Samar Zaman Memorial Colleges

Samar Zaman Memorial Colleges SAMAR ZAMAN Memorial College's “SMC” is the largest Technical, Vocational, Professional base of Pakis

ایک وقت تھا جب پاکستان ہنرمندوں کے ملک کے طور پر پوری دنیا میں اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا۔پاکستان کے ہنر مند اپنے ہنر میں یکتا خیال کیئے جاتے تھے۔دنیا کا کونسا ایسا ملک یا خطہ تھا جو پاکستانی ہنرمندوں سے مستفید ہونا اپنے لیئے باعث افتخار نہ سمجھتا تھا۔جب کبھی پاکستان کا کوئی سربراہ مملکت کسی ملک کے سرکاری دورے پر اپنے ہم منصب سے ملاقات کے لیئے جاتا تومیزبان کی طرف سے بطور خاص فرمائش کی جاتی تھی کہ

وہ اپنے ملک کے ہنر مندوں کو اُن کے ملک میں کام کے لیئے بھیجے۔ہمارے ہنر مندوں کی یہ مانگ ظاہر کرتی تھی کہ دنیا میں کوئی ہمارے ہنر مندوں کی ہنرمندی کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔کون سا ایسا شعبہ یا میدان تھا جس میں ہمارے ہنرمندوں نے اپنے لازوال فن کے انمٹ نقوش نہ چھوڑے ہوں۔سیالکوٹ کے ہنرمندوں کی بنائی ہوئی فٹبال،کرکٹ کے بیٹ اور ہاکی اسٹک ہمارے ماہر کاریگروں کی خداد اد صلاحیت کا ایسا شاہکار تھا جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی مشین یا ٹیکنالوجی نہیں کرسکتی تھی۔ وزیرآباد میں گھریلو استعمال کے برتن ہمارے ہنر مند ایسی صفائی اور نفاست سے تیار کرتے تھے کہ دنیا اُن کی خوبصورتی و نفاست دیکھ کر عش عش کر اُٹھتی تھی، اس کے علاوہ گجرات کے ہنر مند پنکھے،فیصل آباد کے محنت کش کپڑے اور دھاگہ کی بُنائی،لاہور کے مستری ہیوی مشینری کی مینوفیکچرنگ اور اُن کی مرمت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔قیام ِ پاکستان سے 70 کی دہائی تک کا دور ہمارے ہنرمندوں کا ایک سنہری دورگردانا جاتا تھا۔پھر دنیا بھر میں اکیڈمک تعلیم یعنی نظری تعلیم کا دور آیا اور ہنر سے زیادہ سند کو اہمیت دی جانے لگی دنیا بھر میں ہونے والی اس تبدیلی نے ہمارے ملک کو بھی بہت حد تک متاثر کیا۔ہمارے نوجوانوں نے بھی ٹیکنیکل ایجوکیشن یعنی فنی و عملی تعلیم پر اکیڈمک تعلیم یعنی نظری تعلیم کو فوقیت دینا شروع کردی جس کا فور ی اثر یہ ہوا کہ ملک بھر میں اعلی سے اعلی ڈگریوں کے حامل لاکھوں نوجوانوں کی کھیپ تیار ہوگئی جن کے پاس نظری تعلیم کی توکوئی کمی نہیں تھی مگر عملی تعلیم یا ہنر سے یہ نسل بالکل بے بہرہ تھی۔نظری اور عملی تعلیم کے اس تفاوت نے صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی ہنر مندوں کا ایک بحران کھڑا کر دیا۔دنیا کے بڑے بڑے ادارے نظری تعلیم کی افراد ی قوت سے تو مالا مال ہوگئے مگر ہنر مند کارکنوں کے حوالے سے شدید افلاس کا شکار ہونے لگے۔
اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت نوجوان دنیا کی کل آبادی کا 18 فیصد یعنی 1.1 بلین کی تعداد میں ہونے کے باوجود بے روزگار یا بے کار ہیں۔دنیا بھر میں بے روزگار افراد کی کل تعداد 202 ملین ہے جس میں سے 40 فیصد نوجوانوں (یعنی 15 سے24 سال کی عمر)پر مشتمل ہیں۔بے روزگار نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ بے ہنری یا فنی و عملی تعلیم کا نہ جاننا ہے۔