Pakistan Academy of Letters

Pakistan Academy of Letters

Share

پاکستانی ادب کی ترویج اور ادیبوں کی بہبود کا قومی ادارہ
Govt body to promote Pakistani literature

24/06/2026

اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام
قائد اعظم محمد علی جناح کے ۱۵۰ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے
مقابلۂ نظم کا انعقاد
بعنوان: میرِ کارواں ، محمد علی جناح
تخلیقات بھیجنے کی حتمی تاریخ: ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

Photos from Pakistan Academy of Letters's post 22/06/2026

پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر کی صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان سے ملاقات

اسلام آباد، 22 جون 2026: جمہوریہ تاجکستان کے سفیر، عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے اکادمی ادبیات پاکستان میں صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر سفارت خانۂ تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ اوف مشن جناب معروف عبدالرحمان اور نائب ناظم اکادمی ڈاکٹر بی بی امینہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ادبی، تاریخی،ثقافتی اور علمی تعلقات کے فروغ، باہمی تعاون کے امکانات اور مشترکہ ادبی و تحقیقی منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران میں تاجک سفیر عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے پاکستان اور تاجکستان کو ایک قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیبی، ثقافتی اور فکری رشتوں سے منسلک ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں موجود تہذیبی و ثقافتی سرمایہ دراصل دونوں ممالک کا مشترکہ ورثہ اور اثاثہ ہے، جس کے تحفظ، فروغ اور نئی نسلوں تک منتقلی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

سفیر ِ تاجکستان نے شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال کے لیے گہرے عقیدت و احترام کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجکستان میں سیکڑوں افراد کلیاتِ اقبال کے حافظ ہیں اور وہاں اقبال کو ایک بلند روحانی اور فکری مقام حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کی فکر آج بھی تاجک عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کا پیغام دونوں ممالک کے درمیان فکری اور تہذیبی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔

عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کو اکتوبر ۲۰۲۶ء میں دوشنبہ، تاجکستان میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی۔ انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نہ صرف کانفرنس میں شرکت کریں بلکہ اس موقعےپر اپنا تحقیقی مقالہ بھی پیش کریں۔

صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان،پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس موقعے پر کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور ادبی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کو ادبی اور ثقافتی سطح پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کی تعمیر اور خطے میں فکری و ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ ادبی منصوبوں، تراجم، علمی تبادلوں اور ادبی وفود کے تبادلے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے ادبی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، تراجم کے فروغ، مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں اور ادبی و ثقافتی تعاون کے نئے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادب اور ثقافت عوامی روابط کو مستحکم بنانے اور باہمی تفہیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ملاقات خوشگوار اور نہایت دوستانہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقعے پر عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کو تاجکستان کی یادگاری سوغات پیش کی، جبکہ صدر نشین اکادمی نے انھیں اپنی تصانیف اور اکادمی کی منتخب مطبوعات پیش کیں۔

Ambassador of Tajikistan to Pakistan Meets Chairperson of the Pakistan Academy of Letters

Islamabad, 22 June 2026: His Excellency Mr. Yusuf Sharifzoda, Ambassador of the Republic of Tajikistan to Pakistan, called on Prof. Dr. Najeeba Arif, Chairperson of Pakistan Academy of Letters (PAL). Mr. Maruf Abdurahmon, Deputy Head of Mission at the Embassy of Tajikistan, and Dr. Bibi Ameena, Deputy Director of the Pakistan Academy of Letters, were also present during the meeting.
The meeting focused on the promotion of literary, historical, cultural, and academic relations between Pakistan and Tajikistan, exploring avenues of mutual cooperation and discussing prospects for joint literary and research initiatives.

During the discussion, H.E. Mr. Yusuf Sharifzoda described Pakistan and Tajikistan as “one nation,” bound together by centuries-old cultural, intellectual, and civilizational ties. He emphasized that the cultural and historical heritage found in Pakistan constitutes a shared legacy and asset of both countries, underscoring the need for joint efforts to preserve, promote, and pass it on to future generations.

