Talemmat e Ahlebait A.S - تعلیمات اہلبیت علیھم السّلام

Talemmat e Ahlebait A.S - تعلیمات اہلبیت علیھم السّلام

Share

تعلیمات اہلبیت کو فروغ دیں اور اس پہ عمل کریں!

دینا اور آخرت میں کامیابی صرف شییعان حیدر کرار کیلئے ہی مخصوص ہے اور شیعہ ہم اس وقت ہی بن سکیں گے جب ہمیں تعلیمات و سیرت اہلیبیت کا علم و ادراک ہو گا۔ تو آئیں آج سے ہم صرف حبدار اہلبیت ع نہیں بلکہ شیعان علی ع کا کردار ادا کریں۔ اور تعلیمات اہلبیت کو فروغ دیں اور اس پہ عمل کریں!

03/02/2025

ولادت حضرت عباس علمدار

03/02/2025
03/09/2022

بسم رب الشھداء
خوشا عشقی کہ معشوقش حسین علیہ السلام است
"اربعین "ایک معجزہ
♦️کیا آپ جانتے ہیں کہ کربلا شہر میں گیس نہیں ہے ۔
اس شہر کی آبادی چھ لاکھ ہے اور اس شہر کی سہولیات شاید اس آبادی کے لئے بھی کم ہوں ۔
✅عراقی عوام کی عادت یہ ہے کہ وہ کھانا چھوٹے برتنوں میں کھاتے ہیں کہ مثلا اگر تین ٹائم کھانا ہوتو آپ پانچ ٹائم کھائیں گے۔
اب ۔۔۔اربعین کے ایام کو فرض کریں آپ دس دن لگائیں ۔ہر شخص مثلا پانچ بار کوئ پانی یا مشروب پئے اور کم از کم 20 ملین لوگوں میں (کہ یقینا تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے )کھانا بالکل مفت تقسیم اور ہوبھی ڈسپوزل برتنوں میں تو آپ اس سے بننے والے کچرے سے ہی اندازہ لگا لیں ۔۔۔
اس کو سمجھنے کے لئے تھوڑی کوشش کرتے ہیں۔
کم از کم 20 ملین افراد کا سب سے بڑا انسانی اجتماع ایک ایسے ملک میں جو جو بم دھماکوں اور دہشت گردی کے حوالے سے مشہور ہو ۔۔۔ایک ایسے ملک میں جہاں آخری چند سالوں تک "تیل =کھانا "کی پالیسی چلتی رہی ہو یعنی عراقی لوگ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے تیل بیچتے تھے ۔
ایک ایسے ملک میں جہاں داعش کی حکومت رہی ہو ۔۔۔اتنا بڑا اجتماع مکمل امن وامان کے ساتھ منعقد کر لیا جائے ۔
اتنے بڑے انسانی اجتماع کا انعقاد الگزینڈر ڈوگین جیسےدنیا کے بڑے اسٹریٹیجسٹ کو عراق کھینچ لاتا ہے ۔
معجزہ صرف دریا جاری کرنے اور پہاڑ سے اونٹ نکالنے کا نام نہیں ۔معجزہ "عجز"سے ہے یعنی ایسا کام جسے دوسرے لوگ انجام نہ دے سکتے ہوں ۔
یورپ کا کونسا دارالحکومت اپنی تمام تر شہری سہولیات کے ساتھ ۔مغرب کا کونسا سیاسی ،اقتصادی یا امنیتی نظام اپنی انسانی آبادی کے علاوہ 20 ملین انسانوں کو اسطرح کھانا پیش کرسکتا ہے؟
ملبورن ایسا کر سکتا ہے ؟
اسٹاک ہوم ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟کونسا شہر ایسا کام انجام دے سکتا ہے؟؟؟
آپ نیویارک ،پیرس یا واشنگٹن میں 20 ملین افراد کو بھیجیں اور پھردیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ تہران 15 ملیون آبادی کا شہر جہاں بڑی بڑی شاہراہیں ۔دومنزلہ موٹر وے ۔نکاسی آب کا بہترین نظام اس کی حالت یہ ہے کہ سردیوں میں شام ہوتےہی یہاں ٹریفک جام ہوجاتا ہے ۔اب اگر اسی تہران میں 20 ملین افراد داخل کردیں کیا ہوگا ؟؟؟
پورا ماڈرن شہری نظام ۔سی سی ٹی وی کیمرے،ٹریفک کنٹرول رومز جہاں لوگ اور کام کرنے والے ادارے اگر ھڑتال کردیں تو کچرا ہرطرف پھیل جائے ۔۔۔
ایک دفعہ پھر بتاتا چلوں کربلا شہر میں گیس نہیں ہے جہاں کا واٹر مینیجمنٹ سسٹم جدید نہیں ہے ۔جہاں گیس کے سلنڈروں اور لکڑیاں جلا کر کھانا پکایا جاتا ہے ۔وہاں 20 ملین سے زائد افراد پہنچتے ہیں ۔سب کو منت کرکے رہائش طبی سہولتیں خدمتگار کھانا اور پینا وافر مقدار میں بہترین کوالٹی کے ساتھ ملتا ہے ۔اور وہاں سے جب واپس آتے ہیں تو کسی کو کوئ بیماری نہیں ہوتی کسی کی ناک سے خون تک نہیں آتا کوئ سہولت نہ ملنے چوری ہونے کی شکایت نہیں کرتا سب کے سب امام حسین (ع)کے حرم میں جاتے ہیں ان کے گنبد کے نیچے سے سب گزرتے ہیں ۔۔۔
❌اگر یہ معجزہ نہیں تو پھر کیا ہے ۔۔۔؟؟؟

03/09/2022

⭕عراق کا غیر ملکی زائرین کیلئے زمینی بارڈر نہ کھولنے کا فیصلہ

این ایچ نیوز (بغداد میں موجود معتبر ذرائع کے مطابق) عراقی حکومت نے 2022 کے چہلم کے موقع پر ایرانی زائرین کیلئے بارڈر کھول رکھا ہے جبکہ ‏پاکستان سمیت بعض دوسرے ممالک کیلئے زمینی بارڈر نہ کھولنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہر سال صفر کے مہینے میں لاکھوں زائرین امام حسین علیہ السلام، چہلم کے موقع پر مقامات مقدسہ ‏کی زیارت کیلئے نجف، کربلا، سامرا و کاظمین سمیت متعدد زیارات کیلئے ایران اور عراق کا رخ کرتے ہیں۔ گذشتہ دو ‏سالوں میں کرونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا میں سفری پابندیاں تھیں، اس سال کرونا کے کم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ‏مسلمان مختلف ممالک سے چہلم امام حسین علیہ السلام کیلئے عراق کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان زائرین میں بڑی تعداد ‏پاکستان کے شہریوں کی ہے۔ اس سال محتاط اندازے کے مطابق پاکستان سے بائی روڈ ایران اور عراق زیارات کیلئے سفر ‏کرنے والے زائرین کی تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ کے درمیان توقع کی جارہی ہے۔

