Pakistan Academy of Letters

Pakistan Academy of Letters پاکستانی ادب کی ترویج اور ادیبوں کی بہبود کا قومی ادارہ
Govt body to promote Pakistani literature

اکادمی ادبیات پاکستان میں سابق چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں پروقار الوداعی تقریبوفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی، ...
24/09/2026

اکادمی ادبیات پاکستان میں سابق چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں پروقار الوداعی تقریب

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی، وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی، وزارت کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور افسران کی شرکت، ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی، ادبی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین

اسلام آباد (پ۔ر) :
آج بروز جمعرات، 24 ستمبر 2026ء اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کی حال ہی میں ریٹائر ہونے والی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی، وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، جوائنٹ سیکرٹریز، وزارت کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور افسران نے شرکت کی اور ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی، ادبی اور انتظامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر (ایوارڈ اینڈ پروگرامز) جناب میر نواز سولنگی نے بخوبی ادا کیے۔الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جید ادبی شخصیت کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث رہا۔انھوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف بطور چیئر پرسن اپنی خدمات جاری رکھیں، لیکن ان کی خواہش کے احترام میں ہم انھیں الوداع کر رہے ہیں۔البتہ مستقبل میں بھی ہماری کوشش ہوگی کہ ان کی علمی و ادبی رہنمائی سے استفادہ کیا جاتا رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ کے دور میں کیے گئے اقدامات سے اکادمی کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی۔ انھوں نے اکادمی کے تحفظ کے لیے سابقہ اہم کاوشوں پر مرحوم عرفان صدیقی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پیش روؤں کی اچھی روایات کو آگے بڑھانے سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے فرائض انتہائی ایمانداری، محنت اور اعلیٰ قیادت کی صلاحیتوں کے ساتھ انجام دیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر بارہا ڈاکٹر نجیبہ عارف سے گزارش کی کہ وہ توسیع لے لیں لیکن ان کا فیصلہ رخصت لینے کا تھا۔ سو ہم ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں ۔انھوں نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے شروع کردہ مقبول ادبی پروگرام "چائے، باتیں اور کتابیں" کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی شہرت ملک بھر میں پھیل چکی ہے اور کوئٹہ سے بھی اس کے انعقاد کی درخواست موصول ہوئی ہے۔جوائنٹ سیکرٹری(آرگنائزیشن) قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن سیدہ تنزیلہ صباحت نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بے مثال رہا۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ہماری خواہش رہی کہ میڈم خدمات کا سلسلہ جاری رکھتیں اور ہمیں ان سے مزید سیکھنے کے مواقع میسر رہتے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے سب کو بے حد متاثر کیا۔جوائنٹ سیکرٹری (ایڈمن اینڈ انٹرنیشنل کوآرڈینیشن) محترمہ ثمرین زہرا نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہا اور ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو اپنی خوش نصیبی قرار دیا اور ان کی آئندہ زندگی کی خوشیوں اور کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان (NLPD) ڈاکٹر محمدسلیم مظہر نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک کمال کی شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ان کی خدمات قابلِ فخر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون چیئرپرسن مقرر کرنا ایک خوش آئند اقدام تھا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اسلوبِ گفتار، خوش اخلاقی اور مثبت رویے کی تعریف کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) ایوب جمالی اور سابق ڈائریکٹر جنرل شعبہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر محترم امان اللہ نے بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کے تعاون اور ادارے کی ترقی کے لیے ان کی انتھک محنت کو سراہا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جناب محمد عاصم بٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر جناب اختر رضا سلیمی نے ادارے کے لیے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات کو یادگار قرار دیا اور ان کے مثبت اور تعمیری رویے پر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔اپنے الوداعی خطاب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے تمام معزز مہمانوں، افسران اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین اور خوشگوار ماحول میں اکادمی سے رخصت ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود انھوں نے انتہائی ایمانداری اور خلوص کے ساتھ ادارے کو چلانے کی کوشش کی اور ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ اپنے کام کے ذریعے دیگر خواتین کے لیے ایک عملی مثال قائم کریں تاکہ وہ بھی انتظامی عہدوں پر آگے بڑھ سکیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں اور نئے قلم کاروں کی سرپرستی اور نئے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ بلوچستان کے ادیبوں اور عوام کی وطن سے گہری محبت کے پیش نظر ان کی پذیرائی پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ سکردو میں پہلی مرتبہ اہل قلم کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا۔انھوں نے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی کے درمیان باہمی ہم آہنگی، مشاورت اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کی کارکردگی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملی۔تقریب کے آخری حصے میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی باسٹھویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور تمام شرکا نے انھیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اور جوائنٹ سیکریٹریز نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی قابلِ قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں سووینئر اور تحائف پیش کیے۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

