ہاتھوں سے طاہر کریں یعنی پہلے صابن وغیرہ سے دھو کر پھر صابن کو اچھی طرح نکال دیں پھر تین مرتبہ اس پر اس طرح پانی بہائیں کہ اس کے ہر ریشے پر پانی جاری ہو جائیں اس طرح طاہر کر کے اسے خشک کر لیں اس کے بعد خوشبو وغیرہ لگا دیں آج کل خوشبو کے لیے پرفیومز استعمال ہوتے ہیں جن میں الکحل یعنی شراب شامل ہوتی ہے یہ نجس ہیں کوئی دیسی طرز کی خوشبو لگائیں
4. مصلیٰ یا جائے نماز جس سجادہ عبادت بھی کہتے ہیں ان میں سے جو عبادت کے لیے رکھیں اسے بھی طاہر کر لیں جیسے لباس کو طاہر کیا تھا.
5.اس نماز میں تسبیح کی بھی ضرورت ہوتی ہے یہ خاک شفا کی تسبیح ہو تو بہتر ہے یا کوئی دیگر تسبیح ہو تو کوئی ہرج نہیں اسے بھی طاہر کرلیں منسوبات عبادت کی عزت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے تسبیح چاہیے کوئی بھی ہو اسے کھڑے کھڑے مصلیٰ پر نہیں پھینکنا چاہیے مصلیٰ اور جائے نماز کو ادب اور احترام سے اٹھا کر رکھنا چاہیے جو شخص عبادت سے وابستہ چیزوں کا احترام نہیں کرتا اس کے لیے عبادت کے اصل مقصد کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے یہ بات یاد رکھیں کہ "با ادب بامراد....بے ادب بے مراد"
6.ان دنوں میں لذائذ سے بچنا چاہیے پرتکلف غزا لذیذ کھانے لذیذ مشروبات فرائض ازدواجی سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن آنکھوں سے زیارت حبیبِ حقیقی شہنشاہِ امام زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف کرنا چاہتا ہے ان آنکھوں کی حفاظت کرے ٹی وی، وی سی آر وغیرہ سے اپنی نگاہوں کو نجس نہ کریں ہر بُری نگاہ سے بچنا ضروری ہے
غذا کے معاملے میں امیرالمومنین صلواة الله عليه نے جو کی روٹی اور نمک کھا کر ہمیں سکھا دیا ہے کہ نانِ جویں سے عبادت کی آفدیت بڑھ جاتی ہے اور مرغن غذاؤں سے کم ہو جاتی ہے سلسلہ ِ نماز توسل میں ہمیں سنت امیرالمومنین صلواة الله عليه پر عمل کرنا چاہیے
7. جب بدھ کی رات ہو جائے تو پھر آدھی رات کے بعد تقریباً ساڑھے 12 بجے کے بعد اٹھ کر پہلے وضو کریں پھر غسل ِ ترتیبی یا ارتماسی جو بھی کر سکے غسل کرے اور دوران غسل و وضو صلواة کاملہ کا ورد جاری رکھیں بعد از غسل وہ پاکیزہ لباس پہن لیں اگر تولیہ وغیرہ استعمال کرنا ہو تو اس کو بھی دن کو طاہر کر کے لباس کے ساتھ رکھ لیں غسل کے دوران یہ دعا بھی کریں
"اللهم اجعلنی من التوابين واجعلنی من المتطھرین"
اس کے بعد صلواة کاملہ پڑھنا ہے