*عراق حکومت کی جانب سے تاخیری حربوں کے استعمال سے گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی زائرین کو شدید پریشانی ‏کا سامنا ہے۔*
زائرین کو عراق کی زیارات کیلئے ایران کا ڈبل انٹری ویزا لینا پڑتا ہے جس کیلئے عراق کے ویزے میں ‏تاخیر کی وجہ سے ایران کے ڈبل انٹری ویزا کا مسئلہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہر سال اپروول لسٹوں کے انتظار میں زائرین ‏کی ایک بڑی تعداد اپنی بائی ائیڑ ٹکٹس اور ہوٹل کی بکنگ ختم ہونے کی وجہ سے نقصان برداشت کرتی ہے۔
*این ایچ نیوز کے بغداد میں معتبر ذرائع کے مطابق ان تمام تاخیری حربوں کے پیچھے عراق اور پاکستان حکومت کے ‏درمیان خفیہ معاہدہ ہے۔*
ذرائع کے مطابق پاکستان میں عمران خان حکومت اور عراق کی الکاظمی حکومت کے درمیان ‏زائرین کی تعداد کو محدود کرنے کے ایک خفیہ معاہدہ ہوا تھا جس پر پاکستان کی موجودہ حکومت بھی قائم ہے اور ‏موجودہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی اس حوالے سے اسی پالیسی سے اتفاق کرتے ہیں۔ ‏
اس معاہدہ کے مطابق پاکستان سے آنے والے تمام زائرین کیلئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے عراق سفر کا کم از کم ایک ‏طرف کا بائی ائیر ٹکٹ فراہم کریں۔ اسی طرح چالیس سال سے کم عمر افراد اور غیر شادی شدہ افراد کو عراق ویزہ فراہم ‏نہیں کیا جائے جبکہ چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے آنے والے زائرین کی بڑی خواہش چہلم کے موقع پر نجف سے ‏کربلا کی جانب پیدل جلوس یعنی مشی میں شرکت کرنا ہے اور اس مقصد کیلئے بڑی تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق زیارتی سفر کو پاکستان میں بعض سیاسی مذہبی جماعتوں کی مدد سے سے ریگولیٹ کرنے کے مقصد ‏سے "زیارتی قافلوں” کی شکل میں سفر کرنے کا پابند کئے جانے کا منصوبہ بھی ہے۔ اس زیارتی پالیسی کے نتیجہ میں ‏اربعین کی زیارت جس میں لاکھوں لوگ امام حسین علیہ السلام کے مزار کی زیارت کیلئے جانا چاہتے ہیں درحقیقت ‏بہترین تجارت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ‏
زائرین کو زیارتی قافلوں کی صورت میں جانے کا پابند کرنے سے اکثر قافلہ سالاروں کیلئے بڑی آمدنی کا دروازہ کھل گیا ‏ہے جبکہ زائرین کی مشکلات اپنی جگہ پر جوں کی توں موجود ہیں۔ اگرچہ چہلم کی زیارت کے حوالے سے ایران کے ‏اندر بھی بارڈر اور سفری مشکلات موجود ہیں لیکن سب سے بڑی مشکل عراق کا بروقت ویزا فراہم نہ کرنا ہے۔
کہا جاتا ہے اس معاہدے میں پاکستانی زائرین کو اپنی گاڑیوں میں عراق میں داخلہ پر پابندی کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس ‏حوالے سے زائرین کی بسوں کی ایران میں آمد پر پابندی کی بات بھی کی گئی تھی جو بعد میں ختم کر دی گئی ہے۔ تازہ ‏ترین اخبار کے مطابق گذشتہ رات یعنی بدھ 31 اگست 2022 کے دن بغداد میں ہونے والی عراق کی وزارت داخلہ کی ‏میٹنگ میں پاکستانی زائرین کو بائی روڈ پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