پریس ریلیز(اسلام آباد۔ پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 100ویں نش...
23/09/2026

پریس ریلیز
(اسلام آباد۔ پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 100ویں نشست آج اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف ادیب منیر فیاض نے کی، جنھوں نے مختلف مراحل پر موضوع کی مناسبت سے اپنی علمی و ادبی آراء پیش کرتے ہوئے گفتگو کو بامقصد انداز میں آگے بڑھایا۔نشست میں ادب، معاشرے، مذہب اور سماج کے باہمی تعلق، معاشرتی زندگی پر ادب کے اثرات، جدید دور میں مادیت، سوشلزم ، سرمایہ داری اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ادب و تخلیقی عمل پر اثرات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔منیر فیاض نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ زبان کی تشکیل، توسیع اور تحفظ میں شاعروں اور ادیبوں کا بنیادی کردار ہے۔ ادب معاشرے کے احساسات، رویوں اور حالات کی ترجمانی کرتا ہے اور ادیب اپنے عہد کی گواہی قلم کے ذریعے محفوظ کرتا ہے۔ انھوں نے مختلف قدیم تہذیبوں کے ادبی و ثقافتی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے ادب کی تہذیبی اہمیت اجاگر کی۔پنجابی ادیب ملک مہر علی نے سوشلزم اور سرمایہ داری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جدید دور میں بڑھتی ہوئی مادیت کے معاشرتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ جہانگیر عمران نے اپنی تازہ غزل پیش کی، جسے حاضرین نے سراہا، جبکہ ادب کے معاشرتی اثرات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔پی ایچ ڈی اسکالر اسفند جاوید مہر نے مصنوعی ذہانت اور اس کے ذرائعِ معلومات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ماڈلز دستیاب تربیتی مواد اور ماڈل کی صلاحیتوں کی بنیاد پر معلومات کو ترتیب دے کر جوابات فراہم کرتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اے آئی کے کردار کو ’’پروڈکشن‘‘ کے بجائے ایک معاون تخلیقی و معلوماتی ٹیکنالوجی کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔معروف ناول نگار اختر رضا سلیمی نے اے آئی اور ادب کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی، تخلیقی اور انسانی تجربے سے جنم لینے والے ادب کی اپنی منفرد اہمیت ہے اور مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی احساس اور تجربے کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتی۔ گل خوبان نے معاشرتی اصلاح اور مثبت سماجی تبدیلی میں ادب کے کردار کو اجاگر کیا۔نشست میں اختر رضا سلیمی، ملک مہر علی، اسفند جاوید مہر، صفدر وامق، سجاد احمد، گل خوبان، ذوالفقار علی بخاری، جہانگیر عمران، مایا خان، مہر النسا، منیر فیاض، علشبہ نواز، محمد اویس، یوسف خان اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 100ویں نشست کا انعقاد اکادمی ادبیات پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کے تسلسل اور ادب و معاشرے کے اہم موضوعات پر بامعنی مکالمے کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

پریس ریلیزاسلام آباد(پ۔ر) 16 ستمبر 2026ء، بروز بدھ، اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور ڈا...
18/09/2026