جس کے منفی اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں کیونکہ جب نوجوان بڑے بڑے اداروں میں عام نظری و اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اپنے مطلوبہ معاشی اہداف نہیں حاصل کر پاتے تو اُن کا معاشرہ سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے جس سے ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے یہ طلبا ڈگری ہونے کے باوجودصرف ہنر سے محروم ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کا سہارا بننے کے بجائے بے روزگار ی کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہوجاتے ہیں۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 30 پیشے اپنی درجہ بندی کے حساب سے انتہائی کامیاب تصور کیئے جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل 20 پیشے ایسے ہیں جن کے لیئے کسی یونیورسٹی یا کالج کی سند کے بجائے صرف عملی و فنی تربیت ضروری ہے۔
آج کے دورِ جدید میں ہنر مند نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی مانگ یا اہمیت کا اندازہ آپ بات سے بخوبی لگاسکتے ہیں کہ حال ہی میں دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی گوگل نے 100 ایسے نوجوانوں کو ملازمت پر رکھا ہے جن کے پاس کسی قسم کی تعلیمی اسناد نہیں اُن کی قابلیت صرف عملی و فنی ہنر میں یکتا ہونا ہے۔ اُنہیں گوگل نے انتہائی پرکشش تنخواہ پر اپنی کمپنی میں صرف زبانی انٹرویو کے بعد ملازمت پر رکھ لیا ہے۔اس حوالے سے گوگل کے حکام کا کہنا تھا کہ ”ہمیں اچھی طرح معلوم ہے اب ہم جن لوگوں کو بڑی بڑی تنخواہوں پر ملازم رکھ رہے ہیں انہوں نے کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے سے متعلقہ فیلڈ میں تعلیم حاصل نہیں کی لیکن انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ متعلقہ فیلڈ میں اپنے ہنر اور کام میں ماہر اور درجہ کمال کے حامل ہیں۔کیونکہ ہمیں اپنے کام کے اعلی معیار سے مطلب ہے اس لیئے ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ انہوں نے اپنے ہنر میں متعلقہ مہارت کہاں سے اور کیسے حاصل کی۔ہمارے لیئے یہ ہی کافی ہے کہ وہ اب ہماری کمپنی میں کام کررہے ہیں اور ہم انہیں منہ مانگے معاوضے دے رہے ہیں“۔صرف یہ ہی نہیں گوگل نے 12 جون 2017 سے لندن میں ”ڈیجیٹل اسکل اکیڈمی“کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔39827 اسکوائر فٹ کے ایریا پر مشتمل یہ اکیڈمی تمام تر جدید سہولتوں سے مزین لندن کے عین قلب میں بنائی گئی ہے۔یہ اکیڈمی نوجوانوں کو فنی و عملی تربیت فراہم کرنے کے لیئے بنائی گئی ہے۔اس موقع پر رونن ہیرس جو کے یوکے میں گوگل کے منتظم اعلیٰ ہیں انہوں نے اپنے مستقبل کے اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ”گوگل 2020 تک تین ہزار فنی و عملی تعلیم کے حامل ہنر مند نوجوانوں کو اُن کی حسب ِ خواہش تنخواہ پر ملازمت دینے کا ارادہ رکھتی ہے“۔صرف اسی پر بس نہیں ہے دنیا بھر کی تقریباً تمام بڑی کمپنیاں جن میں مائیکروسافٹ،فیس بک،وغیرہ شامل ہیں فنی و عملی تعلیم کے حامل ہنرمند نوجوانوں کو انتہائی پرکشش تنخواہوں پر اپنے ہاں ملازمت دینے کے لیئے بے چین نظر آ رہی ہیں۔
جب کہ ہمارے ہاں ایک عام فکر ی مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ اکیڈمک تعلیم ہی تمام مسائل کا حل ہے حالانکہ اس مغالطہ کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ سری لنکا میں 98 فیصد شرح خواندگی ہونے کے باوجود یہ ملک غربت،پسماندگی اور بے روزگاری کے عفریت میں جکڑا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری توجہ اکیڈمک یا نظری تعلیم پر مرکوز کی اور فنی و عملی تعلیم وتربیت کو یکسر نظر انداز کر دیا جبکہ اس کے برعکس چین وجاپان دو ایسے ممالک ہیں جہاں شرح خواندگی یا وسائل تو اُن کی آبادی کے مقابلے میں زیادہ نہیں مگر ان دونوں ملکوں کی اقوام نے فنی تعلیم کو اپنی بنیادی تعلیم کا لازمی حصہ بنا کردنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت کو فنی و عملی تعلیم کی درست اہمیت کا اندازہ ہی نہیں وہ صرف ڈگری یا سند کے حصول کو ہی اپنے کیرئیر کی معراج سمجھتے ہیں۔
چینی زبان کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ”آدمی کو مچھلی نہ دو بلکہ اسے مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھاؤ“۔کاش چین کے نوجوانوں کی طرح ہمارے نوجوان بھی اس مقولہ کو حرزِ جاں بنالیں تو اُن پر دنیا بھر میں کامیابی کے ان گنت دروازے کھل جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں نوجوانوں کی فنی و عملی تعلیم کے لیئے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں؟ تو جناب اس کا جواب ہاں میں ہے۔ہمارے ہاں فنی و عملی تعلیم یا کسی ہنر کو سیکھنے کے لیئے مواقعوں کا نہ ہونا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی اس طرف عدم دلچسپی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ملک میں قائم ہونے والی تقریباً تمام حکومتوں نے سرکاری سطح پرہمیشہ فنی و عملی تعلیم کے حوالے سے نہ صرف بے شمار پروگرام شروع کیئے بلکہ کئی ایک باقاعدہ ادارے بھی بنائے جن میں سے کئی ایک اداروں اور پروگرام کی بعدازاں ہمارے پڑوسی ملکوں میں کامیاب تقلید بھی کی گئی۔یہاں ہمارے لیئے اُن تمام پروگراموں کا تذکرہ کرنا شاید ممکن نہ ہو مگر اس وقت بھی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹریننگ کمیشن پاکستان کے تحت ”پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام“ملک بھر میں انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔2014 سے لے کر اب تک اس پروگرام کے تحت دولاکھ نوجوان 200 سے زائد مختلف اقسام کے فنی و عملی کورسز کی عملی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ بھی ہے کہ دورانِ کورس فنی و عملی تربیت پانے والے تمام شرکاء کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔اب تک 4608 ملین روپے اس پروگرام کے شرکاء کو دیئے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت ہی نیوٹیک نے ایک انقلابی قدم اُٹھاتے ہوئے ایسے فنی و پیشہ ورانہ ہنر رکھنے والے افراد کے لیئے حکومت ِ پاکستان کی طرف سے سرٹیفکیٹ دینے کا پروگرام بھی شروع کیا ہے جن کے پاس سرٹیفکیٹ نہیں۔حکومت کے اس اقدام سے وہ ہزاروں لاکھوں ہنر مند جو اپنے ہنر میں تو مہارت ِ تامہ رکھتے ہیں مگر درسی تعلیم نہ ہونے یا کسی معروف ٹیکنیکل ادارے سے تربیت نہ حاصل کرنے کی وجہ سے سرٹیفکیٹ سے محروم تھے وہ باآسانی حکومت کی اس اسکیم سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بغیر کسی فیس کے مفت میں ایک چھوٹا سا عملی امتحان دینے کے بعد اپنے متعلقہ ہنر میں تجربے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے دنیا بھر ملازمت کے شاندارمواقع حاصل کر سکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیئے فنی و عملی تربیت کے لیئے اُٹھائے گئے ان حکومتی اقدامات کے علاوہ بھی پاکستان میں بے شمار ادارے جن میں پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس،پاکستان اسٹیل ملز،سول ایوایشن اتھارٹی،انڈس موٹر کمپنی،آئل اینڈ گیس کمپنی اور دیگر ادارے بھی ملک کے طو ل و عرض میں نوجوانوں کو مفت میں فنی و عملی تربیت فراہم کرنے کے لیئے بے شمار فنی ادارے قائم کیئے ہوئے ہیں مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اُس ذوق و شوق کے ساتھ ان اداروں میں فنی و عملی تربیت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر نہیں آتے جتنی تگ و دو وہ او لیول یا اے لیول میں داخلے کے لیئے کرتے ہیں۔اس میں بہت سا قصور والدین کا بھی ہے جو اپنے بچوں کو مہنگی سے مہنگی اکیڈمک تعلیم تودلوانا چاہتے ہیں لیکن فنی و عملی تعلیم اُن کی ترجیحات میں کہیں شامل نظر نہیں آتی۔اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے فکر مند والدین کو چاہیئے کہ وہ آنے والے زمانے کی درست ترجیحات کا بروقت ادراک کریں اور اپنے بچوں کو اکیڈمک تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی و عملی تعلیم کی طرف بھی راغب کریں تاکہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوان دنیا بھر میں کامیابیوں کے نئے جہان فتح کر سکیں۔حضرت علی علیہ السلام نے کیا خوب صورت حکمت آموز بات فرمائی تھی کہ”ہر شخص کی قیمت وہ ہنر ہے جو اس شخص میں ہے“۔اگر ہمارے نوجوان بھی اپنے اس ہنر کو بروقت دریافت کرلیں تو پھر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے زمانے میں ہمارے نوجوان اس کرہ ارض کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ تصور کیئے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے ہم نے "ثمرزمان میمورئیل کالجز" کے نام سے ادارہ قائم کرکے ہرقسم ہنر سکھانے کے اس اہم مقصد کو پاکستان کے ہر شہر تک توسیع دی ہے کہ ہر نوجوان اپنے پسند کا ہنر سیکھ کر اس میں نہ صرف مہارت حاصل کرسکے بلکہ اس کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور اس کے فن میں مزید نکھار اور کمال پیدا کیا جاسکے۔ "ثمرزمان میمورئیل کالجز" کے زیر اہتمام کوئی بھی نوجوان کسی بھی پروفیشنل/ ہنر سیکھنے کے لئے اپنے قریبی سنٹر میں داخلہ لیکر ٹریننگ حاصل کرسکے گا جس سے اس کا قیمتی وقت بھی بچ سکتا ہے اور اخراجات میں بھی کافی حد تک کمی آئے گی۔ *ثمرزمان میمورئیل کالجز* کا خاصہ ہے کہ کورس مکمل ہونے کے بعد اپنے سٹوڈنٹ کو روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں بھی بھر پور معاونت فراہم کرے گا۔ ملکی اور مقامی سطح پر کارآمد سکلز کے ساتھ ساتھ "ثمرزمان میمورئیل کالجز" اس لحاظ سے بھی نوجوانوں کے لئے ایم ہے کہ یہاں پر انٹرنیشنل لیول کے کورسز اور ہنر خاص کر ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ نوجوان نسل ماڈرن ٹیکنالوجیز سے لیس ہوکر بیرون ممالک بھی اپنے فن کا لوہا منواکر ملک وقوم کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کمانے میں مہارت حاصل کرسکے۔
مزید معلومات کے لئے:
وٹس اپ:
03137771474

15/03/2026
15/10/2024

اللہ اکبر

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔ اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز...
04/04/2024

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔
اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور ہرقسم کے مناسب معلومات کے لئے ہمارا فیس بک پیج فالو/لائیک کرکے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
www.facebook.com/samarzamancolleges

پرو موشن فيس لينے كی شرعی حیثیتسوالسکولوں میں پروموشن فیس لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟جوابشریعت مطہرہ کی رو سے کسی عین یا ...
03/04/2024

پرو موشن فيس لينے كی شرعی حیثیت

سوال
سکولوں میں پروموشن فیس لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے کسی عین یا محنت کا عوض لینا جائز ہے لیکن جہاں نہ عین ہواور نہ منفعت تو وہاں بلا کسی وجہ کے عوض لینا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اسکولوں میں رائج پروموشن فیس یعنی کسی طالب علم کی ایک کلاس سے دوسری کلاس کو ترقی پر فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کیونکہ جب کوئی طالب علم کسی جماعت کا امتحان پاس کرے تو اگلے کلاس میں اس کو ترقی دینا اس کا حق بنتا ہے کہ اسے اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے جب یہ اس کا حق ہے تو پھر اس پر طالب علم سے ترقی کے عوض فیس لینا کوئی معنی نہیں رکھتا لہذا پروموشن فیس نہ کسی عین کا عوض ہے اور نہ کسی خدمت پر اجرت ۔لہذا پروموشن فیس لینا جائز نہیں ۔

قال اللہ تعالی:إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمٰنٰتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔(النساء:58)

الاجارة على نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الاجارة الباب الاول في بيان تفسيرالاجارةو ركنهاج 4 ص411)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي ۔(البحرالرائق فصل في التعزير ج 5 ص44)

فتویٰ نمبر : 4557/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

Requirements for Attestation of SSC/HSSC Certificate(s).Remove plastic coating before depositing certificates for attest...
01/10/2023

Requirements for Attestation of SSC/HSSC Certificate(s).
Remove plastic coating before depositing certificates for attestation.
First verify certificates from the issuing boards.
Fill out online Application Form for Attestation.
Deposit prescribed attestation fee in National Bank of Pakistan.
Visit IBCC office on given appointment time alongwith the certificate(s) you want to attest and verified certificate(s) from the concerned Exam Board/authority in a sealed envelope.
B-Form or CNIC of the Applicant. ................
Requirements for Attestation of School Leaving Certificate(s).
Progress report issued by the school concerned.
School Leaving Certificate duly attested by EDO (Edu)/DEO/Concerned Directorate of Education.
CNIC/B-Form of the Applicant.........
IBCC Office Timing : Monday-Friday: 7:30 AM To 3:30 PM
Copy by IBCC websit

For more information education related
Contact us:
SAMAR ZAMAN
Colleges
03137771474
www.facebook.com/samarzamancolleges

نصیحت آموز واقعات پڑھنا ضروری ہیں۔حضرت عیسیٰؑ اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے، راستے میں ایک جگہ رکے اور شا...
28/09/2023

نصیحت آموز واقعات پڑھنا ضروری ہیں۔

حضرت عیسیٰؑ اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے، راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ :
" تمہاری جیب میں کچھ ہے ...؟

شاگرد نے کہا :
" میرے پاس دو درہم ہیں ...! "

حضرت عیسیؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا :
" یہ تین درہم ہوجائیں گے، قریب ہی آبادی ہے، تم وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آئو ...! "

وہ گیا اور تین روٹیاں لیں، راستے میں آتے ہوئے سوچنے لگا کہ حضرت عیسیٰؑ نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے جبکہ روٹیاں تین ہیں، ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰؑ کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھال لوں، چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھالی اور دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰؑ کے پاس پہنچا ....!

آپ نے ایک روٹی کھالی اور اس سے پوچھا :
" تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں ...؟ "

اس نے کہا :
" دو روٹیاں ملی تھیں، ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی ...! "

حضرت عیسیٰؑ وہاں سے روانہ ہوئے، راستے میں ایک دریا آیا، شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا :
" اے اللہ کے نبی ...!
ہم دریا عبور کیسے کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی ...؟ "

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
" گھبراؤ مت، میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ کر میرے پیچھے چلتے آو ،خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کرلیں گے ....! "

چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا، خدا کے اذن سے آپ نے دریا کو اس طرح پار کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے ...!

شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا :
" میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان ...!
آپ جیسا صاحب اعجاز نبی تو پہلے مبعوث ہی نہیں ہوا ...! "

آپ نے فرمایا :
" یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ...؟ "

اس نے کہا :
" جی ہاں ...!
میرا دل نور سے بھر گیا ...! "

پھر آپ نے فرمایا :
" اگر تمہارا دل نورانی ہوچکا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں ...؟ "

اس نے کہا :
" حضرت روٹیاں بس دو ہی تھیں ...! "

پھر آپ وہاں سے چلے، راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا، آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا، وہ آپ کے پاس چلا آیا، آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا :
" اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا ...! "

ہرن زندہ ہو گیا اور چوکڑیاں بھرتا ہوا دوسرے ہرنوں سے جا ملا ...!

شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہو گیا او رکہنے لگا :
" اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور معلم عنایت فرمایا ہے ...! "

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
" یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ...؟ "

شاگرد نے کہا :
" اے اللہ کے نبی ...!
میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہو چکا ہے ...! "

آپ نے فرمایا :
" پھر بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھیں ...؟ "

شاگرد نے کہا :
" حضرت روٹیاں دو ہی تھیں ...! "

دونوں راستہ چلتے گئے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی ہیں،

آپ نے فرمایا :
" ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی ....! "

یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا :
" حضرت تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی ...! "

حضرت عیسی نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا :
" تینوں اینٹیں تم لے جاؤ ...! "

یہ کہہ کر حضرت عیسی وہاں سے روانہ ہوگئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے قریب بیٹھ کر سوچنے لگا کہ انہیں کیسے گھر لے جائے ...!

اسی دوران تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا، ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں، لہٰذا ہر شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آتی ہے، اتفاق سے وہ بھوکے تھے، انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دئیے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لے آو، اس کےبعد ہم اپنا اپنا حصہ اٹھالیں گے، وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں ساتھ مر جائیں گےاور تینوں اینٹیں میری ہو جائیں گی، ادھر اس کے دونوں ساتھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے اس ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے میں حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی ...!

جب ان کا تیسرا ساتھ زہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو ان دونوں نے منصوبہ کے مطابق اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مر گئے، واپسی پر حضرت عیسیٰؑ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں جبکہ ان کے پاس چار لاشیں بھی پڑی ہیں، آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر ی اور فرمایا :
" دنیا اپنی چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے ...! "
(واللہ تعالٰی اعلم)
(انوار نعمانیہ ص۳۵۳)

یہ ہے دنیا اور اس کی محبت جس کے لیے میں اور آپ دن رات ایک، دوجے سے سبقت لے جانے کے لیے بیتاب ہوئے جا رہے ہیں اور دراصل یہ ہمیں پل، پل موت سے قریب کیے جا رہی ہے ....!
وقت ملے تو اس پہلو پر سوچئے گا ضرور .....!

زندگی بہترسے بہترین بنانے کی عرض سےمزید نصیحت آموز اور فائدہ مند تحریروں کے لئے ہمارا پیج فالو/لائیک اوردیگر دوستوں کے ساتھ شئیر بھی کریں۔شکریہ*
طالب دعا:
محمد زمان عادل
03137771474

https://www.facebook.com/Samarzamancolleges

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔ اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز...
27/09/2023

تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معلومات صرف ایک پیج پر۔۔۔۔
اب آپ کو اکستان کے تمام یونیورسٹیوں، میڈیکل، انجنئیرنگ کالجز، انسٹی ٹیوٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے اور ہرقسم کے مناسب معلومات کے لئے ہمارا فیس بک پیج فالو/لائیک کرکے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
Samar Zaman Memorial Colleges

Address

Islamabad

Telephone

+923137771474

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Samar Zaman Memorial Colleges posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Samar Zaman Memorial Colleges:

Shortcuts

Share

Category