18/03/2025
Education is not the filling of a pail, but the lighting of a fire." — William Butler Yeats. Engaging children in playful learning experiences fosters creativity, problem-solving skills, and a lifelong love for learning.
29/09/2021
اگر ہم معجزاتی طور پر سنہ 1900 سے ذہین ترین افراد کو آج کی دنیا میں لے آئیں تو وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ جن مسائل نے انسان کو صدیوں سے پریشان کر رکھا تھا ہم نے ان کا حل بڑی حد تک تلاش کر لیا ہے۔
صرف ایک سو سال پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وراثت اگلی نسلوں کو کیسے منتقل ہوتی ہے یا ایک خلیہ کیسے تقسیم ہو کر پورا جاندار بن جاتا ہے۔
انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایٹم کی اندرونی ساخت بھی ہوتی ہے، حالانکہ خود لفظ ایٹم کا مطلب 'ناقابلِ تقسیم' ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ کائنات کتنی بڑی ہے۔
آج ہم دنیا کو بڑی حد تک ایک الیکٹرانک سکرین پر دیکھتے ہیں۔ کمپیوٹر مختلف شکلوں میں علم کا ماخذ ہیں، لیکن وہ اس بات کا بھی تعین کرتے جا رہے ہیں کہ ہم بقیہ دنیا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آتے ہیں۔
آج کے دور کی ایک انتہائی عام چیز یعنی سمارٹ فون بھی کئی بنیادی دریافتوں کی مرہونِ منت ہے۔ اس کے اندر موجود کمپیوٹر انٹی گریٹڈ چپ کی مدد سے کام کرتا ہے۔ خود انٹی گریٹڈ چپ ٹرانزسٹروں سے بنی ہوتی ہے، جن کی دریافت کوانٹم مکینکس کی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
فون کے اندر موجود جی پی ایس آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت میں وقت کے تصور کی تفہیم پر کام کرتا ہے۔ حالانکہ ایک زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ نظریہ عام زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا
سائنس خود ہمارے بارے میں اور ہمارے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کا نام ہے۔ اسی جستجو نے ہمارے دنیا کے بارے میں تصورات بھی بدلے ہیں اور ہماری زندگیوں کو بھی بدل دیا ہے۔ آج ہماری عمریں 1900 کے مقابلے پر دگنی ہیں اور معیارِ زندگی بھی پہلے سے کہیں بہتر ہے۔
لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے صرف سائنس دانوں ہی پر اثر نہیں ڈالا۔ ان کا انحصار ثقافتی، معاشی اور سیاسی عوامل پر ہے۔ سائنس انسانی علم کی فتح ہے، اور اس کی تفہیم اور استعمال سے ہمیں دور رس فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے
جب سورج اور چاند گرہن کی پیشن گوٸی ساینس کی مدد سے ہو سکتی ہے۔
اور ہواٸی جہاز سے لیکر موبائل لاوڈسپیکر۔ گاڑی بجلی۔ وغيرہ سب ساینس کی مرہون منت ہیں۔ ہم ان کو استعمال کرتے ہیں۔
اور کیسے جٹلا سکتے ہیں ?
04/09/2021
-------CV Compiling Suggestions-------
----------WORTH READING-----------
CV is more important than your DEGREES Combined. Believe me or not.
Note: Mostly, It's the first and only piece of paper to impress recruiters in the first place.
1. Write an inspiring Summary (Don't copy or ask someone to write it for you, write your own and avoid "I" or "I am"). Don't write "I'm applying for". Recruiters already know it.
2. Never ever mention your gender. It's not much of a concern.
Note: Just update your linkedIn profile and add a link.
3. Add formal photo with blue/white background. Avoid "Savage DPs" like I have seen a SUPERCAR instead of a photo. Can you imagine? 🤦
4. Start sections with experience. Education later.
5. Mention dates (month & year) along with the expected date of graduation.
6. Avoid using colors, logos etc. CV should be black & white except email or linkedIn link. It's not a BROCHURE of you.
7. Don't add odd jobs (Lavapiatti) 🤦 or foolish EXPERIENCE like GLOVO and JustEat delivery partner for professional jobs.
8.. FOCUS on your skills and try to mention your proficiency (Expert, Intermediate, Beginner) with every skill. Add expertise here if you have done any project.
9. Don't mention if you're a champion in RUNG or Snooker. WTH? 😅 Just add hobbies if you want.
10. Don't add your signatures. 🤦 it's a personal identity and could be misused.
Lame people are still looking for Shortcuts. They aren't serious in finding a better job. They are serious about doing GLOVO & JustEat and not loosing an hour while graduating from renowned Universities.
Can't spend a single day in compiling a CV. I can't even mention the stupidities that I'm encountering.
Supercar in your profile? Logos? Odd jobs in professional experience? What other you can expect? Hilarious 😅
I'm speechless.