The Ambassador also expressed profound admiration and reverence for the Poet-Philosopher of the East, Allama Muhammad Iqbal. He noted that hundreds of people in Tajikistan have memorized Kulliyat-e-Iqbal and that Iqbal enjoys an exceptionally high spiritual and intellectual status in the country. He remarked that Iqbal’s thought remains alive among the people of Tajikistan and continues to serve as a bridge strengthening the intellectual and cultural bonds between the two nations.

H.E. Mr. Yusuf Sharifzoda extended a special invitation to Prof. Dr. Najeeba Arif to participate in an international conference scheduled to be held in Dushanbe, Tajikistan, in October 2026. He expressed the hope that she would not only attend the conference but also present a scholarly paper on the occasion.

Speaking on the occasion, Prof. Dr. Najeeba Arif stated that Pakistan and Tajikistan must work together at literary and cultural levels to further strengthen their historical, cultural, and literary ties. She emphasized that the promotion of joint literary projects, translation initiatives, academic exchanges, and literary delegations is essential for building a better future and fostering intellectual and cultural harmony in the region.

The meeting also included discussions on introducing the literary heritage of both countries to wider international audiences, promoting translation activities, undertaking collaborative research projects, and exploring new opportunities for literary and cultural cooperation. Both sides agreed that literature and culture play a vital role in strengthening people-to-people contacts and enhancing mutual understanding.

The meeting concluded in a warm and cordial atmosphere. On this occasion, H.E. Mr. Yusuf Sharifzoda presented a commemorative gift from Tajikistan to Prof. Dr. Najeeba Arif, Chairperson of the Pakistan Academy of Letters, while the Chairperson presented him with her publications as well as selected publications of PAL.

22/06/2026

اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیر اہتمام
تیسرا سہ روزہ نسلِ نو ادبی میلہ ۲۰۲۶ء
۱۱ تا ۱۳ اگست ۲۰۲۶

شرکت کے خواہش مند نوجوان رجسٹریشن کے لیے درج ذیل لنک پر دیے گئے گوگل فارم کو پر کر کے ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ تک ارسال کریں:

https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSchtYCXrHwQb0OZ5luEJlbYt34uj61qrExFF39TupPrnEFyyA/viewform

نوٹ: یہ فارم اکادمی ادبیات پاکستان کی ویب گاہ پر بھی دستیاب ہے:

https://pal.gov.pk/en/notices/

Photos from Pakistan Academy of Letters's post 20/06/2026

پریس ریلیز
(اسلام آباد۔پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام چوتھا آن لائن توسیعی خطبہ بعنوان "پاکستانی زبانوں کی ترویج: صورتحال اور امکانات" بروز جمعہ، 19 جون 2026ء کو زوم اور فیس بک کے ذریعے آن لائن منعقد ہوا۔ تقریب کی صدارت ممتاز شاعر، ماہرِ لسانیات، مؤرخ اور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کی، جبکہ توسیعی خطبہ معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم جناب زبیر توروالی نے پیش کیا۔ نظامت کے فرائض شاعر اور محقق صفی ربانی نے انجام دیے۔

اپنے توسیعی خطبے میں زبیر توروالی نے کہا کہ جرمن ادارے Ethnologue کے 2026ء کے ایڈیشن کے مطابق پاکستان میں 76 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک معتبر ادارہ ہے اور اس کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بولی جانے والی زبانوں کو جدیدیت اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور اردو جیسی بڑی زبانوں کو زوال پذیری کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے، تاہم انھیں معدوم ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وہ زبانیں زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جن کا باقاعدہ رسم الخط موجود نہیں اور جنہیں اپنی تحریری ضروریات کے لیے اردو رسم الخط سے استفادہ کرنا پڑتا ہے۔
انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ زبانوں کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب انھیں معیشت، نظامِ تعلیم اور نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے زبانوں کی ترویج کے لیے قائم کئی ادارے بیرونی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے حکومت اور متعلقہ قومی اداروں کو اس میدان میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبانوں کی درجہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون سی زبان کس نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے اور اس کے مطابق عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
نظامت کرتے ہوئے صفی ربانی نے کہا کہ ہر زبان سے وابستہ ادیبوں، شاعروں اور محققین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان کی بقا، ترویج اور ارتقا کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے زبیر توروالی کے خطبے کو نہایت جامع، مدلل اور فکر انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی دورِ حکومت میں تقریباً ڈیڑھ سو برس قبل لسانیات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ سروے کیا گیا تھا، جو اپنی نوعیت کی ایک اہم اور جامع تحقیق تھی۔ انھوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر طارق رحمان نے بھی اس میدان میں قابلِ قدر تحقیقی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2011ء میں ایک قرارداد منظور کی، جس کے نتیجے میں صوبے کی پانچ بڑی زبانوں کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق وہ زبانیں زیادہ خطرات سے دوچار ہوتی ہیں جن کے ساتھ آبادی، تعلیم اور میڈیا کی مضبوط پشت پناہی موجود نہ ہو۔ انھوں نے پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اختتامی کلمات میں تمام مہمانوں اور شرکاکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زبانوں کا تنوع دراصل پاکستان کی ثقافتی اور فکری قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت اور مرکزیت کی اس دوڑ میں اداروں، ادیبوں، دانشوروں اور متعلقہ شخصیات کو مشترکہ جدوجہد کے ذریعے زبانوں کی بقا، سالمیت اور ترویج کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کا ایک میوزیم قائم کیا ہے، جس میں مختلف زبانوں کے کلاسیکی مخطوطات اور اہم تحریری سرمایہ محفوظ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی لسانی وراثت سے آگاہ رہ سکیں۔
اس آن لائن نشست میں جناب فرحت اللہ بابر، محترمہ ثروت محی الدین، صاحب زادہ مسعود احمد، پروفیسر اکرم چودھری، ڈاکٹر ضیاءالرحمٰن بلوچ، جناب اقبال حسین افکار، جناب رحمان حفیظ، ڈاکٹر عزیز فیصل، ڈاکٹر امجد کلو، ڈاکٹر کامران کاظمی،محمد ساجد، جناب اظہر مجوکہ، محترمہ تہمینہ علی، ڈاکٹر سعدیہ کمال، جناب ریاض عادل، جناب عقیل بلوچ، جناب عرفان، محترمہ طیبہ تحسین،ڈاکٹر شیراز فضل داد، ڈاکٹر شاہدہ رسول، جناب سردار یوسف زئی،ڈاکٹر منظور علی ویسریو، جناب وسیم فقیر، محترمہ در شہوار، محترمہ کرن نورین، ڈاکٹر فاروق عادل، پروفیسر ڈاکٹر وسیمہ شہزاد،ڈاکٹر مہناز انجم، جناب یاسر کیانی، جناب تنویر عالم، جناب جاوید اقبال جاوید، جناب فرخ جمال و دیگر نے شرکت کی۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقاتِ عامہ)

19/06/2026
17/06/2026

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام
چوتھا آن لائن توسیعی خطبہ
فیس بک لائیو (ان شاءاللہ)

Photos from Pakistan Academy of Letters's post 17/06/2026

پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلہ "چائے، باتیں اور کتابیں" کی 89ویں نشست آج بروز بدھ، 17 جون 2026ء کو اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں نئے اسلامی سال کے آغاز اور محرم الحرام کی مناسبت سے "شہدائے کربلا کی یاد میں محفلِ مسالمہ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز حامد وسیم خان، طالبِ علم، کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب منیر فیاض نے کی، جبکہ اہلِ قلم، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور ادب دوست شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