پریس ریلیز
اسلام آباد(پ۔ر) 16 ستمبر 2026ء، بروز بدھ، اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی کو کمالِ فن ایوارڈ 2025ء پیش کرنے کی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان، کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، اہلِ قلم اور فنکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔تقریب کی نظامت ممتاز ادیب عبدالقیوم بیدار نے کی۔ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی ملک ہے، جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں، روایات اور ادبی ورثے ہماری مشترکہ قومی شناخت کا مظہر ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان صرف سنگلاخ پہاڑوں اور جغرافیائی وسعتوں کا نام نہیں بلکہ اپنی منفرد ثقافت، قدیم روایات اور وسیع ادبی و فنی ورثے کے باعث پورے ملک میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور موسیقاروں نے اپنے فن، تخلیق اور قلم کے ذریعے نہ صرف صوبے کی تہذیبی شناخت کو اجاگر کیا بلکہ پاکستان کا نام بھی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں یہ امر شامل ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں موجود ادبی، ثقافتی اور فنی سرگرمیوں کو قومی سطح پر فروغ دیا جائے اور ان علاقوں کے اہلِ قلم اور فنکاروں کو ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی کی ادبی و علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اُنھوں نے اپنی طویل ادبی زندگی میں براہوی ادب کے فروغ اور ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنی تخلیقی و تحقیقی کاوشوں کے ذریعے بلوچستان کے ادبی ورثے کو قومی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر بلوچستان کے نامور فنکاروں میں پرائم منسٹر آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کے تحت مالی امداد کے انعامی چیک بھی تقسیم کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد فنکاروں کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ انہیں درپیش مالی مشکلات میں معاونت فراہم کرنا ہے۔تقریب میں موجود ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور فنکاروں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے اہلِ قلم اور فنکاروں کی پذیرائی اور ان کی ادبی و ثقافتی خدمات کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

اسلام آباد: 16 ستمبر 2026ءاکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام معروف ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ ک...
16/09/2026

اسلام آباد: 16 ستمبر 2026ء
اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام معروف ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 99ویں غیر رسمی نشست بروز بدھ، 16 ستمبر 2026ء کو منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب جناب منیر فیاض نے کی۔ نشست میں ’’کلچر، تہذیب اور ثقافت‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا گیا اور ثقافتی تنوع، تہذیبی تغیرات، مذہب، زبان اور انسانی اقدار کے باہمی تعلق پر گفتگو ہوئی۔
جناب جہانگیر عمران نے کلچر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہن سہن، رسم و رواج، حالات اور موسم ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر صوبے کی موسیقی اور طرزِ تعمیر میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ انھوں نے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ کلچر کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔
محترمہ گل خوبان نے کہا کہ کلچر ایک طرح کی فینٹسی ہے اور تمدن و ثقافت کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔ تمدن میں آنے والی تبدیلیاں مثبت سمت اختیار کر سکتی ہیں۔
جناب محمد جمیل مغل نے کلچر کے تہذیب سے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذہب بھی ثقافت پر اثرانداز ہوتا ہے۔
جناب امداد آکاش نے کہا کہ کلچر عقیدے کو جنم نہیں دیتا بلکہ یہ وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ پہناوے، خوراک اور عبادت کے ثقافتی مظاہر میں جغرافیہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی خطہ ہمیشہ کسی ایک قوم تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔
جناب ارشد سلیم نے کلچر کو تغیر پذیر قرار دیتے ہوئے پختون کلچر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور تہذیب، کلچر اور مذہب کے باہمی فرق کو واضح کیا۔
جناب سردار یوسفزئی نے تہواروں اور بالخصوص پشتو کلچر کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔
جناب ذوالفقار بخاری نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ایک کلچر کو زیادہ فروغ دیا جائے تو کیا اس کے اثرات دیگر خطوں کی ثقافتوں پر بھی مرتب نہیں ہوں گے؟
جناب محمد ساجد قریشی نے کہا کہ وقت کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں، یہاں تک کہ زبان بھی تبدیل ہوئی ہے۔ ثقافت کی بنیادی شناخت برقرار رہتے ہوئے بھی اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ انھوں نے شادی بیاہ کی رسومات اور زبان کے حوالے سے گفتگو کی۔
محترمہ مہرالنسا نے پشتون کلچر میں خواتین کے ثقافتی کردار اور ان سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
ناظمِ نشست جناب منیر فیاض نے بیسویں صدی میں کلچر کے مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ثقافت میں تبدیلی زبان کے ذریعے بھی رونما ہوتی ہے۔ کلچر ایک قوم سے دوسری قوم کے مکالمے سے تشکیل پاتا ہے اور یہ ایک مخصوص نظریۂ ثقافت کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی اقدار کی تلاش کے لیے ثقافتی تصورات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ وجودیت اور ترقی پسند تحریک نے ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انھوں نے فرد اور معاشرے کی آزادی کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔
نشست میں جناب منیر فیاض، جناب سلیم ارشد،جناب امداد آکاش،جناب محمد ساجد قریشی، جناب جاگیر عمران، جناب محمد جمیل مغل،جناب سردار یوسفزئی،جناب ذوالفقار بخاری ،جناب حمزہ حسن شیخ،جناب محمد اویس،محترمہ گل خوباں،محترمہ مہر النسا،محترمہ یاسمین کنول،محترمہ ارم فاطمہ اور علشبہ نواز نے شرکت کی۔