One piece of paper "CV" is more important than your degrees Combined (Especially in European job market)
28/06/2021
All Pakistan Private Schools Federation (APPSF) on Saturday announced that there would be no summer holidays across the nationwide educational institutes in 2021. President APPSF Kashif Mirza said that the schools will remain open during the summer holidays and would remain open between 7:00 am to 11:00 am.
“The students could come to private schools in casual dress rather than in school uniforms,” he said adding that the decision was taken in view of hot weather conditions. Kashif Mirza further announced that educational institutes could also adopt online classes if they had the facility to do so. The schools across the country have already been reopened on the directives of the National Command and Operation Centre (NCOC) as the government also plans to take physical examinations after COVID-19 cases have witnessed a declining trend
28/06/2021
پشاور قصہ خوانی بازار 1969
مقامی روایات کے مطابق تاجروں کےقافلے ،فوجی دستےاورسیاح بازار کی سراؤں میں قیام کرتے ،سستاتے ، قہوہ (مقامی سبزچائے)پیتے اور ایک دوسرے کو قصے کہانیاں سناتے۔ ماضی میں سڑک کنارے پیشہ ور داستان گو سامعین کو اپنے لہجے اور مخصوص انداز سے مبہوت اور سحر زدہ کر دیتے تھے اسی لئے اسے قصہ خوانی بازار کا نام دیا گیا ہے
18/02/2021
سقراط
سقراط دنیائے فلسفہ کاعظیم اور جلیل المرتبت معلم تھا، جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔ سقراط 470 سال پہلے یونان کے معروف شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تحریری شواہد ناپید ہیں۔ تاہم افلاطون اور مابعد فلاسفہ کے حوالے بتاتے ہیں کہ وہ ایک مجسمہ ساز تھا، جس نےحب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر کئی یونانی جنگوں میں حصہ لیا اور دادِ شجاعت پائی۔ تاہم اپنی علمی مساعی کی بدولت اُسے گھر بار اور خاندان سے تعلق نہ تھا۔احباب میں اس کی حیثیت ایک اخلاقی و روحانی بزرگ کی سی تھی۔ فطرتاً سقراط، نہایت اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل، حق پرست اور منصف مزاج استاد تھا۔ اپنی اسی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث اخیر عمر میں اس نے دیوتائوں کے حقیقی وجود سے انکار کردیا، جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے موت کی سزا سنائی.
سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یونان کے روایتی شہریوں کی طرح خوبصورت اور پر کشش نہ تھا بلکہ وہ جسمانی لحاظ سے بھدا اور بدصورت تھا۔ اس لیے بچپن میں اس کے اسکول کے ساتھی اسے مینڈک کہا کرتے تھے۔ اس کے قریبی دوست کرائیٹو نے اس کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی سے بے فکرہ اور لاپرواہ تھا۔ اس کے چھوٹے قد پر بے ترتیب شکنوں سے پُر لباس ہوتا۔ اس کے ہونٹ موٹے اور کھردرے تھے۔ اس کی گردن کندھوں میں دھنسی ہوئی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور حلقوں سے ابھری ہوئی تھیں۔ اس کی ناک چپٹی اور پیشانی چھوٹی تھی۔ اس کی داڑھی بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی۔ اس کا لبادہ عموماً اس کے جسم سے ڈھلکا ہوا رہتا۔وہ اپنے بارے میں کہتا کہ یہ دیوتاؤں کی مرضی ہے کہ میں ایسا ہوں کیونکہ ہر مخلوق کو خلق کرنے والا خود بہتر سمجھتا ہے کہ مخلوق کو کیسا ہونا چاہیے۔
لیکن اس بھدے اور بے ڈول جسم کے اندر بہت ہی خوبصورت‘ نیک‘ سچائی اور بصیرت سے بھرپور روح تھی۔ لوگ کہتے تھے انھوں نے اپنی زندگی میں اتنا نیک‘ شریف‘ تحمل مزاج اور عالم شخص نہیں دیکھا اس نے کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچائی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مہربان اور وہ معاشرے کو ایک ایسا ادارہ قرار دیتا تھا جس میں تمام افراد ایک دوسرے کو خوشی فراہم کریں۔اس کی قوت ارادی بھی بہت طاقتور تھی۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اگرچہ سقراط کے دور کا معاشرہ انتشار اور بدنظمی کا شکار تھا لیکن ایسے حالات میں اس کی اخلاقی خوبیوں کی بدولت اس کی ہر جگہ عزت کی جاتی تھی۔ وہ انتہائی خدا داد ذہانت کا مالک تھا۔ وہ جہالت کو برائی قرار دیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا خالق نے مخلوق کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے پیدا کیا ہے۔اس کے قابل ترین شاگرد افلاطون کا کہنا ہے کہ سقراط ایک بہت بڑا محب الوطن بھی تھا۔
