20/12/2025
اداؤں سے اپنی جو محفل سجا لے
وہ جب چاہے جس کے دل کو چرا لے
حشر میں قیامت پہ گزرے قیامت
وہ زلفوں میں اپنی مجھ کو چھپا لے
اثر ایک ساغر کا دیکھو تو آ کر
اگر رند چاہے فلک یہ گرا لے
میرے گلستاں میں حسیں پھول ہیں
وضع میں ہے شوخی ادا سے نرالے
پلا کر گرانا تو سب جانتے ہیں
مزہ تب ہے ساقی جو گرتے اٹھا لے
یہ دوزخ جو مجھ پہ بپھری کھڑی ہے
اگر جان لے مجھ کو آنکھیں جھکا لے
کلیسا میں مسلم کو جو چھوڑ آئیں
نہیں چاہئیں مجھ کو ایسے اُجالے
اگر ساقی تجھ کو نہ اچھا لگوں میں
تو بہتر ہے مجھ کو یہاں سے ہٹا لے
از قلم محمد مزمل ایاز