8.نماز توسل کیلے ضروری ہے کہ خلوت اور تنہائ میں ادا کرے اور کسی ایسی جگہ پر ادا نہ کرے جہاں کوئ دیگر آواز یکسوئ کو توڑ ڈالے دوسری شرط یہ ہے کہ زیر آسمان پڑھے، یعنی کسی کمرے میں ادا نہ کرے، صحن میں یا گھر کے کسی کمرے کی چھت پر ادا کرے
9 جب مقام عبادت پر پہنچے تو مصلیٰ وغیرہ کو احترام سے بچھا کر جب اس پر کھڑا ہو تو فوراً سجدہ تعظیم بجا لاے کیونکہ اپنے برابر کے لوگوں کو صرف سلام کہہ دینا کافی ہوتا ہے، مگر مالک حقیقی کو سلام نہیں سجدہ بجاے سلام پیش کرنا ہوتا ہے، اور اس دوران میں صلوات کاملہ کا ورد زبان پر جاری رہے
10 جب سجدہ میں سر رکھے تو ستر 70 مرتبہ اس طرح استغفار کرے یعنی "استغفراللہ ربی واتوب الیه" پڑھے، اور پھرنماز توسل کیلے کھڑے ہو جائیں
🌸طریقہ نماز توسل 🌸
یہ نمازدو رکعت ہوتی ہے، اس کے پڑھنے کاطریقہ یہ ہے کہ اس نماز و توسل بہ امام زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف کی نیت سے ادا کرے، کہ میں طلب ہدایت کیلے اپنے وارث زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف سے توسل کرتا ہوں، رابطہ اور زیارت چاہتا ہو ں، یہ فقرے زبان پر ادا نہیں کرنا ہوتے دل میں صرف نیت رکھنا ہوتی ہے، تکیمل نیت کے بعد الللہ اکبر کہہ کر تکبیرۃ الاحرام کے ساتھ نماز شروع کرے، جیسا کہ نمازصبح کو ادا کیا جاتاہے
سب سے پہلے سورہ الحمد شروع کرنا ہے، جب اس فقرے پر پہنچیں تو اس فقرے کو ایک سو مرتبہ دہرائیں، اس لیے اس نمازمیں تسبیح کو دائیں ہاتھ میں رکھنا ضروری ہوتا ہے
"ایاك نعبد واياك نستعين"
(100 مرتبہ) جب یہ سو مرتبہ مکمل ہو جاے تو پھر آگے سورہ کی تلاوت مکمل کریں، اس کے بعد سورۃ قدر یعنی انا انزلنا کو سات مرتبہ پڑھ لیں، اس کے بعد اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں آ جائیں، رکوع میں
"سبحان ربی العظیم وبحمدہ" 7مرتبہ پڑھیں پھر قیام میں واپس آجایں اور یہاں "سمع اللہ لمن حمدہ "پڑھ کر سجدے میں چلے جائیں اور سجدے کی تسبیح 7 مرتبہ ادا کریں یعنی
"سبحان ربی الا علی و بحمدہ"
7 مرتبہ پڑھیں
اسی طرح دوسری رکعت پڑھنا ہے سورہ حمد میں
"ایا ك نعبد و ایاك نستعین"
100 مرتبہ پڑھ کر اسے مکمل کرنا ہے، اس کے بعد سورہ قدر پڑھیں یا سورہ اخلاص
"قل ھو اللہ احد"
ان میں سے جو پڑھیں سات (7)مرتبہ پڑھیں اس کے بعد قنوت ادا کریں، یعنی سورۃ قدر کے بعد دعا کریں اور اس میں دعائے تعجيل ف*ج "اللھم کن لولیك" کی تلاوت کریں اور آخر میں صلوات کاملہ (یارب محمد و آل محمد ص) اخر تک چالیس (40)مرتبہ ادا کریں، اس کے بعد پہلی رکعت کی طرح اس رکعت کو مکمل کریں...