ایک واقعہ
سقراط کے لڑکپن کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے ایک واقعہ سقراط کے بچپن کے دوست اور ہم مکتب کرائیٹو نے بیان کیا ہے: کہ میں اور سقراط ایک دن کمہار کے چاک کے پاس سے گزر رہے تھے۔ کمہار نے نرم نرم ملائم مٹی کا ایک لوندا چاک پر رکھا‘ چاک کو تیزی سے گھمایا اور مٹی کے لوندے میں اپنے دونوں ہاتھوں کوکچھ اس طرح سے حرکت دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت مرتبان مٹی کے لوندے کی جگہ پر نمودار ہو گیا۔ سقراط نے کہا ابھی تو چاک پر مٹی کا لوندا تھا یہ خوبصورت مرتبان آخر کہاں سے آ گیا پھر خودہی کہنے لگا ہاں یہ مرتبان کمہار کے ذہن میں تھا اور پھر ہاتھوں کے ہنر سے منتقل ہو کر اس چاک پر آ گیا۔سقراط نے نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی بھی مادی چیز جیسے مکان‘ کرسی یا کوئی مجسمہ یا تصویر پہلے انسان کے ذہن میں آتی ہے‘ پھر انسان اپنے ذہن کے اس نقشے کو مادی شکل میں ڈھالتا ہے۔یہ ایک زبردست اور غیر معمولی دریافت تھی۔ سقراط نے ہنر‘ فن اور تخلیق کے بارے میں جان لیا تھا۔ سقراط خیال کرتا تھا کہ یہ الہامی نشان دیوتاؤں کی جانب سے اس کی رہنمائی کرتا ہے کیونکہ دیوتاؤں کو تمام چیزوں کا علم ہے۔
سقراط جب جوانی میں داخل ہوا‘ تو پھر وہ الہامی نشان کی کیفیت کو سمجھنے لگا‘ اسے یقین ہونے لگا کہ اس کے ضمیر میں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے کوئی خاص بات ہے۔ دراصل الہامی نشان کو ضمیر کی آواز کہنا زیادہ مناسب ہے جو کہ اسے غیر ضروری کام کرنے سے روکتا تھا اور اچھے اور نیک کام کرنے کا مشورہ دیتا تھا۔پھر آہستہ آہستہ سقراط کی اس کیفیت کا چرچا ہونے گا۔ ایتھنز کے لوگ اس کے متعلق بحث کرنے لگے لیکن سقراط نے کبھی بھی اپنی اس کیفیت کے حوالے سے نہ کوئی بات کی نہ ہی کسی کو اس کیفیت کی تفصیل بتائی۔
شادی
ایتھنز کے رواج کے مطابق سقراط نے جوانی میں مرٹو (Myrot) نامی خاتون کے ساتھ شادی کی جو طاعون کی وبا میں مر گئی۔ سقراط نے دوسری شادی پینتالیس سال کی عمر میں زینتھی پی (Xanthippe) نامی خاتون سے کی۔
یہ خاتون سقراط سے عمر میں تقریبا بیس سال چھوٹی تھی لیکن خاصی بدزبان تھی۔ بیوی کی بدکلامی سے سقراط کے تحمل کو مزید تقویت ملی۔ اور وہ اپنی بیوی کی بدکلامی کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتا۔ سقراط کی دوسری شادی سے تین بیٹوں کا ذکر ملتا ہے۔ سقراط کی بیوی زینتھی پی سقراط کے ساتھ ہی بدکلامی نہ کرتی بلکہ سقراط کے دوستوں اور شاگردوں کے ساتھ بھی بدکلامی کرتی تھی۔ وہ اپنی بدکلامی کی وجہ سے پورے ایتھنز میں مشہور تھی۔ اس لیے لوگ اس کی بدکلامی سے زیادہ ناراض نہ ہوتے۔سقراط کی عمر پچاس سال ہو چکی تھی۔ کسی معاشرے میں اتنا وقت گزارنے کے بعد اس شخص کے کردار‘ شخصیت اور معاملات کے بارے میں لوگ اسے مکمل طور پر جان جاتے ہیں۔ سقراط بھی ایسا ہی شخص تھا جس کی عادات و کردار کے بارے میں اس معاشرے کے لوگ اس کے بارے میں متفق رائے رکھتے تھے کہ سقراط کردار‘ گفتار‘ عقل و خرد اور اخلاقی حوالے سے بہترین انسان ہے۔
وہ لوگوں کو انصاف اور سچ بولنے کی تعلیم دیتا تھا۔ اس کے ساتھ جو بھی گفتگو کرتا وہ خوشی اور لطف محسوس کرتا تھا۔ اس کی روح کی بالیدگی اور ذوق جمالیات نے اس کے گفتار و کردار میں ایک خاص جاذبیت اور حلاوت پیدا کر دی تھی۔
مناظرے
سقراط مناظرے کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے دنیا کو مباحثے یا گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کے ایک نئے انداز سے روشنا کرایا۔ ان کا طریقہ بحث فسطائی قسم کا تھا، مگر اسے مناظرہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ اپنی بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتے اور حقیقت کو ثابت کرتے ۔ وہ پے در پے سوال کرتے اور پھر دوسروں پر ان کے دلائل کے تضادات عیاں کرتے اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر منطقی و مدلل جواب سامنے لایا کرتے تھے۔