02/06/2022

٠ 👈 *جھوٹا دکھاوا* 👉

ایک جنگل میں بندروں کا ایک غول رہتا تھا۔ اس جنگل میں چونکہ بہت زیادہ تعداد میں پھل وغیرہ اُگتے تھے۔ سب بندر بہت اطمینان اور خوشی سے رہتے تھے۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک سائنسدان اپنی بیٹی کے ساتھ اسی جنگل میں ریسرچ کے لئے آیا۔ خیمہ نصب کرنے کے بعد سائنسدان تو پودوں کے سیمپل اکھٹے کرنے نکل کھڑا ہوا مگر وہ لڑکی اس خیمہ کی تزین و آرائش کے لئے پیچھے رہ گئی۔ اس نے پہلے زمین پر ایک پرانا قالین بچھایا۔ پر اس قالین پر بستر لگائے۔ خیمے کی درمیانی ٹیک سے برقی لالٹین لٹکائی اور اس کے عین نیچے ایک چھوٹی سی میز اور اس پر سجاوٹی سیبوں سے بھرا ایک پیالہ رکھ دیا۔ وہ سیب دیکھنے میں بہت تازہ، خوبصورت اور بڑے لگ رہے تھے۔
تمام بندر درختوں پر بیٹھے ان مصنوعی سیبوں کو لالچ سے دیکھ رہے تھے۔ لڑکی خیمہ کے سامنے کی جگہ صاف کرنے کے لئے ذرا باہر نکلی تو ایک بندر نے تیزی سے جھپٹا مارا اور ایک مصنوعی سیب اٹھا لیا اور عین اسی وقت لڑکی کی نظر بھی اس پر پڑ گئی۔ لڑکی نے فوراً بندوق اٹھا کر نشانہ لیا اور فائر داغ دیا۔ مگر تمام بندر اتنی دیر میں وہاں سے بھاگ گئے تھے۔
کافی دیر تک بھاگنے کے بعد تعاقب نہ ہونے کا یقین ہونے پر تمام بندر رک گئے۔ چور بندر نے ہاتھ بلند کر کے سب کو سیب دکھایا۔ سب بندر حیرت سے اس بندر کو دیکھنے لگے اور اس کو خوش قسمت گرداننے لگے کہ اسے ایسا اچھا سیب مل گیا۔ اور کوشش کرنے لگے کہ ایک بار اس مصنوعی سیب کو ہاتھ لگا کر دیکھ سکیں۔
چور بندر نے سب کو جھڑکا اور یہ مصنوعی سیب لے کر ایک درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھا اور سیب کو کھانے کے لئے اسے منہ میں لے کر دبایا۔ مگر یہ مصنوعی سیب سخت پلاسٹ کا بنا ہوا تھا جسے چبانے سے بندر کے دانتوں میں درد ہونے لگا۔ بندر نے دو تین بار اور کوشش کی مگر ہر بار اسے درد ہونے لگتا۔
وہ دن چور بندر نے اسی اونچی شاخ پر بھوکے رہ کر گزارا۔ اگلے دن وہ نیچے اتر آیا۔ دوسرے تمام بندر اسے احترام سے دیکھنے لگے کیونکہ اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں وہ مصنوعی سیب موجود تھا۔ دوسرے بندروں سے ملنے والا احترام دیکھ کر اس بندر نے اس سیب پر اپنی پکڑ اور مضبوط کر دی۔ اب دوسرے بندر پھلوں کی تلاش میں نکل گئے اور تیزی سے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتے ہوئے پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے۔
چور بندر کے ایک ہاتھ میں چونکہ مصنوعی سیب تھا اس لئے وہ درختوں پر نہ چڑھ سکا۔ مگر وہ سیب بھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے وہ سارا دن بھوکا پیاسا رہا اور یہی سلسلہ آگے کچھ دنوں تک چلتا رہتا۔ دوسرے بندر اس کے ہاتھ میں مصنوعی سیب ہونے کی وجہ سے عزت کرتے مگر اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتے۔
بھوک سے بے حال وہ بندر اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ اس کو اپنا آخری وقت نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اس سیب کو کھانے کی کوشش کی مگر اس بار میں نتیجہ مختلف نہ تھا۔ اس کے دانت اس مرتبہ بھی درد کر رہے تھے۔ چور بندر کو اپنی آنکھوں کے سامنے درختوں سے لٹکے ہوئے پھل نظر آ رہے تھے مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان درختوں پر چڑھ سکے۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہو گئیں۔ جان نکلتے ہی اس کی گرفت مصنوعی سیب پر ڈھیلی ہو گئی اور وہ مصنوعی سیب اس کے ہاتھ سے نکل کر لڑھک گیا۔
شام کو باقی بندر آئےانہوں نے مرے ہوئے بندر کی لاش پر کچھ آنسو بہائے افسوس کیا اور اس کی لاش کو پتوں سے ڈھانپ دیا۔ ابھی وہ اتنا کر ہی رہے تھے کہ ایک دوسرے بندر کو وہی مصنوعی سیب ملا۔ اور اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو وہگ سیب دکھانا شروع کر دیا

سبق:- دنیا کی مثال بھی اس پلاسٹک کے سیب کی طرح ہے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ جب کہ اس کو دیکھنے والے اس سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں اور دنیا کو ہاتھ میں رکھنے کا دعوے دار بالآخر خالی ہاتھ لا حاصل اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ جھوٹا دکھاوا انسان کو پہلے تھکا دیتا ہے پھر مار ڈالتا ہے ۔

13/05/2020

شب ضربت امام علی۔ قبلہ جان علی کاظمی

13/05/2020

بحوالہ ڈاکٹر جعفر شہیدی

*امام علی ؑ کی شہادت کے پیچھے کار فرما عوامل*
۔"
تحریر: سید رمیز الحسن موسوی
نور الہدیٰ مرکز تحقیقات اسلام آباد(نمت)

ڈاکٹر جعفر شہیدی مرحوم ایران کے ممتاز معاصر مؤرخ اور محقق ہیں۔ جن کا شمار ایسے علماء میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے تاریخ اسلام اور سیرت کے باب میں جدید اسلوب اپنایا ہے۔ اُن کی کتابیں پڑھنے کے بعد انسان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا ہونے لگتے ہیں، جو اُسے تاریخی موضوعات میں مزید تحقیق و جستجو کی طرف لے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے تاریخ اور سیرت کے باب میں چند کتابیں لکھیں ہیں، جن میں ایک کتاب ’’علی از زبان علی یا زندگانی امیر مؤمنان علی ؑ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، جس میں اُنھوں نے امام علی علیہ السلام کی سوانح حیات کو قلمبند کیا ہے اور اپنے مخصوص اسلوب کے ساتھ سیرت امام علی ؑ کو پیش کیا ہے۔ وہ اپنی دوسری کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی اپنے قاری کے ذہن میں سوالات کا انبار لگا دیتے ہیں، جس کے بعد قاری خود بخود تحقیق اور جستجو کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں اُنھوں نے اس کتاب میں حضرت امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں بھی کچھ سوالات اُٹھائے ہیں، جو سیرت امیر المؤمنین ؑ کے قاری کے لئے تحقیق کے نئے زاویئے پیش کرتے ہیں کہ:

کیا امیرالمؤمنین کی شہادت کے واقعے کو اسی طرح سمجھنا اور جاننا چاہیئے کہ جس طرح پیش کیا جاتا ہے۔؟ کیا امیرالمؤمنین ؑ کے قتل کی منصوبہ بندی کے ساتھ دوسرے دو لوگوں کے قتل کا منصوبہ حقیقی تھا یا کوئی ڈرامہ تھا کہ جس کے بعد وہ دو لوگ تو بچ جاتے ہیں اور شیعوں کا امام اور پیشوا قتل ہو جاتا ہے۔؟ یعنی دوسرے دو افراد کا بچنا اتفاقی تھا یا منصوبہ بندی کا حصہ تھا؟ کیا خوارج ہی امام علی ؑ کے قاتل ہیں اور امام علی ؑ کے دوسرے دشمن بری الذمہ ہیں۔؟ کیا قطام نام کی خوبصورت عورت اس منصوبے کا حصہ تھی یا وہ اتفاقی طور پر عبدالرحمن ابن ملجم جیسے ’’زاہد و باتقویٰ‘‘ خارجی کے راستے میں آئی تھی اور وہ بھی وہی چاہتی تھی، جو ابن ملجم مرادی چاہتا تھا۔؟ کیا یہ ایک افسانہ نہیں، جو تاریخ میں تکرار کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے اذہان کو اصل قاتل سے منحرف کئے ہوئے ہے۔؟

