22/12/2025
"میری کامیابی" چینل کے لیے ایک پوڈ کاسٹ – عدیل صادق اور میزبان سید محمد علی حیدر کا شکریہ
درج ذیل سوالات اور موضوعات جو آپ کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
انٹرویو کے اہم نکات یہ ہیں:
• آپ نے 18 سال سماجی اصلاح اور ریسرچ میں گزارے، اس طویل سفر میں آپ اپنی کامیابی کو کیسے دیکھتے ہیں؟
• معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
• معاشرے میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟
• نوجوانوں میں پولیٹیکل اور مذہبی عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ ہمارا تعلیمی نظام صرف ڈگریاں دے رہا ہے، "اچھا شہری" بنانے میں کہاں کمی رہ گئی ہے؟ کیا اساتذہ کی ٹریننگ کے بغیر تعلیمی نظام میں تبدیلی ممکن ہے؟تعلیمی اصلاحات کیسے ممکن ہیں؟ انفارمیشن، اسکلز (Skills) اور رویے (Behavior) میں تبدیلی کے طور پر تعلیم کا مقصد طے کرنا ۔
• کامیابی کا تصور: کامیابی کو ایک منزل کے بجائے مسلسل جدوجہد اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں (Achievements) کا سفر سمجھنا۔
• نوجوان کامیابی سے دور کیوں؟
• آپ اتنے کام کر رہے ہیں، ٹائم کیسے مینج کرتے ہیں؟ ٹائم مینجمنٹ اور جنون: شوق کے ذریعے وقت کو منظم کرنا اور کام کو محض ملازمت کے بجائے مشن سمجھ کر کرنا۔
• آج کے دور میں میاں بیوی اور دیگر رشتوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ خاندانی تعلقات میں صبر: مادہ پرستی (Materialism) کے دور میں قناعت اور برداشت کی اہمیت۔
• کشمیر میں راٹھور خاندان کی تاریخ ۔ آپ کا انڈیا کے راٹھورخاندان سے کیا تعلق ہے؟
Mujtaba Rathore's Interview | Executive Director | S 3 | Ep 15 | Host Ali | Meri Kamyabe
A conversation that matters. Insight, intellect, and impact, when leadership meets vision.Featuring Mujtaba Rathore, Executive Director (Islamic Research Ins...
01/12/2025
خواتین کا عملی کردار: سفر اور چیلنجز
ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ ،اسلامی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (IRISS)کے زیر اہتمام ربیعہ ابن کعب اسلامک کالج برائے طالبات ، کالج کیمپس، شاہ فیصل کالونی، کراچی میں ایک تربیتی سیشن منعقد ہوا جس کا مقصد طالبات میں خواتین کو درپیش عصری چیلنجز، اسلامی رہنمائی، اور ذاتی و سماجی ترقی کے لیے عملی حل کے بارے میں فہم کو فروغ دینا تھا۔ تربیتی سیشن کا آغاز کالج کی پرنسپل صاحبہ کے پُرجوش استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے ادارے کا تعارف کرایا اور خواتین کی تعلیم و بااختیار کاری کو فروغ دینے میں IRISS کی کوششوں کو سراہا۔ پرنسپل صاحبہ نے طالبات کو تربیت میں بھرپور حصہ لینے اور ماہر ٹرینرز کے تجربات سے مستفید ہونے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد ایک تعارفی سرگرمی (آئس بریکر) کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد شرکاء کے درمیان دوستانہ ماحول پیدا کرنا اور تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔
۲۔ پہلا سیشن: جدید دور میں خواتین کو درپیش بڑے چیلنجز
پہلے سیشن کی قیادت IRISS میں ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ محترمہ مریم جاوید نے کی۔ انہوں نے جدید دور میں خواتین کو درپیش بڑے چیلنجز پر توجہ مرکوز کی۔ ایک انٹرایکٹو گروپ ڈسکشن کے ذریعے، انہوں نے طالبات کو ان مسائل کی نشاندہی کرنے میں مشغول کیا جن میں تعلیم تک محدود رسائی، صحت کے مسائل، روزگار کی مشکلات، اور خاندانوں اور کمیونٹیز کے اندرونی تنازعات شامل ہیں۔محترمہ مریم نے اس امر پر زور دیا کہ آیا مرد اور خواتین حریف ہیں یا سماجی ترقی میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے خوف، ذہنی دباؤ، اور مردوں کے زیر تسلط ماحول میں نوجوان خواتین کو درپیش رکاوٹوں کو بھی اجاگر کیا، جہاں وہ اکثر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور مساوی مواقع کی کمی محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے طالبات کو اسلامی نقطہ نظر سے صنفی اختلافات پر تحقیق کرنے اور براہ راست خواتین اور ان کی ذمہ داریوں سے متعلق قرآنی آیات کا مطالعہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔
دوسرا سیشن: کیا عورت، عورت کی دشمن ہے؟