سقراط کے نظریات ان کی زندگی میں ہی یونان کے معاشرے میں مقبول ہونا شروع ہوگئے تھے اور ان کےگرد رہنے والے نوجوانوں نے مذہب اور طریقِ حکومت پر سوال اٹھانا شروع کردیے تھے ، سقراط کے نظریات اس وقت کے نظام کے لیے شدید خطرہ بن گیے تھے، بالاخر ایک دن شہر کےو سط میں لگنے والی عدالت نے سقراط کو طلب کرلیا، اس موقع پر موجود جیوری ارکان کی تعداد 500 تھی۔
سقراط پر الزام
سقراط کے خلاف تین بڑے الزام اٹھانے میںکامیاب ہوگئے۔
1۔ یہ ہمارے نوجوانوںکو گمراہ کر رہا ہے۔
2۔ یہ ہمارے دیوتاوںکو نہیں مانتا
3۔یہ ایک الگ خدا کا تصور پیش کرتا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا۔
جیوری کے 500 ارکان میں سے 220 نے سقراط کے حق میں اور 280 نے سقراط کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد اکثریتی ارکان نے ان کے لیے سزائے موت تجویز کی ۔ جمہوریہ ایتھنز کے طریقہ کار کے مطابق سقراط کو اپنی صفائی دینےکا موقع دیا گیا اور اس موقع پر ان کی طویل تقریر تاریخِ انسانیت پر ان کا سب سے بڑا احسان ہے۔
تقریر
اپنی تقریر میں سقراط کہتے ہیں کہ’’ ایتھنز ایک عظیم شہر ہے اور یہاں رہنے والے عظیم لوگ ہیں، آج یہاں کے لوگوں کو میری بات سمجھ نہیں آرہی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ میری دعوت پر غور کریں گے۔ میرے لیے ممکن ہے کہ میں اپنے لیے جیل یا ملک بدری کی سزا چن لوں لیکن جب میرے شہر کے میرے اپنے لوگ میرے نظریات کا بار نہیں اٹھاسکتے تو پھرکوئی اور شہر میرے نظریات کا بار کیسے اٹھا پائے گا۔ میں چاہوں تو اوروں کی طرح اپنے بچوں کایہاں جیوری کے ارکان کے سامنے پھراؤں اور جیوری کے ارکان سے رحم کی اپیل کروں لیکن میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا کہ یہی وہ رسم و رواج ہیں جن کی میں نے ساری زندگی مخالفت کی ہے اور اب اس عمر میں ان سے پھر جانا میرے لیکن ممکن نہیں ہے‘‘۔
جیوری کے ارکان سے سوال
سقراط نے جیوری کے ارکان سے سوال کیا کہ ’’آپ لوگوں نے یہ سمجھ کر میرے لیے موت کی سزا تجویز کی ہے کہ مستقبل آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھے گا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ میری زندگی کا چراغ گل کر کے آپ اپنی غلطکاریوں پر تنقید کا راستہ روک لیں گے، تو یاد رکھیے، آنے والے وقت میں ایک نہیں کئی ہوں گے جو آپ کو مجرم ٹھہرائیں گے۔جنہوں نے مجھے مجرم ٹھہرایا ہے اور اب ان سے میرا معاملہ ختم ہوا۔ اب جانے کا وقت آگیا ہے۔ ہم اپنے اپنے راستوں کی طرف جاتے ہیں۔ میں مرنے کو اور آپ زندہ رہنے کو‘‘۔
وفات
سقراط کی وفات کا دن تاریخ دانوں کے لیے موضوع بحث ہے کیونکہ قدیم مخطوطات سے ہمیں کوئی دن نہیں ملتا ، سمون کرچلی کی کتاب ’ بک آف ڈیڈ فلاسفرز‘ کے مطابق وہ 16 فروری 399 قبل مسیح کا دن تھا جب سقراط نے اپنے شاگردوں کو آخری درس دیا جس میں انہوں نے روح کے لافانی ہونے پر زور دیا، اور اس کے بعد زہر کا پیالہ پی کر اس دنیا سے ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے رخصت ہوگئے، ان کے انتقال کے وقت ان کے شاگرد ان کے چہار جانب گریہ کررہے تھے۔
سقراط کے نظریات کا خلاصہ
فی زمانہ سقراط کی کوئی تصنیف موجود نہیں تاہم اس کے شاگردِ رشید افلاطون نے اس کے نظریات کو قلمبند کیا اور اپنی ہردوسری تحریر میں اس کے حوالے دیے۔ اس کی نظریات کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
1.روح حقیقی مجرد ہے اور جسم سے جدا ہے۔
2.جسم کی موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی آزادی کی ایک راہ ہے، لہذا موت سے ڈرنا حماقت ہے۔
3.جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
4.انسان کو انصاف و ظلم اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا رکھنی چاہیے۔
5.حکمت و دانش لاعلمی کے ادراک میں پنہاں ہے۔
6.جاننا دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک رائے اور دوسرا علم۔
7.عام آدمی فقط رائے رکھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے جبکہ علم صرف حکیم کو حاصل ہوتا ہے۔
8.نیکی علم ہے اس لیے اس کی تعلیم ہو سکتی ہے۔
9. خیرو شر کے اصول عقلی طور پر لوگوں کو سمجھائے جاسکتے ہیں۔
10.بدی کرنے کے بعد سزا پانا بہ نسبت بچ کر نکل جانے سے بدرجہ ہا بہتر ہے۔
11.سچا آدمی موت سے نہیں بلکہ بد اعمالی سے گھبراتا ہے۔
12.عقل کلی کا وجود ہے۔
13.خیرمطلق کا وجود ہے۔
14.نیکی عقل ہے اور بدی جہالت
15.نیکی آپ ہی اپنا اجر ہے اور بدی آپ ہی اپنی سزا
For References study following books.