یہ سب سوالات اس کتاب میں شھادت امام علی ؑ کے بارے میں ڈاکٹر شہیدی مرحوم کی تحریر پڑھ کر پیدا ہوتے ہیں اور انسان کے ذہن میں تاریخ اسلام کے درد ناک واقعے کے بارے میں تحقیق و جستجو کے نئے افق پیدا کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم کتاب ’’علی از زبان علی‘‘ سے اقتباس پیش کریں، ڈاکٹر سید جعفر شہیدی مرحوم کا علمی تعارف کرانا ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ اس تحریر کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے اور قاری اُٹھائے گئے ان سوالات کو تاریخ کے ایک ایسے محقق کے سوالات کے طور پر لے کہ جس نے برسہا برس تک تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا ہے اور تاریخ کے ذریعے مسلمان معاشروں کی تربیت کی ذمہ داری پوری کی ہے۔ یقیناً اردو زبان قارئین کے لئے یہ تحریر شہادت امام علی علیہ السلام کے موقع پر مطالعے اور تحقیق کے نئے اُفق روش کرے گی۔

ڈاکٹر سید جعفر شہیدی مرحوم
فارسی ادب اور تاریخ کے مشہور محقق اور استاد ڈاکٹر سید جعفر شہیدی کی پیدائش 1921ء میں ایران کے شہر بروجرد میں ہوئی۔ اُنھوں نے ابتدائی تعلیم، عربی ادبیات، دینی علوم اور فقہ و اصول کی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔ 1941ء میں آپ نجف اشرف کی عظیم دینی درسگاہ تشریف لے گئے اور وہاں اس زمانے کے علمائے عظام آیت اللہ حاجی سید یحییٰ یزدی، آیت اللہ حاجی میرزا حسن یزدی، آیت اللہ العظمیٰ حاجی میرزا ہاشم آملی اور بعد میں آیت اللہ العظمیٰ ابوالقاسم خوئی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ نجف اشرف میں سات سال قیام کے بعد 1948ء میں واپس تہران تشریف لائے۔ آپ نے 1949ء میں اپنا تحقیقی کام مرحوم استاد دہخدا کے ساتھ لغت نامہ میں شروع کیا اور 1951ء میں ثانوی اسکولوں میں تدریس کے ساتھ ساتھ لغت نامہ پر تحقیقی کام جاری رکھا۔ 1953ء میں دانش کدہ معقول و منقول اور 1956ء میں تہران یونیورسٹی کے دانشکدہ ادبیات سے فارسی زبان و ادب میں بی اے کیا اور 1961ء میں اسی یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1963ء میں لغت نامہ کے نائب صدر اور 1967ء سے اس کے صدر مقرر ہوئے۔ اسی سال آپ نے مرحوم ڈاکٹر معین کے ساتھ فرہنگ فارسی کی تیاری شروع کی۔

ڈاکٹر شہیدی نے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کی دعوت پر علمی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کے لئے مختلف ممالک کا سفر کیا، جن میں اردن، مصر، الجزائر، عراق، چین اور امریکہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بیجنگ یونیورسٹی سے آپ کو اعزازی پروفیسر کی ڈگری عطا کی گئی۔ ڈاکٹر شہیدی کی بعض تصانیف حسب ذیل ہیں:
جرائم تاریخ (٣جلد) فارسی، کتاب فروشی حافظ تہران ١٩٥٠ء
چراغ روشن در دنیای تاریک، فارسی، انتشارات علمی، تہران ١٩٥٦ء
در مسیر خانہ خدا، طبع دانش نو تہران ١٩٧٧ء
پنجاہ سال بعد، فارسی، طبع امیر کبیر ١٩٧٩ء سولہویں طباعت، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ١٩٩٣ء
شرح لغات و مشکلات دیوان انوری، فارسی، پہلی اشاعت انجمن آثار ملی ١٩٧٩ء، دوسری اشاعت انتشارات علمی و فرہنگی ١٩٨٣ء
تاریخ تحلیلی اسلام تا عصر بنو امیہ، فارسی، مرکز نشر دانشگاہی تہران، ١٩٨٣ء
عرشیان، فارسی، نشر معشر قم ١٩٩٢ء
شرح مثنوی مولانا روم، جلد چہارم (مرحوم استاد فروزانفر کے کام کا تکملہ) انتشارات علمی و فرہنگی تہران ١٩٩٤ء

علی از زبان علی، فارسی، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ١٩٩٧ء اس کتاب کا ترجمہ سید حسنین عباس گردیزی کے قلم سے اردو میں ہوچکا ہے۔
زندگانی فاطمة الزھراء، فارسی انتشارات امیر کبیر تہران، اُرد وترجمہ: حیات فاطمة الزہراء، ناشر مرکز تحقیقات اسلامی، اسلام آباد پاکستان
زندگانی علی ابن الحسین، فارسی، انتشارات امیر کبیر ایران، یہ کتاب بھی سید حسنین عباس گردیزی نے اُردو زبان میں منتقل کی ہے۔
اسی طرح نہج البلاغہ کا فارسی ترجمہ بھی ڈاکٹر شھیدی کے قلم سے ہوا ہے، جس کو 1369 ش میں جمہوری اسلامی ایران میں کتاب سال قرار دیا گیا ہے۔
ذیل میں جو اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں، یہ ڈاکٹر جعفر شہیدی کی کتاب ’’علی از زبان علی‘‘ کے اردو ترجمے سے ماخوذ ہیں، جو ممتاز مترجم سید حسنین عباس گردیزی نے کیا ہے۔ ہم فاضل مترجم کے مشکور ہیں کہ اُنھوں اپنی اس غیر مطبوعہ علمی کاوش سے استفادہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

شہادت امام علی ؑ کے متعلق عمومی رائے
امام علی علیہ السلام کی شہادت کے واقعے کے بارے میں تاریخ میں جو عمومی رائے پائی جاتی ہے، اُس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیدی لکھتے ہیں: ’’امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں اوائل کے مؤرخین کی تمام روایات جسے شیعہ اور اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، سے مجموعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ علیؑ کی شہادت خوارج کی سازش کا نتیجہ تھی۔ ان روایات کو تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی، ارشاد مفید، طبقات ابن سعد، بلا ذری اور واقدی کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ نہروان کے اختتام پر خوارج کے لوگ آپس میں جمع ہوئے، اپنے مقتولین پر گریہ اور ان کی عبادت و پارسائی کی تعریفیں کرنے لگے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ یہ تمام فتنے تین اشخاص کی وجہ سے واقع ہوئے ہیں، علیؑ، عمرو بن عاص اور معاویہ۔ جب تک یہ تین افراد زندہ ہیں، مسلمانوں کا کوئی کام سیدھا نہیں ہوگا اور ان میں سے تین افراد ان تینوں کو قتل کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔

عبدالرحمن بن ملجم کا تعلق بنی مراد سے تھا، اس نے علیؑ کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔ بنی تمیم کے بُرک بن عبداللہ نے معاویہ کو اور بنی تمیم کے عمرو بن بکر نے عمرو بن عاص کو مارنے کی ذمہ داری لی۔ اس کام کو کب انجام دیا جائے؟ کہنے لگے ماہ رمضان میں یہ مسجد میں آتے ہیں، لہذا اسی مہینے میں ان کا کام تمام کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ماہ رمضان کی گیارہ یا تیرہ یا سترہ یا شیعوں کے بقول انیسویں رات کو اس کام کے لئے مقرر کیا۔ کیونکہ ان تین راتوں میں وہ مسجد میں آنے کے پابند ہیں۔ جو شخص عمرو عاص کو قتل کرنے کے پر مامور تھا، اس نے اس رات عمرو عاص کی جگہ پر آنے والے ایک اور شخص کو قتل کر دیا۔ جس نے معاویہ کو مارنا تھا، اس نے اسے ضرب ماری، اس کی تلوار اس کی ران پر لگی اور وہ زخمی ہوگیا اور دوا استعمال کرنے سے وہ مرنے سے بچ گیا۔ البتہ عبدالرحمن بن ملجم اپنے خبیث ارادے کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔"[1]

کیا حقیقت حال یہی ہے؟
اس کے بعد ڈاکٹر شہیدی تاریخ کی اس عموی رائے پر چند سوالات اُٹھاتے ہوئے قاری کو اس درد ناک واقعے کے پیچھے چھپے عوامل کے بارے میں مزید تحقیق و جستجو پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’کیا حقیقت حال یہی ہے؟ کہنا چاہیئے کہ اس میں شک و تردید کی گنجائش ہے۔ ابتداء ہی سے اس کے جعلی ہونے کے آثار نمایاں ہیں، اس کہانی کا خاکہ کسی ماہر داستان نویس نے تیار کیا ہے، جیسے ماہ رمضان میں یہ تینوں مسجد میں آتے ہیں اور انیسویں کی شب ان کا مسجد میں آنا حتمی ہے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ انیسویں کی رات علیؑ کو ابن ملجم نے ضربت ماری۔ لیکن جو عمرو عاص کو مارنے کے لئے کہا گیا تھا، اس نے کیوں خارجہ نامی آدمی کو مارا؟ کیا وہ عمرو کو نہیں جانتا اور پہنچانتا تھا؟ اور اس کو نہیں پہچان سکا؟ اس رات عمرو مسجد میں کیوں نہ آیا؟ کیا کسی نے اسے قتل کے منصوبے سے آگاہ کر دیا تھا۔؟

حقیقی صورتحال
ڈاکٹر شہیدی جیسے محقق تاریخ کے لئے حقیقی صورت حال واضح ہے اور اُن کا تاریخی وجدان کہ جو برسوں کے تاریخی مطالعے اور تحقیق کے بعد پیدا ہوا ہے، اس عمومی تاریخی تاثر کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چونکہ برسوں تاریخ اسلام کی گھتیاں سلجھانے والے محقق کے لئے شام کی حکومت کا میکیا ولی انداز سیاست بھی روشن ہے اور حکومت شام کے سیاستمداروں کی سیاسی نفسیات بھی۔ جس کا تقاضا فقط ایک ہی ہے کہ کسی طرح اپنا مقصد حاصل کیا جائے، خواہ جس کی خاطر انسانی قدریں پائمال ہوتی ہیں یا دینی اقدار کی بنیادیں ہلتی ہیں۔ یہ وہی سیاست ہے کہ جو اپنے مقصد کی خاطر قرآن کو نیزوں پر بلند کرتی ہے اور نواسۂ رسول امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے صلح کرنے کے بعد اسے پاؤں کے نیچے روند ڈالتی ہے۔ ایسی سیاست کے سامنے علی ؑجیسے زہد و تقویٰ کے مجسمے کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس طرح کی منصوبہ بندی کرنا کوئی بعید نہیں ہے۔

اسی لئے ڈاکٹر شہیدی تاریخی قرائن کی مدد سے حقیقی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جو بات زیادہ درست اور صحیح ہے، وہ یہ ہے کہ اس منصوبے اور سازش کے تانے بانے پہلے کوفہ میں اور پھر دمشق میں تلاش کرنے چاہیئے۔ معاویہ کو علم تھا کہ جب تک علیؑ زندہ ہیں، خلافت کا حصول اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اشعث بن قیس اندرونی طور پر حضرت علیؑ کے ساتھ نہ تھا۔ ابن ابی الدنیا جو کہ 281 ہجری میں دنیا سے رخصت ہوا، اس کی تصنیف طبری اور یعقوبی سے پہلے کی ہے، اس نے اپنی کتاب ’’مقتل الامام امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ‘‘ میں اپنی اسناد سے عبد الغفار بن قاسم انصاری سے یوں بیان کیا ہے: ’’میں نے بہت ساروں سے سنا ہے کہ رات کو ابن ملجم اشعث کے پاس تھا۔ جب سحر کا وقت ہوا، اس نے اسے کہا: ’’ صبح ہوگئی ہے۔‘‘[2] اگر ان تینوں نے آپس میں مل کر منصوبہ بنایا تھا، پھر ابن ملجم کو اشعث کے ساتھ مسجد میں رات گزارنے اور اس سے گفتگو کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا یہ بات قابل قبول ہے کہ جو شخص خفیہ طور پر علیؑ کو قتل کرنا چاہتا ہے، وہ اپنا راز دوسرے کو بتائے۔؟؟

بلا ذری نے اپنی کتاب ’’انساب الاشراف‘‘میں لکھا ہے: "کہتے ہیں کہ ابن ملجم اس رات اشعث بن قیس کے پاس تھا اور اس کے ساتھ بڑی سرگوشیاں کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اشعث نے اس سے کہا: ’’اٹھو کہ صبح نے تجھے پہچان لیا ہے۔‘‘[3] حجر بن عدی نے اس کی بات کو سن کر کہا: ’’اے کانے (ایک آنکھ والے) اسے تم نے قتل کر دیا۔‘‘[4] اس کے بعد ڈاکٹر شہیدی قتل علی ؑ کی سازش کے مزید قرائن پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جس دن حضرت علیؑ کو ابن ملجم نے ضربت لگائی، اسی دن صبح اشعث نے اپنے بیٹے کو علیؑ کے گھر بھیجا، تاکہ وہ یہ دیکھے کہ علیؑ کا کیا حال ہے۔ وہ گیا اور واپس آکر اس نے بتایا کہ ان کی آنکھیں اندر دہنس چکی ہیں۔ اشعث نے کہا: "خدا کی قسم! یہ اس شخص کی آنکھیں ہیں کہ ضربت نے اس کے مغز کو متاثر کیا ہے۔"[5]

