16/08/2023
It doesn't matter
قائداعظم کا سوال، جرح اور نقطہءاعتراض سب بہت اچانک، برمحل و برجستہ تھے۔مخالف وکلاءاور خود مجسٹریٹ بھی ہمیں تو سہمے سہمے ، پچکے پچکے سے لگے۔ یہ بات ہم تحقیراً نہیں کہہ رہے ، اس لیے کہ خود ہم ، بقول مرزا”مبہوت“ اور گھگیائے گھگیائے سے بیٹھے تھے۔”اگر فقط ملزمانہ demeanour (حلیہ۔قیافہ) کی بناءپر شناخت پریڈ میں ملزم کی شناخت کرائی جاتی، تو ہر پھر کے ہر گواہ کی انگشت شہادت تمہاری ہی جانب اٹھتی۔“ انہوں نے کہا۔
میجر مارٹن کلیدی گواہ استغاثہ تھا۔ اس سے کئی دن تک جرح ہوتی رہی۔ جس دن میں کورٹ میں موجود تھا، لنچ کے بعد قائداعظم نے ایک ٹیکنیکل اعتراض کیا۔ جس پر وکیل سرکار مسرا بولا:"It doesn't matter" مجسٹریٹ احمد حسین نے بھی اس کی تائید میں وہی فقرہ دہرایا:
It doesn't matter"
جب قائد کے دوسرے اور تیسرے اعتراض پر بھی مجسٹریٹ نے وہی فقرہ It doesn't matter" دہرا کر اعتراض تحکمانہ انداز سے رد کردیا تو وہ ڈٹ کر کھڑے رہے۔ مونوکل کے بالکل درست فوکس کو مزید درست کرنے کے بعد کہا:
”Your Honour, it seems that nothing matters in this court“
یہ کہا اور ایک شان استغنا کے ساتھ مونوکل اتار کر بیٹھ گئے۔
سنا ہے اس کے بعد صرف اس عدالت ہی میں نہیں، آگرے کی کسی بھی عدالت میں ”It doesn't matter"“ سننے میں نہیں آیا۔۔
قائدِ آعظم فوجداری عدالت میں، شام شعر یاراں
مشتاق احمد یوسفی
16/08/2023
21/12/2022
14/09/2022
13/09/2022
06/07/2022
21/06/2022