1.Plato, Republic
2. Theaetetus
3.Apology
4. Xenophon,
5.Memorabilia ;
6.Aristotle, Sophistical Refutations
18/02/2021
*✔ اردو گرائمر*
❣︎
فعل:-
فعل وہ کلمہ ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا زمانے کے تعلق کے ساتھ پایا جائے۔ مثلاً:-
1) احسان نے روٹی کھائی۔
2) احسان سبق پڑھتا ہے۔
زمانے کے لحاظ سے فعل کی تین اقسام ہیں۔
1) فعل ماضی
2) فعل حال
3) فعل مستقبل
1) فعل ماضی:-
وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر کرے۔ مثلاً:-
1) احسان نے روٹی کھائی۔
2) احسان نے سبق پڑھا۔
2) فعل حال:-
وہ فعل ہے جو موجود زمانے میں کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر کرے۔ مثلاً:-
1) وہ روتا ہے۔
2) احسان سوتا ہے۔
3) فعل مستقبل:-
وہ فعل ہے جو آنے والے زمانے میں کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر کرے۔ مثلاً:-
1) احسان خط لکھے گا۔
2) جویریہ آئے گی۔
3) سن زر جائے گا۔
فعل کی اقسام بلحاظ معنی:-
معنوں کے لحاظ سے فعل کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں۔
1) فعل لازم
2) فعل متعدی
1) فعل لازم:-
وہ فعل جو صرف فاعل کو چاہیے فعل لازم کہلاتا ہے۔ مثلاً:-
1) احسان آیا۔
2) سن رز بیٹھا۔
3) انتخاب گیا۔
ان مثالوں میں احسان، سن رز اور انتخاب فاعل ہیں اور آیا، بیٹھا اور گیا فعل لازم ہیں۔
2) فعل متعدی:-
وہ فعل جو فاعل کے علاوہ معفول کو بھی چاہیے فعل متعدی کہلاتا ہے۔ مثلاً:-
1) احسان اللّٰہ نے خط لکھا۔
2) صدف نے کھانا کھایا۔
3) جویریہ نے کتا پڑھی۔
ان مثالوں میں احسان اللّٰہ، صدف اور جویریہ فاعل ہیں خط، کھانا اور کتاب معفول ہیں اور لکھا،کھایا اور پڑھی فعل ہیں۔
بناوٹ کے لحاظ سے فعل کی اقسام
بناوٹ کے لحاظ سے فعل کی چھ اقسام ہیں۔
1) فعل ماضی
2) فعل حال
3) فعل مستقبل
4) فعل مضارع
5) فعل امر
6) فعل نہی
4) فعل مضارع:-
وہ فعل ہے جس میں حال اور مستقبل دونوں زمانے پائے جائیں۔ مثلاً:-
1) وہ جائے۔
2) وہ آئے۔
3) وہ دیکھے۔
4) تشریف لائیں۔
5) فعل امر:-
وہ فعل ہے جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم پایا جائے۔ مثلاً:- چل، آ، پڑھ، لکھ، سن وغیرہ۔
6) فعل نہی:-
وہ فعل ہے جس میں کسی کام کے کرنے سے منع کیا جائے۔ جیسے مت دیکھو، نہ کر، نہ جا وغیرہ۔
فعل ماضی کی اقسام:-
فعل ماضی کی مندرجہ ذیل چھ اقسام ہیں۔
1) فعل ماضی مطلق
2) فعل ماضی قریب
3) فعل ماضی بعید
4) فعل ماضی استمراری
5) فعل ماضی شکیہ احتمالی
6) فعل ماضی تمنائی یا شرطی
1) فعل ماضی مطلق:-
فعل ماضی مطلق وہ فعل ہے جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا زمانہ گزشتہ میں پایا جائے اور نزدیک یا دور کا ذکر نہ ہو۔ مثلاً:-
1) وہ آیا۔
2) احسان اللّٰہ نے لکھا۔
3) ہم نے پڑھا۔
2) فعل ماضی قریب:-
وہ فعل ہے جس میں قریب کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ مثلاً:-
1) احسان اللّٰہ آیا ہے۔
2) صدف نے خط لکھا ہے۔
3) فعل ماضی بعید:-
وہ فعل ہے جس میں دور کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ مثلاً:-
1) احسان اللّٰہ آیا تھا۔