کیا خوارج بری الذمہ ہیں؟
ڈاکٹر شہیدی کے نزدیک قتل علی ؑ کے جرم میں خوارج بری الذمہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنی تاریخی حماقت کی وجہ سے اس سازش میں استعمال ہونے والا عنصر ہے، اصل چہروں پر پردے پڑے ہیں؛ لہذا وہ لکھتے ہیں: ’’میں معاصر اباضی مؤرخ، شیخ سلمان یوسف بن داؤد کی طرح یہ نہیں کہوں گا کہ خوارج علیؑ کے دوست تھے اور ان کے قتل میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور قبیلہ بنی مراد جس سے ابن ملجم کا تعلق تھا، وہ خوارج میں شمار نہیں ہوتا۔ ابن ملجم اور دیگر دو افراد کا قصہ معاویہ کے کہانی سازوں کا من گھڑت ہے۔ اگرچہ میں نے اس کی موجودگی میں اس کے اپنے ملک الجزائر میں اس کی کتاب پر تنقید کی ہے اور اسے خط لکھ کر بھی اس پر اعتراضات کئے ہیں۔‘‘[6]

سازش کے اصل کردار
وہ قتل علی ؑ کی سازش کے اصل چہروں سے پردہ اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’لیکن اگر کوئی یہ کہہ کر جیسا کہ مشہور ہے، علیؑ کی شہادت اس سازش کے نتیجے میں نہیں ہوئی تو اس کی رائے کو حقیقت سے زیادہ دور نہیں سمجھتا۔ میں پھر یہ کہتا ہوں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ اگر ہم اس دھاگے کا سرا پکڑیں اور آگے بڑھیں تو ہم کوفہ میں اشعث تک اور پھر وہاں سے دمشق تک جا پہنچیں گے۔ اشعث دلی طور پر حضرت علیؑ سے ناراض تھا، کیونکہ علیؑ نے اسے قبیلہ کندہ پر حکومت حاصل کرنے سے روکا تھا، نیز انہوں نے منبر پر اسے منافق اور کافر کا بیٹا کہا تھا۔ شہرستانی ملل و نحل میں لکھتے ہیں: "جن افراد نے حضرت علیؑ کے خلاف شورشیں کیں، ان میں سے اشعث سب سے آگے تھا اور دین سے سب سے زیادہ نکلا ہوا تھا۔"[7]

قطام کون ہے؟
اس واقعے میں قطام نامی عورت کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شہیدی لکھتے ہیں: ’’اصلی کہانی سے زیادہ عجیب ایک قطام نامی عورت کا اچانک کہانی میں داخل ہونا ہے کہ جونہی ابن ملجم نے اسے دیکھا تو پورے دل و جان سے اس پر عاشق ہوگیا اور قطام کی داستان سے زیادہ عجیب خود قطام ہے۔ طبری اسے ایک مقدس اور پاکیزہ عورت کے طور پر جانتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ وہ جامع مسجد میں اعتکاف میں بیٹھی تھی کہ ابن ملجم دو آدمیوں کے ساتھ اس کے پاس مسجد میں آیا اور انہوں نے کہا: ’’ہم نے قتل علیؑ پر ایکا کر لیا ہے۔‘‘ ابن اعثم کوفی نے اس کا تعارف ایک بوالہوس اور فاحشہ عورت کے طور پر کرایا ہے۔ وہ یوں لکھتا ہے: ’’علی ؑ نے خارجیوں سے جنگ کے بعد کوفہ کا رخ کیا۔ ابن ملجم ان سے پہلے کوفہ پہنچا اور اس نے لوگوں کو خوارج کے مارے جانے کی خوشخبری سنائی۔ اسی دوران اس کا گزر ایک گھر کے پاس سے ہوا تو اس نے وہاں سے ساز و طبنور اور طبلے کی آواز سنی تو اسے اچھی نہ لگی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں شادی کی محفل ہے، اس نے لوگوں کو موسیقی اور ساز و طبلے سے منع کیا۔ عورتیں گھر سے باہر نکل آئیں، ان کے درمیان ایک قطام نامی عورت بھی تھی، جس کے باپ کا نام اصبغ تمیمی تھا، وہ ایک حسین عورت تھی۔

عبدالرحمن نے اسے دیکھا، اس کے چال ڈھال کو دیکھ کر اسے دل دے بیٹھا اور اس کے پیچھے چل پڑا اور اسے کہنے لگا: کیا تو شادی شدہ ہے یا کنواری ہے۔؟ اس نے جواب دیا: ’’کنواری ہوں۔‘‘ کیا تو ایسا خاوند نہیں چاہتی، جو ہر لحاظ سے تیری مرضی کے مطابق ہو۔؟ ’’مجھے ایسے خاوند کی ضرورت ہے، لیکن میرے بزرگ ہیں، مجھے ان سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے، میرے ساتھ آؤ۔‘‘ ابن ملجم اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں تک کہ وہ ایک گھر تک پہنچ گیا۔ قطام اندر چلی گئی اور اس نے اچھا لباس پہنا اور اپنے ساتھی سے کہا: ’’اس شخص سے کہو کہ گھر کے اندر آجائے اور مجھے دیکھ لے تو پردہ گرا دینا۔‘‘ ابن ملجم گھر میں داخل ہوا اور قطام کو دیکھا اور پردہ گرا دیا۔ اس نے پوچھا: "میرا مسئلہ حل ہوا ہے یا نہیں؟" اس نے کہا: "میرے بڑوں نے میری شادی کے لئے تین شرطیں رکھی ہیں، تین ہزار درہم، غلام اور ایک کنیز مجھے دینا ہوگی۔" ’’میں راضی ہوں‘‘ ابن ملجم نے جواب دیا۔

عورت نے کہا: ’’ایک اور شرط بھی ہے۔‘‘ وہ کونسی؟ جواب ملا: علیؑ ابن ابی طالب کو قتل کرو گے!" ابن ملجم نے کہا: ’’انا للہ وانا الیہ راجعون! کون علیؑ کو قتل کرسکتا ہے، جو یگانہ شہسوار، صف شکن اور ماہر نیزہ باز ہے۔‘‘ عورت نے کہا: ’’پریشان نہ ہو، میں مال نہیں چاہتی ہوں، لیکن علیؑ کو تمہیں ضرور قتل کرنا ہوگا، کیونکہ اس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔‘‘ ’’اگر تم ایک ضربت پر راضی ہوتی ہو تو میں تیار ہوں۔‘‘ عورت نے کہا: ’’مجھے منظور ہے، لیکن تمہیں اپنی تلوار میرے پاس گروی رکھنا ہوگی!" ابن ملجم نے اپنی تلوار اس کے پاس رکھی اور اپنے گھر چلا گیا۔ پھر علیؑ کوفے میں تشریف لائے، لوگوں نے آگے بڑھ کر خوارج پر فتح کی مبارکباد دی۔ علیؑ جامع مسجد میں آئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ منبر پر تشریف لے گئے اور ایک بہت اچھا خطبہ دیا، پھر اپنے بیٹے حسنؑ کی طرف منہ کرکے پوچھا: اے ابو عبداللہ! ماہ رمضان میں سے کتنے دن باقی ہیں۔؟ جواب ملا: "سترہ دن۔"

