20/12/2025
اداؤں سے اپنی جو محفل سجا لے
وہ جب چاہے جس کے دل کو چرا لے
حشر میں قیامت پہ گزرے قیامت
وہ زلفوں میں اپنی مجھ کو چھپا لے
اثر ایک ساغر کا دیکھو تو آ کر
اگر رند چاہے فلک یہ گرا لے
میرے گلستاں میں حسیں پھول ہیں
وضع میں ہے شوخی ادا سے نرالے
پلا کر گرانا تو سب جانتے ہیں
مزہ تب ہے ساقی جو گرتے اٹھا لے
یہ دوزخ جو مجھ پہ بپھری کھڑی ہے
اگر جان لے مجھ کو آنکھیں جھکا لے
کلیسا میں مسلم کو جو چھوڑ آئیں
نہیں چاہئیں مجھ کو ایسے اُجالے
اگر ساقی تجھ کو نہ اچھا لگوں میں
تو بہتر ہے مجھ کو یہاں سے ہٹا لے
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
آئینہ دیکھ کے شرمائے تجھے
اس قدر شوق سے انگڑائی لے
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
اُس نے سرِ بزم سراہا ساقی
ہر شعر پہ کہتا رہا آہا ساقی
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
یوں پریشان ہوں گھر کا کام نہیں لکھا
اور مجھے کل آتا ہوا سوموار دکھے
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
دن بدن نکھرتی جا رہی ہو
کون سا فلٹر لگاتی ہو ؟
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
میں کچھ دینی مسائل لکھ رہا ہوں
محبت کے فضائل لکھ رہا ہوں
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
کیا ہے ؟ حرام کھا لیں گے
باسی گندم ، عوام کھا لیں گے
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
بلبل کی سنے نہ وہ گلابوں کی سنے
عشق اپنی نہ سنے ، کیوں نوابوں کی سنے ؟
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
ہم سے مت پوچھنا اپنے بندوں کے حقوق
ہم سے تو تیرے بندے راضی نہیں ہوتے
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
سیڑھیاں کس جگہ لے گئیں مجھ کو ؟
زندگی نیچے کہیں رہ گئی ہوگی
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
کیا بتائیں ، وہ کیا آنکھیں ہیں !
بخدا ، دل کی دوا آنکھیں ہیں
از قلم محمد مزمل ایاز
12/12/2025
حق گوئی و بے خوفی و بے باکی
ملتا ہے میرا شجرہ اہلِ حرم سے
از قلم محمد مزمل ایاز