Samar Zaman Memorial Colleges

Samar Zaman Memorial Colleges

Share

SAMAR ZAMAN Memorial College's “SMC” is the largest Technical, Vocational, Professional base of Pakis

ایک وقت تھا جب پاکستان ہنرمندوں کے ملک کے طور پر پوری دنیا میں اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا۔پاکستان کے ہنر مند اپنے ہنر میں یکتا خیال کیئے جاتے تھے۔دنیا کا کونسا ایسا ملک یا خطہ تھا جو پاکستانی ہنرمندوں سے مستفید ہونا اپنے لیئے باعث افتخار نہ سمجھتا تھا۔جب کبھی پاکستان کا کوئی سربراہ مملکت کسی ملک کے سرکاری دورے پر اپنے ہم منصب سے ملاقات کے لیئے جاتا تومیزبان کی طرف سے بطور خاص فرمائش کی جاتی تھی کہ

15/03/2026
15/10/2024

اللہ اکبر

04/04/2024

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔
اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور ہرقسم کے مناسب معلومات کے لئے ہمارا فیس بک پیج فالو/لائیک کرکے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
www.facebook.com/samarzamancolleges

03/04/2024

پرو موشن فيس لينے كی شرعی حیثیت

سوال
سکولوں میں پروموشن فیس لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے کسی عین یا محنت کا عوض لینا جائز ہے لیکن جہاں نہ عین ہواور نہ منفعت تو وہاں بلا کسی وجہ کے عوض لینا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اسکولوں میں رائج پروموشن فیس یعنی کسی طالب علم کی ایک کلاس سے دوسری کلاس کو ترقی پر فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کیونکہ جب کوئی طالب علم کسی جماعت کا امتحان پاس کرے تو اگلے کلاس میں اس کو ترقی دینا اس کا حق بنتا ہے کہ اسے اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے جب یہ اس کا حق ہے تو پھر اس پر طالب علم سے ترقی کے عوض فیس لینا کوئی معنی نہیں رکھتا لہذا پروموشن فیس نہ کسی عین کا عوض ہے اور نہ کسی خدمت پر اجرت ۔لہذا پروموشن فیس لینا جائز نہیں ۔

قال اللہ تعالی:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔(النساء:58)

الاجارة على نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الاجارة الباب الاول في بيان تفسيرالاجارةو ركنهاج 4 ص411)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي ۔(البحرالرائق فصل في التعزير ج 5 ص44)

فتویٰ نمبر : 4557/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

01/10/2023

Requirements for Attestation of SSC/HSSC Certificate(s).
Remove plastic coating before depositing certificates for attestation.
First verify certificates from the issuing boards.
Fill out online Application Form for Attestation.
Deposit prescribed attestation fee in National Bank of Pakistan.
Visit IBCC office on given appointment time alongwith the certificate(s) you want to attest and verified certificate(s) from the concerned Exam Board/authority in a sealed envelope.
B-Form or CNIC of the Applicant.
................
Requirements for Attestation of School Leaving Certificate(s).
Progress report issued by the school concerned.
School Leaving Certificate duly attested by EDO (Edu)/DEO/Concerned Directorate of Education.
CNIC/B-Form of the Applicant
.........
IBCC Office Timing : Monday-Friday: 7:30 AM To 3:30 PM
Copy by IBCC websit

For more information education related
Contact us:
SAMAR ZAMAN
Colleges
03137771474
www.facebook.com/samarzamancolleges

28/09/2023

نصیحت آموز واقعات پڑھنا ضروری ہیں۔

حضرت عیسیٰؑ اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے، راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ :
" تمہاری جیب میں کچھ ہے ...؟

شاگرد نے کہا :
" میرے پاس دو درہم ہیں ...! "

حضرت عیسیؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا :
" یہ تین درہم ہوجائیں گے، قریب ہی آبادی ہے، تم وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آئو ...! "

وہ گیا اور تین روٹیاں لیں، راستے میں آتے ہوئے سوچنے لگا کہ حضرت عیسیٰؑ نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے جبکہ روٹیاں تین ہیں، ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰؑ کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھال لوں، چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھالی اور دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰؑ کے پاس پہنچا ....!