پھر آپؑ نے اپنی ریش جو کہ سفید ہوچکی تھی، پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: "خدا کی قسم! اسے لوگوں میں شقی ترین شخص خون سے رنگین کرے گا۔" اس کے بعد آپؑ شعر پڑھنے لگے، جس میں مرادی شخص کے ہاتھوں اپنے قتل ہونے کی خبر دی۔ ابن ملجم نے جب یہ سنا تو آپؑ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: "اے امیرالمؤمنین! خدا کی پناہ یہ میرا دایاں اور بایاں ہاتھ ہے، اسے کاٹ دیں یا مجھے قتل کر دیں۔ علیؑ نے جواب دیا: ’’میں تمہیں کیسے قتل کروں، تم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ یہ جو شعر میں نے بطور مثال پڑھے ہیں، اس سے میری مراد تم نہیں ہو، البتہ مجھے پیغمبر اکرمؑ نے بتایا ہے کہ میرا قاتل بنی مراد کا ایک شخص ہوگا۔ اگر میں جانتا کہ تو میرا قاتل ہے تو میں تجھے قتل کرتا۔‘‘[8]

قطام کی داستان کے من گھڑت ہونے کی دلیل
ڈاکٹر شہیدی اس داستان سرائی کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اور اس پر چند سوال اُٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس طرح کی تفصیل پہلے درجے کی کسی تاریخ اور سوانح کی کتابوں میں نہیں ملتی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ بعض کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے، وہ اسی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس قصے کے من گھڑت ہونے کے ثبوت اور علامات اسی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
1۔ ابن ملجم حضرت علیؑ سے پہلے کوفہ پہنچا اور لوگوں کو خارجیوں کے مارے جانے کی خوشخبری سنائی۔ ابن ملجم کس طرف تھا؟ خوارج کے درمیان تھا یا لشکر علیؑ میں تھا؟ اگر وہ خوارج کے ساتھ تھا تو مارا جاتا یا بھاگ جاتا اور اگر لشکر حضرت علیؑ کے ساتھ تھا تو پھر اس نے حضرت علیؑ کو کیوں قتل کیا؟ اگر یہ کہا جائے کہ وہ از روئے نفاق علیؑ کے سپاہیوں میں گھسا ہوا تھا تو یہ درست نہ ہوا، کیونکہ خارجیوں میں جھوٹ اور نفاق بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسے ہوتے تو اپنی جان پر نہ کھیلتے۔ وہ تو خارجیوں میں سے تھا تو پھر لوگوں کو خارجیوں کے مارے جانے کی خوشخبری کیوں دے رہا تھا۔؟

2۔ ابن ملجم قطام کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگیا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے، اسے عشق بازی اور شادی کرنے کا کہاں موقعہ ملتا ہے اور وہ اس کے بارے میں سوچتا ہے اور اسی طرح کے دیگر اعتراضات جنہیں ہم نظر انداز کرتے ہیں۔
3۔ علیؑ نے کہا اگر میں جانتا ہوتا کہ تو میرا قاتل ہے تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ حضرت علیؑ کس طرح کسی ایسے شخص کو قتل کرسکتے ہیں، جس نے ابھی قتل کیا ہی نہیں ہے۔؟ مذکورہ کتاب میں آیا ہے کہ علیؑ کی شہادت کی رات ابن ملجم مست ہو کر قطام کے گھر میں سویا ہوا تھا، قطام نے اسے بیدار کیا اور کہا: ’’اذان کا وقت ہونے والا ہے، اٹھو اور ہمارے مطالبہ کو پورا کرو اور خوش و خرم واپس آؤ۔‘‘[9] کتاب کے فارسی مترجم نے اضافہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ہم نے تمہاری خواہش کو پورا کر دیا ہے، تم بھی اٹھو اور حاجت کو پورا کرو، واپس آؤ اور عیش کرو۔‘‘[10]

یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ اس رات قطام نے ایک اجنبی شخص ابن ملجم کو کیوں اپنے گھر سلایا؟ کیا اس کے بڑوں نے اس کی اسے اجازت دی تھی؟ کیا یہ بات ماننے والی ہے کہ ابن ملجم جس نے بڑا کام کرنے کا ارادہ کیا ہو، وہ مست ہو کر سوئے گا۔؟ لیکن بلا ذری نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا ہے:’’ابن ملجم کوفے میں آیا اور اپنے منصوبے کو خفیہ رکھا ہوا تھا، پھر اس نے علقمہ کی بیٹی قطام سے شادی کی، تین راتیں اس کے پاس رہا۔ تیسری رات قطام نے اسے کہا: "تم نے اپنی بیوی اور گھر سے کیا دل لگا لیا ہے اور جس مقصد کے لئے آئے ہو، اسے کیوں انجام نہیں دیتے ہو؟" اس نے جواب دیا: "میں نے اپنے دوستوں سے قول و قرار کیا ہوا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔"[11] ان تضادات سے مجموعی طور پر اس داستان کے من گھڑت ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ ظاہری طور پر قطام کی کہانی گھڑی گئی ہے اور اسے ان تین افراد کے ساتھ چپکایا گیا ہے، تاکہ وہ ذہنوں میں زیادہ رچ بس جائے۔

