Paigham Ilm-o-Daanish Global Institute of Quranic Excellence
"Discover, Learn, Grow: Empowering Minds through Quranic Guidance"
www.paighamilmodaanish.com Classes On Whatsapp, Imo & Skype.
Paigham Ilm-o-DaaNish International Institute Of Quranic Education. Come To Learn Quran With Tajweed ONLINE With Qualified, Experts Teachers. 3 Days Trail classes
07/04/2026
29/03/2026
Amazing seen
Paigham Ilm-o-Daanish Global Institute of Quranic Excellence✨🌏📖
Alhamdulilah 💫💫💫
Our Beloved Student Hamnah Naveed On Paigham TV.
Our Mission is provide Quality Education in Your Comfort zone.
Admission Now
Paigham Ilm-o-Daanish Global Institute of Quranic Excellence
Education-Grooming-Purification
0304 5730037
آمین یاربی
☎️ +923045730037
23/11/2025
بیوی کے ہونٹوں کا تقدس بتاتی ایک حدیث
فیس بک پر ابھی ایک حدیث نظر سے گزری، نبی کریم برتن سے ٹھیک اسی جگہ اپنے مبارک لب رکھ کر مشروب نوش فرمایا کرتے، جہاں سیدہ عائشہ نے اپنے لب رکھ کر مشروب پیا ہوتا۔ اس ایک نبوی عمل سے کئی چیزیں سامنے آتی ہیں، ایک یہ کہ وہ جیسے کہتے ہیں، لیڈیز فرسٹ، آپ پہلے اپنی محبوب بیوی کو مشروب پلاتے اور پھر ان کے بعد خود پیتے اور پھر اس پینے میں جو انداز محبت اپناتے اس سے دو چیزیں مزید آشکار فرما دیتے، اولا بیوی سے بے پناہ محبت اور دوسرے یہ کہ مومن کا جھوٹا پاک بھی ہوتا ہے اور محبوب کا جھوٹا گوارا ہی نہیں خوشگوار بھی ہوتا ہے اور تیسرا یہ کہ اہل محبت کو اظہار محبت میں کوئی باق کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ ایسے موقعوں پر اخفائے محبت نہیں، اظہار محبت دین ہے۔ مزید غور کیجیے تو آخری وقت میں سیدہ اپنے دانتوں سے مسواک چبا کے آپ کو دیتیں اور آپ اس سے اپنے دانت مبارک صاف فرماتے۔
سچ کہوں تو زندگی یا تو عرب جی گئے یا یورپی۔ فرق یہ کہ عربوں نے دین کے ساتھ زندگی میں کشش بحال رکھی جبکہ اہل یورپ صرف دنیا میں بے حدود آگے بڑھتے گئے۔ میاں بیوی کے معاملے میں ہمارا مشرق محض مسکین اور یتیم ہے۔ یہاں بے چارے گھر میں ایک ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھ نہیں سکتے کہ بے شرم کہلائیں گے۔ اپنی ہی بیوی کے ساتھ بیٹھنے، کھانے اور گھومنے کو بے شرمی کہنے والے کائنات میں شائد ہم ہی اس کرہ ارض پر پائے جاتے ہوں گے۔
نبی کریم کی سیرت دیکھیں تو آپ اپنی پیاری بیوی کو نک نیم سے بلایا کرتے، کبھی عائش اور کبھی حمیرا کہہ کے۔ بے خبر لوگ نک نیم کو مغرب کی ایجاد اور عادت سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سنت اور عبادت ہے۔ آپ نے اپنی بیوی کو عید کے ایک موقع پر مسجد میں کھیلے جاتے حبشیوں کے کسی روایتی کھیل کو اس قدر طویل عرصہ دکھایا کہ وہ آپ کی سیدہ سے محبت کی مثال ہوگیا۔ سیدہ آپ کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائے تادیر دیکھتی رہیں۔ کھیل میں دلچسپی نہ رہی تو بھی محض یہ دیکھنے کیلئے حبشیوں کا کھیل دیکھتی رہیں کہ آخر ان کے شوہر ان کیلئے کتنی دیر کھڑے رہ سکتے ہیں۔ سیدہ کے ساتھ کسی راہ میں دوڑ کامقابلہ بھی آپ نے کیا، ایک بار آپ جیت گئے اور ایک بار سیدہ۔ آپ نے تب یہ فرمایا، آج ہمارا مقابلہ برابر ہوگیا۔ آپ کے نکاح کی بھی سن لیجیے۔ ابھی شادی ہوئی نہ تھی کہ ریشمی رومال میں فرشتہ سیدہ کی تصویر لایا، دکھا کے کہنے لگا، یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔
دراصل دین اور شریعت یہ چاہتی ہے کہ میاں بیوی کے رشتے میں کائنات کے ہر رشتے سے زیادہ کشش ، محبت اور مقناطیسیت ہو، کیونکہ اسی ایک رشتے پر معاشرے کے سکون اور بہبود کی بنیاد ہے۔ جب کوئی رشتہ نہ تھا تو جنت میں صرف میاں بیوی کا یہی ایک رشتہ تھا۔ اس رشتے کی اہمیت سمجھنی ہو تو دیکھئے کہ اس ایک رشتے کو توڑنے کے پیچھے شیطان کی سب سے زیادہ محنت جاری ہے۔ یہاں یہ ضرور ملحوظ خاطر رہے کہ شیطان جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔ اس معاملے میں شیطان کی پہچان کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ میاں بیوی کے رشتے میں رخنہ یا رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ دنیا کا کوئی رشتہ ایسا نہیں، جو لباس سے بھی پار وجود اور حیثیت رکھتا ہو اور جسے قرآن خود ایک دوسرے کا لباس کہہ رہا ہو۔ لیکن کیسی مصیبت ہمارے معاشرے میں سارے لطیفے ،ساری دوریاں اور سارے پردے اور ساری شرمیں اسی ایک رشتے میں رکھ دی گئی ہیں۔ یعنی جتنے شیطانی حجاب اس رشتے میں رکھے جا سکتے تھے، وہ سارے ہم نے اپنی سوچ یا اقدار کے نام پر اس میں رکھ دئیے ہیں اور پھر ہمیں شکوہ یہ ہے کہ معاشرہ بگڑ رہا ہے۔ فکر اس پر جاری ہے کہ یہ رشتہ سکڑ رہا ہے اور بغیر اس رشتے کے مرد و زن میں قربتیں اور الفتیں پھیل رہی ہیں۔
ہمارے ہاں مسئلہ اس رشتے کے آغاز میں بھی پیدا کرنے کیلئے پوری محنت کی جاتی ہے، کافی کچھ زہر تو وہیں بو دیا جاتا ہے۔ جب بچوں کی پسند کے خلاف شادی کر دی جاتی ہے۔ اس سے خاک محبت پیدا ہوگی؟ دین جبری نکاح کو نکاح ہی نہیں مانتا، آپ نے ایک صحابی سے فرمایا ، اپنی ہونے والی منکوحہ کو نکاح سے پہلے ایک نظر دیکھ لو۔ اس سے محبت پیدا ہوگی۔ ہم یہاں بھی محبت کی جگہ عبرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس پر پورا پہرا دیتے ہیں کہ کہیں اس رشتے میں ہمارے چھڑکے زہر کی جگہ خدانخواستہ محبت کے گلاب کھلنے اور قربت کے رنگ نہ چھلکنے لگیں۔ بس شروع میں لکھی حدیث دیکھی تو بے ساختہ چند سطور لکھتا چلا گیا۔ شاد رہئے اور شیطان کے نہیں، میاں بیوی کے حق میں رہئے۔
https://wa.me/qr/OEEK7PVY2NEPD1
Paigham Ilm-o-Daanish international institute
09/11/2025
Book your time now for free Trail
Classes
Just how we teach Ofter That you can decide to continue
923045730037
05/11/2025
Alhamdulilah, another student has completed Quran with Tarteel O Tajweed course from Paigham Ilmo Daanish International Quran Institute.
Congratulations Mawra Idrees on achieving this tremendous milestone.
May Allah reward your parents in both worlds - Ameen ✨
Book Your Time Now for Free Trial Classes.
Just check how we teach Ofter That you can decide to continue.....
WhatsApp +923045730037
27/06/2025
تاریخ میں لکھا جائے گا کہ جب دنیا کی یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے ہوائی جہاز، آبدوز اور راکٹ بنا رہے تھے، ہماری یونیورسٹیوں سے اربوں روپوں کے فنڈ سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہونے والے فارغ الدماغ احساس کمتری کے مارے ذہنی مریض بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے اور سائنسی ترقی میں حصہ لینے اپنی ذمے داری کا بوجھ ان مولویوں اور مدارس پر ڈال کر زبان درازیاں کرتے تھے جن کا اس سب سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا تھا۔
کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے
https://wa.me/923045730037
بات سمجھ آتی ہے
یوم عرفہ اپنا اپنا
زیادہ مت الجھیے ، الجھ کے رہ جائیں گے ، ایک بنیادی بات یاد رکھیے ، دل و دماغ سلجھ جائیں گے
یوم عرفہ سے مراد نو ذالحجہ ہے ، اس کا حاجیوں کے وقوف عرفات سے کوئی تعلق نہیں ...کیونکہ وقوف عرفات زوال سے مغرب تک ہے اور روزہ سحری سے مغرب تک - اور حجاج کے وقوف عرفات سے اس کے تعلق کی کوئی واضح دلیل نہیں -
اسی طرح جب حاجی وقوف کر رہے ہوتے ہیں تب آسٹریلیا سے پرے "جزائر ہوائی" والے سونے کے لیے بستر پر جا چکے ہوتے ہیں یعنی اگر وہ سعودی چاند کے "مقلد" بھی بن جائیں تو روزہ پہلے ہی رکھ کے کھول چکے ہوں گے ، اب کیا کریں گے ؟
اور جب حاجی عرفات سے نکل کے سو کر خراٹے لے رہے ہوں گے تب تک چلی ، لاطینی امریکہ والے والے ابھی سو کے بھی نہیں اٹھے ہوتے ان بے چاروں کا کیا ہو گا ؟
روزہ تو نکل گیا ، روزہ کیا یہاں تو حاجی صاحب بھی نکل گئے ، سوال تو ہے نا ؟
ان کے تو دو سال کے گناہ ان کے کھاتے میں ہی رہ گئے اس لیے کہ روزہ کے وقت ان کے ہاں تھی ہی رات - اب اگر اگلے دن رکھتے ہیں تو وقوف عرفات سے کیا تعلق جوڑیں گے ؟
گر اس کا وقوف سے تعلق ہوتا تو تیرہ سو سال امت کے روزے کیا ہووے ؟
ان کا تو وقوف کا دن کبھی ایک تھا ہی نہیں ، تب کون سا ٹی وی ہوتا تھا ؟
اب رہا چاند تو اس ضمن میں صحیح بخاری کی حدیث ہے :
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ - صحیح بخاری ، کتاب الصوم
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے 30 دن پورے کر لو۔
یہ ایسی حدیث ہے کہ جس سے تمام اشکالات ختم ہو جاتے ہیں لیکن بعض احباب پھر بھی موجودہ دور کے ذرائع رسل و مواصلات کو لے کے بیٹھے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی :
"موجودہ تیز تر وسائلِ نقل و حرکت اور ذرائع ابلاغ کے پیشِ نظر ، حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہے ، لہذا یومِ عرفہ کا روزہ بھی اسی دن رکھا جائے جب حجاج کرام ، عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔"
پہلا اعتراض تو یہی ہے کہ حاجیوں کے وقوف سے یوم عرفہ کے روزے کا تعلق ثابت کیا جائے
دوسرا اعتراض اس موقف پر یہ ہے کہ
"لیبیا ، تیونس اور مراکش چند ممالک ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے۔ یعنی ان ممالک میں جب 10۔ذی الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں یومِ عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ، ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔"
اب اس مسلے کا ان احباب کے نزدیک کیا حل ہے کہ جو سعودیہ کے وقوف عرفات کو تمام دنیا کے لیے یوں عرفہ قرار دیتے ہیں ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول حدیث عائشہ کے مطابق
" یکم سے نو ذوالحجہ تک روزے رکھتے تھے "
سو سنت نبوی سے الگ سے روزہ تو آپ کو ملے گا نہیں - سو الجھائیے مت اور الجھیے بھی مت ...آرام سے پاکستان کے چاند کے مطابق روزہ رکھیے اور اللہ سے رحمت کی امید بھی ...اور ہاں میں بحث بھی نہیں کروں گا۔
..ابوبکر قدوسی
10/04/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Islamabad
2244
Opening Hours
| Monday | 12:00 - 00:00 |
| Tuesday | 12:00 - 00:00 |
| Wednesday | 12:00 - 00:00 |
| Thursday | 12:00 - 00:00 |
| Friday | 12:00 - 00:00 |
| Saturday | 17:00 - 23:00 |
| Sunday | 17:00 - 23:00 |