رپورٹ: علشبہ نواز(شعبہ تعلقاتِ عامہ)

اسلام آباد، 09 ستمبر 2026ء: اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’چائے، باتیں اور کتابیں کی 98ویں نشست ...
09/09/2026

اسلام آباد، 09 ستمبر 2026ء:
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’چائے، باتیں اور کتابیں کی 98ویں نشست آج اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف ادیب امداد کاش نے کی، جنہوں نے مختلف مراحل پر موضوع کی مناسبت سے اپنی علمی و ادبی آراء پیش کرتے ہوئے گفتگو کو بامقصد انداز میں آگے بڑھایا۔نشست میں ادب، معاشرہ اور انسانی زندگی کے باہمی تعلق کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ گل خوبان نے زندگی اور فلسفے کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے معاشرتی اصلاح میں ادب کے کردار کو اجاگر کیا۔ امداد کاش نے معاشرتی اکائیوں کے کردار اور زندگی کی سائنسی و ادبی تعریفات پر گفتگو کی، جبکہ گل خوبان نے معاشرتی خرابیوں کی اصلاح کے لیے ادب کے مثبت رجحانات کو فروغ دینے پر زور دیا۔پنجابی ادیب ملک مہر علی نے انسانی رویوں، مادیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے معاشرتی نقصانات کی نشاندہی کی۔ محمد وسیم فقیر نے معاشرے پر ادب کے اثرات کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ ذوالفقار علی بخاری نے کم از کم مڈل جماعت تک ادب کو نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی برائیوں کی روک تھام، نشاندہی اور آگاہی کے لیے بچوں کے نصاب میں ضروری تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔نشست میں ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ، امداد کاش، ملک مہر علی، محمد وسیم فقیر، یاسمین کنول، گل خوبان، ذوالفقار علی بخاری، ارم فاطمہ، علشبہ نواز، محمد اویس، یوسف خان، ریحانہ اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ادب معاشرے میں شعور، فکری تربیت اور مثبت انسانی رویوں کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی و اصلاح میں ادیب اور ادب اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

04/09/2026
01/09/2026
اسلام آباد: 29 اگست 2026ء:اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ممتاز شاعر، ادیب اور معالج ڈاکٹر فخر عب...
29/08/2026

اسلام آباد: 29 اگست 2026ء:
اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ممتاز شاعر، ادیب اور معالج ڈاکٹر فخر عباس کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر فخر عباس نے شاعری کا آغاز اپریل 1995 میں کیا۔ وہ ادبی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔
ان کے ادبی اثاثے میں درج ذیل تخلیقات شامل ہیں:
میں نے جو محسوس کیا - 1999
خوشبو خوشبو - 2010
یہ جو لاہور سے محبت ہے - 2016

صدر نشین اکادمی ادبیاتِ پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مرحوم ڈاکٹر فخر عباس کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

اسلام آباد،27 اگست 2026ء:اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ماہِ ربیع الاوّل کی مناسبت سے ایک پُروقار نعتیہ مشاعرے کا ...
27/08/2026

اسلام آباد،27 اگست 2026ء:
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ماہِ ربیع الاوّل کی مناسبت سے ایک پُروقار نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر و دانشور پروفیسر جلیل عالی نے کی، جبکہ جناب عرش ہاشمی، جناب ضیاء الدین نعیم اور جناب اختر عثمان مہمانِ خصوصی تھے۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جناب اورنگزیب خان کھچی بھی خصوصی طور پر اس بابرکت تقریب میں شریک ہوئے اور نعتیہ کلام پیش کرنے والے شعرا کو کھل کر داد و تحسین سے نوازا۔
تقریب کا آغاز حامد وسیم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ شاہ میر ریاض نے نعتیہ اشعار پیش کیے۔ بعد ازاں اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں کے شعرا نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ اردو میں جناب علی عرفان، محترمہ درشہوار توصیف، جناب فخر کفایت، محترمہ افشاں عباسی، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، جناب صابر انصاری،جناب اقبال ترمذی، جناب جمیل جمیل، محترمہ راشدہ ماہین، جناب تنویر حیدر، جناب منیر فیاض،محترمہ یاسمین کنول، ڈاکٹر مہناز انجم، جناب رحمان حفیظ، جناب افتخار یوسف، جناب کرنل خالد مصطفیٰ،جناب کاشف عرفان اور جناب سید ابرار حسین، جناب ضیاء الدین نعیم، جناب عرش ہاشمی ، جناب اختر عثمان اور جناب جلیل عالی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
پنجابی میں جناب محمد اسلم اسلم، ہندکو میں جناب وسیم فقیر، پوٹھوہاری میں جناب فرزند علی ہاشمی جبکہ پشتو میں جناب سردار یوسفزئی، جناب عزیز خٹک اور جناب اقبال حسین افکار نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جناب مہمانِ خصوصی جناب ضیاء الدین نعیم نے اردو کے علاوہ سرائیکی میں بھی نعتیہ کلام پیش کیا
صاحبِ صدارت پروفیسر جلیل عالی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلم ادب میں مثالی اور برتر شخصیت کے تصور کے پس منظر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس مرکز و محور کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عشقِ رسول ﷺ ہماری تہذیبی اور روحانی زندگی کا بنیادی حوالہ ہے۔ انھوں نے اردو ادب میں حمد و نعت کی روایت کے تاریخی ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے اقبال اور منیر نیازی کے کلام کے حوالے دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں بعض ادبی رسائل میں نعت کی اشاعت کے حوالے سے تحفظات موجود تھے، تاہم ہماری تہذیبی قوت اور عوامی وابستگی کے باعث نعت نے ادبی جرائد میں بھی اپنا مقام بنایا۔
مشاعرے کے اختتام پر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے تمام معزز مہمانوں، ادبا، شرکا اور شعرا کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے مختلف پاکستانی زبانوں میں نعتیہ کلام پیش کرکے اس بابرکت محفل کو یادگار بنا دیا۔

اسلام آباد (پ۔ ر)25اگست 2026ء: اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں گریڈ 18 میں بطور پرسنل سیکرٹری خدمات انجام دینے وال...
25/08/2026

اسلام آباد (پ۔ ر)25اگست 2026ء:
اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں گریڈ 18 میں بطور پرسنل سیکرٹری خدمات انجام دینے والے محترم محمد ساجد کو گریڈ 19 میں بطور سینئر پرسنل سیکرٹری ترقی دے دی گئی۔
صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے محمد ساجد کو ترقی پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ نئے عزم اور جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے بنیادی اصولوں کے تحت ملازمین کو میرٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق ترقی کے مناسب مواقع فراہم کرنا ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔محمد ساجد نے صدرنشین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مزید محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اکادمی میں علم و ادب کے فروغ اور اہلِ قلم کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

Address

Pitras Bukhari Road, H-8/1, Opp. Shifa International Hospital
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00

Telephone

+92519269718

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Academy of Letters posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Pakistan Academy of Letters:

Shortcuts

Share