2) صدف نے خط لکھا تھا۔
3) وہ رویا تھا۔
4) فعل ماضی استمراری:-
وہ فعل ہے جس میں کام کا گزرے ہوئے زمانے میں جاری رہنا یا بار بار ہونا پایا جائے۔ مثلاً:-
1) وہ روتی تھی۔
2) احسان اللّٰہ لکھا کرتا تھا۔
3) میں پڑھتا تھا۔
5) فعل ماضی شکیہ احتمالی:-
وہ فعل ہے جس میں گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کے متعلق شک پایا جائے۔ مثلاً:-
1) احسان اللّٰہ آیا ہوگا۔
2) وہ پڑھ رہا ہو گا۔
3) احسان اللّٰہ نے پڑھا ہوگا۔
6) فعل ماضی تمنائی یا شرطی:-
وہ فعل ہے جس میں کام کا کرنا یا ہونا گزشتہ زمانہ میں شرط یا تمنا کے ساتھ پایا جائے۔ مثلاً:-
1) کاش احسان کامیاب ہوتا۔
2) اگر وہ محنت کرتی تو کامیاب ہو جاتی۔
فعل کی اقسام بلحاظ فاعل:-
فاعل کے لحاظ فعل کی مندرجہ ذیل دو قسمیں ہیں۔
1) فعل معروف
2) فعل مجہول
1) فعل معروف:-
وہ فعل ہے جس کا فاعل معلوم ہو۔ مثلاً:-
1) احسان نے خط لکھا۔
2) صدف نے اخبار پڑھا۔
2) فعل مجہول:-
وہ فعل ہے جس کا فاعل معلوم نہیں ہو۔ مثلاً:-
1) خط لکھا گیا۔
2) اخبار پڑھا گیا۔
*حروف کی 12 اقسام.......
1۔ حروف جار
2۔ حروف عطف
3۔ حروف شرط
4۔ حر/ وف ندا
5۔ حروف تاسف
6۔ حروف تشبیہ
7۔ حروف اضافت
8۔ حروف استفہام
9۔ حروف تحسین
10۔ حروف نفرین
11۔ حروف علت
12۔ حروف بیان
*1۔ حروف جار:*
حروف جار وہ حروف ہوتے ہیں جو کسی اسم کو فعل کے ساتھ ملاتے ہیں۔ جیسے کاغذ اور پنسل میز پر رکھ دو اس جملے میں *”پر“* *حرف جار* ہے،
*اردو کے حروف جار:*
کا، کے، کی، کو، تک، پر، سے، تلک، اوپر، نیچے، پہ، درمیان ساتھ، اندر باہر وغیرہ
*2۔ حروف عطف:*
حروف عطف وہ حروف ہوتے ہیں جو دو اسموں یا دو جملوں کو آپس میں ملانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے قلم اور دوات میز پر رکھ دو، حنا کھانا کھا کر اسکول گئی۔ ان جملوں میں *”اور“* اور *”کر“*.
*حروف عطف* ہیں۔
*اردو کے حروف عطف:*
اور، و، نیز، پھر، بھی وغیرہ حروف عطف ہیں۔
*3۔ حروف شرط:*
*حروف شرط* وہ حروف ہوتے ہیں جو شرط کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلا اگر وہ تیز چلتا تو وقت پر پہنچ جاتا۔ اس جملے میں *”اگر“* حرف شرط ہے۔
*اردوکے حروف شرط:*
اگرچہ، اگر، گر۔ جوں جوں، جوں ہی، جب، جب تک، تاوقتیکہ وغیرہ
*4۔ حروف ندا:*
ایسے حروف جو کسی اسم کو پکارنے کے لئے استعمال ہوں *حروف ندا* کہلاتے ہیں۔ جیسے ارے بھائی! جب تک محنت نہیں کرو گے کامیاب نہیں ہو سکو گے۔ اس جملے میں *”ارے“* حرف ندا ہے۔
*اردو کے حروف ندا:*
ارے، ابے، او، اجی وغیرہ
*5۔ حروف تاسف:*
حروف تاسف وہ حروف ہوتے ہیں جو افسوس اور تاسف کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً افسوس! انسان غفلت کا شکار ہو گیا ہے۔ اس جملے میں *افسوس* حرف تاسف ہے۔
*اردو کے حروف تاسف:*
افسوس، صد افسوس، ہائے، ہائے، ہائے، وائے، اُف، افوہ، حسرتا، واحسراتا وغیرہ
*6۔ حروف تشبیہ:*
ایسے حروف جو ایک چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دینے کے لئے استعمال ہوں حروف تشبیہ کہلاتے ہیں جیسے شیر کی مانند بہادر، موتی جیسے دانت، برف کی طرح ٹھنڈا اِن جملوں میں *مانند، جیسے*، طرح حروف تشبیہ ہیں۔