تشہد اور سلام کے فوراً بعد سجدہ میں چلے جائیں، اب یوں سمجھیں کہ آپ بارگاہِ امام عجل اللہ ف*جہ الشریف میں پہنچ چکے ہیں، سجدہ میں جانے کے بعد فوراً ایک سانس میں جتنی مرتبہ استغفار کر سکیں کرلیں، اس کے اس طرح اپنی گفتگو کا آغاز کریں
😭گریہ زاری 😭
اےمیرے شہنشاہ معظم! میری رگِ گردن کے مالک اے میری جان، مال، عزت و ناموس و دین و دنیا کے مالک! میں آپ کا عبد مملوک ہوں، لیکن میری زندگی معصیت اور گناہوں میں گزری ہے، میں جملہ گناہوں کا اقرار کرتا ہوں کہ میں مجرم ہوں
جب اس مقام پر پہنچیں تو اپنے جیتنے گناہ یاد آ سکیں ایک ایک کو بیان کریں اور گریہ وزاری سے معافی طلب کریں، اس کے بعد عرض کریں کہ اے میری ہر چیز کے مالک جو گناہ مجھے یاد نہیں وہ آپ کو تو معلوم ہیں میں ان کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں نے وہ گناہ بھی کیے ہیں، مگر آپ کے در اقدس کے سوا کہیں سے بھی معافی نہیں مل سکتی، آپ معاف فرمائیں گے تو خالق بھی درگزر فرمائے گا میرے پاس جو کچھ ہے یہ میرا نہیں ہے اس کے مالک آپ ہیں مجھے نہیں معلوم کہ میرے پاس جو کچھ ہے اس میں سے کیا مجھ پر حلال ہے اور کیا حرام ہے، آپ مجھے آگاہ فرمائیں تاکہ میں آپ کے حلال کردہ کو حلال مانوں، اور آپ کے کے حرام کردہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ دوں، اور آپ کی عطاء کردہ توفیق سے آپ کی اطاعت اور نصرت کیلئے کمر بستہ رہوں گا،
مجھے آگاہ فرمائیں کہ میں آپ کے جد اطہر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حقیقی دین کس سے حاصل کروں؟ جس کے بارے میں آپ اشارہ فرمائیں گے میں اس کی اطاعت و فرمان کو اپ کی اطاعت تصور کروں گا، ہاں اگر آپ نے میری ہدایت نہ فرمائی اور مجھے زیارت کروا کے میری رہنمائی نہ فرمائی تو پھر بروز قیامت میں کسی چیز کا جوابدہ نہ رہوں گا، اگر خالق کائنات پوچھے گا کہ تُو کیوں گمراہ ہوا تو میں عرض کر دوں گا کہ میرے ہادیء زمانہ عجل اللہ ف*جہ الشریف نے مجھے ہدایت فرمائی ہی نہ تھی..
پھر عرض کریں اے میرے مولا اے میرے کریم آقا مجھ پر کرم کریں مجھ بدکردار کو ابدی ہلاکت سے بچائیں ابلیس ملعون ہماری گردنوں پر سوار ہو چکا ہے نفس امارا نے ہمیں اپنا غلام بنا لیا ہے دوست کے لباس میں ہر طرف دشمن دین موجود ہیں میری گمراہی یقینی ہے جب تک آپ نجات نہ بخشیں میں اس تاریک رات میں ہلاکت سے نہیں بچ سکتا جب تک آپ نہ بچائیں یہ ضروری نہیں کہ الفاظ یہی ہوں ضروری یہ ہے کہ جزبات یہی ہوں اور ان میں سچائی ہو اور اس مقام پر سچائی کا سب سے بڑا ثبوت اشکِ ندامت ہیں کیونکہ گریہ و زاری سے حصول مراد آسان ہو جاتا ہے محبوبِ حقیقی جتنا کرم آنسو پر فرماتا ہے کسی چیز پر نہیں فرماتا بعض لوگ تو اس عمل کو چالیس دن تک کرتے ہیں بعض تین دن سات دن یا دس دن میں بھی مراد کو پا لیتے ہیں بات جزبات کی صداقت کی ہے
اطاعت امر کا جزبہ جتنا شدید ہو گا زیارت کا شرف اتنا ہی جلدی حاصل ہو جاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ نماز چالیس دن تک ایک ہی جگہ ایک ہی وقت پر ادا کی جاتی ہے اور کم از کم تین دن کی حد ہے
چالیس دن تک کرنے سے ضرور مراد حاصل ہوتی ہے جب اپنا عمل مکمل کر لیں تو 313 مرتبہ صلوات کاملہ پڑھ کر سجدہ شکر کر کے واپس آ جائیں پاکیزہ بستر پر سو جائیں اور زبان پر صلوات کاملہ کا ورد جاری رکھیں جن ایام میں یہ عمل کرنا ہے ان ایام میں کوئی غیر اخلاقی کام نہ کریں اور نماز توسل کا احترام کریں تاکہ مالک حقیقی کو یقین ہو جائے کہ ہم واقعی اس کے ضرورت مند ہیں پیاسے ہیں.
دعا پاک
العجل العجل یا امل المشتاقین عجل اللہ ف*جہ الشریف صلواة الله عليه
کتابیات
طریق المنتظرین، اسرار العبدیات،کتابچہ امید کی آخری کرن
مرشد کریم سید محمد جعفر الزمان نقوی البخاری
عباس ہمدانی