دوسرے سیشن میں اسلامی اسکالر عالمہ عائشہ بلال نے "کیا عورت، عورت کی دشمن ہے؟" کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خواتین اپنے خیالات، الفاظ اور اعمال کا خیال رکھ کر کس طرح تعلقات میں توازن پیدا کر سکتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، انہوں نے خواتین کے حقوق و فرائض، ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی کی اہمیت، اور گھریلو تنازعات کو حل کرنے کی حکمت عملیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مثبت سوچ اور شائستہ الفاظ سماجی رویوں کو نئی شکل دے سکتے ہیں، اور ایک چھوٹی سی معافی بھی بگڑے ہوئے تعلقات کو ٹھیک کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے طالبات کو یاد دلایا کہ خاندانوں اور معاشروں کی تعمیر میں خواتین کا منفرد اور بااثر کردار ہوتا ہے۔
تیسرا سیشن: معاشی کردار اور ہنرمندی کا فروغ
آخری سیشن کی قیادت ماہر تعلیم اور ہیومن ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کی سی ای او محترمہ بتول رضوی نے کی۔ ان کا سیشن خواتین کے معاشی کردار، خود شناسی، اور ہنرمندی کے فروغ پر مرکوز تھا۔ ایک مختصر خود احتسابی مشق کے ذریعے، انہوں نے طالبات کو اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کی نشاندہی کرنے کی ترغیب دی۔محترمہ بتول نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، ہنر، اور کاروبار (entrepreneurship) خواتین کو بااختیار بنانے اور مالی طور پر خود مختار بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے مؤثر ابلاغ، قائدانہ صلاحیتوں، اور خواتین کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے عدم برداشت، نفرت انگیز تقریر، اور مواقع کی کمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طالبات کی رہنمائی کی، اور انہیں ایک بہتر مستقبل کے لیے معاون نیٹ ورکس بنانے اور عملی ہنر حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔
اختتام اور عملی منصوبہ بندی
ایونٹ کا اختتام ایک اختتامی اور عملی منصوبہ بندی کے سیشن کے ساتھ ہوا۔ ہر شریک نے ایک قابل عمل قدم لکھا جسے وہ اپنی ذاتی یا تعلیمی زندگی میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ٹرینرز نے طالبات کو مزید رہنمائی اور سیکھنے کے مواقع کے لیے IRISS سے منسلک رہنے کی ترغیب دی۔ مجموعی طور پر، یہ سیشن طالبات کے لیے انتہائی انٹرایکٹو، حوصلہ افزا، اور فائدہ مند رہا، جس نے انہیں چیلنجوں پر قابو پانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے اسلامی اور عملی دونوں نقطہ نظر فراہم کیے۔
https://web.facebook.com/share/p/1FFXihodmG/
29/11/2025
https://www.facebook.com/share/p/1AHLseq8Ag/
آئی آر آئی ایس ایس (اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز) کے زیرِ اہتمام، نوجوانوں کے لیے ایک کامیاب تربیتی سیشن سندھ یوتھ کلب کراچی میں منعقد ہوا۔ اس سیشن میں بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوان کارکنان نے حصہ لیا۔
مقصد اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے اہم مسائل، جیسے خوف، بے چینی، کیریئر کا ابہام، اور زندگی کی سمت کا تعین، سے متعلق ان کی رہنمائی کرنا تھا۔
اہم نکات اور مقررین:
• احسن لاکھانی (عنوان: "خوف سے اعتماد تک"): انہوں نے نوجوانوں کو خوف، ڈپریشن اور بے چینی پر قابو پانے کے طریقے سکھائے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان اپنے جذباتی مسائل کو سمجھیں، منفی سوچ کو مثبت سوچ سے بدلیں، اور امید کے ساتھ عمل کریں۔
• ڈاکٹر حسن اوج (مقصدِ حیات اور کیریئر کا انتخاب): انہوں نے زندگی کے مقصد، تقاضوں اور درست کیریئر کے انتخاب پر بات کی۔ ان کا مشورہ تھا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مارکیٹ کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے راستہ چنیں، کیونکہ واضح مقصد مستقبل کے فیصلوں کو مضبوط بناتا ہے۔
• فیضان شیخ (کیریئر کے مواقع): انہوں نے نوجوانوں کو 800 سے زیادہ شعبہ جات کے مواقع بتائے جہاں وہ ملازمت یا کاروبار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مہارتیں سیکھنے، عملی تربیت حاصل کرنے اور مارکیٹ سے ہم آہنگ صلاحیتیں بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
• مولانا شجاع الدین (رزق اور مستقبل کا خوف): انہوں نے رزق اور مستقبل کے خوف پر قابو پانے کے لیے محنت کو توکل (اللہ پر بھروسہ) کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے وقت کی قدر، سماجی ذمہ داری، اور بامقصد زندگی گزارنے کی اہمیت سمجھائی۔