*اردو کے حروف تشبیہ:*
مثل، مانند، طرح، جیسا، سا، جوں، ہوبہو، عین بین، بعینہ وغیرہ
*7۔ حروف اضافت:*
حروف اضافت وہ حروف ہوتے ہیں جو صرف اسموں کے باہمی تعلق یا لگاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ مضاف، مضاف الیہ اور حرف اضافت کے ملنے سے مرکب اضافی بنتا ہے۔ مثلاً اسلم کا بھائی، حنا کی کتاب، باغ کے پھول وغیرہ اِن جملوں میں *کا، کی، کے* حروف اضافت ہیں۔
*8۔ حروف استفہام:*
حروف استفہام اُن حروف کو کہتے ہیں جو کچھ پوچھنے یا سوال کرنے کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً احمد تم کب بازار جاؤ گے؟ اس جملے میں کب حرف استفہام ہے۔
*اردو کے حروف استفہام:*
کیا، کب، کون، کیوں، کہاں، کس کا، کس کو، کس کے، کیسا، کیسے، کیسی، کتنا، کتنی، کتنے، کیونکہ، کس لیے، وغیرہ۔
*۔ حروف تحسین:*
حروف تحسین وہ حروف ہوتے ہیں جو کسی چیز کی تعریف کے موقع پر بولے جاتے ہیں جیسے سبحان اللہ! کتنا پیارا موسم ہے۔ اس جملے میں سبحان اللہ حرف تحسین ہے۔
*اردو کے حروف تحسین:*
مرحبا، سبحان اللہ، شاباش، آفرین، خوب، بہت خوب، بہت اچھا، واہ واہ، اللہ اللہ، ماشاءاللہ، جزاک اللہ، آہا، وغیرہ حروف تحسین ہیں۔ اِن حروف کو حروف انبساط بھی کہتے ہیں۔ انبساط کے معنی خوشی یا مسرت کے ہیں۔
*10۔ حروف نفرین:*
حروف نفرین ایسے حروف ہوتے ہیں جو نفرت یا ملامت کے لیے بولے جاتے ہیں جیسے جھوٹوں پر اللہ کی ہزار لعنت اس جملے میں ہزار لعنت حرف نفرین ہے۔
*اردو کے حروف نفرین:*
لعنت، ہزار لعنت، تف، پھٹکار ہے، اخ تھو، چھی چھی وغیرہ حروف نفرین ہیں۔
*11۔ حروف علت:*
یہ حروف ہیں جو کسی وجہ یا سبب کو ظاہر کریں جیسے کیونکہ، اس لئے، بریں سبب، بنا بریں، لہذا، پس، تاکہ، بایں وجہ، چونکہ، چنانچہ وغیرہ
*12۔ حروف بیان:*
ایسے حروف جو کسی وضاحت کے لئے استعمال کئے جائیں *حروف بیان* کہلاتے ہیں. جیسےاستاد نے شاگرد سے کہا کہ سبق پڑھو اس جملے میں *"کہ"* حرف بیان ہے۔.
*
17/02/2021
پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں بچی۔
دنیا کا پُرانا ترین سکہ شاید یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔
تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے درمیان دس مختلف سکے تھے۔جنہیں ’’کوڑی‘‘، دمڑی‘‘، ’’پائی‘‘، ’’دھیلا‘‘، ’’پیسہ‘‘، ’ٹکہ‘‘، ’’آنہ‘‘، ’’دونی‘‘، ’’چونی‘‘، ’’اٹھنی‘‘ اور پھر کہیں جا کر ’’روپیہ‘‘ بنتا تھا۔
کرنسی کی قیمت یہ تھی-
3 پھوٹی کوڑی= 1کوڑی
10کوڑی = 1 دمڑی
02دمڑى = 1.5پائى.
ڈیڑھ پائى = 1 دهيلا.
2دهيلا = 1 پيسہ .
تین پیسے= ایک ٹکہ
چھ پيسه یا دو ٹکے= 1 آنہ .
دو آنے= دونی
چار آنے= چونی
آٹھ آنے= اٹھنی
16 آنے = 1 روپيہ
جس طرح اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔ اسی طرح
کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جانا
دمڑی جاۓ چمڑی نہ جاۓ در اصل کنجوسی کی شدید حالت کو بیان کرنےکے لئیے استعمال ہوتا ہے
ایک پائ نہ ہونا غربت کا مظہر ...
ایک دھیلے کا نہ ہونا ذراکم غربت ..
ایک ٹکے کی اوقات (ذلیل کرنے کا غیر مہذب بیانیہ)..
ٹکہ بنگلہ دیش کی کرنسی بھی ہے
کیونکہ سب سے اعلی اور مکمل حیثیت روپیہ کی تھی (جس میں سولہ آنے ہوتے تھے) اس لئیے بات کا سولہ آنے صحیح ہونا ۱۰۰ فیصد صحیح
17/02/2021
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﺠﺐ ﻧﺸﺎﻧﯽ
ﮔﻮﻟﮉﻥ ﭘﻠﻮﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ . ﯾﮧ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺍﻻﺳﮑﺎ ﺳﮯﮨﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﺗﮏ 4000 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭘﺮﻭﺍﺯ 88 ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ,ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ . ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟﮐﻮﺋﯽ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺗﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺳﮑﺘﺎ .ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺴﺘﺎﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ . ﺟﺐﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻔﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ88 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ( fat ) ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ .ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺍﯾﻨﺪﮬﻦ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 70 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ .ﺍﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﻮ ﯾﮧﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ 800 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ . ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ, ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ
ﺷﺸﺪﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ . ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮔﺮﻭﮨﻮﮞ ﮐﯽﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ v ﮐﯽ ﺷﯿﭗ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ اور اپنی پوزیشن چینج کرتے رہتے ہیی,ﺟﺲ ﮐﯽ
ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﺭﮔﮍ ﮐﺎ ﮐﻢ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻨﺴﺒﺖﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ . ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ %23 ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺳﯿﻮﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ , ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﯽﮨﮯ 6. ﯾﺎ 7 ﮔﺮﺍﻡ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﯾﺰﺭﻭ ﻓﯿﻮﻝ ﮐﯽﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ, ﺟﻮ ﮨﻮﺍﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺥﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ .ﺍﺏﮨﻢ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ اللّه ﮐﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺀﺕ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ .ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯﮐﺘﻨﯽ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﺩﺭﮐﺎﺭﮨﮯ .ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﻥﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ .ﺍﺗﻨﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﭼﮑﻨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ v ﺷﯿﭗ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ .
ﻓﺘﺒﺎﺭﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺣﺴﻦ ﺍﻟﺨﺎﻟﻘﯿﻦ
🐦
30/01/2021
چارلی چپلن کہتا ہے :
جب میں چھوٹا تھا اپنے بابا کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا، ٹکٹس کے لیے ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا، ہمارے سامنے ایک فیملی تھی چھ بچے اور ماں باپ، غریب گھرانے سے تعلق تھا، ان کے کپڑے پرانے تھے لیکن صاف تھے۔
بچے سرکس کے بارے میں بات کر رہے تھے، بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، جب ان کی باری آئی، ان کا باپ ٹکٹس کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کی قیمت پوچھی، پھر اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہنے لگا، اس کے چہرے پر شرمندگی اور دکھ تھا۔۔
پھر میں نے دیکھا، بابا نے اپنی جیب سے بیس ڈالر نکالے اور زمین پر پھینک دیے، اپنا ہاتھ اس آدمی کے کندھے پر رکھا اور کہا: 'تمھارے پیسے گر گئے۔۔!!"
اس نے بابا کی طرف دیکھا (اس کی آنکھوں میں آنسو تھے) اور کہا: "بہت شکریہ۔۔!!"
جب وہ سرکس کے لیے اندر چلے گئے، بابا نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑا اور ہم پیچھے ہٹ آئے؛ کیوں کہ بابا کے پاس بس وہی بیس ڈالر تھے جو اس شخص کو دے دیے۔۔!!
اور اس دن سے مجھے میرے باپ پہ فخر ہے، وہ میری زندگی کا سب سے پیارا سین تھا، اس سرکس سے بھی پیارا جو میں نہیں دیکھ پایا۔
19/01/2021
اسلام آباد کے گاؤں جو ختم ہوگئے۔
شکرپڑیاں بھی ان 85 دیہات میں شامل تھا جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔ یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔ 85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں *کٹاریاں* بھی شامل تھا جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔
شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں *سنبل کورک*
مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ *گھج ریوٹ*،
جی سکس میں *بیچو*
ای سیون میں *ڈھوک جیون*
ایف سکس میں *بانیاں*
جناح سپر میں *روپڑاں*
جی 10 میں *ٹھٹھہ گوجراں*
آئی ایٹ میں *سنبل جاوہ نڑالہ اور نڑالہ کلاں*
ایچ ایٹ میں *جابو*
زیرو پوائنٹ میں *پتن*
میریٹ ہوٹل کی جگہ *پہالاں*
ایچ ٹین میں *بھیگا سیداں*
کنونشن سینٹر کی جگہ *بھانگڑی*
آبپارہ کی جگہ *باغ کلاں*
اسی طرح راول ڈیم کی جگہ *راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں* نامی گاؤں بستے تھے۔
فیصل مسجد کی جگہ *ٹیمبا* اور اس کے پیچھے پہاڑی پر *کلنجر* نام کی بستی تھی۔
شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی *بگیال* شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔ راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے۔