اس تبصرے کے بعد ڈاکٹر جعفر شہیدی لکھتے ہیں: ’’ان تفصیلات کو میں نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ ایک طرف تو میں یہ ثابت کروں کہ جیسا کہ لکھا گیا ہے، سراسر بے بنیاد ہے اور دوسری طرف یہ ظاہر کروں کہ اگلوں نے صرف کہانی کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے، اس کا تجزیہ و تحلیل نہیں کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک قصہ جو تیرہ صدیوں سے پڑھنے اور سننے والوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکا ہے، وہ اس اور اس طرح کی دیگر تحریروں سے محو نہیں ہوگا۔ میرا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ لوگ ان نظریات کو چھوڑ دیں اور میری تحقیق پر عقیدہ رکھیں، میرا کہنا یہ ہے کہ اب تاریخ نویسی نے ایک نیا طرز اور اسلوب اختیار کیا ہے۔ بہتر ہے کہ نہ صرف اس قصے میں بلکہ مصنفین کی تمام باتوں کو نئے زاویئے سے چھانا اور پرکھا جائے۔ جس ماہ مبارک میں حضرت علیؑ منصب شہادت پر فائز ہوئے، اس میں اپنی افطاریوں کو تقسیم کیا ہوا تھا۔ ایک رات اپنے بیٹے حسنؑ، ایک رات اپنے فرزند حسینؑ اور ایک رات عبداللہ بن جعفر کے ہاں روزہ افطار فرماتے تھے اور دو یا تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں فرماتے تھے۔ پوچھا گیا کہ آپؑ اتنا کم کھانے پر کیوں اکتفا کرتے ہیں تو آپؑ نے فرمایا: "قضائے الٰہی کے آنے میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے، چاہتا ہوں خالی پیٹ رہوں۔"[12]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
[1]۔ شہیدی، سید جعفر، علی از زبان علی (دفتر نشر فرھنگ اسلامی، تہران ۱۳۷۶ ش) ص۱۵۸۔۱۵۹
[2]۔ ابن ابی الدنیا (متوفیٰ 281 ہجری)، مقتل الامام امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب، ص: 36
[3]۔ "فضح الصبح فلاناً" صبح نے اسے آشکار کر دیا۔
[4]۔ بلا ذری انساب الاشراف ،ص: 493
[5]۔ مقتل الامیرالمؤمنین، ص: 37، طبقات ابن سعد، ج: 3، ص:37
[6]۔ شہیدی، سید جعفر، علی از زبان علی (دفتر نشر فرھنگ اسلامی، تہران ۱۳۷۶ ش) ص۱۶۰۔۱۶۱
[7]۔ الملل و النحل، ج:1، ص: 170
[8]۔ تاریخ ابن اعثم، ج:4، ص: 133۔136
[9]۔ تاریخ ابن اعثم، ج:4، ص: 139
[10]۔ ترجمہ الفتوح، ص: 751
[11]۔ انساب الاشراف، ص: 488
[12]۔ کنز العمال از جعفر بن ابی طالب، ج:13، ص: 190
خبر کا کوڈ : 861837

11/08/2016

اگر "نفس" کو قابو نہ کیا جائے تو وہ شیطان کے لئے ایسا پالتو کتا بن جائے جو اسکے صرف ایک ہی حکم پر بھونکنا شروع کردیتا ہے...
__نفس پر قابو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں اسکی شکایت کی جائے.

《انسان کس طرح اپنے نفس (امارہ) سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے؟! 👉
صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا کی بارگاہ میں (نفس امارہ کی) شکایت لے کر جائی جائے، اگر ہم ایسا کرنے والے ہو گئے تو خدائے متعال اس سر کش حیوان اور دشمن کو لگام ڈال کے تمہارے حوالے کر دے گا؛ اب یہ (نفس) تمہاری اجازت کے بغیر کچھ نہیں کریگا-

ہم میں سے کچھ لوگوں کے نفس اسطرح کے ہیں کہ شیطان کی صرف ایک آواز پہ اسکی پیروی کرتے ہیں اور (در نتیجہ) لوگوں کو پریشان کرتے ہیں، دوست، شریک حیات اور مومنین (کی شخصیت) پر حملے کرتے ہیں اور انہیں اپنی نگاہ، زبان اور عمل سے آزار پہنچاتے ہیں- اگر انسان اپنے نفس کا غلام بن جائے تو نفس اسے کتے، سؤر اور دیگر جانوروں کی صفات کا حامل بنا دیتا ہے، اور قیامت کے دن نفس کی غلامی کرنے والا یہ انسان مختلف حیوانات کی شکل میں محشور ہوگا...

آیت اللہ میرباقری
(29، دسمبر 2013

10/08/2016

👹طاغوت کے پاس مقدمہ لیجانے کی مذمت🚫

🔹شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے محمد بن يحي سے انھوں نے محمد بن الحسين سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے انھوں نے صفوان بن يحيٰسے انھوں نے داؤد بن حصين سے اور انھوں نے عمر بن حنظلہ سے نقل كيا ہے، عمر بن حنظلہ كا كہنا ہے:

⚫ ميں نے امام صادق عليہ السلام سے ہماري مسلك كے اصحاب كے باري ميں سوال كيا جن كے درميان قرض يا وراثت كے سلسلے ميں اختلاف ہو گيا تھا اور وہ دونوں اپنے شكايت حاكم وقت اور اس كے قاضيوں كے پاس لے گئے تھے تو كيا يہ كام جائز ہے؟

🔴 حضرت نے فرمايا: جس نے حق يا باطل ميں سے كسي كے لئے ان كي طرف رجوع كيا تو بيشك اس نے طاغوت كي طرف رجوع كيااور وہ (قاضي يا حاكم) جو حكم كرے گا اس حكم كے نتيجہ ميں حاصل ہونے والا مال ناحق اور ناجائز ہوگا۔🔴🔴🔴

🤔اگر چہ حقيقتاً يہ مال اس شخص كا حق ہي كيوں نہ ہو كيونكہ اس نے طاغوت كے حكم كے ذريعے يہ مال حاصل كيا ہے،

⚫ميں نے كہا: پھر وہ كياكريں؟

🔴 حضرت نے فرمايا: وہ دونوں ڈھونڈتے كہ تم ميں سے جو ہماري احاديث كو نقل كرنے والا ہو ہماري حلال و حرام سےآگاہ ہو اور ہماري احكام كو جانتا ہو، تو اسے حاكم تسليم كرتے ميں نے اس شخص (ان صفات كے حامل مجتہد) كو تم لوگوں پر حاكم قرار ديا ہے، اگر وہ ہماے احكام كے مطابق فيصلہ كرے اور اس كا فيصلہ قبول نہ كيا جائے تو يہ حكم خدا كي اہميت كو كم كرنے اور ہماري بات كو رد كرنے اور ٹھكرانے كے برابر ہوگا اور جو ہميں ٹھكراے گا اس نے خدا كو ٹھكركيا اور جس نے خدا كو ٹھكرایااس نے شرك اختيار كيا۔ 😟😟🔴

🔹اس روايت كو شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن يحيٰ سے نقل كيا ہے اور انھوں نے محمد بن الحسن بن شمون سے اور انھوں نے محمد بن عيسي … سے نقل كيا ہے۔

🔹شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن علي بن محبوب سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے اسي طرح نقل كيا ہے۔

📚اساس حکومت الاسلامیہ📚
✍🏻آیت اللہ کاظم حائری

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Ilmi Markaz
Islamabad
92