• مجتبیٰ رٹھور (ترجیحات اور اہداف): انہوں نے زندگی میں واضح ترجیحات اور اہداف مقرر کرنے کی اہمیت پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان اپنے مقاصد طے کر لیں اور لگن، مستقل مزاجی، اور صحیح سمت کے ساتھ محنت کریں، تو وہ ہر ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔
اختتام: سیشن کے آخر میں ایک عملی منصوبہ (Action Plan) پر زور دیا گیا، جہاں نوجوانوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے کم از کم ایک مثبت قدم ضرور اٹھائیں گے۔ یہ عزم پروگرام کے متوقع نتائج—اعتماد، وضاحت، ذمہ داری اور قیادت—کے مطابق تھا۔
01/06/2025
کراچی کی یادیں۔۔۔2019۔۔
اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے IRISS TV کے نام سے اپنا یوٹیوب چینل بنایا تھا مگر کچھ عرصہ بعد اس پر نئی ویڈیوز کی اپ لوڈنگ مشکل ہو گئی تھی۔ اس لئے آئی ٹی ایکسپرٹ کے مشورہ سے نیا چینل IRISS Studio بنا دیا ہے جس پر پرانی تمام ویڈیوز از سر نو اپ لوڈ کی جا رہی ہیں اور نئی ویڈیوز بھی ساتھ ساتھ اپ لوڈ ہوں گی۔ ہمارے ادارے سے وابستہ افراد اس نئے چینل کو سبسکرائب کر سکتے ہیں۔۔بہت شکریہ۔
The Role of Community Leaders in Building a Peaceful Society | Part 1 | IRISS Studio
What is the real impact of community leaders in promoting peace, harmony, and unity within society? 🕊️In Part 1 of this thought-provoking series by IRISS St...
15/05/2025
https://www.youtube.com/watch?v=FNWj0O1zuho
Madrassa vs University? Bridging the Educational Divide Through Dialogue | IRISS TV
In this powerful and thought-provoking episode, IRISS TV brings together students from madrassas and universities to engage in a meaningful dialogue about ed...
15/05/2025
https://www.youtube.com/watch?v=95hCdLw3ZdE
Madrassa vs University Students: Breaking Barriers Through Conversation | IRISS TV (3 Comments)
In this third installment of IRISS TV’s powerful series, students from madrassas and universities come face-to-face in a respectful and eye-opening conversat...
05/05/2025
The Islamic Research Institute of Social Sciences (IRISS) organized an interactive session with youth at its Karachi office on May 4, 2025. The session brought together young individuals between the ages of 18 and 35 from diverse backgrounds, including university students, social activists, aspiring leaders, entrepreneurs, and individuals from the academic community.
The main objectives of the session were to:
1-Discuss current challenges faced by youth in Pakistan
2-Explore and enhance leadership potential among youth
3-Provide guidance on career planning and personal development
Moderated by Mr. Mujtaba Muhammad Rathore, Executive Director of IRISS, the session served as a platform for open dialogue and collaborative learning. Participants actively engaged in discussions, shared their experiences, and offered insights into the hurdles they face in daily life and professional growth.
The interactive format encouraged youth to express their views freely, identify their strengths, and explore practical solutions to common challenges. The session also supported IRISS’s ongoing research on youth development in Pakistan, collecting valuable input to inform future programs and policies.
The event concluded with a strong message of hope and empowerment, encouraging participants to take initiative, lead with integrity, and contribute positively to their communities.
Key Highlights:
1-Engaging discussions on youth issues and leadership
2-Active participation from a diverse group of young individuals
3-Identification of common challenges and brainstorming of solutions
4-Contribution to IRISS's ongoing youth-focused research study
This session is part of IRISS’s broader commitment to empowering young people and fostering inclusive, informed, and visionary leadership in Pakistan.