24/09/2026
اکادمی ادبیات پاکستان میں سابق چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں پروقار الوداعی تقریب
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی، وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی، وزارت کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور افسران کی شرکت، ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی، ادبی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین
اسلام آباد (پ۔ر) :
آج بروز جمعرات، 24 ستمبر 2026ء اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کی حال ہی میں ریٹائر ہونے والی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، جوائنٹ سیکرٹریز، وزارت کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی اور ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی، ادبی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر (ایوارڈ اینڈ پروگرامز) جناب میر نواز سولنگی نے بخوبی ادا کیے۔الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جید ادبی شخصیت کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث رہا۔انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف بطور چیئر پرسن اپنی خدمات جاری رکھیں، لیکن ان کی خواہش کے احترام میں ہم انھیں الوداع کر رہے ہیں۔البتہ مستقبل میں بھی ہماری کوشش ہوگی کہ ان کی علمی و ادبی رہنمائی سے استفادہ کیا جاتا رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ کے دور میں کیے گئے اقدامات سے اکادمی کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی۔ انھوں نے اکادمی کے تحفظ کے لیے سابقہ اہم کاوشوں پر مرحوم عرفان صدیقی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پیش روؤں کی اچھی روایات کو آگے بڑھانے سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے فرائض انتہائی ایمانداری، محنت اور اعلیٰ قیادت کی صلاحیتوں کے ساتھ انجام دیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر بارہا ڈاکٹر نجیبہ عارف سے گزارش کی کہ وہ توسیع لے لیں لیکن ان کا فیصلہ رخصت لینے کا تھا۔ سو ہم ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں ۔انھوں نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے شروع کردہ مقبول ادبی پروگرام "چائے، باتیں اور کتابیں" کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی شہرت ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور کوئٹہ سے بھی اس کے انعقاد کی درخواست موصول ہوئی ہے۔جوائنٹ سیکرٹری(آرگنائزیشن) قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن سیدہ تنزیلہ صباحت نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بے مثال رہا۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ہماری خواہش رہی کہ میڈم خدمات کا سلسلہ جاری رکھتیں اور ہمیں ان سے مزید سیکھنے کے مواقع میسر رہتے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے سب کو بے حد متاثر کیا۔جوائنٹ سیکرٹری (ایڈمن اینڈ انٹرنیشنل کوآرڈینیشن) محترمہ ثمرین زہرا نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہا اور ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا اور ان کی آئندہ زندگی کی خوشیوں اور کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان (NLPD) ڈاکٹر محمدسلیم مظہر نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک کمال کی شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ان کی خدمات قابلِ فخر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون چیئرپرسن مقرر کرنا ایک خوش آئند اقدام تھا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اسلوبِ گفتار، خوش اخلاقی اور مثبت رویے کی تعریف کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) ایوب جمالی اور سابق ڈائریکٹر جنرل شعبہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر محترم امان اللہ نے بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کے تعاون اور ادارے کی ترقی کے لیے ان کی انتھک محنت کو سراہا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جناب محمد عاصم بٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر جناب اختر رضا سلیمی نے ادارے کے لیے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات کو یادگار قرار دیا اور ان کے مثبت اور تعمیری رویے پر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔اپنے الوداعی خطاب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے تمام معزز مہمانوں، افسران اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین اور خوشگوار ماحول میں اکادمی سے رخصت ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود انھوں نے انتہائی ایمانداری اور خلوص کے ساتھ ادارے کو چلانے کی کوشش کی اور ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ اپنے کام کے ذریعے دیگر خواتین کے لیے ایک عملی مثال قائم کریں تاکہ وہ بھی انتظامی عہدوں پر آگے بڑھ سکیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں اور نئے قلم کاروں کی سرپرستی اور نئے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ بلوچستان کے ادیبوں اور عوام کی وطن سے گہری محبت کے پیش نظر ان کی پذیرائی پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ سکردو میں پہلی مرتبہ اہل قلم کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا۔انھوں نے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی کے درمیان باہمی ہم آہنگی، مشاورت اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کی کارکردگی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملی۔تقریب کے آخری حصے میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی باسٹھویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور تمام شرکا نے انھیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اور جوائنٹ سیکریٹریز نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی قابلِ قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں سووینئر اور تحائف پیش کیے۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)