محفل میں شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نذرانۂ عقیدت، سلام، منقبت، مرثیہ اور نعت پیش کی گئی۔ معروف شاعر، نقاد اور ادیب اختر عثمان نے واقعۂ کربلا کے حوالے سے اپنا مرثیہ پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ علی اکبر عباس نے سلام و منقبت پیش کی، جسے حاضرین نے نہایت پسند کیا۔ تنویر حیدر نے امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی بارگاہ میں سلام و منقبت کے ساتھ فارسی اشعار بھی پیش کیے۔ فرزند علی ہاشمی نے پوٹھوہاری زبان میں سلامِ عقیدت پیش کیا، جبکہ محمد وسیم فقیر نے ہندکو زبان میں سلامِ عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔ شاعرہ اور صحافی سارہ خان نے پشتو زبان میں سلامِ عقیدت پیش کیا، نعیم اکرم قریشی نے پُرسوز سلام و منقبت سے حاضرین کے دل موہ لیے، جبکہ اقبال حسین افکار نے پشتو زبان میں سلام و منقبت پیش کی۔

بزمِ حمد و نعت کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر کاشف عرفان نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ ڈاکٹر مہناز انجم نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ شہدائے کربلا کی بارگاہ میں سلامِ عقیدت بھی پیش کیا، جبکہ ناصر علی ناصر نے بھی شہدائے کربلا کو سلامِ عقیدت پیش کیا۔محفل کے اختتام پر عرش ہاشمی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی اور نئے اسلامی سال کے آغاز کے موقع پر خصوصی دعا بھی کروائی۔

یہ نشست اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک کثیراللسانی مشاعرے کی صورت اختیار کر گئی، جس میں اردو، پشتو، ہندکو، پوٹھوہاری اور فارسی زبانوں میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے گئے۔ شرکانے نئے اسلامی سال کے آغاز اور محرم الحرام کی مناسبت سے محفلِ مسالمہ کی حقیقی روح کے مطابق سلام و منقبت پیش کرتے ہوئے شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

نشست میں منیر فیاض، افشاں عباسی، آصف سلیم، عرش ہاشمی، اختر عثمان، علی اکبر عباس، ڈاکٹر مہناز انجم، تنویر حیدر، نعیم اکرم قریشی، محمد عمران نقوی، رابعہ شمشاد، محمد اورنگزیب شاہ، محمد جواد، احسان، ڈاکٹر کاشف عرفان، ڈاکٹر حمزہ حسن، فرزند علی ہاشمی، ذوالفقار علی بخاری، عثمان، طارق منظور، ڈاکٹر بی بی امینہ، محمد وسیم فقیر، ارم فاطمہ، ناصر علی ناصر، سبطین رضا لودھی، اقبال حسین افکار، سارہ خان، یوسف خان، خالد محمود اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

16/06/2026

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام
محفلِ مسالمہ
۱۷ جون ۲۰۲۶

Photos from Pakistan Academy of Letters's post 15/06/2026

اسلام آباد (15) جون (2026) : کیپیٹل یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد کے شعبہ انگریزی (بی ایس ) کے طلبا نے اپنے اساتذہ محترمہ فائزہ اشرف اور محترم سکندر سیماب کی سربراہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کا مطالعاتی دورہ کیا۔اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے محترمہ ارم فاطمہ نے طلبا کے وفد کو خوش آمدید کہا اور انھیں اکادمی کے اغراض و مقاصد، صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی زیر سر پرستی پاکستانی ادب کے فروغ اور ادبیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اکادمی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے اکادمی کی مطبوعات اور دیگر ممالک کے ساتھ ادبی روابط اور خاص کر نسل نو کو ادب کی طرف راغب کرنے کے حوالے سے اکادمی کے منصوبوں کا ذکر کیا۔

طلبہ نے اکادمی کے مختلف شعبوں احمد فراز لائبریری، ایوان اعزاز ، پاکستانی زبانوں کے ادبی عجائب گھر، فیض احمد فیض آڈیٹوریم اور اکادمی کی بک شاپ کا دورہ کیا اور ان میں گہری دل چسپی ظاہر کی۔ دورے کے دوران میں انھیں اکادمی میں ہونے والی رسمی اور غیر رسمی ادبی تقریبات سے بھی آگاہ کیا گیا جس سے طلبا نے اکادمی کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ وہ آینده اکادمی ادبیات پاکستان کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔

Photos from Pakistan Academy of Letters's post 13/06/2026

اسلام آباد، 11 جون 2026: ویت نام کے سفیر، عزت مآب مسٹر پھام آں توآن (H.E. Mr. Pham Anh Tuan)، سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری جناب پھام ہونگ کوانگ (Mr. Pham Hong Quang) اور جناب ٹام ہاں نوک ڈک (Mr. Tam Hanh Ngoc Duc) کے ہمراہ اکادمی ادبیاتِ پاکستان تشریف لائے، جہاں صدر نشین اکادمی ادبیاتِ پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقعے پر نائب ناظم (تحقیق و ترجمہ) جناب اختر رضا سلیمی اور نائب ناظم (اکیڈیمکس) ڈاکٹر بی بی امینہ بھی موجود تھیں۔
ملاقات کے آغاز میں پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے سفارت خانے کے نئے سیکنڈ سیکریٹری جناب ٹام ہاں نوک ڈک کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں اکادمی ادبیاتِ پاکستان اور ویت نام رائٹرز ایسوسی ایشن (Vietnam Writers’ Association) کے مابین پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تناظر میں ادبی و ثقافتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
خصوصی طور پر عظیم ویت نامی رہنما ہو چی من کی معروف تصنیف ’’پرزن ڈائری‘‘ (Prison Diary) کے اردو ترجمے کی اشاعت سے متعلق امور زیرِ بحث آئے، جو مذکورہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام شائع کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب کی متوقع تقریبِ رونمائی کے انتظامی اور دیگر متعلقہ امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران عزت مآب سفیر نے خیرسگالی اور پاکستان۔ویت نام دوستی کی علامت کے طور پر اکادمی ادبیاتِ پاکستان کو ایک یادگاری تحفہ پیش کیا، جبکہ صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے انھیں اکادمی کی مطبوعات پر مشتمل کتب کا ایک سیٹ پیش کیا۔
مجموعی طور پر یہ ملاقات نہایت خوش گوار اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی، جس نے پاکستان اور ویت نام کے درمیان ادبی و ثقافتی تعلقات کے مزید فروغ اور باہمی تعاون کے استحکام کی راہ ہموار کی۔

Islamabad, 11 June 2026: H.E. Mr. Pham Anh Tuan, Ambassador of Vietnam to Pakistan, visited the Pakistan Academy of Letters accompanied by Mr. Pham Hong Quang, Second Secretary at the Embassy of Vietnam, and Mr. Tam Hanh Ngoc Duc. They were received by Prof. Dr. Najeeba Arif, Chairperson of the Pakistan Academy of Letters. Mr. Akhtar Raza Saleemi, Deputy Director (Research and Translation), and Dr. Bibi Ameena, Deputy Director (Academics), were also present on the occasion.
At the outset of the meeting, Prof. Dr. Najeeba Arif extended a warm welcome to Mr. Tam Hanh Ngoc Duc on his arrival in Pakistan as the Embassy's new Second Secretary. Subsequently, both sides exchanged views on various aspects of literary and cultural cooperation in the context of the Memorandum of Understanding (MoU) already signed between the Pakistan Academy of Letters and the Vietnam Writers’ Association.
Particular discussion focused on the publication of the Urdu translation of Prison Diary, the renowned work of the great Vietnamese leader Ho Chi Minh, which is being published by the Pakistan Academy of Letters under the framework of the aforementioned MoU. Matters relating to the forthcoming book launch ceremony, including its organizational and other related arrangements, were also discussed.
During the meeting, the Ambassador presented a commemorative gift to the Pakistan Academy of Letters as a gesture of goodwill and a symbol of Pakistan–Vietnam friendship. Prof. Dr. Najeeba Arif presented him with a set of publications issued by the Academy.
Overall, the meeting was held in a cordial and constructive atmosphere and paved the way for further strengthening literary and cultural relations, as well as enhancing mutual cooperation between Pakistan and Vietnam

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Pitras Bukhari Road, H-8/1, Opp. Shifa International Hospital
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00