آپ نے ایک روٹی کھالی اور اس سے پوچھا :
" تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں ...؟ "

اس نے کہا :
" دو روٹیاں ملی تھیں، ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی ...! "

حضرت عیسیٰؑ وہاں سے روانہ ہوئے، راستے میں ایک دریا آیا، شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا :
" اے اللہ کے نبی ...!
ہم دریا عبور کیسے کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی ...؟ "

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
" گھبراؤ مت، میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ کر میرے پیچھے چلتے آو ،خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کرلیں گے ....! "

چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا، خدا کے اذن سے آپ نے دریا کو اس طرح پار کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے ...!

شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا :
" میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان ...!
آپ جیسا صاحب اعجاز نبی تو پہلے مبعوث ہی نہیں ہوا ...! "

آپ نے فرمایا :
" یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ...؟ "

اس نے کہا :
" جی ہاں ...!
میرا دل نور سے بھر گیا ...! "

پھر آپ نے فرمایا :
" اگر تمہارا دل نورانی ہوچکا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں ...؟ "

اس نے کہا :
" حضرت روٹیاں بس دو ہی تھیں ...! "

پھر آپ وہاں سے چلے، راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا، آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا، وہ آپ کے پاس چلا آیا، آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا :
" اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا ...! "

ہرن زندہ ہو گیا اور چوکڑیاں بھرتا ہوا دوسرے ہرنوں سے جا ملا ...!

شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہو گیا او رکہنے لگا :
" اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور معلم عنایت فرمایا ہے ...! "

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
" یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ...؟ "

شاگرد نے کہا :
" اے اللہ کے نبی ...!
میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہو چکا ہے ...! "

آپ نے فرمایا :
" پھر بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھیں ...؟ "

شاگرد نے کہا :
" حضرت روٹیاں دو ہی تھیں ...! "

دونوں راستہ چلتے گئے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی ہیں،

آپ نے فرمایا :
" ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی ....! "

یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا :
" حضرت تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی ...! "

حضرت عیسی نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا :
" تینوں اینٹیں تم لے جاؤ ...! "

یہ کہہ کر حضرت عیسی وہاں سے روانہ ہوگئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے قریب بیٹھ کر سوچنے لگا کہ انہیں کیسے گھر لے جائے ...!

اسی دوران تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا، ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں، لہٰذا ہر شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آتی ہے، اتفاق سے وہ بھوکے تھے، انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دئیے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لے آو، اس کےبعد ہم اپنا اپنا حصہ اٹھالیں گے، وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں ساتھ مر جائیں گےاور تینوں اینٹیں میری ہو جائیں گی، ادھر اس کے دونوں ساتھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے اس ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے میں حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی ...!

جب ان کا تیسرا ساتھ زہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو ان دونوں نے منصوبہ کے مطابق اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مر گئے، واپسی پر حضرت عیسیٰؑ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں جبکہ ان کے پاس چار لاشیں بھی پڑی ہیں، آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر ی اور فرمایا :
" دنیا اپنی چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے ...! "
(واللہ تعالٰی اعلم)
(انوار نعمانیہ ص۳۵۳)

یہ ہے دنیا اور اس کی محبت جس کے لیے میں اور آپ دن رات ایک، دوجے سے سبقت لے جانے کے لیے بیتاب ہوئے جا رہے ہیں اور دراصل یہ ہمیں پل، پل موت سے قریب کیے جا رہی ہے ....!
وقت ملے تو اس پہلو پر سوچئے گا ضرور .....!

زندگی بہترسے بہترین بنانے کی عرض سےمزید نصیحت آموز اور فائدہ مند تحریروں کے لئے ہمارا پیج فالو/لائیک اوردیگر دوستوں کے ساتھ شئیر بھی کریں۔شکریہ*
طالب دعا:
محمد زمان عادل
03137771474

https://www.facebook.com/Samarzamancolleges

27/09/2023

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔
اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور ہرقسم کے مناسب معلومات کے لئے ہمارا فیس بک پیج فالو/لائیک کرکے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
Samar Zaman Memorial Colleges

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad